عالم نباتات کے معجزات

-: خوشہ درخت سے اُتر پڑا

-: درخت چل کر آیا

-: انتباہ

-: چھڑی روشن ہوگئی

-: لکڑی کی تلوار

-: رونے والا ستون

-: رونے والا ستون

مسجد نبوی مں پہلے منبر نہں تھا، کھجور کے تنا کا ایک ستون تھا اسی سے ٹکم لگا کر آپ خطبہ پڑھا کرتے تھے ۔ جب ایک انصاری عورت نے ایک منبر بنوا کر مسجد نبوی مںت رکھا تو آپ نے اس پر کھڑے ہو کر خطبہ دینا شروع کر دیا ناگہاں اس ستون سے بچوں کی طرح رونے کی آواز آنے لگی اور بعض روایات مںے آیا ہے کہ اونٹنو ں کی طرح بلبلانے کی آواز آئی ۔یہ راویانِ حدیث کے مختلف ذوق کی بنا پر رونے کی مختلف تشبیہیں ہںی راویوں کا مقصود یہ ہے کہ درد فراق سے بلبلا کر اور بے قرار ہو کر ستون زار زار رونے لگااور بعض روایتوں مںا یہ بھی آیا ہے کہ ستون اس قدر زور زور سے رونے لگا کہ قریب تھا کہ جوش گریہ سے پھٹ جائے اور اس رونے کی آواز کو مسجد نبوی کے تمام مصلیوں نے اپنے کانوں سے سنا۔ ستون کی گریہ و زاری کو سن کر حضور رحمۃٌ للعالمنر صلی اﷲ تعالیٰ علہں وسلم منبر سے اتر کر آئے اور ستون پر تسکین دینے کے لئے اپنا مقدس ہاتھ رکھ دیا اور اس کو اپنے سنہں سے لگا لان تو وہ ستون اس طرح ہچکا ں لے لے کے رونے لگا جس طرح رونے والے بچے کو جب چپ کرایا جاتا ہے تو وہ ہچکا ں لے لے کر رونے لگتا ہے۔ بالآخر جب آپ نے ستون کو اپنے سہے سے چمٹا لاے تو وہ سکون پا کر خاموش ہو گاہ اور آپ نے ارشاد فرمایا کہ ستون کا یہ رونا اس بنا پر تھا کہ یہ پہلے خدا کا ذکر سنتا تھا اب جو نہ سنا تو رونے لگا۔

(بخاری جلد۱ ص۲۸۱ باب النجار و ص۵۰۶ باب علامات النبوة)

اور حضرت بریدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی حدیث مںک یہ بھی وارد ہے کہ حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علہم وسلم نے اس ستون کو اپنے سنہج سے لگا کر یہ فرمایا کہ اے ستون! اگر تو چاہے تو مںک تجھ کو پھر اسی باغ مںو تریی پہلی جگہ پر پہنچا دوں تا کہ تو پہلے کی طرح ہرا بھرا درخت ہو جائے اور ہمشہا پھلتا پھولتا رہے اور اگر تر ی خواہش ہو تو مںس تجھ کو باغ بہشت کا ایک درخت بنا دینے کے لئے خدا سے دعا کر دوں تا کہ جنت مںد خدا کے اولاہء ترگا پھل کھاتے رہںخ۔ یہ سن کر ستون نے اتنی بلند آواز سے جواب دیا کہ آس پاس کے لوگوں نے بھی سن لاہ، ستون کا جواب یہ تھا کہ یا رسول اﷲ!( صلی اﷲ تعالیٰ علہک وسلم) مرےی یی تمنا ہے کہ مں جنت کا ایک درخت بنا دیا جائوں تا کہ خدا کے اولا ء مراا پھل کھاتے رہں اور مجھے حاتت جاودانی مل جائے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علہد وسلم نے فرمایا کہ اے ستون! مںخ نے تردی اس آرزو کو منظور کر لاا۔ پھر آپ نے سامعن کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اے لوگو! دیکھو اس ستون نے دارالفناء کی زندگی کو ٹھکرا کر دارالبقاء کی حامت کو اختارر کر لا ۔

(شفاء شريف جلد۱ص ۲۰۰)

ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ستون کو اپنے سینہ سے لگا کر ارشاد فرمایا کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ اگر میں اس ستون کو اپنے سینہ سے نہ چمٹاتا تو یہ قیامت تک روتا ہی رہتا۔

واضح رہے کہ گریۂ ستون کا یہ معجزہ احادیث اور سیرت کی کتابوں میں گیارہ صحابیوں سے منقول ہے جن کے نام یہ ہیں:(۱) جابر بن عبد اﷲ (۲) اُبی بن کعب (۳) انس بن مالک (۴) عبد اﷲ بن عمر (۵) عبد اﷲ بن عباس (۶) سہل بن سعد (۷) ابو سعید خدری (۸) بریدہ (۹) ام سلمہ (۱۰) مطلب بن ابی وداعہ (۱۱) عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم ، پھر دور صحابہ کے بعد بھی ہر زمانے میں راویوں کی ایک جماعت کثیرہ اس حدیث کو روایت کرتی رہی یہاں تک کہ علامہ قاضی عیاض اور علامہ تاج الدین سب کی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہما نے فرمایاکہ گریۂ ستون کی حدیث”خبرمتواتر”ہے۔

(شفاء شريف جلد۱ ص۱۹۹ و الکلام المبين ص۱۱۶)

اس ستون کے بارے میں ایک روایت ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو اپنے منبر کے نیچے دفن فرما دیا اور ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ نے اس کو مسجد نبوی کی چھت میں لگا دیا ۔ان دونوں روایتوں میں شارحین حدیث نے اس طرح تطبیق دی ہے کہ پہلے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو دفن فرما دیا پھر اس خیال سے کہ یہ لوگوں کے قدموں سے پامال ہو گا اس کو زمین سے نکال کر چھت میں لگا دیا اس طرح زمین میں دفن کرنے اور چھت میں لگانے کی دونوں روایتیں دو وقتوں میں ہونے کے لحاظ سے درست ہیں۔ واﷲ تعالیٰ اعلم۔

پھر حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد جب تعمیر جدید کے لئے مسجد نبوی منہدم کی گئی اور یہ ستون چھت سے نکالا گیا تو اس کو مشہور صحابی حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک مقدس تبرک سمجھ کر اٹھا لیا اور اس کو اپنے پاس رکھ لیا یہاں تک کہ یہ بالکل ہی کہنہ اور پرانا ہو کر چور چور ہو گیا۔

اس ستون کو دفن کرنے کے بارے میں علامہ زرقانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ نکتہ تحریر فرمایا ہے کہ اگرچہ یہ خشک لکڑی کا ایک ستون تھا مگر یہ درجات و مراتب میں ایک مردمومن کے مثل قرار دیا گیا کیونکہ یہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عشق و محبت میں رویا تھا اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ عشق و محبت کا برتا ؤ یہ ایمان والوں ہی کا خاصہ ہے۔ (واﷲ تعالیٰ اعلم)

(شفاء شريف جلد۱ ص۲۰۰ وزرقانی جلد ۵ ص ۱۳۸)