آسمانی معجزات

-: چاند دو ٹکڑے ہوگیا

-: چاند دو ٹکڑے ہوگیا

جس سال حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس دنیا سے رحلت فرمائی ،پہلے ہی سے آپ نے اپنی وفات کا اعلان فرمانا شروع کر دیا۔ چنانچہ حجۃ الوداع سے پہلے ہی حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یمن کاحاکم بنا کر روانہ فرمایا تو ان کے رخصت کرتے وقت آپ نے ان سے فرمایا کہ اے معاذ! اب اس کے بعد تم مجھ سے نہ مل سکو گے جب تم واپس آؤ گے تو میری مسجد اور میری قبر کے پاس سے گزرو گے۔

(مسند امام احمد بن حنبل، جلد ۵ ،ص ۳۵)

ان روایات میں سب سے زیادہ صحیح اورمستند حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے جو بخاری و مسلم و ترمذی وغیرہ میں مذکور ہے۔ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس موقع پر موجود تھے اور انہوں نے اس معجزہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ ان کا بیان ہے کہ

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے نیچے نظر آ رہا تھا۔ آپ نے کفار کو یہ منظر دکھا کر ان سے ارشاد فرمایا کہ گواہ ہو جاؤ گواہ ہو جاؤ ۔

(بخاری جلد ۲ ص ۷۲۱،ص ۷۲۲ باب قوله وانشق القمر)

ان احادیث مبارکہ کے علاوہ اس عظیم الشان معجزہ کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے کہ

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَاِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا وَيَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ

(قمر)

قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا اور یہ کفار اگر کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ جادو تو ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے۔

اس آیت کا صاف و صریح مطلب یہی ہے کہ قیامت قریب آ گئی اور دنیا کی عمر کا قلیل حصہ باقی رہ گیا کیونکہ چاند کا دو ٹکڑے ہو جانا جو علامات قیامت میں سے تھا وہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہو چکا مگر یہ واضح ترین اور فیصلہ کن معجزہ دیکھ کر بھی کفار مکہ مسلمان نہیں ہوئے بلکہ ظالموں نے یہ کہا کہ محمد( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ) نے ہم لوگوں پر جادو کر دیا اور اس قسم کی جادو کی چیزیں تو ہمیشہ ہوتی ہی رہتی ہیں۔

-: ایک غلط فہمی کا ازالہ

-: ایک غلط فہمی کا ازالہ

آیت مذکورہ بالا کے بارے میں بعض ان ملحدین کا جو معجزہ شق القمر کے منکر ہیں یہ خیال ہے کہ اس شق القمر سے مراد خالص قیامت کے دن چاند کا ٹکڑے ٹکڑے ہونا ہے جب کہ آسمان پھٹ جائے گا اور چاند ستارے جھڑ کر بکھر جائیں گے۔

مگر اہل فہم پر روشن ہے کہ ان ملحدوں کی یہ بکواس سراسر لغو اور بالکل ہی بے سروپا خرافات والی بات ہے کیونکہ اولاً تو اس صورت میں بلا کسی قرینہ کے انشق (چاندپھٹ گیا) ماضی کے صیغہ کو ینشق(چاندپھٹ جائے گا) مستقبل کے معنی میں لینا پڑے گا جو بالکل ہی بلا ضرورت ہے۔ دوسرے یہ کہ چاند شق ہونے کا ذکر کرنے کے بعد یہ فرمایا گیا ہے کہ

وَاِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا وَيَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّo

یعنی شق القمر کی عظیم الشان نشانی کو دیکھ کر کفار نے یہ کہا کہ یہ جادو ہے جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔

ظاہر ہے کہ جب کفار مکہ نے شق القمر کا معجزہ دیکھا تو اس کو جادو کہا ورنہ کھلی ہوئی بات ہے کہ قیامت کے دن جب آسمان پھٹ جائے گا اورچاند ستارے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر جھڑ جائیں گے اور تمام انسان مرجائیں گے تو اس وقت اس کو جادو کہنے والا بھلا کون ہوگا؟ اس لیے بلاشبہ یقینا اس آیت کے یہی معنی متعین ہیں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا اور اس معجزہ کو دیکھ کر کفار نے اس کو جادو کا کر تب بتایا۔

-: ایک سوال و جواب

-: ایک سوال و جواب

ہاں البتہ یہا ں ایک سوال پیدا ہوتا ہے جو اکثر لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ شق القمر کا معجزہ جب مکہ میں ظاہر ہوا تو آخر یہ معجزہ دوسرے ممالک اور دوسرے شہروں میں کیوں نہیں نظر آیا؟

اس سوال کا یہ جواب ہے کہ اولاً تو مکہ مکرمہ کے علاوہ دوسرے شہروں کے لوگوں نے بھی جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے اس معجزہ کو دیکھا۔ چنانچہ حضرت مسروق نے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ یہ معجزہ دیکھ کر کفار مکہ نے کہا کہ ابو کبشہ کے بیٹے (محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ) نے تم لوگوں پر جادو کر دیا ہے۔ پھر ان لوگوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ باہر سے آنے والے لوگوں سے پوچھنا چاہئے کہ دیکھیں وہ لوگ اس بارے میں کیاکہتے ہیں؟ کیونکہ محمد ( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ) کا جادو تمام انسانوں پر نہیں چل سکتا۔ چنانچہ باہر سے آنے والے مسافروں نے بھی یہ گواہی دی کہ “ہم نے بھی شق القمر دیکھا ہے۔”

(شفاء قاضی عياض جلد ۱ ص ۱۸۳)

اور اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ دوسرے ممالک اور شہروں کے باشندوں نے اس معجزہ کو نہیں دیکھا تو کسی چیز کو نہ دیکھنے سے یہ کب لازم آتا ہے کہ وہ چیز ہوئی ہی نہیں۔ آسمان میں روزانہ قسم قسم کے آثار نمودار ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً رنگ برنگ کے بادل، قوس قزح، ستاروں کا ٹوٹنا، مگر یہ سب آثار انہی لوگوں کو نظر آتے ہیں جو اتفاق سے اس وقت آسمان کی طرف دیکھ رہے ہوں دوسرے لوگوں کو نظر نہیں آتے۔

اسی طرح دوسرے ممالک اور شہروں میں یہ معجزہ نظر نہ آنے کی ایک و جہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اختلاف مطالع کی و جہ سے بعض مقامات پر ایک وقت میں چاند کا طلوع ہوتا ہے اور اس وقت میں دوسرے شہروں کے اندر چاند کا طلوع ہی نہیں ہوتا اسی لیے جب چاند میں گرہن لگتا ہے تو تمام ممالک میں گرہن نظر نہیں آتا۔ اور بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتاہے کہ دوسرے ملکوں اور شہروں میں ابریا پہاڑ وغیرہ کے حائل ہوجانے سے کسی کسی وقت چاند نظر نہیں آتا۔

اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہاں وہ نقشہ بعینہ نقل کر دیں جو قاضی محمد سلیمان صاحب سلمان منصور پوری نے اپنی کتاب “رحمۃ للعالمین” میں تحریر کیاہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت مکہ مکرمہ میں ” معجز ہ شق القمر ” واقع ہوا اس وقت دنیا کے بڑے بڑے ممالک میں کیا اوقات تھے؟ اس نقشہ کی ذمہ داری مصنفِ ” رحمۃ للعالمین ” کے اوپر ہے۔ ہم صرف نقل مطابق اصل ہونے کے ذمہ دار ہیں۔ ان کی عبارت اورنقشہ حسب ذیل ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔

اس سے بڑھ کر اب ہم دکھلانا چاہتے ہیں کہ اگر مکہ معظمہ میں یہ واقعہ رات کو ۹بجے وقوع پذیر ہوا تو اس وقت دنیا کے بڑے بڑے ممالک میں کیا اوقات تھے۔

دن یارات منٹ گھنٹہ نام ملک
رات ۵۰ ۱۲ ہندوستان

یہ نقشہ اوقات اسٹینڈرڈ ٹائم کے حساب سے ہے۔

(رحمۃ للعالمین جلد سوم ص ۱۹۰)

-: سورج پلٹ آیا

-: سورج پلٹ آیا

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے آسمانی معجزات میں سورج پلٹ آنے کامعجزہ بھی بہت ہی عظیم الشان معجزہ اور صداقت ِنبوت کا ایک واضح ترین نشان ہے۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت بی بی اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ “خیبر” کے قریب ” منزل صہبا ” میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نماز عصر پڑھ کر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گود میں اپنا سر اقدس رکھ کر سو گئے اور آپ پر وحی نازل ہونے لگی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سر اقدس کو اپنی آغوش میں لیے بیٹھے رہے۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور آپ کو یہ معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز عصر قضا ہوگئی تو آپ نے یہ دعا فرمائی کہ “یااﷲ! یقینا علی تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں تھے لہٰذا تو سورج کو واپس لوٹا دے تا کہ علی نماز عصر ادا کرلیں۔”

حضرت بی بی اسماء بنت عمیس کہتی ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ڈوبا ہوا سورج پلٹ آیا اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور زمین کے اوپر ہر طرف دھوپ پھیل گئی۔

(زرقانی جلد ۵ ص ۱۱۳ و شفاء جلد ۱ ص ۱۸۵ و مدارج النبوۃ جلد۲ ص ۲۵۲)

اس میں شک نہیں کہ بخاری کی روایتوں میں اس معجزہ کا ذکر نہیں ہے لیکن یاد رکھیے کہ کسی حدیث کا بخاری میں نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ حدیث بالکل ہی بے اصل ہے۔ امام بخاری کو چھ لاکھ حدیثیں زبانی یاد تھیں۔ انہی حدیثوں میں سے چن کر انہو ں نے بخاری شریف میں اگر مکر رات و متابعات کو شامل کر کے شمار کی جائیں تو صرف نو ہزار بیاسی حدیثیں لکھی ہیں اور اگر مکر رات و متابعات کو چھوڑ کر گنتی کی جائے تو کل حدیثوں کی تعداد دو ہزار سات سو اکسٹھ ۲۷۶۱ رہ جاتی ہیں۔

(مقدمه فتح الباری)

اقی حدیثیں جو حضرت امام بخاری علیہ الرحمۃ کو زبانی یاد تھیں۔ ظاہر ہے کہ وہ بے اصل اور موضوع نہ ہوں گی بلکہ وہ بھی یقینا صحیح یا حسن ہی ہوں گی تو آخر وہ سب کہاں ہیں؟ اور کیا ہوئیں؟ تو اس بارے میں یہ کہنا ہی پڑے گا کہ دوسرے محدثین نے انہی حدیثوں کو اور کچھ دوسری حدیثوں کو اپنی اپنی کتابوں میں لکھا ہوگا۔ چنانچہ منزل صہبا میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز عصر کے لیے سورج پلٹ آنے کی حدیث کو بہت سے محدثین نے اپنی اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ جیسا کہ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ حضرت امام ابو جعفر طحاوی، احمد بن صالح، و امام طبرانی و قاضی عیاض نے اس حدیث کو اپنی اپنی کتابوں میں تحریر فرمایا ہے اور امام طحاوی نے تو یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ امام احمد بن صالح جو امام احمد بن حنبل کے ہم پلہ ہیں، فرمایا کرتے تھے کہ یہ روایت عظیم ترین معجزہ اور علامات نبوت میں سے ہے لہٰذا اس کو یاد کرنے میں اہل علم کو نہ پیچھے رہنا چاہئے نہ غفلت برتنی چاہئے۔

(مدارج النبوۃ جلد ۲ ص ۲۵۴)

بہرحال جن جن محدثین نے اس حدیث کو اپنی اپنی کتابوں میں لکھا ہے ان کی ایک مختصر فہرست یہ ہے:

