ہجرت کا پانچواں سال

-: غزوہ دُومۃ الجندل

-: غزوۂ مُریسیع

-: منافقین کی شرارت

-: حضرت جویریه رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح

-: واقعہ افک

-: آیت تیمم کا نزول

-: جنگِ خندق

-: جنگ خندق کا سبب

-: مسلمانوں کی تیاری

-: ایک عجیب چٹان

-: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعوت

-: بابرکت کھجوریں

-: اسلامی افواج کی مورچہ بندی

-: کفار کا حملہ

-: کفار کا حملہ

کفار قریش اور ان کے اتحادیوں نے دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مسلمانوں پر ہلا بول دیا اور تین طرف سے کافروں کا لشکر اس زور شور کے ساتھ مدینہ پر امنڈ پڑا کہ شہر کی فضاؤں میں گردو غبار کا طوفان اٹھ گیااس خوفناک چڑھائی اور لشکر کفار کے دل بادل کی معرکہ آرائی کا نقشہ قرآن کی زبان سے سنیے :

اِذْ جَآءُوْکُمْ مِّنْ فَوْقِکُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْکُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا ﴿۱۰﴾ هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِيْدًا ﴿۱۱﴾ (احزاب)

(بخاری غزوه اُحد ج۲ ص۵۷۹)

جب کافر تم پر آ گئے تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے اور جب کہ ٹھٹھک کر رہ گئیں نگاہیں اور دل گلوں کے پاس (خوف سے) آ گئے اور تم اﷲ پر (امید و یاس سے) طرح طرح کے گمان کرنے لگے اس جگہ مسلمان آزمائش اور امتحان میں ڈال دیئے گئے اور وہ بڑے زور کے زلزلے میں جھنجھوڑ کر رکھ دیئے گئے۔

منافقین جو مسلمانوں کے دوش بدوش کھڑے تھے وہ کفار کے اس لشکر کو دیکھتے ہی بزدل ہو کر پھسل گئے اور اس وقت ان کے نفاق کا پردہ چاک ہو گیا۔ چنانچہ ان لوگوں نے اپنے گھر جانے کی اجازت مانگنی شروع کر دی۔ جیسا کہ قرآن میں اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ

وَ يَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِيَّ يَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُيُوْتَنَا عَوْرَةٌ ط وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ ج اِنْ يُّرِيْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا (احزاب)

اور ایک گروہ (منافقین) ان میں سے نبی کی اجازت طلب کرتا تھا منافق کہتے ہیں کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے ہوئے نہیں تھے ان کا مقصد بھاگنے کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔

لیکن اسلام کے سچے جاں نثار مہاجرین و انصار نے جب لشکر کفار کی طوفانی یلغار کو دیکھا تو اس طرح سینہ سپر ہو کر ڈٹ گئے کہ ” سلع ” اور ” احد ” کی پہاڑیاں سر اٹھا اٹھا کر ان مجاہدین کی اولوالعزمی کو حیرت سے دیکھنے لگیں ان جاں نثاروں کی ایمانی شجاعت کی تصویر صفحات قرآن پر بصورت تحریر دیکھیے ارشاد ربانی ہے کہ

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَمَا زَادَهُمْ اِلَّا ٓاِيْمَانًا وَّ تَسْلِيْمًا (احزاب)

اور جب مسلمانوں نے قبائل کفار کے لشکروں کو دیکھا تو بول اٹھے کہ یہ تو وہی منظر ہے جس کا اﷲ اور اسکے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور خدا اور اسکا رسول دونوں سچے ہیں اور اس نے ان کے ایمان و اطاعت کو اور زیادہ بڑھا دیا۔

-: بنو قریظہ کی غداری

-: انصار کی ایمانی شجاعت

-: عمرو بن عبدود مارا گیا

-: نوفل کی لاش

-: حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خطاب ملا

-: حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید

-: حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہادری

-: کفار کیسے بھاگے ؟

-: غزوہ بنی قریظہ

۵ ھ کے متفرق واقعات :-