عالم انسانیت کے معجزات

-: تھوڑی چیز زیادہ ہو گئی

-: اُمِ سُلَیم کی روٹیاں

-: حضرت جابر کی کھجوریں

-: حضرت ابوہریرہ کی تھیلی

-: اُمِ مالک کا کُپّہ

-: بابرکت پیالہ

-: تھوڑا توشہ عظیم برکت

-: برکت والی کلیجی

-: حضرت ابوہریرہ اور ایک پیالہ دودھ

-: آشوب چشم سے شفاء

-: سانپ کا زہر اُتر گیا

-: ٹوٹی ہوئی ٹانگ درست ہو گئی

-: تلوار کا زخم اچھا ہو گیا

-: اندھا بینا ہو گیا

-: گونگا بولنے لگا

-: حضرت قتادہ کی آنکھ

-: فائدہ

-: قے میں کالا پِلّا گرا

-: جنون اچھا ہو گیا

-: جلا ہوا بچہ اچھا ہو گیا

-: مرض نسیان دور ہو گیا

-: مقبولیتِ دُعاء

-: قریش پر قحط کا عذاب

-: سردارانِ قریش کی ہلاکت

-: مدینہ کی آب و ہوا اچھی ہو گئی

-: اُمِ حرام کے لئے دعاء شہادت

-: اُمِ حرام کے لئے دعاء شہادت

ایک روز حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت بی بی اُمِ حرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے مکان میں کھانے کے بعد قیلولہ فرما رہے تھے کہ ناگہاں ہنستے ہوئے نیند سے بیدار ہوئے، حضرت بی بی اُمِ حرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے ہنسی کی وجہ دریافت کی تو ارشاد فرمایا کہ میری امت میں مجاہدین کا ایک گروہ میرے سامنے پیش کیا گیا جو جہاد کی غرض سے دریا میں کشتیوں پر اس طرح بیٹھا ہوا سفر کرے گا جس طرح تخت پر بادشاہ بیٹھے رہا کرتے ہیں۔ یہ سن کر انہوں نے درخواست کی کہ یا رسول اﷲ!( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) دعا فرما دیجئے کہ میں بھی ان مجاہدین کے گروہ میں شامل رہوں۔ آپ نے دعا فرما دی۔ چنانچہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں جب بحری جنگ کا سلسلہ شروع ہوا تو حضرت بی بی اُمِ حرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بھی مجاہدین کی اس جماعت کے ساتھ کشتی پر سوار ہو کر روانہ ہوئیں اور دریا سے نکل کر جب خشکی پر آئیں تو سواری سے گر کر شہادت کا شرف حاصل کیا۔

(بخاری جلد۲ ص ۱۰۳۶ باب الرويا بالنهار)

-: ستر برس کا جوان

-: برکت اولاد کی دعا

-: حضرت جریر کے حق میں دعا

-: قبلہ دوس کا اسلام

-: ایک متکبر کا انجام

-: مردے زندہ ہو گئے

-: لڑکی قبر سے نکل آئی

-: پکی ہوئی بکری زندہ ہو گئی