مشکل الآثار میں (۱) حضرت امام ابو جعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے
مستدرک میں (۲) حضرت امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے
معجم کبیرمیں (۳) حضرت امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے
اپنی مرویات میں (۴) حضرت حافظ ابن مردویہ رحمۃ اللہ علیہ نے
الذریۃ الطاہرہ میں (۵) حضرت حافظ ابوالبشر رحمۃ اللہ علیہ نے
شفاء شریف میں (۶) حضرت قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے
تلخیص المتشابہ میں (۷) حضرت خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے
الزہرالباسم میں (۸) حضرت حافظ مغلطائی رحمۃ اللہ علیہ نے
عمدۃ القاری میں (۹) حضرت علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے
کشف اللبس میں (۱۰) حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے
مزیل اللبس میں (۱۱) حضرت علامہ ابن یوسف دمشقی رحمۃ اللہ علیہ نے
ازالۃ الخفاء میں (۱۲) حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے
مدارج النبوۃمیں (۱۳) حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے
زرقانی علی المواہب میں (۱۴) حضرت علامہ محمد بن عبدالباقی رحمۃ اللہ علیہ نے
مواہب لدنیہ میں (۱۵) حضرت علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ نے

اس حدیث پر علامہ ابن جوزی نے اپنی عادت کے موافق جو جرحیں کی ہیں اور اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے، حضرت علامہ عینی نے عمدۃ القاری جلد ۷ ص ۱۴۶ میں تحریر فرمایا ہے کہ علامہ ابن جوزی کی جر حیں قابل التفات نہیں ہیں، حضرت امام ابو جعفر طحاوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث کو سندیں لکھ کر فرمایا کہھٰذَانِ الْحَدِيْثَانِ ثَابِتَانِ وَرُوَاتُهُمَا ثِقَاتٌ… یعنی یہ دونوں روایتیں ثابت ہیں اور ان کے راوی ثقہ ہیں۔

(شفاء شريف جلد۱ ص ۱۸۵)

اسی طرح حضرت شیخ عبدالحق محدت دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی علامہ ابن جوزی کی جرحوں کو رد کردیا ہے اور اس حدیث کے صحیح اورحسن ہونے کی پرزور تائید فرمائی ہے۔

(مدارج النبوۃ جلد ۲ ص ۲۵۴)

اسی طرح ازالۃ الخفاء میں علامہ محمد بن یوسف دمشقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کتاب “مزيل اللبس عن حديث ردالشمس″کی یہ عبارت منقول ہے کہ

اعلم ان هذا الحديث رواه الطحاوي فی کتابه “ شرح مشکل الاثار ” عن اسماء بنت عميس من طريقين و قال هذان الحديثان ثابتان و رواتهما ثقات و نقله قاضي عياض في “ الشفاء ” و الحافظ ابن سيد الناس في “ بشري اللبيب ” و الحافظ علاء الدين مغلطائي في کتابه “ الزهر الباسم ” و صححه ابو الفتح الازدي و حسنه ابو زرعة بن العراقي و شيخنا الحافظ جلال الدين السيوطي في “ الدرر المنتشرة في الاحاديث المشتهرة ” و قال الحافظ احمد بن صالح و ناهيك به لا ينبغي لمن سبيله العلم التخلف عن حديث اسماء لانه من اجل علامات النبوة و قد انکر الحفاظ علي ابن الجوزي ايراده الحديث في “ کتاب الموضوعات ”

(التقرير المعقول في فضل الصحابة واهل بيت الرسول ص ۸۸)

تم جان لو کہ اس حدیث کو امام طحاوی نے اپنی کتاب” شرح مشکل الآثار ” میں حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دوسندوں کے ساتھ روایت کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ دونوں حدیثیں ثابت ہیں اور ان دونوں کے روایت کرنے والے ثقہ ہیں اور اس حدیث کو قاضی عیاض نے ” شفاء ” میں اور حافظ ابن سیدالناس نے ” بشری اللبیب ” میں اور حافظ علاء الدین مغلطائی نے اپنی کتاب “الزہرالباسم” میں نقل کیا ہے اور ابوالفتح ازدی نے اس حدیث کو “صحیح” بتایا اور ابو زرعہ عراقی اور ہمارے شیخ جلال الدین سیوطی نے “الدر رالمنتشرہ فی الا حادیث المشہترہ ” میں اس حدیث کو ” حسن ” بتایا اور حافظ احمد بن صالح نے فرمایا کہ تم کو یہی کافی ہے اور علماء کو اس حدیث سے پیچھے نہیں رہنا چاہئے کیونکہ یہ نبوت کے بہت بڑے معجزات میں سے ہے اور حدیث کے حفاظ نے اس بات کو برا مانا ہے کہ ” ابن جوزی ” نے اس حدیث کو ” کتاب الموضوعات ” میں ذکر کر دیا ہے۔

-: سورج ٹھہر گیا

-: سورج ٹھہر گیا

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے آسمانی معجزات میں سے سورج پلٹ آنے کے معجزہ کی طرح چلتے ہوئے سورج کا ٹھہر جانا بھی ایک بہت ہی عظیم معجزہ ہے جو معراج کی رات گزر کر دن میں وقوع پذیر ہوا۔ چنانچہ یونس بن بکیر نے ابن اسحق سے روایت کی ہے کہ جب کفار قریش نے حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے اپنے اس قافلہ کے حالات دریافت کیے جو ملک شام سے مکہ آ رہا تھا تو آپ نے فرمایا کہ ہاں میں نے تمہارے اس قافلہ کو بیت المقدس کے راستہ میں دیکھا ہے اور وہ بدھ کے دن مکہ آ جائے گا۔ چنانچہ قریش نے بدھ کے دن شہر سے باہر نکل کر اپنے قافلہ کی آمد کا انتظار کیا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگا اور قافلہ نہیں آیا اس وقت حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بارگاہ الٰہی میں دعا مانگی تو اﷲ تعالیٰ نے سورج کو ٹھہرا دیا اور ایک گھڑی دن کو بڑھا دیا۔ یہاں تک کہ وہ قافلہ آن پہنچا۔

(زرقانی جلد ۵ ص ۱۱۶ و شفاء جلد۱ ص ۱۸۵)

واضح رہے کہ “حبس الشمس” یعنی سورج کو ٹھہرا دینے کا معجزہ یہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی کے لیے مخصوص نہیں بلکہ انبیاء سابقین میں سے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کے لیے بھی یہ معجزہ ظاہر ہو چکا ہے جس کا واقعہ یہ ہے کہ جمعہ کے دن وہ بیت المقدس میں قوم جبارین سے جہاد فرما رہے تھے ناگہاں سورج ڈوبنے لگا اور یہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ اگر سورج غروب ہوگیا تو سنیچر کا دن آ جائے گا اورسنیچر کے دن موسوی شریعت کے حکم کے مطابق جہاد نہ ہو سکے گا تو اس وقت اﷲ تعالیٰ نے ایک گھڑی تک سورج کو چلنے سے روک دیا یہاں تک کہ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام قوم جبارین پر فتح یاب ہوکر جہاد سے فارغ ہوگئے۔

(تفسير جلالين سوره مائده ص ۹۸و تفسير جمل جلد۱ ص ۴۸۰)

-: معراج شریف

-: معراج شریف

حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے آسمانی معجزات میں سے معراج کا واقعہ بھی بہت زیادہ اہمیت کاحامل اور ہماری مادی دنیا سے بالکل ہی ماوراء اور عقل انسانی کے قیاس و گمان کی سرحدوں سے بہت زیادہ بالاتر ہے۔

احادیث و سیرت کی کتابوں میں اس واقعہ کو بہت کثیر التعداد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بیان کیا ہے۔ چنانچہ علامہ زرقانی نے ۴۵ صحابیوں کو نام بنام گنایا ہے جنہوں نے حدیث معراج کو روایت کیاہے جیسا کہ ہم اپنی کتاب “نورانی تقر یر یں” میں اس کاکسی قدر مفصل تذکرہ تحریر کر چکے ہیں۔

-: معراج کب ہوئی؟

-: معراج کب ہوئی؟

معراج کی تاریخ، دن اور مہینہ میں بہت زیادہ اختلافات ہیں۔ لیکن اتنی بات پر بلا اختلاف سب کا اتفاق ہے کہ معراج نزول وحی کے بعد اور ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے جو مکہ معظمہ میں پیش آیا اور ابن قتیبہ دینوری (المتوفی ۲۶۷ ھ) اور ابن عبدالبر (المتوفی ۴۶۳ ھ) اور امام رافعی و امام نووی نے تحریر فرمایا کہ واقعہ معراج رجب کے مہینے میں ہوا۔ اور محدث عبدالغنی مقدسی نے رجب کی ستائیسویں بھی متعین کر دی ہے اور علامہ زرقانی نے تحریر فرمایا ہے کہ لوگوں کا اسی پر عمل ہے اور بعض مؤرخین کی رائے ہے کہ یہی سب سے زیادہ قوی روایت ہے۔

(زرقانی جلد ۱ ص ۳۵۵ تا ص ۳۵۸)

-: معراج کتنی بار اور کیسے ہوئی

-: معراج کتنی بار اور کیسے ہوئی

جمہور علماء ملت کا صحیح مذہب یہی ہے کہ معراج بحالت بیداری جسم و روح کے ساتھ صرف ایک بار ہوئی جمہور صحابہ و تابعین اور فقہاء و محدثین نیز صوفیہ کرام کا یہی مذہب ہے۔ چنانچہ علامہ حضرت ملا احمد جیون رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ (استاد اورنگ زیب عالمگیر بادشاہ) نے تحریر فرمایا کہ

وَ الْاَصَحُّ اَنَّهٗ کَانَ فِی الْيَقْظَةِ بِجَسَدِهٖ مَعَ رُوْحِهٖ وَعَلَيِْه اَهْلُ السُّنَّةِ وَ الْجَمَاعَةِ فَمَنْ قَالَ اِنَّهٗ بِالرُّوْحِ فَقَطْ اَوْ فِي النَّوْمِ فَقَطْ فَمُبْتَدِعٌ ضَالٌّ مُضِلٌّ فَاسِقٌ

(تفسيرات احمديه بنی اسرائيل ص ۴۰۸)

اور سب سے زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ معراج بحا لت بیداری جسم و روح کے ساتھ ہوئی یہی اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے۔ لہٰذا جو شخص یہ کہے کہ معراج فقط روحانی ہوئی یا معراج فقط خواب میں ہوئی وہ شخص بدعتی و گمراہ اور گمراہ کن و فاسق ہے۔

-: دیدارِ الٰہی

-: دیدارِ الٰہی

کیا معراج میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خداوند تعالیٰ کو دیکھا؟ اس مسئلہ میں سلف صالحین کا اختلاف ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور بعض صحابہ نے فرمایا کہ معراج میں آپ نے اﷲ تعالیٰ کو نہیں دیکھا اور ان حضرات نے مَاکَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاٰی oکی تفسیر میں یہ فرمایا کہ آپ نے خدا کو نہیں دیکھا بلکہ معراج میں حضرت جبریل علیہ السلام کو انکی اصلی شکل و صورت میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر تھے اور بعض سلف مثلاً حضرت سعید بن جبیر تابعی نے اس مسئلہ میں کہ دیکھایا نہ دیکھا کچھ بھی کہنے سے توقف فرمایا مگر صحابہ کرام اور تابعین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک بہت بڑی جماعت نے یہ فرمایا ہے کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے سر کی آنکھوں سے اﷲ تعالیٰ کو دیکھا۔

(شفاء جلد۱ ص ۱۲۰ تا ۱۲۱)

چنانچہ عبداﷲ بن الحارث نے روایت کیا ہے کہ حضرت عبداﷲ بن عباس اور حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہما ایک مجلس میں جمع ہوئے تو حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کوئی کچھ بھی کہتا رہے لیکن ہم بنی ہاشم کے لوگ یہی کہتے ہیں کہ بلاشبہ حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یقیناً اپنے رب کو معراج میں دو مرتبہ دیکھا۔ یہ سن کر حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس زور کے ساتھ نعرہ مارا کہ پہاڑیاں گونج اٹھیں اور فرمایا کہ بے شک حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا سے کلام کیا اور حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خدا کو دیکھا۔

اسی طرح حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مَاکَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی کی تفسیر میں فرمایا کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ اسی طرح حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہرَأيْتُ ربِّيْیعنی میں نے اپنے رب کو دیکھا۔

