اعلانِ نبوت کے بعد

-: غار ِحراء

-: پہلی وحی

-: دعوت اسلام کا پہلا دور

-: دعوت اسلام کا دوسرا دور

-: دعوت اسلام کا تیسرا دور

-: رحمت عالم پر ظلم و ستم

-: مسلمانوں پر مظالم

-: کفار کا وفد بارگاہ رسالت میں

-: قریش کا وفد ابو طالب کے پاس

-: قریش کا وفد ابو طالب کے پاس

کفار قریش میں کچھ لوگ صلح پسند بھی تھے وہ چاہتے تھے کہ بات چیت کے ذریعہ صلح و صفائی کے ساتھ معاملہ طے ہو جائے۔ چنانچہ قریش کے چند معزز رؤسا ابوطالب کے پاس آئے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعوتِ اسلام اور بت پرستی کے خلاف تقریروں کی شکایت کی۔ ابو طالب نے نہایت نرمی کے ساتھ ان لوگوں کو سمجھا بجھا کر رخصت کر دیا لیکن حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خدا کے فرمان فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ کی تعمیل کرتے ہوئے علی الاعلان شرک و بت پرستی کی مذمت اور دعوت توحید کا وعظ فرماتے ہی رہے۔ اس لئے قریش کا غصہ پھر بھڑک اٹھا۔ چنانچہ تمام سردارانِ قریش یعنی عتبہ و شیبہ و ابو سفیان و عاص بن ہشام و ابوجہل و ولید بن مغیرہ و عاص بن وائل وغیرہ وغیرہ سب ایک ساتھ مل کر ابو طالب کے پاس آئے اور یہ کہا کہ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں کی توہین کرتا ہے اس لئے یا تو آپ درمیان میں سے ہٹ جائیں اور اپنے بھتیجا کو ہمارے سپرد کر دیں یا پھر آپ بھی کھل کر ان کے ساتھ میدان میں نکل پڑیں تا کہ ہم دونوں میں سے ایک کا فیصلہ ہو جائے۔ ابو طالب نے قریش کا تیور دیکھ کر سمجھ لیا کہ اب بہت ہی خطرناک اور نازک گھڑی سر پر آن پڑی ہے۔ ظاہر ہے کہ اب قریش برداشت نہیں کر سکتے اور میں اکیلا تمام قریش کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ابو طالب نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو انتہائی مخلصانہ اور مشفقانہ لہجے میں سمجھایا کہ میرے پیارے بھتیجے ! اپنے بوڑھے چچا کی سفید داڑھی پر رحم کرواور بڑھاپے میں مجھ پر اتنا بوجھ مت ڈالو کہ میں اٹھا نہ سکوں ۔اب تک تو قریش کا بچہ بچہ میرا احترام کرتا تھا مگر آج قریش کے سرداروں کا لب و لہجہ اور ان کا تیور اس قدر بگڑا ہوا تھا کہ اب وہ مجھ پر اور تم پر تلوار اٹھانے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ تم کچھ دنوں کے لئے دعوت اسلام موقوف کر دو۔ اب تک حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ظاہری معین، مددگار جو کچھ بھی تھے وہ صرف اکیلے ابو طالب ہی تھے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اب ان کے قدم بھی اکھڑ رہے ہیں چچا کی گفتگو سن کر حضورِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھرائی ہوئی مگر جذبات سے بھری ہوئی آواز میں فرمایا کہ چچا جان! خدا کی قسم! اگر قریش میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ میں چاند لا کر دے دیں تب بھی میں اپنے اس فرض سے باز نہ آئوں گا۔ یا تو خدا اس کام کو پورا فرما دے گا یا میں خود دین اسلام پر نثار ہو جا ؤں گا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ جذباتی تقریر سن کر ابو طالب کا دل پسیج گیا اور وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کی ہاشمی رگوں کے خون کا قطرہ قطرہ بھتیجے کی محبت میں گرم ہو کر کھولنے لگا اور انتہائی جوش میں آ کر کہہ دیا کہ جان عم! جائو میں تمہارے ساتھ ہوں۔ جب تک میں زندہ ہوں کوئی تمہارا بال بیکا نہیں کر سکتا۔

(سيرت ابن هشام ج۱ ص۲۶۶ وغيره)

-: ہجرت حبشہ ۵ نبوی

-: نجاشی

-: کفار کا سفیر نجاشی کے دربار میں

-: حضرت حمزہ مسلمان ہو گئے

-: حضرت عمر کا اسلام

-: شعب ابی طالب ۷ نبوی

-: غم کا سال ۱۰ نبوی

-: ابو طالب کا خاتمہ

-: حضرت بی بی خدیجہ کی وفات

-: طائف وغیرہ کا سرفراز

-: قبائل میں تبلیغ اسلام