ہجرت کا پانچواں سال

-: غزوہ دُومۃ الجندل

-: غزوۂ مُریسیع

-: منافقین کی شرارت

-: حضرت جویریه رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح

-: واقعہ افک

-: واقعہ افک

اسی غزوہ سے جب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ واپس آنے لگے تو ایک منزل پر رات میں پڑاؤ کیا، حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ایک بند ہودج میں سوار ہو کر سفر کرتی تھیں اور چند مخصوص آدمی اس ہودج کو اونٹ پر لادنے اور اتارنے کے لئے مقرر تھے، حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا لشکر کی روانگی سے کچھ پہلے لشکر سے باہر رفع حاجت کے لئے تشریف لے گئیں جب واپس ہوئیں تو دیکھا کہ ان کے گلے کا ہار کہیں ٹوٹ کر گر پڑا ہے وہ دوبارہ اس ہار کی تلاش میں لشکر سے باہر چلی گئیں اس مرتبہ واپسی میں کچھ دیر لگ گئی اور لشکر روانہ ہو گیا آپ کا ہودج لادنے والوں نے یہ خیال کرکے کہ اُم المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہودج کے اندر تشریف فرما ہیں ہودج کو اونٹ پر لاد دیا اور پورا قافلہ منزل سے روانہ ہو گیا جب حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا منزل پر واپس آئیں تو یہاں کوئی آدمی موجود نہیں تھا تنہائی سے سخت گھبرائیں اندھیری رات میں اکیلے چلنا بھی خطرناک تھا اس لئے وہ یہ سوچ کر وہیں لیٹ گئیں کہ جب اگلی منزل پر لوگ مجھے نہ پائیں گے تو ضرور ہی میری تلاش میں یہاں آئیں گے، وہ لیٹی لیٹی سوگئیں ایک صحابی جن کا نام حضرت صفوان بن معطل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھا وہ ہمیشہ لشکر کے پیچھے پیچھے اس خیال سے چلا کرتے تھے تا کہ لشکر کا گرا پڑا سامان اٹھاتے چلیں وہ جب اس منزل پر پہنچے تو حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو دیکھا اور چونکہ پردہ کی آیت نازل ہونے سے پہلے وہ بار ہا ام المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیکھ چکے تھے اس لئے دیکھتے ہی پہچان لیا اور انہیں مردہ سمجھ کر ” اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن ” پڑھا اس آواز سے وہ جاگ اٹھیں حضرت صفوان بن معطل سلمی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فوراً ہی ان کو اپنے اونٹ پر سوار کر لیا اور خود اونٹ کی مہار تھام کر پیدل چلتے ہوئے اگلی منزل پر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔

منافقوں کے سردار عبداﷲ بن اُبی نے اس واقعہ کو حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا پر تہمت لگانے کا ذریعہ بنا لیا اور خوب خوب اس تہمت کا چرچا کیا یہاں تک کہ مدینہ میں اس منافق نے اس شرمناک تہمت کو اس قدر اچھالا اور اتنا شور و غل مچایا کہ مدینہ میں ہر طرف اس افتراء اور تہمت کا چرچا ہونے لگا اور بعض مسلمان مثلاً حضرت حسان بن ثابت اور حضرت مسطح بن اثاثہ اور حضرت حمنہ بنت جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے بھی اس تہمت کو پھیلانے میں کچھ حصہ لیا، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس شرانگیز تہمت سے بے حد رنج و صدمہ پہنچا اور مخلص مسلمانوں کو بھی انتہائی رنج و غم ہوا حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا مدینہ پہنچتے ہی سخت بیمار ہو گئیں، پردہ نشین تو تھیں ہی صاحب فراش ہو گئیں اور انہیں اس تہمت تراشی کی بالکل خبر ہی نہیں ہوئی گو کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی پاک دامنی کا پورا پورا علم و یقین تھا مگر چونکہ اپنی بیوی کا معاملہ تھا اس لئے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اپنی بیوی کی براءت اور پاکدامنی کا اعلان کرنا مناسب نہیں سمجھااور وحی الٰہی کا انتظار فرمانے لگے اس درمیان میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے مخلص اصحاب سے اس معاملہ میں مشورہ فرماتے رہے تا کہ ان لوگوں کے خیالات کا پتا چل سکے۔

(بخاری ج۲ ص۵۹۴)

چنانچہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس تہمت کے بارے میں گفتگو فرمائی تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم یہ منافق یقینا جھوٹے ہیں اس لئے کہ جب اﷲ تعالیٰ کو یہ گوارا نہیں ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر ایک مکھی بھی بیٹھ جائے کیونکہ مکھی نجاستوں پر بیٹھتی ہے تو بھلا جو عورت ایسی برائی کی مرتکب ہو خداوند قدوس کب اور کیسے برداشت فرمائے گا کہ وہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی زوجیت میں رہ سکے۔

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) جب اﷲ تعالیٰ نے آپ کے سایہ کو زمین پر نہیں پڑنے دیا تاکہ اس پر کسی کا پاؤں نہ پڑ سکے تو بھلا اس معبود برحق کی غیرت کب یہ گوارا کرے گی کہ کوئی انسان آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ کے ساتھ ایسی قباحت کا مرتکب ہو سکے ؟۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ گزارش کی کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ایک مرتبہ آپ کی نعلین اقدس میں نجاست لگ گئی تھی تو اﷲ تعالیٰ نے حضرت جبریل علیہ السلام کو بھیج کر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو خبر دی کہ آپ اپنی نعلین اقدس کو اتاردیں اس لئے حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا معاذاﷲ اگر ایسی ہوتیں تو ضرور اﷲ تعالیٰ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر وحی نازل فرما دیتا کہ ” آپ ان کو اپنی زوجیت سے نکال دیں۔ “

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جب اس تہمت کی خبر سنی تو انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اے بیوی ! تو سچ بتا ! اگر حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جگہ میں ہوتا تو کیا تو یہ گمان کر سکتی ہے کہ میں حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی حرم پاک کے ساتھ ایسا کر سکتا تھا ؟ تو ان کی بیوی نے جواب دیا کہ اگر حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی جگہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بیوی ہوتی تو خدا کی قسم ! میں کبھی ایسی خیانت نہیں کر سکتی تھی تو پھر حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا جو مجھ سے لاکھوں درجے بہتر ہے اور حضرت صفوان بن معطل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو بدر جہا تم سے بہتر ہیں بھلا کیونکر ممکن ہے کہ یہ دونوں ایسی خیانت کر سکتے ہیں ؟

(مدارک التنزيل مصری ج۲ ص۱۳۴ تا ۱۳۵)

بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس معاملہ میں حضرت علی اور اسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے جب مشورہ طلب فرمایا تو حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے برجستہ کہا کہ اَهْلُكَ وَلَا نَعْلَمُ اِلَّاخَيْرًا کہ یا رسول اﷲ ! ( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) وہ آپ کی بیوی ہیں اور ہم انہیں اچھی ہی جانتے ہیں، اور حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ جواب دیا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اﷲ تعالیٰ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں ڈالی ہے عورتیں ان کے سوا بہت ہیں اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کے بارے میں ان کی لونڈی (حضرت بریرہ) سے پوچھ لیں وہ آپ سے سچ مچ کہہ دے گی۔

حضرت بریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے جب آپ نے سوال فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ !( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اس ذات پاک کی قسم جس نے آپ کو رسول برحق بنا کر بھیجا ہے کہ میں نے حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا میں کوئی عیب نہیں دیکھا، ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ وہ ابھی کمسن لڑکی ہیں وہ گوندھا ہوا آٹا چھوڑ کر سو جاتی ہیں اور بکری آ کر کھا ڈالتی ہے۔

پھر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی زوجہ محترمہ حضرت زینب بنت جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے دریافت فرمایا جو حسن و جمال میں حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے مثل تھیں تو انہوں نے قسم کھا کر یہ عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اَحْمِيْ سَمْعِيْ وَ بَصَرِيْ وَاللّٰهِ مَا عَلِمْتُ اِلَّاخَيْرًا میں اپنے کان اور آنکھ کی حفاظت کرتی ہوں خدا کی قسم! میں تو حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اچھی ہی جانتی ہوں۔

(بخاری باب حديث الافک ج۲ ص۵۹۶)

اس کے بعد حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک دن منبر پر کھڑے ہو کر مسلمانوں سے فرمایا کہ اس شخص کی طرف سے مجھے کون معذور سمجھے گا، یا میری مدد کرے گا جس نے میری بیوی پر بہتان تراشی کر کے میری دل آزاری کی ہے، وَاللّٰهِ مَا عَلِمْتُ عَلٰي اَهْلِيْ اِلَّاخَيْرًا خدا کی قسم! میں اپنی بیوی کو ہر طرح کی اچھی ہی جانتا ہوں۔ وَلَقَدْ ذَکَرُوْا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ اِلَّا خَيْرًا اور ان لوگوں (منافقوں) نے (اس بہتان میں) ایک ایسے مرد (صفوان بن معطل) کا ذکر کیا ہے جس کو میں بالکل اچھا ہی جانتا ہوں۔