محدث عبدالرزاق ناقل ہیں کہ حضرت امام حسن بصری اس بات پر حلف اٹھاتے تھے کہ یقینا حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا اور بعض متکلمین نے نقل کیا ہے کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی یہی مذہب تھا اور ابن اسحق ناقل ہیں کہ حاکم مدینہ مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا کہ کیا حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا؟ تو آپ نے جواب دیا کہ “جی ہاں”

اسی طرح نقاش نے حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ آپ نے یہ فرمایا کہ میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے مذہب کا قائل ہوں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خدا کو دیکھا، دیکھا ،دیکھا، اتنی دیر تک وہ دیکھا کہتے رہے کہ ان کی سانس ٹوٹ گئی۔

(شفاء جلد۱ ص ۱۱۹ تا ص ۱۲۰)

صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شریک بن عبداﷲ نے جو معراج کی روایت کی ہے اس کے آخر میں ہے کہ

حَتّٰي جَآءَ سِدْرَةَ الْمُنْتَهيٰ وَدَنَا الْجَبَّارُ رَبُّ الْعِزَّةِ فَتَدَلّٰي حَتّٰي کَانَ مِنْهُ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنيٰ۔

(بخاری جلد ۲ ص ۱۱۲۰ با ب قول اﷲ: وکلم اﷲ ۔ الخ)

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ پر تشریف لائے اور عزت والا جبار (اﷲ تعالیٰ) یہاں تک قریب ہوا اور نزدیک آیا کہ دو کمانوں یا اس سے بھی کم کا فاصلہ رہ گیا۔

بہرحال علماء اہل سنت کا یہی مسلک ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے شبِ معراج میں اپنے سر کی آنکھوں سے اﷲ تعالیٰ کی ذات مقدسہ کا دیدار کیا۔

اس معاملہ میں رویت کے علاوہ ایک روایت بھی خاص طور پر قابل تو جہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے محبوب کو اﷲ تعالیٰ نے انتہائی شوکت و شان اور آن بان کے ساتھ اپنا مہمان بنا کر عرش اعظم پر بلایا اور خلوت گاہ راز میں ۔۔۔۔۔ کے نازو نیاز کے کلاموں سے سرفراز بھی فرمایا ۔ مگر ان بے پناہ عنایتوں کے باوجود اپنے حبیب کو اپنا دیدار نہیں دکھایا اور حجاب فرمایا یہ ایک ایسی بات ہے جو مزاج عشق و محبت کے نزدیک مشکل ہی سے قابل قبول ہو سکتی ہے کیونکہ کوئی شاندار میزبان اپنے شاندار مہمان کو اپنی ملاقات سے محروم رکھے اور اس کو اپنا دیدار نہ دکھائے یہ عشق و محبت کا ذوق رکھنے والوں کے نزدیک بہت ہی ناقابل فہم بات ہے۔ لہٰذا ہم عشق بازوں کا گروہ تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرح اپنی آخری سانس تک یہی کہتا رہے گا کہ

اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا

جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود

(اعلیٰ حضرت رحمہ اﷲ تعالیٰ )

-: مختصر تذکرئہ معراج

-: مختصر تذکرئہ معراج

معراج کی رات آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گھر کی چھت کھلی اور ناگہاں حضرت جبرئیل علیہ السلام چند فرشتوں کے ساتھ نازل ہوئے اور آپ کو حرم کعبہ میں لے جا کر آپ کے سینہ مبارک کو چاک کیا اور قلب ِانور کو نکال کر آب ِزمزم سے دھویا پھر ایمان و حکمت سے بھرے ہوئے ایک طشت کو آپ کے سینے میں انڈیل کر شکم کا چاک برابر کر دیا۔ پھر آپ براق پر سوار ہو کر بیت المقدس تشریف لائے۔ براق کی تیز رفتاری کا یہ عالم تھا کہ اس کا قدم وہاں پڑتا تھا جہاں اس کی نگاہ کی آخری حد ہوتی تھی۔ بیت المقدس پہنچ کر براق کو آپ نے اس حلقہ میں باندھ دیا جس میں انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی سواریوں کو باندھا کرتے تھے پھر آپ نے تمام انبیاء اور رسولوں علیہم السلام کو جو وہاں حاضر تھے دو رکعت نماز نفل جماعت سے پڑھائی۔

(تفسير روح البيان جلد ۵ ص ۱۱۲)

جب یہاں سے نکلے تو حضرت جبریل علیہ السلام نے شراب اور دودھ کے دو پیا لے آپ کے سامنے پیش کیے آپ نے دودھ کا پیالہ اٹھا لیا۔ یہ دیکھ کر حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا کہ آپ نے فطرت کو پسند فرمایا اگر آپ شراب کا پیالہ اٹھا لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ پھر حضرت جبریل علیہ السلام آپ کو ساتھ لے کر آسمان پر چڑھے پہلے آسمان میں حضرت آدم علیہ السلام سے، دوسرے آسمان میں حضرت یحییٰ و حضرت عیسیٰ علیہما السلام سے جو دونوں خالہ زاد بھائی تھے ملاقاتیں ہوئیں اور کچھ گفتگو بھی ہوئی۔ تیسرے آسمان میں حضرت یوسف علیہ السلام ، چوتھے آسمان میں حضرت ادریس علیہ السلام اور پانچویں آسمان میں حضرت ہارون علیہ السلام اور چھٹے آسمان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام ملے اور ساتویں آسمان پر پہنچے تو وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی وہ بیت المعمور سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے جس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں۔ بوقت ِملاقات ہر پیغمبر نے “خوش آمدید! اے پیغمبر صالح “کہہ کر آپ کا استقبال کیا۔ پھر آپ کو جنت کی سیر کرائی گئی۔ اس کے بعد آپ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے۔ اس درخت پر جب انوار الٰہی کا پر تو پڑا تو ایک دم اس کی صورت بدل گئی اور اس میں رنگ برنگ کے انوار کی ایسی تجلی نظر آئی جن کی کیفیتوں کو الفاظ ادا نہیں کر سکتے۔ یہاں پہنچ کر حضرت جبریل علیہ السلام یہ کہہ کر ٹھہر گئے کہ اب اس سے آگے میں نہیں بڑھ سکتا۔ پھر حضرت حق جل جلالہٗ نے آپ کو عرش بلکہ عرش کے اوپر جہاں تک اس نے چاہا بلا کر آپ کو باریاب فرمایا اور خلوت گاہ راز میں ناز و نیاز کے وہ پیغام ادا ہوئے جن کی لطافت و نزاکت الفاظ کے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتی۔ چنانچہ قرآن مجیدمیں فَاَوْحٰي اِلٰی عَبْدِہٖ مَآاَوْحٰي کے رمز و اشارہ میں خداوند قدوس نے اس حقیقت کو بیان فرما دیا ہے۔

بارگاہ الٰہی میں بے شمار عطیات کے علاوہ تین خاص انعامات مرحمت ہوئے جن کی عظمتوں کو اﷲ و رسول کے سوا اور کون جان سکتا ہے۔

(۱) سورئہ بقرہ کی آخری آیتیں۔ (۲) یہ خوشخبری کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی امت کا ہر وہ شخص جس نے شرک نہ کیا ہو بخش دیاجائے گا۔ (۳) امت پر پچاس وقت کی نماز۔

جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان خداوندی عطیات کو لے کر واپس آئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے عرض کیا کہ آپ کی امت سے ان پچاس نمازوں کا بار نہ اٹھ سکے گا لہٰذا آپ واپس جایئے اور اﷲ تعالیٰ سے تخفیف کی درخواست کیجئے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے چند بار آپ بارگاہ الٰہی میں آتے جاتے اور عرض پر داز ہوتے رہے یہاں تک کہ صرف پانچ وقت کی نمازیں رہ گئیں اور اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے فرمایا کہ میرا قول بدل نہیں سکتا۔ اے محبوب ! آپ کی امت کے لیے یہ پانچ نمازیں بھی پچاس ہوں گی۔ نمازیں تو پانچ ہوں گی مگر میں آپ کی امت کو ان پانچ نمازوں پر پچاس نمازوں کا اجر و ثواب عطا کروں گا۔

پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عالم ملکوت کی اچھی طرح سیر فرما کر اور آیات الٰہیہ کا معاینہ و مشاہدہ فرما کر آسمان سے زمین پر تشریف لائے اور بیت المقدس میں داخل ہوئے اور براق پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ کے لیے روانہ ہوئے۔ راستہ میں آپ نے بیت المقدس سے مکہ تک کی تمام منزلوں اور قریش کے قافلہ کو بھی دیکھا۔ ان تمام مراحل کے طے ہونے کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مسجد حرام میں پہنچ کر چونکہ ابھی رات کا کافی حصہ باقی تھا سوگئے اور صبح کو بیدار ہوئے اور جب رات کے واقعات کا آپ نے قریش کے سامنے تذکرہ فرمایا تو رؤسائے قریش کو سخت تعجب ہوا یہاں تک کہ بعض کو رباطنوں نے آپ کو جھوٹا کہا اور بعض نے مختلف سوالات کیے چونکہ اکثر رؤسائے قریش نے بار بار بیت المقدس کو دیکھا تھا اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کبھی بھی بیت المقدس نہیں گئے ہیں اس لیے امتحان کے طور پر ان لوگوں نے آپ سے بیت المقدس کے در و دیوار اور اس کی محرابوں وغیرہ کے بارے میں سوالوں کی بوچھاڑ شروع کر دی۔ اس وقت اﷲ تعالیٰ نے فوراً ہی آپ کی نگاہ نبوت کے سامنے بیت المقدس کی پوری عمارت کا نقشہ پیش فرما دیا۔ چنانچہ کفار قریش آپ سے سوال کرتے جاتے تھے اور آپ عمارت کو دیکھ دیکھ کر ان کے سوالوں کا ٹھیک ٹھیک جواب دیتے جاتے تھے۔

(بخاری کتاب الصلوٰۃ، کتاب الانبياء ،کتاب التوحيد، باب المعراج وغيرہ مسلم باب المعراج و شفاء جلد۱ ص ۱۸۵ و تفسير روح المعانی جلد ۱۵ ص ۴ تا ص ۱۰ وغيرہ کا خلاصه)

-: جن سانپ کی شکل میں آیا

-: سفر معراج کی سواریاں

امام علائی نے اپنی تفسیر میں تحریر فرمایا ہے کہ معراج میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پانچ قسم کی سواریوں پر سفر فرمایا مکہ سے بیت المقدس تک براق پر، بیت المقدس سے آسمان اول تک نور کی سیڑھیوں پر، آسمان اول سے ساتویں آسمان تک فرشتوں کے بازوؤں پر، ساتویں آسمان سے سدرۃ المنتہیٰ تک حضرت جبریل علیہ السلام کے بازو پر، سدرۃ المنتہیٰ سے مقام قاب قوسین تک رفرف پر۔

(تفسير روح المعانی جلد ۱۵ ص ۱۰)

-: سفر معراج کی منزلیں

-: سفر معراج کی منزلیں

بیت المقدس سے مقام قاب قوسین تک پہنچنے میں آپ نے دس منزلوں پر قیام فرمایا اور ہر منزل پر کچھ گفتگو ہوئی اور بہت سی خداوندی نشانیوں کو ملاحظہ فرمایا۔

(۱) آسمان اول (۲) دوسرا آسمان (۳) تیسرا آسمان (۴) چوتھا آسمان (۵) پانچواں آسمان (۶) چھٹا آسمان (۷) ساتواں آسمان (۸) سدرۃ المنتہیٰ (۹) مقام مستویٰ جہاں آپ نے قلم قدرت کے چلنے کی آوازیں سنیں (۱۰) عرش اعظم

(تفسير روح المعانی جلد ۱۵ ص ۱۰)

