عناصر اربعہ کے عالم میں معجزات

-: انگشت مبارک کی نہریں

-: زمین نے لاش کو ٹھکرا دیا

-: جنگِ خندق کی آندھی

-: آگ جلا نہ سکی

-: چند خصائص کُبریٰ

-: چند خصائص کُبریٰ

یہ سلطان کونین و شہنشاہ دارین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ان ہزاروں معجزات میں سے صرف چند ہیں جن کے تذکروں سے احادیث و سیرت نبویہ کی کتابیں مالا مال ہیں ہم نے ان چند معجزات کو بلا کسی تصنع کے سادہ الفاظ میں نہایت ہی اختصار کے ساتھ تحریر کر دیا ہے تا کہ ان نورانی معجزات کو پڑھ کر ناظرین کے سینوں میں عظمت مصطفی اور محبت رسول کے ہزاروں ایمانی چراغ روشن ہو جائیں اور ہر مسلمان اپنے پیارے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم اور ان کے اکرام و احترام کی رفعت کو پہچان لے اور اس کے گلشن ایمان میں ہر لحظہ اور ہر آن محبت و عظمت رسول کے ہزاروں پھول کھلتے رہیں اور وہ جوشِ عرفان و جذبہ ایمان کے ساتھ دونوں جہاں میں یہ اعلان کرتا رہے کہ ؎

ان سا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ اللہ کی سر تا بقدم شا ن ہیں یہ
ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں

اور شاید ان لوگوں کو بھی اس سے کچھ عبرت حاصل ہو جنہوں نے سیرت نبویہ کے موضوع پر قلم گھس کر اور کاغذ سیاہ کرکے سرور انبیاء، محبوب کبریا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس پیغمبرانہ زندگی کو ایک عام انسان کے روپ میں پیش کیا ہے اور بار بار اپنے اس مکروہ نظریہ اور گندے نصب العین کا اعلان کرتے رہتے ہیں کہ پیغمبر خدا کی سیرت میں ایسے کمالات کا ذکر نہیں کرنا چاہیے جس سے لوگ پیغمبر اسلام کو عام انسانوں کی سطح سے اونچاسمجھنے لگیں۔ (والعياذ باﷲ)

بہر حال اس پر تمام اہل حق کا اجماع و اتفاق ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کو جن جن معجزات سے سرفراز فرمایا ہے ان تمام معجزات کو حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات والاصفات میں جمع فرما دیا ہے اور ان کے علاوہ بے شمار ایسے معجزات سے بھی حضرت حق جل جلالہ نے اپنے آخری پیغمبر، شفیع محشر صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ممتاز فرمایا جو آپ کے خصائص کہلاتے ہیں۔ یعنی یہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وہ کمالات و معجزات ہیں جو کسی نبی و رسول کو نہیں عطا کئے گئے مثلاً۔

-: چند خصائص کُبریٰ