ہجرت کا چوتھا سال

-: سریہ ابو سلمہ

-: سریہ عبداﷲ بن انیس

-: حادثۂ رجیع

-: حادثۂ رجیع

عسفان و مکہ کے درمیان ایک مقام کا نام ” رجیع ” ہے۔ یہاں کی زمین سات مقدس صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے خون سے رنگین ہوئی اس لئے یہ واقعہ ” سریۂ رجیع ” کے نام سے مشہور ہے۔ یہ درد ناک سانحہ بھی ۴ ھ میں پیش آیا۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ قبیلہ عضل و قارہ کے چند آدمی بارگاہ رسالت میں آئے اور عرض کیا کہ ہمارے قبیلہ والوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اب آپ چند صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو وہاں بھیج دیں تا کہ وہ ہماری قوم کو عقائد و اعمال اسلام سکھا دیں۔ ان لوگوں کی درخواست پر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دس منتخب صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو حضرت عاصم بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ماتحتی میں بھیج دیا۔ جب یہ مقدس قافلہ مقام رجیع پر پہنچا تو غدار کفار نے بدعہدی کی اور قبیلۂ بنو لحیان کے کافروں نے دو سو کی تعداد میں جمع ہو کر ان دس مسلمانوں پر حملہ کر دیا مسلمان اپنے بچاؤ کے لئے ایک اونچے ٹیلہ پر چڑھ گئے۔

کافروں نے ترک چلانا شروع کیا اور مسلمانوں نے ٹیلے کی بلندی سے سنگ باری کی۔ کفار نے سمجھ لیا کہ ہم ہتھیاروں سے ان مسلمانوں کو ختم نہیں کر سکتے تو ان لوگوں نے دھوکہ دیا اور کہا کہ اے مسلمانو ! ہم تم لوگوں کو امان دیتے ہیں اور اپنی پناہ میں لیتے ہیں اس لئے تم لوگ ٹیلے سے اتر آؤ حضرت عاصم بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں کسی کافر کی پناہ میں آنا گوارا نہیں کر سکتا۔ یہ کہہ کر خدا سے دعا مانگی کہ ” یا اﷲ ! تو اپنے رسول کو ہمارے حال سے مطلع فرما دے۔ ” پھر وہ جوش جہاد میں بھرے ہوئے ٹیلے سے اترے اور کفار سے دست بدست لڑتے ہوئے اپنے چھ ساتھوں کے ساتھ شہید ہو گئے۔ چونکہ حضرت عاصم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جنگ ِ بدر کے دن بڑے بڑے کفار قریش کو قتل کیا تھا اس لئے جب کفار مکہ کو حضرت عاصم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا پتہ چلا تو کفار مکہ نے چند آدمیوں کو مقام رجیع میں بھیجا تا کہ ان کے بدن کا کوئی ایسا حصہ کاٹ کر لائیں جس سے شناخت ہو جائے کہ واقعی حضرت عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ قتل ہو گئے ہیں لیکن جب کفار آپ کی لاش کی تلاش میں اس مقام پر پہنچے تو اس شہید کی یہ کرامت دیکھی کہ لاکھوں کی تعداد میں شہد کی مکھیوں نے ان کی لاش کے پاس اس طرح گھیرا ڈال رکھا ہے جس سے وہاں تک پہنچنا ہی نا ممکن ہوگیا ہے اس لئے کفارِ مکہ نا کام واپس چلے گئے۔

(زرقانی ج۲ ص۷۳ و بخاری ج۲ ص۵۶۹)

باقی تین اشخاص حضرت خبیب و حضرت زید بن دثنہ و حضرت عبداﷲ بن طارق رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کفار کی پناہ پر اعتماد کر کے نیچے اترے تو کفار نے بد عہدی کی اور اپنی کمان کی تانتوں سے ان لوگوں کو باندھنا شروع کر دیا، یہ منظر دیکھ کر حضرت عبداﷲ بن طارق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ تم لوگوں کی پہلی بد عہدی ہے اور میرے لئے اپنے ساتھیوں کی طرح شہید ہو جانا بہتر ہے۔ چنانچہ وہ ان کافروں سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔

(بخاری ج۲ ص۵۶۸ و زُرقانی ج۲ ص۶۷)

لیکن حضرت خبیب اور حضرت زید بن دثنہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو کافروں نے باندھ دیا تھا اس لئے یہ دونوں مجبور ہو گئے تھے۔ ان دونوں کو کفار نے مکہ میں لے جا کر بیچ ڈالا۔ حضرت خبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جنگ ِ اُحد میں حارث بن عامر کو قتل کام تھا اس لئے اس کے لڑکوں نے ان کو خرید لیا تا کہ ان کو قتل کر کے باپ کے خون کا بدلہ لیا جائے اور حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اُمیہ کے بیٹے صفوان نے قتل کرنے کے ارادہ سے خریدا۔ حضرت خبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو کافروں نے چند دن قید میں رکھا پھر حدود ِ حرم کے باہر لے جا کر سولی پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قاتلوں سے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت طلب کی، قاتلوں نے اجازت دے دی۔ آپ نے بہت مختصر طور پر دو رکعت نماز ادا فرمائی اور فرمایا کہ اے گروہ کفار ! میرا دل تو یہی چاہتا تھا کہ دیر تک نماز پڑھتا رہوں کیونکہ یہ میری زندگی کی آخری نماز تھی مگر مجھ کو یہ خیال آ گیا کہ کہیں تم لوگ یہ نہ سمجھ لو کہ میں موت سے ڈر رہا ہوں۔ کفار نے آپ کو سولی پر چڑھا دیا اس وقت آپ نے یہ اشعار پڑھے ؎

وَذَالِكَ فِيْ ذَاتِ الْاِ لٰهِ وَاِنْ يَّشَأْ

يُبَارِكْ عَلٰي اَوْصَالِ شِلْوٍ مُّمَزَّعٖ

یہ سب کچھ خدا کے لئے ہے اگر وہ چاہے گا تو میرے کٹے پٹے جسم کے ٹکڑوں پر برکت نازل فرمائے گا۔

حارث بن عامر کے لڑکے ” ابو سروعہ ” نے آپ کو قتل کیا مگر خدا کی شان کہ یہی ابو سروعہ اور ان کے دونوں بھائی ” عقبہ ” اور ” حجیر ” پھر بعد میں مشرف بہ اسلام ہو کر صحابیت کے شرف و اعزاز سے سرفراز ہو گئے۔

(بخاری ج۲ ص۵۶۹ و زُرقانی ج۲ ص۶۴ تا ۷۸)

-: حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر

-: حضرت زید کی شہادت

-: واقعہ ٔ بیر معونہ

-: غزوۂ بنو نضیر

-: بدر صغریٰ

۴ ھ کے متفرق واقعات :-