اعلانِ نبوت کے بعد

-: غار ِحراء

-: پہلی وحی

-: دعوت اسلام کا پہلا دور

-: دعوت اسلام کا دوسرا دور

-: دعوت اسلام کا تیسرا دور

-: رحمت عالم پر ظلم و ستم

-: مسلمانوں پر مظالم

-: کفار کا وفد بارگاہ رسالت میں

-: قریش کا وفد ابو طالب کے پاس

-: ہجرت حبشہ ۵ نبوی

-: نجاشی

-: کفار کا سفیر نجاشی کے دربار میں

-: حضرت حمزہ مسلمان ہو گئے

-: حضرت عمر کا اسلام

-: شعب ابی طالب ۷ نبوی

-: شعب ابی طالب ۷ نبوی

اعلان نبوت کے ساتویں سال ۷ نبوی میں کفار مکہ نے جب دیکھا کہ روز بروز مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور حضرت حمزہ و حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما جیسے بہادر ان قریش بھی دامن اسلام میں آ گئے تو غیظ و غضب میں یہ لوگ آپے سے باہر ہو گئے اور تمام سرداران قریش اور مکہ کے دوسرے کفار نے یہ اسکیم بنائی کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کے خاندان کا مکمل بائیکاٹ کر دیا جائے اور ان لوگوں کو کسی تنگ و تاریک جگہ میں محصور کر کے ان کا دانہ پانی بند کر دیا جائے تا کہ یہ لوگ مکمل طور پر تباہ و برباد ہو جائیں۔ چنانچہ اس خوفناک تجویز کے مطابق تمام قبائل قریش نے آپس میں یہ معاہدہ کیا کہ جب تک بنی ہاشم کے خاندان والے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو قتل کے لئے ہمارے حوالہ نہ کر دیں

(۱)کوئی شخص بنو ہاشم کے خاندان سے شادی بیاہ نہ کرے۔ (۲) کوئی شخص ان لوگوں کے ہاتھ کسی قسم کے سامان کی خریدوفروخت نہ کرے۔ (۳) کوئی شخص ان لوگوں سے میل جول، سلام و کلام اور ملاقات و بات نہ کرے۔ (۴) کوئی شخص ان لوگوں کے پاس کھانے پینے کا کوئی سامان نہ جانے دے۔

منصور بن عکرمہ نے اس معاہدہ کو لکھا اور تمام سرداران قریش نے اس پر دستخط کر کے اس دستاویز کو کعبہ کے اندر آویزاں کر دیا۔ ابو طالب مجبوراً حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور دوسرے تمام خاندان والوں کو لے کر پہاڑ کی اس گھاٹی میں جس کا نام ” شعب ابی طالب ” تھا پناہ گزین ہوئے۔ ابولہب کے سوا خاندان بنو ہاشم کے کافروں نے بھی خاندانی حمیت و پاسداری کی بنا پر اس معاملہ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ساتھ دیا اور سب کے سب پہاڑ کے اس تنگ و تاریک درہ میں محصور ہو کر قیدیوں کی زندگی بسر کرنے لگے۔ اور یہ تین برس کا زمانہ اتنا سخت اور کٹھن گزرا کہ بنو ہاشم درختوں کے پتے اور سوکھے چمڑے پکا پکا کر کھاتے تھے۔اور ان کے بچے بھوک پیاس کی شدت سے تڑپ تڑپ کر دن رات رویا کرتے تھے۔ سنگدل اور ظالم کافروں نے ہر طرف پہرہ بٹھا دیا تھا کہ کہیں سے بھی گھاٹی کے اندر دانہ پانی نہ جانے پائے۔

(زرقانی علی المواهب ج۱ ص ۲۷۸)

مسلسل تین سال تک حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور خاندان بنو ہاشم ان ہوش ربا مصائب کو جھیلتے رہے یہاں تک کہ خود قریش کے کچھ رحم دلوں کو بنو ہاشم کی ان مصیبتوں پر رحم آ گیااور ان لوگوں نے اس ظالمانہ معاہدہ کو توڑنے کی تحریک اٹھائی۔ چنانچہ ہشام بن عمرو عامری، زہیر بن ابی امیہ، مطعم بن عدی، ابو البختری، زمعہ بن الاسود وغیرہ یہ سب مل کر ایک ساتھ حرم کعبہ میں گئے اور زہیر نے جو عبدالمطلب کے نواسے تھے کفار قریش کو مخاطب کرکے اپنی پر جوش تقریر میں یہ کہا کہ اے لوگو ! یہ کہاں کا انصاف ہے ؟ کہ ہم لوگ تو آرام سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور خاندان بنو ہاشم کے بچے بھوک پیاس سے بے قرار ہو کر بلبلا رہے ہیں۔ خدا کی قسم ! جب تک اس وحشیانہ معاہدہ کی دستاویز پھاڑ کر پاؤں سے نہ روند دی جائے گی میں ہرگز ہرگز چین سے نہیں بیٹھ سکتا۔ یہ تقریر سن کر ابوجہل نے تڑپ کر کہا کہ خبردار ! ہرگز ہرگز تم اس معاہدہ کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ زمعہ نے ابوجہل کو للکارا اور اس زور سے ڈانٹا کہ ابوجہل کی بولتی بند ہو گئی۔ اسی طرح مطعم بن عدی اور ہشام بن عمرو نے بھی خم ٹھونک کر ابوجہل کو جھڑک دیا اور ابو البختری نے تو صاف صاف کہہ دیا کہ اے ابوجہل ! اس ظالمانہ معاہدہ سے نہ ہم پہلے راضی تھے اور نہ اب ہم اس کے پابند ہیں۔

اسی مجمع میں ایک طرف ابو طالب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اے لوگو ! میرے بھتیجے محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کہتے ہیں کہ اس معاہدہ کی دستاویز کو کیڑوں نے کھا ڈالا ہے اور صرف جہاں جہاں خدا کا نام لکھا ہوا تھا اس کو کیڑوں نے چھوڑ دیا ہے۔ لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ تم لوگ اس دستاویز کو نکال کر دیکھو اگر واقعی اس کو کیڑوں نے کھا لیا ہے جب تو اس کو چاک کرکے پھینک دو۔ اور اگر میرے بھتیجے کا کہنا غلط ثابت ہوا تو میں محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو تمہارے حوالے کردوں گا۔ یہ سن کر مطعم بن عدی کعبہ کے اندر گیا اور دستاویز کو اتار لایا اور سب لوگوں نے اس کو دیکھا تو واقعی بجز اﷲ تعالیٰ کے نام کے پوری دستاویز کو کیڑوں نے کھا لیا تھا۔ مطعم بن عدی نے سب کے سامنے اس دستاویز کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ اور پھر قریش کے چند بہادر باوجودیکہ یہ سب کے سب اس وقت کفر کی حالت میں تھے ہتھیار لے کر گھاٹی میں پہنچے اور خاندان بنو ہاشم کے ایک ایک آدمی کو وہاں سے نکال لائے اور ان کو ان کے مکانوں میں آباد کر دیا۔ یہ واقعہ ۱۰ نبوی کا ہے۔ منصور بن عکرمہ جس نے اس دستاویز کو لکھا تھا اس پر یہ قہر الٰہی ٹوٹ پڑا کہ اس کا ہاتھ شل ہو کر سوکھ گیا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۴۲ وغيره)

-: غم کا سال ۱۰ نبوی

-: ابو طالب کا خاتمہ

-: حضرت بی بی خدیجہ کی وفات

-: طائف وغیرہ کا سرفراز

-: قبائل میں تبلیغ اسلام