-: بادل کٹ گیا

-: بادل کٹ گیا

حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ عرب میں نہایت ہی سخت قسم کا قحط پڑا ہوا تھا اس وقت جب کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خطبہ کے لیے منبر پر چڑھے تو ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر فریاد کی کہ یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) بارش نہ ہونے سے جانور ہلاک اور بال بچے بھوک سے تباہ ہو رہے ہیں لہٰذا آپ دعا فرمائیے ۔ اس وقت آسمان میں کہیں بدلی کا نام و نشان نہیں تھا مگر جوں ہی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اٹھایا ہر طرف سے پہاڑوں کی طرح بادل آکر چھا گئے اور ابھی آپ منبر پر سے اترے بھی نہ تھے کہ بارش کے قطرات آپ کی نورانی داڑھی پر ٹپکنے لگے اور آٹھ دن تک مسلسل موسلا دھار بارش ہوتی رہی یہاں تک کہ جب دوسرے جمعہ کو آپ خطبہ کے لیے منبر پر رونق افروز ہوئے تو وہی اعرابی یاکوئی دوسرا کھڑا ہوگیا اور بلند آواز سے فریاد کرنے لگا کہ یارسول اﷲ! ( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) مکانات منہدم ہوگئے اور مال مویشی غرق ہوگئے لہٰذا دعا فرمائیے کہ بارش بند ہوجائے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پھر اپنا مقدس ہاتھ اٹھا دیا اور یہ دعا فرمائی کہ اَللّٰهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا اے اﷲ ! ہمارے ارد گرد بارش ہو اور ہم پر نہ بارش ہو۔پھر آپ نے بدلی کی طرف اپنے دست ِمبارک سے اشارہ فرمایا تو مدینہ کے ارد گرد سے بادل کٹ کر چھٹ گیا اور مدینہ اور اس کے اطراف میں بارش بند ہوگئی۔

(بخاری جلد ۱ ص ۱۲۷ باب الاستسقاء فی الجمعه)

-: ایک ضروری تبصرہ

-: ایک ضروری تبصرہ

یہ چند آسمانی معجزات جو مذکور ہوئے اس بات کی دلیل ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خدا کی عطا کی ہوئی طاقت سے آسمانی کائنات میں بھی تصرفات فرماتے ہیں اور آپ کی خداداد سلطنت کی حکمرانی زمین ہی تک محدود نہیں بلکہ آسمانی مخلوقات میں بھی آپ کی حکومت کا سکہ چلتا ہے۔ چنانچہ ترمذی شریف کی حدیث ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر نبی کے لیے دو وزیر آسمان والوں میں سے اور دو وزیر زمین والوں میں سے ہوا کرتے ہیں اور میرے دونوں آسمانی وزیر “جبریل و میکا ئیل” ہیں اور میرے زمین کے دونوں و زیر “ابوبکر و عمر ” ہیں۔

(مشکوٰۃ جلد ۲ ص ۵۶۰ باب مناقب ابوبکر و عمر)

ظاہر ہے کہ کسی بادشاہ کے وزیر اس کی سلطنت کی حدود ہی میں رہا کرتے ہیں۔ اگر آسمانوں میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سلطنت خداداد نہ ہوتی تو حضرت جبرئیل و میکا ئیل علیہما السلام آپ کے دو وزیروں کی حیثیت سے بھلا آسمانوں میں کس طرح مقیم رہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ شہنشاہ مدینہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بادشاہی بہ عطاء الٰہی زمین و آسمان کی تمام مخلوقات پر ہے ۔ ؎

نائب دست قدرت پہ لاکھوں سلام صاحب رجعت شمس و شق القمر
اس کی قاہر ریاست پہ لاکھوں سلام عرش تا فرش ہے جس کے زیر نگیں

-: قرآن مجید

-: قرآن مجید

رسول اعظم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے معجزات نبوت میں سے قرآن مجید بھی ایک بہت ہی جلیل القدر معجزہ اور آپ کی صداقت کا ایک فیصلہ کن نشان ہے۔ بلکہ اگر اس کو “اعظم المعجزات” کہہ دیا جائے تو یہ ایک ایسی حقیقت کا انکشاف ہوگا جس کی پردہ پوشی ناممکن ہے کیونکہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے دوسرے معجزات تو اپنے وقت پر ظہور پذیر ہوئے اور آپ کے زمانے ہی کے لوگوں نے اس کو دیکھا مگر قرآن مجید آپ کا وہ عظیم الشان معجزہ ہے کہ قیامت تک باقی رہے گا۔

کون نہیں جانتا کہ اﷲ تعالیٰ نے فصحاء عرب کو قرآن کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک بار اس طرح چیلنج دیا کہ

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَايَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْکَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا

(بنی اسرائيل)

( اے محبوب ) فرما دیجئے کہ اگر تمام انسان و جن اس کام کے لیے جمع ہوجائیں کہ قرآن کا مثل لائیں تو نہ لا سکیں گے اگرچہ ان کے بعض بعض کی مدد کریں۔

مگر کوئی بھی اس خداوندی چیلنج کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہوا۔ پھر قرآن نے ایک بار اس طرح چیلنج دیا کہ

قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ

(هود)

یعنی اگر تم لوگ پورے قرآن کا مثل نہیں لا سکتے تو قرآن جیسی دس ہی سورتیں بنا کر لاؤ۔

مگر انتہائی جدوجہد کے باوجود یہ بھی نہ ہو سکا۔ پھر قرآن نے اس طرح للکارا کہ

وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ ص وَادْعُوْا شُهَدَآءَ کُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ

(بقرۃ)

(اے حبیب) آپ فرما دیجئے کہ اگر تم لوگوں کو اس میں کچھ شک ہو جو ہم نے اپنے خاص بندے پر نازل فرمایا ہے تو تم اس جیسی ایک ہی سورۃ لے آؤ اور اﷲ کے سوا اپنے تمام حما یتیوں کو بلا لو اگر تم سچے ہو

اﷲ اکبر! قرآن عظیم کی عظیم الشان و معجزانہ فصاحت و بلاغت کا بول بالا تو دیکھو کہ عرب کے تمام وہ فصحاء و بلغاء جن کی فصیحانہ شعر گوئی اور خطیبانہ بلاغت کا چار دانگ عالم میں ڈنکا بج رہا تھا مگر وہ اپنی پوری پوری کوششوں کے با وجود قرآن کی ایک سورۃ کے مثل بھی کوئی کلام نہ لا سکے۔ حد ہوگئی کہ قرآن مجید نے فصحاء عرب سے یہاں تک کہہ دیا کہ

فَلْيَاْتُوْا بِحَدِيْثٍ مِّثْلِهٖٓ اِنْ کَانُوْا صٰدِقِيْنَ

(سوره طور)

یعنی اگر کفار عرب سچے ہیں تو قرآن جیسی کوئی ایک ہی بات لائیں۔

الغرض چار چار مرتبہ قرآن کریم نے فصحاء عرب کو للکارا، چیلنج دیا، جھنجھوڑا کہ وہ قرآن کا مثل بنا کر لائیں ۔ مگر تاریخ عالم گواہ ہے کہ چودہ سو برس کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود آج تک کوئی شخص بھی اس خداوندی چیلنج کو قبول نہ کر سکا اور قرآن کے مثل ایک سورۃ بھی بنا کر نہ لا سکا۔ یہ آفتاب سے زیادہ روشن دلیل ہے کہ قرآن مجید حضور خاتم النبیین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ایک لاثانی معجزہ ہے جس کا مقابلہ نہ کوئی کر سکا ہے نہ قیامت تک کر سکتا ہے۔

-: علم غیب

-: علم غیب

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے معجزات میں سے آپ کا ” علم غیب ” بھی ہے ۔اس بات پر تمام امت کا اتفاق ہے کہ علم غیب ذاتی تو خدا کے سوا کسی اور کو نہیں مگر اﷲ اپنے برگزیدہ بندوں یعنی اپنے نبیوں اور رسولوں وغیرہ کو علم غیب عطا فرماتا ہے۔ یہ علم غیب عطائی کہلاتا ہے قرآن مجید میں ہے کہ

عٰلِمُ الْغَيْْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰی غَيْبِهٖٓ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ

(جن)

(اﷲ) عالم الغیب ہے وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔

اسی طرح قرآن مجید میں دوسری جگہ اﷲ عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ

وَمَاکَانَ اللّٰهُ لِيُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَيْبِ وَلٰکِنَّ اللّٰهَ يَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ يَّشَآءُ ص

(آل عمران)

اﷲ کی شان نہیں کہ اے عام لوگوں! تمہیں غیب کا علم دے دے۔ ہاں اﷲ چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے۔

چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بے شمار غیوب کا علم عطا فرمایا ۔اور آپ نے ہزاروں غیب کی خبریں اپنی امت کو دیں جن میں سے کچھ کا تذکرہ تو قرآن مجید میں ہے باقی ہزاروں غیب کی خبروں کا ذکر احادیث کی کتابوں اور سیر و تواریخ کے دفتروں میں مذکور ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ

تِلْکَ مِنْ اَنْبَام ٓئِ الْغَیْبِ نُوْحِیْھَآ اِلَیْکَج

( هود)

یہ غیب کی خبریں ہیں جن کو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں۔

ہم یہاں ان بے شمار غیب کی خبروں میں سے مثال کے طور پر چند کا ذکر تحریر کرتے ہیں۔ پہلے ان چند غیب کی خبروں کا تذکرہ ملاحظہ فرمائیے جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔

-: غالب مغلوب ہوگا

-: غالب مغلوب ہوگا

۶۱۴ء میں روم اور فارس کے دونوں بادشاہوں میں ایک جنگ ِعظیم شروع ہوئی چھبیس ہزار یہودیوں نے بادشاہ فارس کے لشکر میں شامل ہوکر ساٹھ ہزار عیسائیوں کا قتل عام کیا یہاں تک کہ ۶۱۶ ء میں بادشاہ فارس کی فتح ہوگئی اور بادشاہ روم کا لشکر بالکل ہی مغلوب ہوگیا اور رومی سلطنت کے پرزے پرزے اڑگئے۔ بادشاہ روم اہل کتاب اور مذہباً عیسائی تھا اور بادشاہ فارس مجوسی مذہب کا پابند اور آتش پرست تھا۔ اس لیے بادشاہ روم کی شکست سے مسلمانوں کو رنج و غم ہوا اور کفار کو انتہائی شادمانی و مسرت ہوئی۔ چنانچہ کفار نے مسلمانوں کو طعنہ دیا اور کہنے لگے کہ تم اور نصاریٰ اہل کتاب ہو اور ہم اور اہل فارس بے کتاب ہیں جس طرح ہمارے بھائی تمہارے بھائیوں پر فتح یاب ہو کر غالب آ گئے اسی طرح ہم بھی ایک دن تم لوگوں پر غالب آجائیں گے۔ کفار کے ان طعنوں سے مسلمانوں کو اور زیادہ رنج و صدمہ ہوا۔

اس وقت رومیوں کی یہ افسوسناک حالت تھی کہ وہ اپنے مشرقی مقبوضات کا ایک ایک چپہ کھو چکے تھے۔ خزانہ خالی تھا۔ فوج منتشر تھی ملک میں بغاوتوں کا طوفان اٹھ رہا تھا۔ شہنشاہ روم بالکل نالائق تھا۔ ان حالات میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بادشاہ روم بادشاہ فارس پر غالب ہو سکتا تھا مگر ایسے وقت میں نبی صادق نے قرآن کی زبان سے کفار مکہ کو یہ پیش گوئی سنائی کہ

الممّ ٓغُلِبَتِ الرُّوْمُ فِيْٓ اَدْنَی الْاَرْضِ وَهُمْ مِّنْ م بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ ط

(روم)

رومی مغلوب ہوئے پاس کی زمین میں اور وہ اپنی مغلوبی کے بعد عنقریب غالب ہوں گے چند برسوںمیں۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ صرف نو سال کے بعد خاص “صلح حدیبیہ” کے دن بادشاہ روم کا لشکر اہل فارس پر غالب آ گیا اور مخبر صادق کی یہ خبر غیب عالم وجود میں آگئی۔

