ہجرت کا پانچواں سال

-: غزوہ دُومۃ الجندل

-: غزوۂ مُریسیع

-: منافقین کی شرارت

-: حضرت جویریه رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح

-: واقعہ افک

-: آیت تیمم کا نزول

-: جنگِ خندق

-: جنگ خندق کا سبب

-: جنگ خندق کا سبب

گزشتہ اوراق میں ہم یہ لکھ چکے ہیں کہ ” قبیلہ بنو نضیر ” کے یہودی جب مدینہ سے نکال دیئے گئے تو ان میں سے یہودیوں کے چند رؤسا ” خیبر ” میں جا کر آباد ہو گئے اور خیبر کے یہودیوں نے ان لوگوں کا اتنا اعزاز و اکرام کیا کہ سلام بن مشکم و ابن ابی الحقیق و حیی بن اخطب و کنانہ بن الربیع کو اپنا سردار مان لیا یہ لوگ چونکہ مسلمانوں کے خلاف غیظ و غضب میں بھرے ہوئے تھے اور انتقام کی آگ ان کے سینوں میں دہک رہی تھی اس لئے ان لوگوں نے مدینہ پر ایک زبردست حملہ کی اسکیم بنائی، چنانچہ یہ تینوں اس مقصد کے پیش نظر مکہ گئے اور کفار قریش سے مل کر یہ کہا کہ اگر تم لوگ ہمارا ساتھ دو تو ہم لوگ مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے نیست و نابود کر سکتے ہیں کفار قریش تو اس کے بھوکے ہی تھے فوراً ہی ان لوگوں نے یہودیوں کی ہاں میں ہاں ملا دی کفار قریش سے ساز باز کر لینے کے بعد ان تینوں یہودیوں نے ” قبیلہ بنو غطفان ” کا رُخ کیااور خیبر کی آدھی آمدنی دینے کا لالچ دے کر ان لوگوں کو بھی مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کے لئے آمادہ کر لیا پھر بنو غطفان نے اپنے حلیف ” بنو اسد ” کو بھی جنگ کے لئے تیار کر لیا ادھر یہودیوں نے اپنے حلیف ” قبیلہ بنو اسعد ” کو بھی اپنا ہمنوا بنا لیا اور کفار قریش نے اپنی رشتہ داریوں کی بنا پر ” قبیلہ بنو سلیم ” کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا غرض اس طرح تمام قبائل عرب کے کفار نے مل جل کر ایک لشکر جرار تیار کر لیا جس کی تعداد دس ہزار تھی اور ابو سفیان اس پورے لشکر کا سپہ سالار بن گیا۔

(زُرقانی ج۲ ص۱۰۴ تا ۱۰۵)

-: مسلمانوں کی تیاری

-: ایک عجیب چٹان

-: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعوت

-: بابرکت کھجوریں

-: اسلامی افواج کی مورچہ بندی

-: کفار کا حملہ

-: بنو قریظہ کی غداری

-: انصار کی ایمانی شجاعت

-: عمرو بن عبدود مارا گیا

-: نوفل کی لاش

-: حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خطاب ملا

-: حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید

-: حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہادری

-: کفار کیسے بھاگے ؟

-: غزوہ بنی قریظہ

۵ ھ کے متفرق واقعات :-