اعلانِ نبوت کے بعد

-: غار ِحراء

-: پہلی وحی

-: دعوت اسلام کا پہلا دور

-: دعوت اسلام کا دوسرا دور

-: دعوت اسلام کا تیسرا دور

-: رحمت عالم پر ظلم و ستم

-: مسلمانوں پر مظالم

-: کفار کا وفد بارگاہ رسالت میں

-: قریش کا وفد ابو طالب کے پاس

-: ہجرت حبشہ ۵ نبوی

-: نجاشی

-: نجاشی

حبشہ کے بادشاہ کا نام “اصحمہ” اور لقب “نجاشی” تھا۔ عیسائی دین کا پابند تھا مگر بہت ہی انصاف پسند اور رحم دل تھا اور توراۃ و انجیل وغیرہ آسمانی کتابوں کا بہت ہی ماہر عالم تھا۔

اعلانِ نبوت کے پانچویں سال رجب کے مہینے میں گیارہ مرد اور چار عورتوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔ ان مہاجرین کرام کے مقدس نام حسب ذیل ہیں۔

(۱،۲) حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیوی حضرت بی بی رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں۔(۳،۴) حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیوی حضرت سہلہ بنت سہیل رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ۔ (۵،۶) حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی اہلیہ حضرت امِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ۔ (۷،۸) حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی زوجہ حضرت لیلیٰ بنت ابی حشمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ۔ (۹) حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ (۱۰) حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ (۱۱) حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ (۱۲) حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ (۱۳) حضرت ابو سبرہ بن ابی رہم یا حاطب بن عمر و رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔ (۱۴) حضرت سہیل بن بیضاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ (۱۵) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

(زرقانی علی المواهب ج۱ ص۲۷۰)

کفار مکہ کو جب ان لوگوں کی ہجرت کا پتا چلا تو ان ظالموں نے ان لوگوں کی گرفتاری کے لئے ان کا تعاقب کیا لیکن یہ لوگ کشتی پر سوار ہو کر روانہ ہو چکے تھے۔ اس لئے کفار ناکام واپس لوٹے۔ یہ مہاجرین کا قافلہ حبشہ کی سرزمین میں اتر کر امن و امان کے ساتھ خدا کی عبادت میں مصروف ہو گیا۔ چند دنوں کے بعد ناگہاں یہ خبر پھیل گئی کہ کفار مکہ مسلمان ہو گئے۔ یہ خبر سن کر چند لوگ حبشہ سے مکہ لوٹ آئے مگر یہاں آکر پتا چلا کہ یہ خبر غلط تھی۔ چنانچہ بعض لوگ تو پھر حبشہ چلے گئے مگر کچھ لوگ مکہ میں روپوش ہو کر رہنے لگے لیکن کفار مکہ نے ان لوگوں کو ڈھونڈ نکالا اور ان لوگوں پر پہلے سے بھی زیادہ ظلم ڈھانے لگے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پھر لوگوں کو حبشہ چلے جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ حبشہ سے واپس آنے والے اور ان کے ساتھ دوسرے مظلوم مسلمان کل تراسی (۸۳) مرد اور اٹھارہ عورتوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔

(زرقانی علی المواهب ج۱ ص۲۸۷)

-: کفار کا سفیر نجاشی کے دربار میں

-: حضرت حمزہ مسلمان ہو گئے

-: حضرت عمر کا اسلام

-: شعب ابی طالب ۷ نبوی

-: غم کا سال ۱۰ نبوی

-: ابو طالب کا خاتمہ

-: حضرت بی بی خدیجہ کی وفات

-: طائف وغیرہ کا سرفراز

-: قبائل میں تبلیغ اسلام