اخلاق نبوت

-: حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عقل

-: حلم و عفو

-: تواضع

-: حسن معاشرت

-: حیاء

-: وعدہ کی پابندی

-: عدل

-: وقار

-: زاہدانہ زندگی

-: شجاعت

-: طاقت

-: رکانہ پہلوان سے کشتی

-: رکانہ پہلوان سے کشتی

عرب کا مشہور پہلوان رکانہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو اسلام کی دعوت دی وہ کہنے لگا کہ اے محمد ! ( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اگر آپ مجھ سے کشتی لڑ کر مجھے پچھاڑ دیں تو میں آپ کی دعوت اسلام کو قبول کر لوں گا۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تیار ہو گئے اور اس سے کشتی لڑ کر اس کو پچھاڑ دیا، پھر اس نے دوبارہ کشتی لڑنے کی دعوت دی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ بھی اپنی پیغمبرانہ طاقت سے اس کو اس زور کے ساتھ زمین پر پٹک دیا کہ وہ دیر تک اٹھ نہ سکا اور حیران ہو کر کہنے لگا کہ اے محمد ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) خدا کی قسم ! آپ کی عجیب شان ہے کہ آج تک عرب کا کوئی پہلوان میری پیٹھ زمین پر نہیں لگا سکا مگر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دم زدن میں مجھے دو مرتبہ زمین پر پچھاڑ دیا۔ بعض مؤرخین کا قول ہے کہ رکانہ فوراً ہی مسلمان ہو گیا مگر بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ رکانہ نے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا۔ واﷲ تعالیٰ اعلم۔

(زرقانی جلد۴ ص۲۹۱)

-: یزید بن رکانہ سے مقابلہ

-: ابو الاسود سے زور آزمائی

-: سخاوت

-: اسماء مبارکہ

-: آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی کنیت