(بخاری ج۲ ص۵۹۵ باب حدیث الافک)

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی برسر منبر اس تقریر سے معلوم ہوا کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ اور حضرت صفوان بن معطل رضی اﷲ تعالیٰ عنہما دونوں کی براءت و طہارت اور عفت و پاک دامنی کا پورا پورا علم اور یقین تھا اور وحی نازل ہونے سے پہلے ہی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یقینی طور پر معلوم تھا کہ منافق جھوٹے اور اُم المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا پاک دامن ہیں ورنہ آپ برسر منبر قسم کھا کر ان دونوں کی اچھائی کا مجمع عام میں ہرگز اعلان نہ فرماتے مگر پہلے ہی اعلان عام نہ فرمانے کی وجہ یہی تھی کہ اپنی بیوی کی پاکدامنی کا اپنی زبان سے اعلان کرنا حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مناسب نہیں سمجھتے تھے، جب حد سے زیادہ منافقین نے شور و غوغا شروع کر دیا تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے منبر پر اپنے خیال اقدس کا اظہار فرما دیا مگر اب بھی اعلان عام کے لئے آپ کو وحی الٰہی کا انتظار ہی رہا۔

یہ پہلے تحریر کیا جا چکا ہے کہ اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سفر سے آتے ہی بیمار ہو کر صاحب فراش ہو گئی تھیں اس لئے وہ اس بہتان کے طوفان سے بالکل ہی بے خبر تھیں جب انہیں مرض سے کچھ صحت حاصل ہوئی اور وہ ایک رات حضرت اُم مسطح صحابیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے ساتھ رفع حاجت کے لئے صحرا میں تشریف لے گئیں تو انکی زبانی انہوں نے اس دلخراش اور روح فرسا خبر کو سنا۔ جس سے انہیں بڑا دھچکا لگا اور وہ شدت رنج و غم سے نڈھال ہو گئیں چنانچہ ان کی بیماری میں مزید اضافہ ہو گیا اور وہ دن رات بلک بلک کر روتی رہیں آخر جب ان سے یہ صدمہ جاں کاہ برداشت نہ ہوسکا تو وہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اپنی والدہ کے گھر چلی گئیں اور اس منحوس خبر کا تذکرہ اپنی والدہ سے کیا، ماں نے کافی تسلی و تشفی دی مگر یہ برابر لگاتار روتی ہی رہیں۔

اسی حالت میں ناگہاں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ اے عائشہ ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا تمہارے بارے میں ایسی ایسی خبر اڑائی گئی ہے اگر تم پاک دامن ہو اور یہ خبر جھوٹی ہے تو عنقریب خداوند تعالیٰ تمہاری براءت کا بذریعہ وحی اعلان فرما دے گا۔ ورنہ تم توبہ و استغفار کر لو کیونکہ جب کوئی بندہ خدا سے توبہ کرتا ہے اور بخشش مانگتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ گفتگو سن کر حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے آنسو بالکل تھم گئے اور انہوں نے اپنے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ آپ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا جواب دیجیے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو کیا جواب دوں ؟ پھر انہوں نے ماں سے جواب دینے کی درخواست کی تو ان کی ماں نے بھی یہی کہا پھر خود حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ جواب دیا کہ لوگوں نے جو ایک بے بنیاد بات اڑائی ہے اور یہ لوگوں کے دلوں میں بیٹھ چکی ہے اور کچھ لوگ اس کو سچ سمجھ چکے ہیں اس صورت میں اگر میں یہ کہوں کہ میں پاک دامن ہوں تو لوگ اس کی تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں اس برائی کا اقرار کر لوں تو سب مان لیں گے حالانکہ اﷲ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس الزام سے بری اور پاک دامن ہوں اس وقت میری مثال حضرت یوسف علیہ السلام کے باپ (حضرت یعقوب علیہ السلام) جیسی ہے لہٰذا میں بھی وہی کہتی ہوں جو انہوں نے کہا تھا یعنی فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ ط وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ

