ہجرت کا پانچواں سال

-: غزوہ دُومۃ الجندل

-: غزوۂ مُریسیع

-: منافقین کی شرارت

-: حضرت جویریه رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح

-: واقعہ افک

-: آیت تیمم کا نزول

-: جنگِ خندق

-: جنگ خندق کا سبب

-: مسلمانوں کی تیاری

-: ایک عجیب چٹان

-: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعوت

-: بابرکت کھجوریں

-: اسلامی افواج کی مورچہ بندی

-: کفار کا حملہ

-: بنو قریظہ کی غداری

-: انصار کی ایمانی شجاعت

-: عمرو بن عبدود مارا گیا

-: نوفل کی لاش

-: حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خطاب ملا

-: حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خطاب ملا

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جنگ خندق کے موقع پر جب کہ کفار مدینہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اور کسی کے لئے شہر سے باہر نکلنا دشوار تھا تین مرتبہ ارشاد فرمایا کہ کون ہے جو قوم کفار کی خبر لائے ؟ تینوں مرتبہ حضرت زبیر بن العوام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے فرزند ہیں یہ کہا کہ ” میں یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) خبر لاؤں گا۔ ” حضرت زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اس جان نثاری سے خوش ہوکر تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَّ اِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ

(بخاری ج۲ ص۵۹۰)

ہر نبی کے لئے حواری (مددگار خاص) ہوتے ہیں اور میرا ” حواری ” زبیر ہے۔ اسی طرح حضرت زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بارگاہ رسالت سے ” حواری ” کا خطاب ملا جو کسی دوسرے صحابی کو نہیں ملا۔

-: حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید

-: حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہادری

-: کفار کیسے بھاگے ؟

-: غزوہ بنی قریظہ

۵ ھ کے متفرق واقعات :-