-: ہجرت کے بعد قریش کی تباہی

-: ہجرت کے بعد قریش کی تباہی

حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جس بے سر و سامانی کے ساتھ ہجرت فرمائی تھی اور صحابہ کرام جس کسمپر سی اور بے کسی کے عالم میں کچھ حبشہ، کچھ مدینہ چلے گئے تھے۔ ان حالات کے پیش نظر بھلا کسی کے حاشیہ خیال میں بھی یہ آ سکتا تھا کہ یہ بے سرو سامان اور غریب الدیار مسلمانوں کا قافلہ ایک دن مدینہ سے اتنا طاقتور ہو کر نکلے گا کہ وہ کفار قریش کی ناقابل تسخیر عسکری طاقت کو تہس نہس کر ڈالے گا جس سے کافروں کی عظمت و شوکت کا چراغ گل ہو جائے گا اور مسلمانوں کی جان کے دشمن مٹھی بھر مسلمانوں کے ہاتھوں سے ہلاک و برباد ہو جائیں گے۔ لیکن خداوند علام الغیوب کا محبوب دانائے غیوب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہجرت سے ایک سال پہلے ہی قرآن پڑھ پڑھ کر اس خبر غیب کا اعلان کر رہا تھا کہ

وَاِنْ کَادُوْالَيَسْتَفِزُّوْنَکَ مِنَ الْاَرْضِ لِيُخْرِجُوْکَ مِنْهَا وَاِذًا لَّا يَلْبَثُوْنَ خِلٰـفَکَ اِلَّا قَلِيْلًا

(بنی اسرائيل)

اگر وہ تم کو سر زمین مکہ سے گھبرا چکے تا کہ تم کو اس سے نکال دیں تو وہ اہل مکہ تمہارے بعد بہت ہی کم مدت تک باقی رہیں گے۔

چنانچہ یہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی اور ایک ہی سال کے بعد غزوہ بدر میں مسلمانوں کی فتح مبین نے کفار قریش کے سرداروں کا خاتمہ کر دیا اور کفار مکہ کی لشکری طاقت کی جڑ کٹ گئی اور ان کی شان و شوکت کا جنازہ نکل گیا۔

-: مسلمان ایک دن شہنشاہ ہوں گے

-: مسلمان ایک دن شہنشاہ ہوں گے

ہجرت کے بعد کفارِ قریش جوشِ انتقام میں آپے سے باہر ہوگئے اور بدر کی شکست کے بعد تو جذبہ انتقام نے ان کو پاگل بنا ڈالا تھا۔ تمام قبائل عرب کو ان لوگوں نے جوش دلا دلا کر مسلمانوں پر یلغار کر دینے کے لئے تیارکردیا تھا۔ چنانچہ مسلسل آٹھ برس تک خونریز لڑائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ جس میں مسلمانوں کو تنگ دستی، فاقہ مستی، قتل و خونریزی، قسم قسم کی حوصلہ شکن مصیبتوں سے دوچار ہونا پڑا۔ مسلمانوں کو ایک لمحہ کے لیے سکون میسر نہیں تھا۔ مسلمان خوف و ہراس کے عالم میں راتوں کو جاگ جاگ کر وقت گزارتے تھے اور رات رات بھر رحمت عالم کے کاشانہ نبوت کا پہرہ دیا کرتے تھے لیکن عین اس پریشانی اور بے سرو سامانی کے ماحول میں دونوں جہان کے سلطان صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قرآن کا یہ اعلان نشر فرمایا کہ مسلمانوں کو ” خلافت ارض ” یعنی دین و دنیا کی شہنشا ہی کا تاج پہنایا جائے گا۔ چنانچہ غیب داں رسول نے اپنے دلکش اور شیریں لہجہ میں قرآن کی ان روح پرور اور ایمان افروز آیتوں کو علی الاعلان تلاوت فرمانا شروع کر دیا کہ

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ص وَلَيُمَکِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ م بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا ط

(سورہ نور)

تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح کیا خدا نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ان کو زمین کا خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اس نے ان کے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا اور جو دین ان کے لیے پسند کیا ہے اس کو مستحکم کر دے گا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔

مسلمان جن نامساعد حالات اور پریشان کن ماحول کی کشمکش میں مبتلا تھے ان حالات میں خلافت ِارض اور دین و دنیا کی شہنشاہی کی یہ عظیم بشارت انتہائی حیرت ناک خبر تھی بھلا کون تھا جو یہ سوچ سکتا تھا کہ مسلمانوں کا ایک مظلوم و بے کس گروہ جس کو کفار مکہ نے طرح طرح کی اذیتیں دے کر کچل ڈالا تھا اور اس نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر مدینہ آ کر چند نیک بندوں کے زیر سایہ پناہ لی تھی اور اس کو یہاں آ کر بھی سکون و اطمینان کی نیند نصیب نہیں ہوئی تھی بھلا ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ اس گروہ کو ایسی شہنشاہی مل جائے گی کہ خدا کے آسمان کے نیچے اور خدا کی زمین پر خدا کے سوا ان کو کسی اور کا ڈر نہ ہوگا۔ بلکہ ساری دنیا ان کے جاہ و جلال سے ڈر کر لرزہ بر اندام رہے گی مگر ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ بشارت پوری ہوئی اور ان مسلمانوں نے شہنشاہ بن کر دنیا پر اس طرح کامیاب حکومت کی کہ اس کے سامنے دنیا کی تمام متمدن حکومتو ں کا شیرازہ بکھر گیا اور تمام سلاطین عالم کی سلطانی کے پرچم عظمت اسلام کی شہنشاہی کے آگے سرنگوں ہوگئے۔ کیا اب بھی کسی کو اس پیشین گوئی کی صداقت میں بال کے کروڑویں حصہ کے برابر بھی شک و شبہ ہو سکتا ہے۔

-: فتح مکہ کی پیشگوئی

-: فتح مکہ کی پیشگوئی

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے اس طرح ہجرت فرمائی تھی کہ رات کی تاریکی میں اپنے یارِغار کے ساتھ نکل کر غار ثور میں رونق افروز رہے۔ آپ کی جان کے دشمنوں نے آپ کی تلاش میں سرزمین مکہ کے چپے چپے کو چھان مارا اور آپ ان دشمنوں کی نگاہوں سے چھپتے اور بچتے ہوئے غیر معروف راستوں سے مدینہ منورہ پہنچے۔ ان حالات میں بھلا کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ آ سکتا تھا کہ رات کی تاریکی میں چھپ کر روتے ہوئے اپنے پیارے وطن مکہ کو خیرباد کہنے والا رسولِ برحق ایک دن فاتح مکہ بن کر فاتحانہ جاہ و جلال کے ساتھ شہر مکہ میں اپنی فتح مبین کا پرچم لہرائے گا اور اس کے دشمنوں کی قاہر فوج اس کے سامنے قیدی بن کر دست بستہ سر جھکائے لرزہ براندم کھڑی ہوگی۔ مگر نبی غیب داں نے قرآن کی زبان سے اس پیشین گوئی کا اعلان فرمایا کہ

اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ وَرَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ ط اِنَّهٗ کَانَ تَوَّابًا

(سوره نصر)

جب اﷲ کی مدد اور فتح (مکہ) آجائے اور لوگوں کو تم دیکھو کہ اﷲ کے دین میں فوج فوج داخل ہوتے ہیں تو اپنے رب کی ثنا کرتے ہوئے اُس کی پاکی بولو اور اس سے بخشش چاہو بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔

چنانچہ یہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی کہ ۸ ھ میں مکہ فتح ہوگیا اور آپ فاتح مکہ ہونے کی حیثیت سے افواجِ الٰہی کے جاہ و جلال کے ساتھ مکہ مکرمہ کے اندر داخل ہوئے اور کعبہ معظمہ میں داخل ہو کر آپ نے دوگانہ ادا فرمایا اور اہل عرب فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے ۔ حالانکہ اس سے قبل اِکاد ُکا لوگ اسلام قبول کرتے تھے۔

-: جنگ ِبدر میں فتح کا اعلان

-: جنگ ِبدر میں فتح کا اعلان

جنگ بدر میں جب کہ کل تین سو تیرہ مسلمان تھے جو بالکل ہی نہتے، کمزور اور بے سر و سامان تھے بھلا کسی کے خیال میں بھی آ سکتا تھا کہ ان کے مقابلہ میں ایک ہزار کا لشکر جرار جس کے پاس ہتھیار اور عسکری طاقت کے تمام سامان و اوزار موجود تھے شکست کھا کر بھاگ جائے گا اور ستر مقتول اور ستر گرفتار ہو جائیں گے مگر جنگ بدر سے برسوں پہلے مکہ مکرمہ میں آیتیں نازل ہوئیں اور رسول برحق نے اقوام عالم کو کئی برس پہلے جنگ بدر میں اس طرح اسلامی فتح مبین کی بشارت سنائی کہ

اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَصِرٌ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرِ

کیا وہ کفار کہتے ہیں کہ ہم سب متحد اور ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ یہ لشکر عنقریب شکست کھا جائیگا اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔

وَلَوْ قَاتَلَکُمُْ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَايَجِدُوْنَ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا

( فتح)

اور اگر کفار تم (مسلمانوں) سے لڑیں گے تو یقینا وہ پیٹھ پھیرکر بھاگ جائیں گے پھر وہ کوئی حامی و مدد گار نہ پائیں گے۔

-: یہودی مغلوب ہوں گے

-: یہودی مغلوب ہوں گے

مدینہ منورہ اور اس کے اطراف کے یہودی قبائل بہت ہی مالدار، انتہائی جنگجو اور بہت بڑے جنگ باز تھے اور ان کو اپنی لشکری طاقت پر بڑا گھمنڈ اور ناز تھا۔ جنگ ِبدر میں مسلمانوں کی فتح مبین کا حال سن کر ان یہودیوں نے مسلمانوں کو یہ طعنہ دیا کہ قبائل قریش فنون جنگ سے ناواقف اور بے ڈھنگے تھے اس لیے وہ جنگ ہار گئے اگر مسلمانوں کو ہم جنگ بازوں اور بہادروں سے پالا پڑا تو مسلمانوں کو ان کی چھٹی کا دودھ یاد آ جائے گا۔ اور واقعی صورتحال ایسی ہی تھی کہ سمجھ میں نہیں آ سکتا تھا کہ مٹھی بھر کمزور اور بے سروسامان مسلمانوں سے قبائل یہود کا یہ مسلح و منظم لشکرکبھی شکست کھا جائے گا۔ مگر اس حال و ماحول میں غیب داں رسول نے قرآن کی زبان سے اس غیب کی خبر کا اعلان فرمایا کہ

وَ لَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ط مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَکْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ لَنْ يَّضُرُّوْکُمْْ اِلَّا ٓ اَذًی ط وَاِنْ يُّقَاتِلُوْکُمْ يُوَلُّوْکُمُ الْاَدْبَارَ قف ثُمَّ لَا يُنْصَرُوْنَ

(آل عمران)

اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو ان کے لیے یہ بہترہوتا ان میں کچھ ایماندار اور اکثر فاسق ہیں اور وہ تم (مسلمانوں) کو بجز تھوڑی تکلیف دینے کے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اگر وہ تم سے لڑیں گے تو یقینا پشت پھیر دیں گے پھر ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ یہود کے قبائل میں سے بنو قريظه قتل کر دیئے گئے اور بنو نضیر جلا وطن کر دیئے گئے اور خیبر کو مسلمانوں نے فتح کر لیا اور باقی یہود ذلت کے ساتھ جزیہ ادا کرنے پر مجبور ہوگئے۔

-: عہد نبوی کے بعد کی لڑائیاں

-: عہد نبوی کے بعد کی لڑائیاں

قرآن مجید کی پیشگوئیاں اور غیب کی خبریں صرف انہیں جنگوں کے ساتھ مخصوص و محدود نہیں تھیں جو عہد نبوی میں ہوئیں بلکہ اس کے بعد خلفاء کے دور خلافت میں عرب و عجم میں جو عظیم و خوں ریز لڑائیاں ہوئیں ان کے متعلق بھی قرآن مجید نے پہلے سے پیشگوئی کر دی تھی جو حرف بحرف پوری ہوئی۔ مسلمانوں کو رُوم و ایران کی زبردست حکومتوں سے جو لڑائیاں لڑنی پڑیں وہ تاریخ اسلام کے بہت ہی زریں اوراق اور نمایاں واقعات ہیں مگر قرآن مجید نے برسوں پہلے ان جنگوں کے نتائج کا اعلان ان لفظوں میں کر دیا تھا:

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِيْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰي قَوْمٍ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ يُسْلِمُوْنَ ج

( فتح)

