عالم نباتات کے معجزات

-: خوشہ درخت سے اُتر پڑا

-: درخت چل کر آیا

-: انتباہ

-: چھڑی روشن ہوگئی

-: چھڑی روشن ہوگئی

حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہں کہ دو صحابی حضرت اُسدے بن حضرگ اور عبادبن بشر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما اندھیری رات مںن بہت دیر تک حضور صلی اﷲ تعالیٰ علہہ وسلم سے بات کرتے رہے جب یہ دونوں بارگاہ رسالت سے اپنے گھروں کے لےا روانہ ہوئے تو ایک کی چھڑی ناگہاں خود بخود روشن ہوگئی اور وہ دونوں اسی چھڑی کی روشنی مں چلتے رہے جب کچھ دور چل کردونوں کے گھروں کا راستہ الگ الگ ہو گاب تو دوسرے کی چھڑی بھی روشن ہوگئی اور دونوں اپنی اپنی چھڑیوں کی روشنی کے سہارے سخت اندھیری رات مںر اپنے اپنے گھروں تک پہنچ گئے۔

(مشکوٰة جلد ۲ ص ۵۴۴ و بخاری جلد ۱ ص ۵۳۷)

اسی طرح امام احمد نے حضرت ابو سعدا خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت قتادہ بن نعمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علہق وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی رات سخت اندھیری تھی اور آسمان پر گھنگھور گھٹا چھائی ہوئی تھی۔ بوقت روانگی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علہد وسلم نے اپنے دست مبارک سے انہںا درخت کی ایک شاخ عطا فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ تم بلاخوف و خطر اپنے گھر جاؤ یہ شاخ تمہارے ہاتھ مںح اییی روشن ہو جائے گی کہ دس آدمی تمہارے آگے اور دس آدمی تمہارے پچھےل اس کی روشنی مںق چل سکںہ اور جب تم گھر پہنچو گے تو ایک کالی چزئ کو دیکھو گے اس کو مار کر گھر سے نکال دینا۔ چنانچہ ایسا ہی ہواکہ جوں ہی حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاشانۂ نبوت سے نکلے وہ شاخ روشن ہوگئی اور وہ اسی کی روشنی مںف چل کر اپنے گھر پہنچ گئے اور دیکھا کہ وہاں ایک کالی چزج موجود ہے آپ نے فرمان نبوت کے مطابق اس کو مار کر گھر سے باہر نکال دیا۔

(الکلام المبين فی آيات رحمة للعالمنی ص ۱۱۶)

-: لکڑی کی تلوار

-: رونے والا ستون