شمائل و خصائل

-: حلیۂ مقدسہ

-: جسم اطہر

-: جسم انور کا سایہ نہ تھا

-: مکھی، مچھر، جوؤں سے محفوظ

-: مہر نبوت

-: قد مبارک

-: سر اقدس

-: مقدس بال

-: رُخِ انور

-: محراب اَبرو

-: نورانی آنکھ

-: بینی مبارک

-: مقدس پیشانی

-: گوش مبارک

-: دہن شریف

-: زبان اقدس

-: لعابِ دہن

-: آواز مبارک

-: پرنور گردن

-: دست ِ رحمت

-: شکم و سینہ

-: پائے اقدس

-: لباس

-: عمامہ

-: چادر

-: کملی

-: نعلین اقدس

-: پسندیدہ رنگ

-: انگوٹھی

-: خوشبو

-: سرمہ

-: سواری

-: نفاست پسندی

-: مرغوب غذائیں

-: روز مرہ کے معمولات

-: سونا جاگنا

-: رفتار

-: کلام

-: دربار نبوت

-: تاجدارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خطبات

-: سرورِ کائنات کی عبادات

-: نماز

-: روزہ

-: زکوٰۃ

-: زکوٰۃ

چونکہ حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام پر خداوند قدوس نے زکوٰۃ فرض ہی نہیں فرمائی ہے اس لئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر زکوٰۃ فرض ہی نہیں تھی۔

(زرقانی ج۸ ص۹۰)

لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقات و خیرات کا یہ عالم تھا کہ آپ اپنے پاس سونا چاندی یا تجارت کا کوئی سامان یا مویشیوں کا کوئی ریوڑ رکھتے ہی نہیں تھے بلکہ جو کچھ بھی آپ کے پاس آتا سب خدا عزوجل کی راہ میں مستحقین پر تقسیم فرما دیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ گوارا ہی نہیں تھا کہ رات بھر کوئی مال و دولت کاشانہ نبوت میں رہ جائے۔ ایک مرتبہ ایسا اتفاق پڑا کہ خراج کی رقم اس قدر زیادہ آگئی کہ وہ شام تک تقسیم کرنے کے باوجود ختم نہ ہو سکی تو آپ رات بھر مسجد ہی میں رہ گئے جب حضرت بلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے آکر یہ خبر دی کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ساری رقم تقسیم ہو چکی تو آپ نے اپنے مکان میں قدم رکھا۔

(ابو داؤد باب قبول هدایا المشرکین)

-: حج