جہاد میں پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے کہہ دو کہ عنقریب تم کو ایک سخت جنگجو قوم سے جنگ کرنے کے لیے بلایا جائے گا تم لوگ ان سے لڑو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے۔

اس پیش گوئی کا ظہور اس طرح ہوا کہ روم و ایران کی جنگجو اقوام سے مسلمانوں کو جنگ کرنی پڑی جس میں بعض جگہ خونریز معر کے ہوئے اور بعض جگہ کے کفار نے اسلام قبول کر لیا۔ الغرض اس قسم کی بہت سی غیب کی خبریں قرآن مجید میں مذکور ہیں جن کو غیب داں رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے واقعات کے واقع ہونے سے بہت پہلے اقوام ِعالم کے سامنے بیان فرما دیا اور یہ تمام غیب کی خبریں آفتاب کی طرح ظاہر ہو کر اہل عالم کے سامنے زبان حال سے اعلان کر رہی ہیں اور قیامت تک اعلان کرتی رہیں گی کہ

رفعت شانِ رفعنا لک ذِکرک دیکھے چشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے

-: اسلامی فتوحات کی پیشگوئیاں

-: اسلامی فتوحات کی پیشگوئیاں

ابتداء اسلام میں مسلمان جن آلام و مصائب میں گرفتار اور جس بے سرو سامانی کے عالم میں تھے اس وقت کوئی اس کو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ چند نہتے، فاقہ کش اور بے سرو سامان مسلمان قیصر و کسریٰ کی جابر حکومتوں کا تختہ الٹ دیں گے۔ لیکن غیب جاننے والے پیغمبر صادق نے اس حالت میں پورے عزم و یقین کے ساتھ اپنی امت کو یہ بشارتیں دیں کہ اے مسلمانوں! تم عنقریب قسطنطنیہ کو فتح کرو گے اور قیصر و کسریٰ کے خزانوں کی کنجیاں تمہارے دست تصرف میں ہوں گی۔ مصر پر تمہاری حکومت کا پرچم لہرائے گا۔ تم سے ترکوں کی جنگ ہوگی جن کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی اور چہرے چوڑے چوڑے ہوں گے اور ان جنگوں میں تم کو فتح مبین حاصل ہوگی۔

(بخاری جلد۱ ص ۵۰۴ تاص ۵۱۳باب علامات النبوۃ)

تاریخ گواہ ہے کہ غیب داں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دی ہوئی یہ سب غیب کی خبریں عالم ظہور میں آئیں۔

-: قیصر و کسریٰ کی بربادی

-: قیصر و کسریٰ کی بربادی

عین اس وقت جب کہ قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کے پرچم انتہائی جاہ و جلال کے ساتھ دنیا پر لہرا رہے تھے اور بظاہر ان کی بربادی کا کوئی سامان نظر نہیں آ رہا تھا مگر غیب داں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی امت کو یہ غیب کی خبر سنائی کہ

اِذَا هَلَکَ کِسْرٰي فَلاَ کِسْرٰي بَعْدَهٗ وَاِذَا هَلَکَ قَيْصَرُ فَلاَ قَيْصَرَ بَعْدَهٗ وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهٖ لَتُنْفَقَنَّ کُنُوْزُهُمَا فِیْ سَبِيْلِ اﷲِ۔

(بخاری جلد۱ ص ۵۱۱ باب علامات النبوۃ)

جب کسریٰ ہلاک ہوگا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ ہوگا اور جب قیصر ہلاک ہوگا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا اور اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد کی جان ہے ضرور ان دونوں کے خزانے اﷲ تعالیٰ کی راہ میں (مسلمانوں کے ہاتھ سے) خرچ کیے جائیں گے۔

دنیا کا ہر مؤرخ اس حقیقت کا گواہ ہے کہ حضرت امیر المؤمنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں کسریٰ اور قیصر کی تباہی کے بعد نہ پھر کسی نے سلطنت فارس کا تاج خسروی دیکھا نہ رومی سلطنت کا روئے زمین پر کہیں وجود نظر آیا۔ کیوں نہ ہو کہ یہ غیب داں نبی صادق کی وہ غیب کی خبریں ہیں جو خداوند علامُ الغیوب کی وحی سے آپ نے دی ہیں۔ بھلا کیونکر ممکن ہے کہ غیب داں نبی کی دی ہوئی غیب کی خبریں بال کے کروڑویں حصہ کے برابر بھی خلاف واقع ہو سکیں۔

-: یمن، شام، عراق فتح ہوں گے

-: یمن، شام، عراق فتح ہوں گے

حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یمن و شام و عراق کے فتح ہونے سے برسوں پہلے یہ غیب کی خبر دی تھی کہ یمن فتح کیا جائے گا تو لوگ اپنی سواریوں کو ہنکاتے ہوئے اور اپنے اہل و عیال اور متبعین کو لے کر (مدینہ سے) یمن چلے آئیں گے حالانکہ مدینہ ہی کا قیام ان کے لیے بہتر تھا۔ کاش وہ لوگ اس بات کو جان لیتے۔

پھر شام فتح کیا جائے گا تو ایک قوم اپنے گھر والوں اور اپنے پیروی کرنے والوں کو لے کر سواریوں کو ہنکاتے ہوئے (مدینہ سے) شام چلی آئے گی حالانکہ مدینہ ہی ان کے لیے بہتر تھا کاش ! وہ لوگ اس کو جان لیتے۔

پھر عراق فتح ہوگا تو کچھ لوگ اپنے گھر والوں اور جو ان کا کہنا مانیں گے ان سب کو لے کر سواریوں کو ہنکاتے ہوئے (مدینہ سے) عراق آ جائیں گے حالانکہ مدینہ ہی کی سکونت ان کے لیے بہتر تھی کاش! وہ اس کو جان لیتے۔

(مسلم جلد ۱ ص ۴۴۵ باب ترغيب الناس فی سکني المدينه)

یمن ۸ ھ میں فتح ہوا اور شام و عراق اس کے بعد فتح ہوئے لیکن غیب جاننے والے مخبر صادق صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے برسوں پہلے یہ غیب کی خبریں دے دی تھیں جو حرف بحرف پوری ہوئیں۔

-: فتح مصر کی بشارت

-: فتح مصر کی بشارت

حضرت ابو ذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ عنقریب مصر کو فتح کرو گے اور وہ ایسی زمین ہے جہاں کا سکہ “قیراط” کہلاتا ہے۔ جب تم لوگ اس کو فتح کرو تو اس کے باشندوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا کیونکہ تمہارے اور ان کے درمیان ایک تعلق اور رشتہ ہے۔ (حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی والدہ ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مصر کی تھیں جن کی اولاد میں سارا عرب ہے۔) اور جب تم دیکھنا کہ وہاں ایک ا ینٹ بھر جگہ کے لیے دو آدمی جھگڑا کرتے ہوں تو تم مصر سے نکل جانا۔ چنانچہ حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود اپنی آنکھ سے مصر میں یہ دیکھا کہ عبدالرحمن بن شرحبیل اور ان کے بھائی ربیعہ ایک ا ینٹ بھر جگہ کے لیے لڑ رہے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت ابو ذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق مصر چھوڑ کر چلے آئے۔

(مسلم جلد۲ ص ۳۱۱ باب وصية النبی صلی اﷲ تعالیٰ عليه وسلم)

-: بیت المقدس کی فتح

-: بیت المقدس کی فتح

بیت المقدس کی فتح ہونے سے برسوں پہلے حضورِ اقدس مخبر صادق صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے غیب کی خبر دیتے ہوئے اپنی امت سے ارشاد فرمایا کہ

قیامت سے پہلے چھ چیزیں گن رکھو (۱) میری وفات (۲) بیت المقدس کی فتح (۳) پھر طاعون کی وبا جو بکریوں کی گلٹیوں کی طرح تمہارے اندر شروع ہو جائے گی۔(۴) اس قدر مال کی کثرت ہو جائے گی کہ کسی آدمی کو سو دینار دینے پر بھی وہ خوش نہیں ہوگا۔ (۵) ایک ایسا فتنہ اٹھے گاکہ عرب کا کوئی گھر باقی نہیں رہے گا جس میں فتنہ داخل نہ ہوا ہو۔ (۶) تمہارے اور رومیوں کے درمیان ایک صلح ہوگی اور رومی عہد شکنی کریں گے وہ اَسی جھنڈے لے کر تمہارے اوپر حملہ آور ہوں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہوگی۔

(بخاری جلد۱ ص ۴۵۰ باب مايحذرمن الغدر)

-: خوفناک راستے پرامن ہو جائیں گے

-: خوفناک راستے پرامن ہو جائیں گے

حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر تھا تو ایک شخص نے آکر فاقہ کی شکایت کی پھر ایک دوسرا شخص آیا اس نے راستوں میں ڈاکہ زنی کا شکوہ کیا۔ یہ سن کر شہنشاہِ مدینہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عدی ! اگر تمہاری عمر لمبی ہوگی تو تم یقینا دیکھو گے کہ ایک پردہ نشین عورت اکیلی “حیرہ” سے چلے گی اور مکہ آکر کعبہ کا طواف کرے گی اور اس کو خدا کے سوا کسی کا کوئی ڈر نہیں ہوگا۔

حضرت عدی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں کہا کہ بھلا قبیلہ ” طی ” کے وہ ڈاکو جنہوں نے شہروں میں آگ لگا رکھی ہے کہاں چلے جائیں گے؟

پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم نے لمبی عمر پائی تو یقینا تم دیکھو گے کہ کسریٰ کے خزانوں کو مسلمان اپنے ہاتھوں سے کھولیں گے اور اے عدی! اگر تمہاری زندگی دراز ہوئی تو تم ضرور ضرور دیکھو گے کہ ایک آدمی مٹھی بھر سونا یا چاندی لے کر تلاش کرتا پھرے گا کہ کوئی اس کے صدقہ کو قبول کرے مگر کوئی شخص ایسا نہیں آئے گا جو اس کے صدقہ کو قبول کرے (کیونکہ ہر شخص کے پاس بکثرت مال ہوگا اور کوئی فقیر نہ ہوگا۔) حضرت عدی بن حاتم کا بیان ہے کہ اے لوگوں!یہ تو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ واقعی ’’ حیرہ ‘‘سے ایک پردہ نشین عورت اکیلی طوافِ کعبہ کے لیے چلی آئی ہے اور وہ خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتی اور میں خود ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانوں کو کھول کر نکالا۔ یہ دو چیزیں تو میں نے دیکھ لیں اے لوگوں! اگر تم لوگوں کی عمریں دراز ہوئیں تو یقینا تم لوگ تیسری چیز کو بھی دیکھ لو گے کہ کوئی فقیر نہیں ملے گا جو صدقہ قبول کرے۔

(بخاری جلد۱ ص ۵۰۷ تاص ۵۰۸ باب علامات النبوۃ)

-: فاتح خیبر کون ہوگا

-: فاتح خیبر کون ہوگا

جنگ خیبر کے دوران ایک دن غیب داں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ کل میں اس شخص کے ہاتھ میں جھنڈا دوں گا جو اﷲ و رسول سے محبت کرتا ہے اور اﷲ و رسول اس سے محبت کرتے ہیں اور اسی کے ہاتھ سے خیبر فتح ہوگا۔ اس خوشخبری کو سن کر لشکر کے تمام مجاہدین نے اس انتظار میں نہایت ہی بے قراری کے ساتھ رات گزاری کہ دیکھیں کون وہ خوش نصیب ہے جس کے سر اس بشارت کا سہرا بند ھتا ہے۔ صبح کو ہر مجاہد اس امید پر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا کہ شاید وہی اس خوش نصیبی کا تاجدار بن جائے۔ ہر شخص گوش بر آواز تھا کہ ناگہاں شہنشاہ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اﷲ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کی آنکھوں میں آشوب ہے۔ ارشاد فرمایا کہ قاصد بھیج کر انہیں بلاؤ جب حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ دربار رسالت میں حاضر ہوئے تو حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگا کر دعا فرما دی جس سے فی الفور وہ اس طرح شفایاب ہوگئے کہ گویا انہیں کبھی آشوب چشم ہوا ہی نہیں تھا۔ پھر آپ نے ان کے ہاتھ میں جھنڈا عطا فرمایا اور خیبر کا میدان اسی دن ان کے ہاتھوں سے سر ہوگیا۔

