ہجرت کا تیسرا سال

-: جنگ اُحد

-: مدینہ پر چڑھائی

-: مدینہ پر چڑھائی

الغرض بے پناہ جوش و خروش اور انتہائی تیاری کے ساتھ لشکر کفار مکہ سے روانہ ہوا اور ابو سفیان اس لشکر جرار کا سپہ سالار بنا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو خفیہ طور پر مسلمان ہو چکے تھے اور مکہ میں رہتے تھے انہوں نے ایک خط لکھ کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو کفارِ قریش کی لشکر کشی سے مطلع کر دیا۔ جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ خوفناک خبر ملی تو آپ نے ۵ شوال ۳ ھ کو حضرت عدی بن فضالہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دونوں لڑکوں حضرت انس اور حضرت مونس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو جاسوس بنا کر کفارِ قریش کے لشکر کی خبر لانے کے لئے روانہ فرمایا۔ چنانچہ ان دونوں نے آکر یہ پریشان کن خبر سنائی کہ ابو سفیان کا لشکر مدینہ کے بالکل قریب آ گیا ہے اور ان کے گھوڑے مدینہ کی چراگاہ (عریض) کی تمام گھاس چر گئے۔

-: مسلمانوں کی تیاری اور جوش

-: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے یہود کی امداد کو ٹھکرا دیا

-: بچوں کا جوش جہاد

-: تاجدارِ دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میدان جنگ میں

-: جنگ کی ابتداء

-: ابو دجانہ کی خوش نصیبی

-: حضرت حمزہ کی شہادت

-: حضرت حنظلہ کی شہادت

-: ناگہاں جنگ کا پانسہ پلٹ گیا

-: حضرت مصعب بن عمیر بھی شہید

-: زیاد بن سکن کی شجاعت اور شہادت

-: کھجور کھاتے کھاتے جنت میں

-: لنگڑاتے ہوئے بہشت میں

-: تاجدارِ دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم زخمی

-: صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا جوش جاں نثاری

-: اابو سفیان کا نعرہ اور اس کا جواب

-: ہند جگر خوار

-: سعد بن الربیع کی وصیت

-: خواتین اسلام کے کارنامے

-: حضرت اُمِ عمارہ کی جاں نثاری بیداری

-: ایک انصاری عورت کا صبر

-: شہدائے کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم

-: قبورِ شہداء کی زیارت

-: حیاتِ شہداء

-: کعب بن اشرف کا قتل

-: غزوہ غطفان

۳ ھ کے واقعات متفرقہ :-