ہجرت کا چھٹا سال

-: بیعۃ الرضوان

-: صلح حدیبیہ کیونکر ہوئی

-: حضرت ابو جندل کا معاملہ

-: مظلومین مکہ

-: حضرت ابو بصیر کا کارنامہ

-: سلاطین کے نام دعوت اسلام

-: سلاطین کے نام دعوت اسلام

۶ھ میں صلح حدیبیہ کے بعد جب جنگ و جدال کے خطرات ٹل گئے اور ہر طرف امن و سکون کی فضا پیدا ہو گئی تو چونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کا دائرہ صرف خطۂ عرب ہی تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تمام عالم کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے اس لئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ اسلام کا پیغام تمام دنیا میں پہنچا دیا جائے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے روم کے بادشاہ ” قیصر ” فارس کے بادشاہ ” کسریٰ ” حبشہ کے بادشاہ ” نجاشی ” مصر کے بادشاہ ” عزیز ” اور دوسرے سلاطین عرب و عجم کے نام دعوت اسلام کے خطوط روانہ فرمائے۔

صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے کون کون حضرات ان خطوط کو لے کر کن کن بادشاہوں کے دربار میں گئے ؟ ان کی فہرست کافی طویل ہے مگر ایک ہی دن چھ خطوط لکھوا کر اور اپنی مہر لگا کر جن چھ قاصدوں کو جہاں جہاں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے روانہ فرمایا وہ یہ ہیں۔

(۱) حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر قل قیصر روم کے دربار میں

(۲) حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خسرو پرویز شاہ ایران

(۳) حضرت حاطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقوقس عزیز مصر

(۴) حضرت عمروبن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نجاشی بادشاہ حبشہ

(۵) حضرت سلیط بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوذہ بادشاہ یمامہ

(٦) حضرت شجاع بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حارث غسانی والی غسان

-: نامہ مبارک اور قیصر

-: خسرو پرویز کی بددماغی

-: نجاشی کا کردار

-: شاہ مصر کا برتاؤ

-: بادشاہ یمامہ کا جواب

-: حارث غسانی کا گھمنڈ

-: سریۂ نجد

-: ابو رافع قتل کردیا گیا

-: بادشاہ یمامہ کا جواب