(بخاری جلد ۲ ص ۶۰۵ باب غزوہ خیبر)

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن قبل ہی یہ بتا دیا کہ کل حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ خیبر کو فتح کریں گے۔ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا طیعنی ” کل کون کیا کرے گا ” کا علم غیب ہے جو اﷲ تعالیٰ نے اپنے رسول کو عطا فرمایا۔

-: تیس برس خلافت پھر بادشاہی

-: تیس برس خلافت پھر بادشاہی

حضرت سفینہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد تیس برس تک خلافت رہے گی اس کے بعد بادشاہی ہو جائے گی۔ اس حدیث کو سنا کر حضرت سفینہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم لوگ گن لو! حضرت ابو بکر کی خلافت دو برس اور حضرت عمر کی خلافت دس برس اور حضرت عثمان کی خلافت بارہ برس اور حضرت علی کی خلافت چھ برس یہ کل تیس برس ہوگئے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہم

(مشکوٰۃ جلد۲ ص ۴۶۲ کتاب الفتن)

۷۰ ھ؁ اور لڑکوں کی حکومت :-

۷۰ ھ؁ اور لڑکوں کی حکومت :-

حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ۷۰ ھ کے شروع اور لڑکوں کی حکومت سے پناہ مانگو۔

(مشکوٰۃ جلد ۲ ص ۳۲۳)

اسی طرح حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھوں پر ہوگی۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس حدیث کو سنا کر فرمایا کرتے تھے کہ اگر تم چاہو تو میں ان لڑکوں کے نام بتا سکتا ہوں وہ فلاں کے بیٹے اور فلاں کے بیٹے ہیں۔

(بخاری جلد ۱ ص ۵۰۹ باب علامات النبوۃ)

تاریخ اسلام گواہ ہے کہ ۷۰ ھ میں بنوامیہ کے کم عمر حاکموں نے جو فتنے بر پا کیے واقعی یہ ایسے فتنے تھے کہ جن سے ہر مسلمان کو خدا کی پناہ مانگنی چاہئے۔ ان واقعات کی برسوں پہلے نبی برحق صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خبر دی جو یقینا غیب کی خبر ہے۔

-: ترکوں سے جنگ

-: ترکوں سے جنگ

حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک تم لوگ ایسی قوم سے نہ لڑو گے جن کے جوتے بال کے ہوں گے ور جب تک تم لوگ قوم ترک سے نہ لڑو گے جو چھوٹی آنکھوں والے، سرخ چہروں والے، چپٹی ناکوں والے ہوں گے۔ ان کے چہرے گویا ہتھوڑوں سے پیٹی ہوئی ڈھالوں کی مانند (چوڑے چپٹے) ہوں گے اور ان کے جوتے بال کے ہوں گے۔

اوردوسری روایت میں ہے کہ تم لوگ “خوزوکرمان” کے عجمیوں سے جنگ کرو گے جن کے چہرے سرخ، ناکیں چپٹی ، آنکھیں چھوٹی ہوں گی۔

اورتیسری روایت میں یہ ہے کہ قیامت سے پہلے تم لوگ ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے جوتے بال کے ہوں گے وہ اہل ” بارز ” ہیں۔ (یعنی صحراؤں اور میدانوں میں رہنے والے ہیں۔)

(بخاری جلد ۱ ص ۵۰۷ باب علامات النبوۃ)

غیب داں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ خبریں اس وقت دی تھیں جب اسلام ابھی پورے طور پر زمین حجاز میں بھی نہیں پھیلا تھا ۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ مخبر صادق صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ تمام پیشگوئیاں پہلی ہی صدی کے آخر تک پوری ہوگئیں کہ مجاہدین اسلام کے لشکروں نے ترکوں اور صحراؤں میں رہنے والے بربریوں سے جہاد کیا اور اسلام کی فتح مبین ہوئی اور ترک و بربری اقوام دامن اسلام میں آ گئیں۔

-: ہندوستان میں مجاہدین

-: ہندوستان میں مجاہدین

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہندوستان میں اسلام کے داخل اور غالب ہونے کی خوشخبری سناتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ

میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ان دونوں کو جہنم سے آزاد فرما دیا ہے۔ ایک وہ گروہ جو ہندوستان میں جہاد کرے گا اور ایک وہ گروہ جو حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ ہوگا۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہم مسلمانوں سے ہندوستان میں جہاد کرنے کا وعدہ فرمایا تھا تو اگر میں نے وہ زمانہ پا لیا جب تو میں اس کی راہ میں اپنی جان و مال قربان کر دوں گا اور اگر میں اس جہاد میں شہید ہوگیا تو میں بہترین شہید ٹھہروں گا اور اگر میں زندہ لوٹا تو میں دوزخ سے آزاد ہونے والا ابو ہریرہ ہوں گا۔

(نسائي جلد ۲ ص ۶۳ باب غزوة الهند)

امام نسائی نے ۳۰۲ ھ میں وفات پائی اور انہوں نے اپنی کتاب سلطان محمود غزنوی کے حملہ ہندوستان ۳۹۲ ھ سے تقریباً سو برس پہلے تحریر فرمائی۔

تمام دنیا کے مؤرخین گواہ ہیں کہ غیب داں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی زبان قدسی بیان سے ہندوستان کے بارے میں سینکڑوں برس پہلے جس غیب کی خبر کا اعلان فرمایا تھا وہ حرف بحرف پوری ہو کر رہی کہ محمد بن قاسم نے سر زمین سندھ و مکران پر جہاد فرمایا اور محمود غزنوی و شہاب الدین غوری نے ہندوستان کے سومنات و اجمیر و غیرہ پر جہاد کر کے اس ملک میں اسلام کا پرچم لہرایا۔ یہاں تک کہ سر زمین ہند میں نا گا لینڈ کی پہاڑیوں سے کوہ ہندو کش تک اور راس کماری سے ہمالیہ کی چوٹیوں تک اسلام کا پرچم لہرا چکا ۔ حالانکہ مخبر صادق صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ پیشین گوئی اس وقت دی تھی جب اسلام سر زمین حجاز سے بھی آگے نہیں پہنچ پایا تھا۔ ان غیب کی خبروں کو لفظ بلفظ پورا ہوتے ہوئے دیکھ کر کون ہے جو غیب داں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دربار میں اس طرح نذرانہ عقیدت نہ پیش کرے گا کہ ؎

ملکوت و ملک میں کوئی شے نہیں وہ جو تجھ پہ عیاں نہیں سر عرش پر ہے تری گزر دل فرش پر ہے تری نظر

( اعلیٰ حضر ت بریلوی علیہ الرحمۃ )

-: کون کہاں مرے گا

-: کون کہاں مرے گا

جنگِ بدر میں لڑائی سے پہلے ہی حضورِ اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم صحابہ کو لے کر میدان جنگ میں تشریف لے گئے اور اپنی چھڑی سے لکیر کھینچ کھینچ کر بتایا کہ یہ فلاں کافر کی قتل گاہ ہے۔ یہ ابوجہل کا مقتل ہے۔ اس جگہ قریش کا فلاں سردار مارا جائے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا بیان ہے کہ ہر سردار قریش کے قتل ہونے کے لیے آپ نے جو جو جگہیں مقرر فرما دی تھیں اسی جگہ اس کافر کی لاش خاک و خون میں لتھڑی ہوئی پائی گئی۔

(مسلم جلد ۲ ص ۱۰۲ باب غزوہ بدر)

-: حضرت فاطمہ کی وفات کب ہوگی

-: حضرت فاطمہ کی وفات کب ہوگی

حضرت رسول خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے مرض وفات میں حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو اپنے پاس بلا کر ان کے کان میں کوئی بات فرمائی تو وہ رونے لگیں۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد ان کے کان میں ایک اور بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو یہ دیکھ کر بڑا تعجب ہوا۔ انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے اس رونے اور ہنسنے کا سبب پوچھا، تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا راز ظاہر نہیں کر سکتی۔ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تو حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے دوبارہ دریافت کرنے پر حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پہلی مرتبہ میرے کان میں یہ فرمایا تھا کہ میں اپنی اسی بیماری میں وفات پا جاؤں گا۔ یہ سن کر میں فرط غم سے رو پڑی پھر فرمایا کہ اے فاطمہ ! میرے گھر والوں میں سب سے پہلے تم وفات پا کر مجھ سے ملو گی۔ یہ سن کر میں ہنس پڑی کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے میری جدائی کا زمانہ بہت ہی کم ہوگا۔

(بخاری جلد ۱ ص ۵۱۲)

اہل علم جانتے ہیں کہ یہ دونوں غیب کی خبریں حرف بحرف پوری ہوئیں کہ آپ نے اپنی اسی بیماری میں وفات پائی اورحضرت فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابھی صرف چھ مہینے کے بعد وفات پا کر حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃ ُوَالسَّلَام سے جا ملیں۔

-: خود اپنی وفات کی اطلاع

-: خود اپنی وفات کی اطلاع

جس سال حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علہا وسلم نے اس دناق سے رحلت فرمائی ، پہلے ہی سے آپ نے اپنی وفات کا اعلان فرمانا شروع کر دیا۔ چنانچہ حجۃ الوداع سے پہلے ہی حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علہاوسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر روانہ فرمایا تو ان کے رخصت کرتے وقت آپ نے ان سے فرمایا کہ اے معاذ! اب اس کے بعد تم مجھ سے نہ مل سکو گے جب تم واپس آؤ گے تو مرلی مسجد اور مرای قبر کے پاس سے گزرو گے۔

(مسند امام احمد بن حنبل جلد ۵ ص ۳۵)

اسی طرح حجۃ الوداع کے موقع پر جب کہ عرفات میں ایک لاکھ پچیس ہزار سے زائد مسلمانوں کا اجتماع عظیم تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے وہاں دوران خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ شاید آئندہ سال تم لوگ مجھ کو نہ پاؤ گے۔

اسی طرح مرض وفات سے کچھ دنوں پہلے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ چا ہے تو دنیا کی زندگی کو اختیار کر لے اور چا ہے تو آخرت کی زندگی قبول کر لے تو اس بندے نے آخرت کو قبول کر لیا۔ یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ رونے لگے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو بڑا تعجب ہوا کہ آپ تو ایک بندے کے بارے میں یہ خبر دے رہے ہیں تو اس پر حضرت ابو بکر ( رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ) کے رونے کا کیا موقع ہے؟ مگر جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کے چند ہی دنوں کے بعد وفات پائی تو ہم لوگوں کو معلوم ہوا کہ وہ اختیار دیا ہوا بندہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہی تھے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہم لوگوں میں سے سب سے زیادہ علم والے تھے۔ ( کیونکہ انہوں نے ہم سب لوگوں سے پہلے یہ جان لیا تھا کہ وہ اختیار دیا ہوا بندہ خود حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہی ہیں۔)

(بخاری جلد ۱ ص ۵۱۹ باب قول النبي صلی اﷲ تعالیٰ عليه وسلم سدواالابواب الخ)

-: حضرت عمر و حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہما شہید ہوں گے

-: حضرت عمر و حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہما شہید ہوں گے

حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک مرتبہ حضرت ابو بکر و حضرت عمر و حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو ساتھ لے کر اُحد پہاڑ پر چڑھے۔ اس وقت پہاڑ ہلنے لگا تو آپ نے فرمایا کہ اے احد! ٹھہر جا اور یقین رکھ کہ تیرے اوپر ایک نبی ہے ایک صدیق ہے اور دو (عمرو عثمان) شہید ہیں۔

(بخاری جلد ۱ ص ۵۱۹ باب فضل ابی بکر)

نبی اور صدیق کو تو سب جانتے تھے لیکن حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کی شہادت کے بعد سب کو یہ بھی معلوم ہوگیا کہ وہ دو شہید کون تھے۔

-: حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہادت ملے گی

-: حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہادت ملے گی

حضرت ابو سعید خدری و حضرت ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت عمار رضی اﷲ تعالیٰ عنہ خندق کھود رہے تھے اس وقت حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے سر پر اپنا دست ِشفقت پھیر کر ارشاد فرمایا کہ افسوس! تجھے ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔

