مدینہ میں آفتاب رِسالت

-: مدینہ میں اسلام کیونکر پھیلا

-: بیعت عقبہ اولیٰ

-: بیعت عقبہ ثانیہ

-: ہجرت مدینہ

-: کفار کانفرنس

-: کفار کانفرنس

جب مکہ کے کافروں نے یہ دیکھ لیا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے مددگار مکہ سے باہر مدینہ میں بھی ہوگئے اور مدینہ جانے والے مسلمانوں کو انصار نے اپنی پناہ میں لے لیا ہے تو کفار مکہ کو یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) بھی مدینہ چلے جائیں اور وہاں سے اپنے حامیوں کی فوج لے کر مکہ پر چڑھائی نہ کر دیں۔ چنانچہ اس خطرہ کا دروازہ بند کرنے کے لئے کفار مکہ نے اپنے دارالندوہ (پنچائت گھر) میں ایک بہت بڑی کانفرنس منعقد کی۔ اور یہ کفار مکہ کا ایسا زبردست نمائندہ اجتماع تھا کہ مکہ کا کوئی بھی ایسا دانشور اور با اثر شخص نہ تھا جو اس کانفرنس میں شریک نہ ہوا ہو۔

۔ خصوصیت کے ساتھ ابو سفیان، ابو جہل، عتبہ، جبیر بن مطعم، نضر بن حارث، ابو البختری، زمعہ بن اسود، حکیم بن حزام، اُمیہ بن خلف وغیرہ وغیرہ تمام سردارانِ قریش اس مجلس میں موجود تھے۔ شیطانِ لعین بھی کمبل اوڑھے ایک بزرگ شیخ کی صورت میں آ گیا۔ قریش کے سرداروں نے نام و نسب پوچھا تو بولا کہ میں ’’ شیخ نجد ‘‘ ہوں اس لئے اس کانفرنس میں آگیا ہوں کہ میں تمہارے معاملہ میں اپنی رائے بھی پیش کر دوں۔ یہ سن کر قریش کے سرداروں نے ابلیس کو بھی اپنی کانفرنس میں شریک کر لیااور کانفرنس کی کارروائی شروع ہو گئی۔ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا معاملہ پیش ہوا تو ابو البختری نے یہ رائے دی کہ ان کو کسی کوٹھری میں بند کرکے ان کے ہاتھ پاؤں باندھ دو اور ایک سوراخ سے کھانا پانی ان کو دے دیا کرو۔ شیخ نجدی (شیطان) نے کہا کہ یہ رائے اچھی نہیں ہے۔ خدا کی قسم! اگر تم لوگوں نے ان کو کسی مکان میں قید کر دیا تو یقینا ان کے جاںنثار اصحاب کو اس کی خبر لگ جائے گی اور وہ اپنی جان پر کھیل کر ان کو قید سے چھڑا لیں گے۔

ابو الاسود ربیعہ بن عمرو عامری نے یہ مشورہ دیا کہ ان کو مکہ سے نکال دو تا کہ یہ کسی دوسرے شہر میں جا کر رہیں۔ اس طرح ہم کو ان کے قرآن پڑھنے اور ان کی تبلیغ اسلام سے نجات مل جائے گی۔ یہ سن کر شیخ نجدی نے بگڑ کر کہا کہ تمہاری اس رائے پر لعنت، کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے کلام میں کتنی مٹھاس اور تاثیر و دل کشی ہے ؟ خدا کی قسم ! اگر تم لوگ ان کو شہر بدر کرکے چھوڑ دو گے تو یہ پورے ملک عرب میں لوگوں کو قرآن سنا سنا کر تمام قبائل عرب کو اپنا تابع فرمان بنا لیں گے اور پھر اپنے ساتھ ایک عظیم لشکر کو لے کر تم پر ایسی یلغار کر دیں گے کہ تم ان کے مقابلہ سے عاجز و لاچار ہو جاؤ گے اور پھر بجز اس کے کہ تم ان کے غلام بن کر رہو کچھ بنائے نہ بنے گی اس لئے ان کو جلا وطن کرنے کی تو بات ہی مت کرو۔

ابوجہل بولا کہ صاحبو ! میرے ذہن میں ایک رائے ہے جو اب تک کسی کو نہیں سوجھی یہ سن کر سب کے کان کھڑے ہو گئے اور سب نے بڑے اشتیاق کے ساتھ پوچھا کہ کہیے وہ کیا ہے ؟ تو ابوجہل نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ ہر قبیلہ کا ایک ایک مشہور بہادر تلوار لے کر اٹھ کھڑا ہو اور سب یکبارگی حملہ کر کے محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو قتل کر ڈالیں۔ اس تدبیر سے خون کرنے کا جرم تمام قبیلوں کے سر پر رہے گا۔ ظاہر ہے کہ خاندان بنو ہاشم اس خون کا بدلہ لینے کے لئے تمام قبیلوں سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھ سکتے۔ لہٰذا یقینا وہ خون بہا لینے پر راضی ہو جائیں گے اور ہم لوگ مل جل کر آسانی کے ساتھ خون بہا کی رقم ادا کر دیں گے۔ ابوجہل کی یہ خونی تجویز سن کر شیخ نجدی مارے خوشی کے اُچھل پڑا اور کہا کہ بے شک یہ تدبیر بالکل درست ہے۔ اس کے سوا اور کوئی تجویز قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ تمام شرکاء کانفرنس نے اتفاق رائے سے اس تجویز کو پاس کر دیا اور مجلس شوریٰ برخاست ہو گئی اور ہر شخص یہ خوفناک عزم لے کر اپنے اپنے گھر چلا گیا۔ خداوند قدوس نے قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت میں اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ

وَاِذْ يَمْکُرُ بِکَ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْکَ اَوْ يَقْتُلُوْکَ اَوْ يُخْرِجُوْکَ ط وَيَمْکُرُوْنَ وَيَمْکُرُ اﷲُ ط وَاﷲُ خَيْرُ الْمَاکِرِيْنَ

(اے محبوب یاد کیجیے) جس وقت کفار آپ کے بارے میں خفیہ تدبیر کر رہے تھے کہ آپ کو قید کر دیں یا قتل کر دیں یا شہر بدر کر دیں یہ لوگ خفیہ تدبیر کر رہے تھے اور اﷲ خفیہ تدبیر کر رہا تھا اور اﷲ کی پوشیدہ تدبیر سب سے بہتر ہے۔

-: ہجرتِ رسول کا واقعہ

-: کاشانۂ نبوت کا محاصرہ

-: سو اونٹ کا انعام

-: اُمِ معبد کی بکری

-: سراقہ کا گھوڑا

-: بریدہ اسلمی کا جھنڈا

-: حضرت زبیر کے بیش قیمت کپڑے

-: شہنشاہ رسالت مدینہ میں