ہجرت کا نواں سال

-: آیت تخییر و ایلاء

-: ایک غلط فہمی کا ازالہ

-: عاملوں کا تقرر

-: بنی تمیم کا وفد

-: حاتم طائی کی بیٹی اور بیٹا مسلمان

-: غزوۂ تبوک

-: غزوۂ تبوک کا سبب

-: فہرست چندہ دہندگان

-: فوج کی تیاری

-: تبوک کو روانگی

-: راستے کے چند معجزات

-: ہوا اڑا لے گئی

-: گمشدہ اونٹنی کہاں ہے ؟

-: تبوک کا چشمہ

-: رومی لشکر ڈر گیا

-: ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر

-: مسجد ضرار

-: صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ امیر الحج

-: صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ امیر الحج

غزوۂ تبوک سے واپسی کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ذوالقعدہ ۹ ھ میں تین سو مسلمانوں کا ایک قافلہ مدینہ منورہ سے حج کے لئے مکہ مکرمہ بھیجا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو “امیر الحج” اور حضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ” نقیب اسلام ” اور حضرت سعد بن ابی وقاص و حضرت جابر بن عبداﷲ و حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو معلم بنا دیا اور اپنی طرف سے قربانی کے لئے بیس اونٹ بھی بھیجے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حرمِ کعبہ اور عرفات و منیٰ میں خطبہ پڑھا اس کے بعد حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور ” سورۂ براءت ” کی چالیس آیتیں پڑھ کر سنائیں اور اعلان کر دیا کہ اب کوئی مشرک خانہ کعبہ میں داخل نہ ہو سکے گا نہ کوئی برہنہ بدن اور ننگا ہوکر طواف کر سکے گا اور چار مہینے کے بعد کفار و مشرکین کے لئے امان ختم کر دی جائے گی۔ حضرت ابو ہریرہ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے اس اعلان کی اس قدر زور زور سے منادی کی کہ ان لوگوں کا گلا بیٹھ گیا۔ اس اعلان کے بعد کفار و مشرکین فوج کی فوج آ کر مسلمان ہونے لگے۔

(طبری ج۲ ص۱۷۲۱ و زرقانی ج۳ ص۹۰ تا ۹۳)

۹ ھ کے واقعات متفرقہ :-

-: وفود العرب

-: استقبالِ وفود

-: وفد ثقیف

-: وفد کندہ

-: وفد بنی اشعر

-: وفد بنی اسد

-: وفد فزارہ

-: وفد بنی مرہ

-: وفد بنی البکاء

-: وفد بنی کنانہ

-: وفد بنی ہلال

-: وفد ضمام بن ثعلبہ

-: وفدَ بلی

-: وفد تُجیب

-: وفد مزینہ

-: وفد دوس

-: وفد بنی عبس

-: وفد دارم

-: وفد غامد

-: وفد نجرانّ