ہجرت کا تیسرا سال

-: جنگ اُحد

-: مدینہ پر چڑھائی

-: مسلمانوں کی تیاری اور جوش

-: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے یہود کی امداد کو ٹھکرا دیا

-: بچوں کا جوش جہاد

-: بچوں کا جوش جہاد

مگر جب حضرت رافع بن خدیج رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا کہ تم بہت چھوٹے ہو، تم بھی واپس چلے جاؤ تو وہ فوراً انگوٹھوں کے بل تن کر کھڑے ہو گئے تا کہ ان کا قد اونچا نظر آئے۔ چنانچہ ان کی یہ ترکیب چل گئی اور وہ فوج میں شامل کر لئے گئے۔

حضرت سمرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو ایک کم عمر نوجوان تھے جب ان کو واپس کیا جانے لگا تو انہوں نے عرض کیا کہ میں رافع بن خدیج کو کشتی میں پچھاڑ لیتا ہوں۔ اس لئے اگر وہ فوج میں لے لئے گئے ہیں تو پھر مجھ کو بھی ضرور جنگ میں شریک ہونے کی اجازت ملنی چاہیے چنانچہ دونوں کا مقابلہ کرایا گیا اور واقعی حضرت سمرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زمین پر دے مارا۔ اس طرح ان دونوں پر جوش نوجوانوں کو جنگ ِ اُحد میں شرکت کی سعادت نصیب ہو گئی۔

(مدارج جلد۲ ص۱۱۴)

-: تاجدارِ دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میدان جنگ میں

-: جنگ کی ابتداء

-: ابو دجانہ کی خوش نصیبی

-: حضرت حمزہ کی شہادت

-: حضرت حنظلہ کی شہادت

-: ناگہاں جنگ کا پانسہ پلٹ گیا

-: حضرت مصعب بن عمیر بھی شہید

-: زیاد بن سکن کی شجاعت اور شہادت

-: کھجور کھاتے کھاتے جنت میں

-: لنگڑاتے ہوئے بہشت میں

-: تاجدارِ دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم زخمی

-: صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا جوش جاں نثاری

-: اابو سفیان کا نعرہ اور اس کا جواب

-: ہند جگر خوار

-: سعد بن الربیع کی وصیت

-: خواتین اسلام کے کارنامے

-: حضرت اُمِ عمارہ کی جاں نثاری بیداری

-: ایک انصاری عورت کا صبر

-: شہدائے کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم

-: قبورِ شہداء کی زیارت

-: حیاتِ شہداء

-: کعب بن اشرف کا قتل

-: غزوہ غطفان

۳ ھ کے واقعات متفرقہ :-