ہجرت کا دوسرا سال

-: قبلہ کی تبدیلی

-: لڑائیوں کا سلسلہ

-: غزوہ و سریّہ کا فرق

-: غزوات و سرایا

-: سریۂ حمزہ

-: سریۂ عبیدہ بن الحارث

-: سریۂ سعد بن ابی وقاص

-: غزوۂ ابواء

-: غزوۂ بواط

-: غزوۂ سفوان

-: غزوۂ ذی العُشیرہ

-: سریۂ عبد اﷲ بن جحش

-: جنگ ِ بدر

-: جنگ بدر کا سبب

-: مدینہ سے روانگی

-: ننھا سپاہی

-: کفار قریش کا جوش

-: ابو سفیان بچ کر نکل گیا

-: کفار میں اختلاف

-: کفار قریش بدر میں

-: تاجدار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ سلم بدر کے میدان میں

-: سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شب بیداری

-: کون کب ؟ اور کہاں مرے گا ؟

-: لڑائی ٹلتے ٹلتے پھر ٹھن گئی

-: شکم مبارک کا بوسہ

-: شکم مبارک کا بوسہ

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی چھڑی کے اشارہ سے صفیں سیدھی فرما رہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ حضرت سواد انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا پیٹ صف سے کچھ آگے نکلا ہوا تھا۔ آپ نے اپنی چھڑی سے ان کے پیٹ پر ایک کونچا دے کر فرمایا کہ اِسْتَوِ یَا سَوَادُ (اے سواد سیدھے کھڑے ہو جاؤ) حضرت سواد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یا رسول اﷲ ! آپ نے میرے شکم پر چھڑی ماری ہے مجھے آپ سے اس کا قصاص (بدلہ) لینا ہے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنا پیراہن شریف اٹھا کر فرمایا کہ اے سواد ! لو میرا شکم حاضر ہے تم اس پر چھڑی مار کر مجھ سے اپنا قصاص لے لو۔ حضرت سواد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے دوڑ کر آپ کے شکم مبارک کو چوم لیا اور پھر نہایت ہی والہانہ انداز میں انتہائی گرم جوشی کے ساتھ آپ کے جسم اقدس سے لپٹ گئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے سواد ! تم نے ایسا کیوں کیا ؟ عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں اس وقت جنگ کی صف میں اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر کھڑا ہوں شاید موت کا وقت آ گیا ہو، اس وقت میرے دل میں اس تمنا نے جوش مارا کہ کاش ! مرتے وقت میرا بدن آپ کے جسم اطہر سے چھو جائے۔ یہ سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت سواد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے اس جذبۂ محبت کی قدر فرماتے ہوئے ان کے لئے خیر و برکت کی دعا فرمائی اور حضرت سواد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے دربار رسالت میں معذرت کرتے ہوئے اپنا قصاص معاف کر دیااور تمام صحابۂ کرام حضرت سواد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اس عاشقانہ ادا کو حیرت سے دیکھتے ہوئے ان کا منہ تکتے رہ گئے۔

(سيرت ابن هشام غزوه بدر ج۲ ص۶۲۶)

-: عہد کی پابندی

-: دونوں لشکر آمنے سامنے

-: دعائے نبوی

-: لڑائی کس طرح شروع ہوئی

-: حضرت عمیر کا شوقِ شہادت

-: کفار کا سپہ سالار مارا گیا

-: حضرت زبیر کی تاریخی برچھی

-: ابوجہل ذلت کے ساتھ مارا گیا

-: ابو البختری کا قتل

-: اُمیّہ کی ہلاکت

-: فرشتوں کی فوج

-: کفار نے ہتھیار ڈال دیئے

-: شہدائے بدر

-: بدر کا گڑھا

-: کفار کی لاشوں سے خطاب

-: ضروری تنبیہ

-: مدینہ کو واپسی

-: مجاہدین بدر کا استقبال

-: قیدیوں کے ساتھ سلوک

-: اسیرانِ جنگ کا انجام

-: حضرت عباس کا فدیہ

-: حضرت زینب کا ہار

-: مقتولین بدر کا ماتم

-: عمیر اور صفوان کی خوفناک سازش

-: مجاہدین بدر کے فضائل

-: ابو لہب کی عبر تناک موت

-: غزوہ بنی قینقاع

-: غزوۂ سویق

-: حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی شادی

۲ھ کے متفرق واقعات :-