اولادِ کرام

-: حضرت قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ

-: حضرت عبداﷲ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

-: حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ

-: حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا

-: حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

-: حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا

-: حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

-: حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

(۱) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا پیدائش کے اعتبار سے”اول الانبیاء” ہونا جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ کَانَ نَبِيًّا وَّ اٰدَمُ بَيْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِیعنی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس وقت شرف نبوت سے سرفراز ہو چکے تھے جب کہ حضرت آدم علیہ السلام جسم و روح کی منزلوں سے گزر رہے تھے۔

(زرقانی علی المواهب جلد۵ ص ۲۴۲)

(۲) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمکا خاتم النبیین ہونا۔

(۳) تمام مخلوق آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے پیدا ہوئی۔

(۴) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا مقدس نام عرش اور جنت کی پیشانیوں پر تحریر کیا گیا۔

(۵) تمام آسمانی کتابوں میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بشارت دی گئی۔

(۶) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت کے وقت تمام بت اوندھے ہو کر گر پڑے۔

(۷) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمکا شق صدر ہوا۔

(۸) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمکو معراج کا شرف عطا کیا گیا اور آپ کی سواری کے لئے براق پیدا کیا گیا۔

(۹) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمپر نازل ہونے والی کتاب تبدیل و تحریف سے محفوظ کر دی گئی اور قیامت تک اس کی بقاء و حفاظت کی ذمہ داری اﷲ تعالیٰ نے اپنے ذمہ کرم پر لے لی۔

(۱۰) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمکو آیۃ الکرسی عطا کی گئی۔

(۱۱) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمکو تمام خزائن الارض کی کنجیاں عطا کر دی گئیں۔

(۱۲) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو جوامع الکلم کے معجزہ سے سرفراز کیا گیا۔

(۱۳) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو رسالت عامہ کے شرف سے ممتاز کیا گیا۔

(۱۴) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمکی تصدیق کے لئے معجزہ شق القمر ظہور میں آیا۔

(۱۵) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے اموال غنیمت کو اﷲ تعالیٰ نے حلال فرمایا۔

(۱۶)تمام روئے زمین کو اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے مسجد اور پا کی حاصل کرنے (تیمم) کا سامان بنا دیا۔

(۱۷) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمکے بعض معجزات(قرآن مجید)قیامت تک باقی رہیں گے۔

(۱۸) اﷲ تعالیٰ نے تمام انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کو ان کا نام لے کر پکارا مگر آپ کو اچھے اچھے القاب سے پکارا۔

(۱۹) اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ” حبیب اﷲ ” کے معزز لقب سے سر بلند فرمایا۔

(۲۰) اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رسالت، آپ کی حیات،آپ کے شہر،آپ کے زمانے کی قسم یاد فرمائی۔

(۲۱)آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تمام اولاد آدم کے سردار ہیں۔

(۲۲) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اﷲ تعالیٰ کے دربار میں “اکرم الخلق” ہیں۔

(۲۳) قبر میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات کے بار ے میں منکر و نکیر سوال کریں گے۔

(۲۴) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے ساتھ نکاح کرنا حرام ٹھہرایا گیا۔

(۲۵) ہر نمازی پر واجب کر دیا گیا کہ بحالت نماز اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا النَّبِيُّکہہ کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو سلام کرے۔

(۲۶)اگر کسی نمازی کو بحالت نماز حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پکاریں تو وہ نماز چھوڑ کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمکی پکار پر دوڑ پڑے یہ اس پر واجب ہے اورایسا کرنے سے اس کی نماز فاسد بھی نہیں ہو گی۔

(۲۷) اﷲ تعالیٰ نے اپنی شریعت کا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو مختار بنا دیا ہے، آپ جس کے لئے جو چاہیں حلال فرما دیں اور جس کے لئے جو چاہیں حرام فرما دیں۔

(۲۸) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے منبر اور قبر انور کے درمیان کی زمین جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔

(۲۹)صور پھونکنے پر سب سے پہلے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی قبر انور سے باہر تشریف لائیں گے۔

(۳۰) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو مقام محمود عطا کیا گیا۔

(۳۱) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو شفاعت کبریٰ کے اعزاز سے نوازا گیا۔

(۳۲) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو قیامت کے دن ” لواءالحمد ” عطا کیا گیا۔

(۳۳) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔

(۳۴) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمکو حوض کوثر عطا کیا گیا۔

(۳۵) قیامت کے دن ہر شخص کا نسب و تعلق منقطع ہو جائے گا مگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نسب و تعلق منقطع نہیں ہو گا۔

(۳۶) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی نبی کے پاس حضرت اسرافیل علیہ السلام نہیں اترے۔

(۳۷)آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دربار میں بلند آواز سے بولنے والے کے اعمال صالحہ برباد کردیئے جاتے ہیں۔

(۳۸)آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو حجروں کے باہر سے پکارنا حرام کر دیا گیا۔

(۳۹)آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ادنیٰ سی گستاخی کرنے والے کی سزا قتل ہے۔

(۴۰)آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو تمام انبیاء علیہم السلام سے زیادہ معجزات عطا کئے گئے۔

(فهرست زرقانی علی المواهب جلد۵)