ہجرت کا دوسرا سال

-: قبلہ کی تبدیلی

-: لڑائیوں کا سلسلہ

-: غزوہ و سریّہ کا فرق

-: غزوات و سرایا

-: سریۂ حمزہ

-: سریۂ عبیدہ بن الحارث

-: سریۂ سعد بن ابی وقاص

-: غزوۂ ابواء

-: غزوۂ ابواء

اس غزوہ کو ” غزوہ ودان ” بھی کہتے ہیں۔ یہ سب سے پہلا غزوہ ہے یعنی پہلی مرتبہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جہاد کے ارادہ سے ماہ صفر ۲ ھ میں ساٹھ مہاجرین کو اپنے ساتھ لے کر مدینہ سے باہر نکلے۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو مدینہ میں اپنا خلیفہ بنایا اور حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو جھنڈا دیااور مقام ” ابواء ” تک کفار کا پیچھا کرتے ہوئے تشریف لے گئے مگر کفار مکہ فرار کر چکے تھے اس لیے کوئی جنگ نہیں ہوئی۔ ” ابواء ” مدینہ سے اسّی میل دور ایک گاؤں ہے جہاں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کا مزار ہے۔ یہاں چند دن ٹھہر کر قبیلہ بنو ضمرہ کے سردار ” مخشی بن عمرو ضمری ” سے امداد باہمی کا ایک تحریری معاہدہ کیااور مدینہ واپس تشریف لائے اس غزوہ میں پندرہ دن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ سے باہر رہے۔

(زرقانی علی المواهب ج۱ ص۳۹۲)

-: غزوۂ بواط

-: غزوۂ سفوان

-: غزوۂ ذی العُشیرہ

-: سریۂ عبد اﷲ بن جحش

-: جنگ ِ بدر

-: جنگ بدر کا سبب

-: مدینہ سے روانگی

-: ننھا سپاہی

-: کفار قریش کا جوش

-: ابو سفیان بچ کر نکل گیا

-: کفار میں اختلاف

-: کفار قریش بدر میں

-: تاجدار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ سلم بدر کے میدان میں

-: سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شب بیداری

-: کون کب ؟ اور کہاں مرے گا ؟

-: لڑائی ٹلتے ٹلتے پھر ٹھن گئی

-: شکم مبارک کا بوسہ

-: عہد کی پابندی

-: دونوں لشکر آمنے سامنے

-: دعائے نبوی

-: لڑائی کس طرح شروع ہوئی

-: حضرت عمیر کا شوقِ شہادت

-: کفار کا سپہ سالار مارا گیا

-: حضرت زبیر کی تاریخی برچھی

-: ابوجہل ذلت کے ساتھ مارا گیا

-: ابو البختری کا قتل

-: اُمیّہ کی ہلاکت

-: فرشتوں کی فوج

-: کفار نے ہتھیار ڈال دیئے

-: شہدائے بدر

-: بدر کا گڑھا

-: کفار کی لاشوں سے خطاب

-: ضروری تنبیہ

-: مدینہ کو واپسی

-: مجاہدین بدر کا استقبال

-: قیدیوں کے ساتھ سلوک

-: اسیرانِ جنگ کا انجام

-: حضرت عباس کا فدیہ

-: حضرت زینب کا ہار

-: مقتولین بدر کا ماتم

-: عمیر اور صفوان کی خوفناک سازش

-: مجاہدین بدر کے فضائل

-: ابو لہب کی عبر تناک موت

-: غزوہ بنی قینقاع

-: غزوۂ سویق

-: حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی شادی

۲ھ کے متفرق واقعات :-