(مسلم جلد ۲ ص ۳۹۵ کتاب الفتن)

یہ پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی کہ حضرت عمار رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جنگ صفین کے دن حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے اور حضرت معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ساتھیوں کے ہاتھ سے شہید ہوئے۔

اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ جنگ صفین میں حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ یقینا حق پر تھے اور حضرت معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا گروہ یقینا خطا کا مرتکب تھا۔ لیکن چونکہ ان لوگوں کی خطا اجتہادی تھی لہٰذا یہ لوگ گنہگار نہ ہوں گے کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کوئی مجتہد اگر اپنے اجتہاد میں صحیح اور درست مسئلہ تک پہنچ گیا تو اس کو دوگنا ثواب ملے گا اور اگر مجتہد نے اپنے اجتہاد میں خطا کی جب بھی اس کو ایک ثواب ملے گا۔

(حاشيه بخاری بحواله کرمانی جلد ۱ ص ۵۰۹ باب علامات النبوة)

اس لیے حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شان میں لعن طعن ہرگز ہرگز جائز نہیں کیونکہ بہت سے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اس جنگ میں حضرت معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے۔

پھر یہ بات بھی یہاں ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ مصری باغیوں کا گروہ جنہوں نے حضرت امیرالمؤمنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا محاصرہ کر کے ان کو شہید کر دیا تھا یہ لوگ جنگ صفین میں حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے لشکر میں شامل ہو کر حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے لڑ رہے تھے تو ممکن ہے کہ گھمسان کی جنگ میں انہی باغیوں کے ہاتھ سے حضرت عمار رضی اﷲ تعالیٰ عنہ شہید ہوگئے ہوں۔ اس صورت میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بالکل صحیح ہوگا کہ ” افسوس اے عمار! تجھ کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا ” اور اس قتل کی ذمہ داری سے حضرت معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا دامن پاک رہے گا۔ ِ واﷲ تعالیٰ اعلم۔

بہر حال حضرت معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شان میں لعن طعن کرنا رافضیوں کا مذہب ہے حضرات اہل سنت کو اس سے پرہیز کرنا لازم و ضروری ہے۔

-: حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا امتحان

-: حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا امتحان

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ کے ایک باغ میں ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ دروازہ کھلوا کر اندر آئے تو آپ نے ان کو جنت کی بشارت دی ۔ پھر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ آئے تو آپ نے ان کو بھی جنت کی خوشخبری سنائی۔ اس کے بعد حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ آئے تو آپ نے ان کو جنت کی بشارت کے ساتھ ساتھ ایک امتحان اور آزمائش میں مبتلا ہونے کی بھی اطلاع دی۔ یہ سن کر حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے صبر کی دعا مانگی اور یہ کہا کہ خدا مددگار ہے۔

-: حضرت علی کی شہادت

-: حضرت علی کی شہادت

حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور بعض دوسرے صحابہ کرام حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں بتادوں کہ سب سے بڑھ کر دو بدبخت انسان کون ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اﷲ! ( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ) بتائیے ۔آپ نے ارشاد فرمایا کہ ایک قوم ثمود کا سرخ رنگ والا وہ بدبخت جس نے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو قتل کیا اور دوسرا وہ بدبخت انسان جو اے علی!تمہارے یہاں پر (گردن کی طرف اشارہ کیا) تلوار مارے گا۔

(مستدرک حاکم جلد ۳ ص ۱۴۰ تاص ۱۴۱مطبوعه حيدرآباد)

یہ غیب کی خبر اس طرح ظہور پذیر ہوئی کہ ۱۷ رمضان ۴۰ ھ کو عبدالرحمن بن ملجم خارجی نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پر تلوار سے قاتلانہ حملہ کیا جس سے زخمی ہو کر دو دن بعد حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ شہادت سے سرفراز ہوگئے۔

(تاريخ الخلفاء)

-: حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے خوشخبری

-: حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے خوشخبری

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حجۃ الوداع میں مکہ معظمہ جا کر اس قدر شدید بیمار ہوگئے کہ ان کو اپنی زندگی کی امید نہ رہی۔ ان کو اس بات کی بہت زیادہ بے چینی تھی کہ اگر میں مر گیا تو میری ہجرت نامکمل رہ جائے گی۔ حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ نے ان کی بے قراری دیکھ کر تسلی دی اور ان کے لیے دعا بھی فرمائی اور یہ بشارت دی کہ امید ہے کہ تم ابھی نہیں مرو گے بلکہ تمہاری زندگی لمبی ہوگی اور بہت سے لوگوں کو تم سے نفع اور بہت سے لوگوں کو تم سے نقصان پہنچے گا۔

(بخاری جلد ۱ ص ۳۸۳ کتاب الوصايا)

یہ حضرت سعد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے لیے فتوحات عجم کی بشارت تھی۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ حضرت سعد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اسلامی لشکر کا سپہ سالار بن کر ایران پر فوج کشی کی اور چند سال میں بڑے بڑے معرکوں کے بعد بادشاہ ایران کسریٰ کے تخت و تاج کو چھین لیا۔ اس طرح مسلمانوں کو ان کی ذات سے بڑا فائدہ اور کفار مجوس کو ان کی ذات سے نقصان عظیم پہنچا۔ ایران حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں فتح ہوا اور اس لڑائی کا نقشہ جنگ خود امیرالمؤمنین نے ماہرین جنگ کے مشوروں سے تیار فرمایا تھا۔

-: حجاز کی آگ

-: حجاز کی آگ

حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک حجاز کی زمین سے ایک ایسی آگ نہ نکلے جس کی روشنی میں بصریٰ کے اونٹوں کی گردنیں نظر آئیں گی۔

(مسلم جلد ۲ ص۳۹۳ کتاب الفتن)

اس غیب کی خبر کا ظہور ۶۵۴ ؁ھ میں ہوا۔ چنانچہ حضرت امام نووی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث کی شرح میں تحریر فرمایا کہ یہ آگ ہمارے زمانے میں ۶۵۴ ؁ھ میں مدینہ کے اندر ظاہر ہوئی۔ یہ آگ اس قدر بڑی تھی کہ مدینہ کے مشرقی جانب سے لے کر “حرہ” کی پہاڑیوں تک پھیلی ہوئی تھی اس آگ کا حال ملک شام اور تمام شہروں میں تواتر کے طریقے پر معلوم ہوا ہے اور ہم سے اس شخص نے بیان کیا جو اس وقت مدینہ میں موجود تھا۔

(شرح مسلم نووی جلد ۲ ص ۳۹۳ کتاب الفتن)

اسی طرح علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے تحریر فرمایا ہے کہ ۳ جمادی الآخرۃ ۶۵۴ ؁ھ کو مدینہ منورہ میں ناگہاں ایک گھر گھراہٹ کی آواز سنائی دینے لگی پھر نہایت ہی زور دار زلزلہ آیا جس کے جھٹکے تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد دو دن تک محسوس کیے جاتے رہے۔ پھر بالکل اچانک قبیلہ قریظہ کے قریب پہاڑوں میں ایک ایسی خوفناک آگ نمودار ہوئی جس کے بلند شعلے مدینہ سے ایسے نظر آ رہے تھے کہ گویا یہ آگ مدینہ منورہ کے گھروں میں لگی ہوئی ہے۔ پھر یہ آگ بہتے ہوئے نالوں کی طرح سیلاب کے مانند پھیلنے لگی اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ پہاڑیاں آگ بن کر بہتی چلی جا رہی ہیں اور پھر اس کے شعلے اس قدر بلند ہوگئے کہ آگ کا ایک پہاڑ نظر آنے لگا اور آگ کے شرارے ہر چہار طرف فضاؤں میں اڑنے لگے۔ یہاں تک کہ اس آگ کی روشنی مکہ مکرمہ سے نظر آنے لگی اور بہت سے لوگوں نے شہر بصریٰ میں رات کو اسی آگ کی روشنی میں اونٹوں کی گردنوں کو دیکھ لیا۔ اہل مدینہ آگ کے اس ہولناک منظر سے لرزہ براندام ہو کردہشت اور گھبراہٹ کے عالم میں توبہ اور استغفار کرتے ہوئے حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے روضہ اقدس کے پاس پناہ لینے کے لیے مجتمع ہوگئے۔ ایک ماہ سے زائد عرصہ تک یہ آگ جلتی رہی اور پھر خود بخود رفتہ رفتہ اس طرح بجھ گئی کہ اس کا کوئی نشان بھی باقی نہیں رہا۔

(تاريخ الخلفاء ص ۳۲۴)

-: فتنوں کے علمبردار

-: فتنوں کے علمبردار

حضرت حذیفہ بن یمان صحابی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ خدا کی قسم! میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھی بھول گئے ہیں یا جانتے ہوئے انجان بن رہے ہیں۔ واﷲ! دنیا کے خاتمہ تک جتنے فتنوں کے ایسے قائدین ہیں جن کے متبعین کی تعداد تین سو یا اس سے زائد ہوں ان سب فتنوں کے علمبرداروں کا نام، ان کے باپوں کا نام، ان کے قبیلوں کا نام رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو بتا دیا ہے۔

(ابوداود جلد ۲ ص ۲۳۱ کتاب الفتن)

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قیامت تک پیدا ہونے والے گمراہوں اور فتنوں کے ہزاروں لاکھوں سرداروں اور علمبرداروں کے نام مع ولدیت و سکونت حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو بتا دیئے۔ ظاہر ہے کہ یہ علم غیب ہے جو اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو عطا فرمایا۔

-: قیامت تک کے واقعات

-: قیامت تک کے واقعات

مسلم شریف کی حدیث ہے، حضرت عمرو بن اخطب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہم لوگوں کو نماز فجر پڑھا کر منبر پر تشریف لے گئے اور ہم لوگوں کو خطبہ سناتے رہے یہاں تک کہ نماز ظہر کا وقت آ گیا۔ پھر آپ نے منبر سے اتر کر نماز ظہر ادا فرمائی۔ پھر خطبہ دینے میں مشغول ہوگئے یہاں تک کہ نماز عصر کا وقت ہوگیا۔ اس وقت آپ نے منبر سے اتر کر نماز عصر پڑھائی پھر منبر پر چڑھ کر خطبہ پڑھنے لگے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو اس دن بھر کے خطبہ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو تمام ان واقعات کی خبر دے دی جو قیامت تک ہونے والے تھے تو جس شخص نے جس قدر زیادہ اس خطبہ کو یاد رکھا وہ ہم صحابہ میں سب سے زیادہ علم والاہے۔

(مشکوٰۃ جلد ۲ ص ۵۴۳)

-: ضروری انتباہ

-: ضروری انتباہ

مذکورہ بالا واقعات ان ہزاروں واقعات میں سے صرف چند ہیں جن میں حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے غیب کی خبریں دی ہیں۔ بلاشبہ ہزاروں واقعات جو صحاح ستہ اور احادیث کی دوسری کتابوں میں ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں، امت کو جھنجھوڑ کر متنبہ کر رہے ہیں کہ اول سے ابد تک کے تمام علوم غیبیہ کے خزانوں کو علام الغیوب جل جلالہٗ نے اپنے حبیب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سینہ نبوت میں و دیعت فرما دیا ہے۔ لہٰذا ہر امتی کو یہ عقیدہ رکھنا لازمی اور ضروری ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو علم غیب عطا فرمایا ہے۔ یہ عقیدہ قرآن مجید کی مقدس تعلیم کا وہ عطر ہے جس سے اہل سنت کی دنیائے ایمان معطر ہے جیسا کہ خود خداوند عالم جل مجدہ ٗ نے ارشاد فرمایا کہ

وَعَلَّمَكَ ماَلَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ ط وَكَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ عَظِيْمًا

(۴ :۱۳)

اﷲ نے آپ کو ہر اس چیز کا علم عطا فرما دیا جس کو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ پر اﷲ کا بہت ہی بڑا فضل ہے۔

اس موضوع پر سیر حاصل بحث ہماری کتاب(قرآنی تقریریں) میں پڑھئے۔