یہ کہتی ہوئی انہوں نے کروٹ بدل کر منہ پھیر لیا اور کہا کہ اﷲ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس تہمت سے بری اور پاک دامن ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اﷲ تعالیٰ ضرور میری براءت کو ظاہر فرما دے گا۔ حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا جواب سن کر ابھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی جگہ سے اٹھے بھی نہ تھے اور ہر شخص اپنی اپنی جگہ پر بیٹھا ہی ہوا تھا کہ ناگہاں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی اور آپ پر نزول وحی کے وقت کی بے چینی شروع ہو گئی اور باوجود یکہ شدید سردی کا وقت تھا مگر پسینے کے قطرات موتیوں کی طرح آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدن سے ٹپکنے لگے جب وحی اتر چکی تو ہنستے ہوئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا تم خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کی حمد کرو کہ اس نے تمہاری براءت اور پاکدامنی کا اعلان فرما دیا اور پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قرآن کی سورۂ نور میں سے دس آیتوں کی تلاوت فرمائی جو اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ ِبالْاِفْکِ سے شروع ہو کر وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ پر ختم ہوتی ہیں۔

ان آیات کے نازل ہو جانے کے بعد منافقوں کا منہ کالا ہو گیا اور حضرت ام المؤمنین بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی پاک دامنی کا آفتاب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اس طرح چمک اٹھا کہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے دلوں کی دنیا میں نور ایمان سے اجالا ہو گیا۔

احضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو حضرت مسطح بن اثاثہ پر بڑا غصہ آیا یہ آپ کے خالہ زاد بھائی تھے اور بچپن ہی میں ان کے والد وفات پا گئے تھے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کی پرورش بھی کی تھی اور ان کی مفلسی کی وجہ سے ہمیشہ آپ ان کی مالی امداد فرماتے رہتے تھے مگر اس کے باوجود حضرت مسطح بن اثاثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بھی اس تہمت تراشی اور اس کا چرچا کرنے میں کچھ حصہ لیا تھا اس وجہ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے غصہ میں بھر کر یہ قسم کھا لی کہ اب میں مسطح بن اثاثہ کی کبھی بھی کوئی مالی مدد نہیں کروں گا، اس موقع پر اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ :

وَ لَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَةِ اَنْ يُّؤْتُوْآ اُولِي الْقُرْبٰي وَالْمَسٰکِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ فِیْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ص وَ لْيَعْفُوْا وَ لْيَصْفَحُوْا ط اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَکُمْ ط وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (نور)

اور قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت والے اور گنجائش والے ہیں قرابت والوں اور مسکینوں اور اﷲ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے کی اور چاہیے کہ معاف کریں اور درگزر کریں کیا تم اسے پسند نہیں کرتے کہ اﷲ تمہاری بخشش کرے اور اﷲ بہت بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے۔

اس آیت کو سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنی قسم توڑ ڈالی اور پھر حضرت مسطح بن اثاثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا خرچ بدستور سابق عطافرمانے لگے۔

(بخاری حديث الافک ج۲ ص۵۹۵ تا ۵۹۶ املخصاً)

پھر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں ایک خطبہ پڑھا اور سورۂ نور کی آیتیں تلاوت فرما کر مجمع عام میں سنادیں اور تہمت لگانے والوں میں سے حضرت حسان بن ثابت و حضرت مسطح بن اثاثہ و حضرت حمنہ بنت جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اور رئیس المنافقین عبداﷲ بن ابی ان چاروں کو حدقذف کی سزا میں اسّی اسّی درے مارے گئے۔

(مدارج جلد۲ ص ۱۶۳ وغیره)

شارح بخاری علامہ کرمانی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی براءت اورپاک دامنی قطعی ویقینی ہے جو قرآن سے ثابت ہے اگر کوئی اس میں ذرا بھی شک کرے تو وہ کافر ہے۔

(بخاری جلد۲ ص۵۹۵)

دوسرے تمام فقہاء امت کا بھی یہی مسلک ہے۔

-: آیت تیمم کا نزول

-: جنگِ خندق

-: جنگ خندق کا سبب

-: مسلمانوں کی تیاری

-: ایک عجیب چٹان

-: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعوت

-: بابرکت کھجوریں

-: اسلامی افواج کی مورچہ بندی

-: کفار کا حملہ

-: بنو قریظہ کی غداری

-: انصار کی ایمانی شجاعت

-: عمرو بن عبدود مارا گیا

-: نوفل کی لاش

-: حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خطاب ملا

-: حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید

-: حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہادری

-: کفار کیسے بھاگے ؟

-: غزوہ بنی قریظہ

۵ ھ کے متفرق واقعات :-