ہجرت کا ساتواں سال

-: غزوۂ ذات القرد

-: جنگ خیبر

-: غزوۂ خیبر کب ہوا ؟

-: جنگ خیبر کا سبب

-: مسلمان خیبر چلے

-: یہودیوں کی تیاری

-: محمود بن مسلمہ شہید ہوگئے

-: اسود راعی کی شہادت

-: اسلامی لشکر کا ہیڈ کوارٹر

-: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مرحب کی جنگ

-: خیبر کا انتظام

-: حضرت صفیہ کا نکاح

-: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو زہر دیا گیا

-: حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حبشہ سے آگئے

-: حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حبشہ سے آگئے

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فتح خیبر سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ مہاجرین حبشہ میں سے حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی تھے اور مکہ سے ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تھے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ حبشہ سے آگئے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرط محبت سے ان کی پیشانی چوم لی اور ارشاد فرمایا کہ میں کچھ کہہ نہیں سکتا کہ مجھے خیبر کی فتح سے زیادہ خوشی ہوئی ہے یا جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آنے سے۔

(زرقاني ج۲ ص۲۴۶ )

ان لوگوں کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے “صاحب الہجرتین” (دو ہجرتوں والے) کا لقب عطا فرمایا کیونکہ یہ لوگ مکہ سے حبشہ ہجرت کر کے گئے۔ پھر حبشہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے اور باوجودیکہ یہ لوگ جنگ خیبر میں شامل نہ ہو سکے مگر ان لوگوں کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں سے مجاہدین کے برابر حصہ دیا۔

-: خیبر میں اعلان مسائل

-: وادی القری کی جنگ

-: فدک کی صلح

-: عمرۃ القضاء

-: حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی

-: حضرت میمونہ کا نکاح