ہجرت کا تیسرا سال

-: جنگ اُحد

-: مدینہ پر چڑھائی

-: مسلمانوں کی تیاری اور جوش

-: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے یہود کی امداد کو ٹھکرا دیا

-: بچوں کا جوش جہاد

-: تاجدارِ دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میدان جنگ میں

-: جنگ کی ابتداء

-: ابو دجانہ کی خوش نصیبی

-: حضرت حمزہ کی شہادت

-: حضرت حنظلہ کی شہادت

-: ناگہاں جنگ کا پانسہ پلٹ گیا

-: حضرت مصعب بن عمیر بھی شہید

-: زیاد بن سکن کی شجاعت اور شہادت

-: کھجور کھاتے کھاتے جنت میں

-: لنگڑاتے ہوئے بہشت میں

-: تاجدارِ دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم زخمی

-: صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا جوش جاں نثاری

-: اابو سفیان کا نعرہ اور اس کا جواب

-: ہند جگر خوار

-: سعد بن الربیع کی وصیت

-: خواتین اسلام کے کارنامے

-: حضرت اُمِ عمارہ کی جاں نثاری بیداری

-: ایک انصاری عورت کا صبر

-: شہدائے کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم

-: شہدائے کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم

اس جنگ میں ستر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے جامِ شہادت نوش فرمایا جن میں چار مہاجر اور چھیاسٹھ انصار تھے۔ تیس کی تعداد میں کفار بھی نہایت ذلت کے ساتھ قتل ہوئے۔

(مدارج النبوة جلد۲ ص۱۳۳)

مگر مسلمانوں کی مفلسی کا یہ عالم تھا کہ ان شہداء کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے کفن کے لئے کپڑا بھی نہیں تھا۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا یہ حال تھا کہ بوقت شہادت ان کے بدن پر صرف ایک اتنی بڑی کملی تھی کہ ان کی لاش کو قبر میں لٹانے کے بعد اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا تھا تو پاؤں کھل جاتے تھے اور اگر پاؤں کو چھپایا جاتا تھا تو سر کھل جاتا تھا بالآخر سر چھپا دیا گیا اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دی گئی۔ شہداء کرام خون میں لتھڑے ہوئے دو دو شہید ایک ایک قبر میں دفن کئے گئے۔ جس کو قرآن زیادہ یاد ہوتا اس کو آگے رکھتے۔

(بخاری باب اذالم یوجد الا ثواب واحد ج۱ ص۱۷۰ و بخاری ج۲ ص۵۸۴ باب الذين استجابوا)

-: قبورِ شہداء کی زیارت

-: حیاتِ شہداء

-: کعب بن اشرف کا قتل

-: غزوہ غطفان

۳ ھ کے واقعات متفرقہ :-