خاندانی حالات

-: نسب نامہ

-: خاندانی شرافت

-: قریش

-: قریش

حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے خاندانِ نبوت میں سبھی حضرات اپنی گوناگوں خصوصیات کی وجہ سے بڑے نامی گرامی ہیں۔ مگر چند ہستیاں ایسی ہیں جو آسمان فضل و کمال پر چاند تارے بن کر چمکے۔ ان با کمالوں میں سے ’’ فہر بن مالک ‘‘ بھی ہیں ان کا لقب ’’ قریش ‘‘ ہے اور ان کی اولاد قریشی ’’ یا قریش ‘‘ کہلاتی ہے۔

’’ فہر بن مالک ‘‘ قریش اس لئے کہلاتے ہیں کہ ’’ قریش ‘‘ ایک سمندری جانور کا نام ہے جو بہت ہی طاقتور ہوتا ہے، اور سمندری جانوروں کو کھا ڈالتا ہے یہ تمام جانوروں پر ہمیشہ غالب ہی رہتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوتا چونکہ ’’ فہر بن مالک ‘‘ اپنی شجاعت اور خداداد طاقت کی بنا پر تمام قبائلِ عرب پر غالب تھے اس لئے تمام اہل عرب ان کو ’’ قریش ‘‘ کے لقب سے پکارنے لگے۔ چنانچہ اس بارے میں ’’ شمرخ بن عمرو حمیری ‘‘ کا شعر بہت مشہور ہے کہ

وَ قُرَيْشٌ هیَ الَّتِیْ تَسْکُنُ الْبَحْرَ

بِها سُمِّيَتْ قُرَيْشٌ قُرَيْشًا

یعنی ’’ قریش ‘‘ ایک جانور ہے جو سمندر میں رہتا ہے۔اسی کے نام پر قبیلۂ قریش کا نام ’’ قریش ‘‘ رکھ دیا گیا۔

(زرقانی علی المواهب ج ۱ ص۷۶)

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے ماں باپ دونوں کا سلسلۂ نسب ’’ فہر بن مالک ‘‘ سے ملتا ہے اس لئے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ماں باپ دونوں کی طرف سے ’’ قریشی ‘‘ ہیں۔

-: ہاشم

-: عبدالمطلب

-: اصحابِ فیل کا واقعہ

-: حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

-: ایمانِ والدین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما

-: برکات نبوت کا ظہور