ہجرت کا پہلا سال

-: مسجد قباء

-: مسجد الجمعہ

-: ابو ایوب انصاری کا مکان

-: حضرت عبداﷲ بن سلام کا اسلام

-: حضور کے اہل و عیال مدینہ میں

-: مسجد نبوی کی تعمیر

-: ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے مکانات

-: مہاجرین کے گھر

-: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رُخصتی

-: اذان کی ابتداء

-: انصار و مہاجر بھائی بھائی

-: انصار و مہاجر بھائی بھائی

حضرات مہاجرین چونکہ انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں بالکل خالی ہاتھ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ کر مدینہ آئے تھے اس لئے پردیس میں مفلسی کے ساتھ وحشت و بیگانگی اور اپنے اہل و عیال کی جدائی کا صدمہ محسوس کرتے تھے۔ اس میں شک نہیں کہ انصار نے ان مہاجرین کی مہمان نوازی اور دل جوئی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی لیکن مہاجرین دیر تک دوسروں کے سہارے زندگی بسر کرنا پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ لوگ ہمیشہ سے اپنے دست و بازو کی کمائی کھانے کے خوگر تھے۔ اس لئے ضرور ت تھی کہ مہاجرین کی پریشانی کو دور کرنے اور ان کے لئے مستقل ذریعۂ معاش مہیا کرنے کے لئے کوئی انتظام کیا جائے۔ اس لئے حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خیال فرمایا کہ انصار و مہاجرین میں رشتہ اخوت (بھائی چارہ) قائم کر کے ان کو بھائی بھائی بنا دیا جائے تا کہ مہاجرین کے دلوں سے اپنی تنہائی اور بے کسی کا احساس دور ہوجائے اور ایک دوسرے کے مددگار بن جانے سے مہاجرین کے ذریعۂ معاش کا مسئلہ بھی حل ہو جائے۔ چنانچہ مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد ایک دن حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان میں انصار و مہاجرین کو جمع فرمایا اس وقت تک مہاجرین کی تعداد پینتالیس یا پچاس تھی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انصار کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ مہاجرین تمہارے بھائی ہیں پھر مہاجرین و انصار میں سے دو دو شخص کو بلا کر فرماتے گئے کہ یہ اور تم بھائی بھائی ہو۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشاد فرماتے ہی یہ رشتہ اخوت بالکل حقیقی بھائی جیسا رشتہ بن گیا۔ چنانچہ انصار نے مہاجرین کو ساتھ لے جا کر اپنے گھر کی ایک ایک چیز سامنے لا کر رکھ دی اور کہہ دیا کہ آپ ہمارے بھائی ہیں اس لئے ان سب سامانوں میں آدھا آپ کا اور آدھا ہمارا ہے۔ حد ہو گئی کہ حضرت سعد بن ربیع انصاری جو حضرت عبدالرحمن بن عوف مہاجر کے بھائی قرار پائے تھے ان کی دو بیویاں تھیں، حضرت سعد بن ربیع انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ میری ایک بیوی جسے آپ پسند کریں میں اس کو طلاق دے دوں اور آپ اس سے نکاح کر لیں۔

اﷲ اکبر ! اس میں شک نہیں کہ انصار کا یہ ایثار ایک ایسا بے مثال شاہکار ہے کہ اقوام عالم کی تاریخ میں اس کی مثال مشکل سے ہی ملے گی مگر مہاجرین نے کیا طرز عمل اختیار کیا یہ بھی ایک قابل تقلید تاریخی کارنامہ ہے۔ حضرت سعد بن ربیع انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اس مخلصانہ پیشکش کو سن کر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے شکریہ کے ساتھ یہ کہا کہ اﷲ تعالیٰ یہ سب مال و متاع اور اہل و عیال آ پ کو مبارک فرمائے مجھے تو آپ صرف بازار کا راستہ بتا دیجیے۔ انہوں نے مدینہ کے مشہور بازار ” قینقاع ” کا راستہ بتا دیا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بازار گئے اور کچھ گھی، کچھ پنیر خرید کر شام تک بیچتے رہے۔ اسی طرح روزانہ وہ بازار جاتے رہے اور تھوڑے ہی عرصہ میں وہ کافی مالدار ہو گئے اور ان کے پاس اتنا سرمایہ جمع ہو گیا کہ انہوں نے شادی کرکے اپنا گھر بسا لیا۔ جب یہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم نے بیوی کو کتنا مہر دیا ؟ عرض کیا کہ پانچ درہم برابر سونا۔ ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ تمہیں برکتیں عطا فرمائے تم دعوتِ ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی ہو۔

(بخاری، باب الوليمة ولو بشاة، ص۷۷۷ ،ج۲)

اور رفتہ رفتہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی تجارت میں اتنی خیر و برکت اور ترقی ہوئی کہ خود ان کا قول ہے کہ ” میں مٹی کو چھو دیتا ہوں تو سونا بن جاتی ہے ” منقول ہے کہ ان کا سامان تجارت سات سو اونٹوں پر لد کر آتا تھا اور جس دن مدینہ میں ان کا تجارتی سامان پہنچتا تھا تو تمام شہر میں دھوم مچ جاتی تھی۔

(اسد الغابه، ج۳، ص۳۱۴)

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی طرح دوسرے مہاجرین نے بھی دکانیں کھول لیں ۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کپڑے کی تجارت کرتے تھے۔ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ “قینقاع” کے بازار میں کھجوروں کی تجارت کرنے لگے۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی تجارت میں مشغول ہو گئے تھے۔ دوسرے مہاجرین نے بھی چھوٹی بڑی تجارت شروع کر دی۔ غرض باوجودیکہ مہاجرین کے لئے انصار کا گھر مستقل مہمان خانہ تھا مگر مہاجرین زیادہ دنوں تک انصار پر بوجھ نہیں بنے بلکہ اپنی محنت اور بے پناہ کوششوں سے بہت جلد اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے۔

مشہور مؤرخِ اسلام حضرت علامہ ابن عبدالبررحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا قول ہے کہ یہ عقد مواخاۃ (بھائی چارہ کا معاہدہ) تو انصار و مہاجرین کے درمیان ہوا،اس کے علاوہ ایک خاص “عقد مواخاۃ”مہاجرین کے درمیان بھی ہوا جس میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک مہاجر کو دوسرے مہاجر کا بھائی بنا دیا ۔چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما اور حضرت طلحہ و حضرت زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما اور حضرت عثمان و حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کے درمیان جب بھائی چارہ ہو گیا تو حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے دربار رسالت میں عرض کیا کہ یارسول اﷲ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ نے اپنے صحابہ کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا لیکن مجھے آپ نے کسی کا بھائی نہیں بنایا آخر میرا بھائی کون ہے؟ تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اَنْتَ اَخِيْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ یعنی تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔

(مدارج النبوۃ ج۲ص۷۱)

-: یہودیوں سے معاہدہ

-: مدینہ کے لئے دُعا

-: حضرت سلمان فارسی مسلمان ہو گئے

-: نمازوں کی رکعت میں اضافہ

-: تین جاں نثاروں کی وفات