شمائل و خصائل

-: حلیۂ مقدسہ

-: جسم اطہر

-: جسم انور کا سایہ نہ تھا

-: مکھی، مچھر، جوؤں سے محفوظ

-: مکھی، مچھر، جوؤں سے محفوظ

حضرت امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس روایت کو نقل فرمایا ہے اور علامہ حجازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ سے بھی یہی منقول ہے کہ بدن تو بدن، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے کپڑوں پر بھی کبھی مکھی نہیں بیٹھی، نہ کپڑوں میں کبھی جوئیں پڑیں، نہ کبھی کھٹمل یا مچھر نے آپ کو کاٹا، اس مضمون کو ابو الربیع سلیمان بن سبع رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب شفاء الصدور في اعلام نبوة الرسول میں بیان فرماتے ہوئے تحریر فرمایا کہ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نور تھے۔ پھر مکھیوں کی آمد، جوؤں کا پیدا ہونا چونکہ گندگی بدبو وغیرہ کی وجہ سے ہوا کرتا ہے اور آپ چونکہ ہر قسم کی گندگیوں سے پاک اور آپ کا جسم اطہر خوشبو دار تھا اس لئے آپ ان چیزوں سے محفوظ رہے۔ امام سبتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی اس مضمون کو اعظم الموارد میں مفصل لکھا ہے۔

(زرقانی ج۵ ص۲۴۹)

-: مہر نبوت

-: قد مبارک

-: سر اقدس

-: مقدس بال

-: رُخِ انور

-: محراب اَبرو

-: نورانی آنکھ

-: بینی مبارک

-: مقدس پیشانی

-: گوش مبارک

-: دہن شریف

-: زبان اقدس

-: لعابِ دہن

-: آواز مبارک

-: پرنور گردن

-: دست ِ رحمت

-: شکم و سینہ

-: پائے اقدس

-: لباس

-: عمامہ

-: چادر

-: کملی

-: نعلین اقدس

-: پسندیدہ رنگ

-: انگوٹھی

-: خوشبو

-: سرمہ

-: سواری

-: نفاست پسندی

-: مرغوب غذائیں

-: روز مرہ کے معمولات

-: سونا جاگنا

-: رفتار

-: کلام

-: دربار نبوت

-: تاجدارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خطبات

-: سرورِ کائنات کی عبادات

-: نماز

-: روزہ

-: زکوٰۃ

-: حج