اخلاق نبوت

-: حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عقل

آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کے بارے میں خلق خدا سے کیا پوچھنا ؟ جب کہ خود خالق اخلاق نے یہ فرما دیا کہ

اِنَّكَ لَعَلٰي خُلُقٍ عَظِيْمٍ

یعنی اے حبیب ! بلاشبہ آپ اخلاق کے بڑے درجہ پر ہیں۔

آج تقریباً چودہ سو برس گزر جانے کے بعد دشمنان رسول کی کیا مجال کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو بد اخلاق کہہ سکیں اس وقت جب کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کے مجمعوں میں اپنے عملی کردار کا مظاہرہ فرما رہے تھے۔ خداوند قدوس نے قرآن میں اعلان فرمایا کہ

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْۚ

وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۪-

(آلِ عمران)

(اے حبیب) خدا کی رحمت سے آپ لوگوں سے نرمی کے ساتھ پیش آتے ہیں اگر آپ کہیں بداخلاق اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے ہٹ جاتے۔

دشمنانِ رسول نے قرآن کی زَبان سے یہ خدائی اعلان سنا مگر کسی کی مجال نہیں ہوئی کہ اس کے خلاف کوئی بیان دیتا یا اس آفتاب سے زیادہ روشن حقیقت کو جھٹلاتا بلکہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بڑے سے بڑے دشمن نے بھی اس کا اعتراف کیا کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بہت ہی بلند اخلاق، نرم خو اوررحیم و کریم ہیں۔

بہر حال حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم محاسن اخلاق کے تمام گوشوں کے جامع تھے۔ یعنی حلم و عفو، رحم و کرم، عدل و انصاف، جود و سخا، ایثار و قربانی، مہمان نوازی، عدم تشدد، شجاعت، ایفاء عہد، حسن معاملہ، صبر و قناعت، نرم گفتاری، خوش روئی، ملنساری، مساوات، غمخواری، سادگی و بے تکلفی، تواضع و انکساری، حیاداری کی اتنی بلند منزلوں پر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فائز و سرفراز ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے ایک جملے میں اس کی صحیح تصویر کھینچتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ یعنی تعلیمات قرآن پر پورا پورا عمل یہی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخلاق تھے۔

اخلاق نبوت کا ایک مفصل وعظ ہم نے اپنی کتاب ” حقانی تقریریں ” میں تحریر کر دیا ہے یہاں بھی ہم اخلاق نبوت کے ” شجرۃ الخلد ” کی چند شاخوں کے کچھ پھول پھل پیش کر دیتے ہیں تا کہ ہم اور آپ ان پر عمل کرکے اپنی اسلامی زندگی کو کامل و اکمل بنا کر عالم اسلام میں مکمل مسلمان بن جائیں اور دارالعمل سے دارالجزاء تک خداوند عزوجل کے شامیانہ رحمت میں اس کے اعلیٰ و افضل انعاموں کے میٹھے میٹھے پھل کھاتے رہیں۔ واللّٰه تعالٰي هو الموفق و المعين۔

-: حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عقل

چونکہ تمام علمی و عملی اور اخلاقی کمالات کا دارومدار عقل ہی پر ہے اس لئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عقل کے بارے میں بھی کچھ تحریر کر دینا انتہائی ضروری ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں ہم یہاں صرف ایک حوالہ تحریر کرتے ہیں :

وہب بن منبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے اکہتر (۷۱) کتابوں میں یہ پڑھا ہے کہ جب سے دنیا عالم وجود میں آئی ہے اس وقت سے قیامت تک کے تمام انسانوں کی عقلوں کا اگر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عقل شریف سے موازنہ کیا جائے تو تمام انسانوں کی عقلوں کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عقل شریف سے وہی نسبت ہو گی جو ایک ریت کے ذرے کو تمام دنیا کے ریگستانوں سے نسبت ہے۔ یعنی تمام انسانوں کی عقلیں ایک ریت کے ذرے کے برابر ہیں اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عقل شریف تمام دنیا کے ریگستانوں کے برابر ہے۔اس حدیث کو ابو نعیم محدث نے حلیہ میں روایت کیا اور محدث ابن عساکر نے بھی اس کو روایت کیا ہے۔

(زرقانی ج۴ ص۲۵۰ و شفاء شریف ج۱ ص۴۲)

-: حلم و عفو

-: حلم و عفو

حضرت زید بن سعنہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو پہلے ایک یہودی عالم تھے انہوں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے کھجوریں خریدی تھیں۔ کھجوریں دینے کی مدت میں ابھی ایک دو دن باقی تھے کہ انہوں نے بھرے مجمع میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے انتہائی تلخ و ترش لہجے میں سختی کے ساتھ تقاضا کیا اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا دامن اور چادر پکڑ کر نہایت تند و تیز نظروں سے آپ کی طرف دیکھا اور چلا چلا کریہ کہا کہ اے محمد ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) تم سب عبدالمطلب کی اولاد کا یہی طریقہ ہے کہ تم لوگ ہمیشہ لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں دیر لگایا کرتے ہو اورٹال مٹول کرنا تم لوگوں کی عادت بن چکی ہے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ آپے سے باہر ہو گئے اور نہایت غضب ناک اور زہریلی نظروں سے گھور گھور کر کہا کہ اے خدا کے دشمن ! تو خدا کے رسول سے ایسی گستاخی کر رہا ہے ؟ خدا کی قسم ! اگر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ادب مانع نہ ہوتا تو میں ابھی ابھی اپنی تلوار سے تیرا سر اڑا دیتا۔ یہ سن کر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟ تمہیں تو یہ چاہیے تھا کہ مجھ کو ادائے حق کی ترغیب دے کر اور اس کو نرمی کے ساتھ تقاضا کرنے کی ہدایت کر کے ہم دونوں کی مدد کرتے۔ پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اے عمر ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو اس کے حق کے برابر کھجوریں دے دو، اور کچھ زیادہ بھی دے دو۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جب حق سے زیادہ کھجوریں دیں تو حضرت زید بن سعنہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے عمر ! میرے حق سے زیادہ کیوں دے رہے ہو ؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ چونکہ میں نے ٹیڑھی ترچھی نظروں سے دیکھ کر تم کو خوفزدہ کر دیا تھا اس لئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تمہاری دلجوئی و دلداری کے لئے تمہارے حق سے کچھ زیادہ دینے کا مجھے حکم دیا ہے۔ یہ سن کر حضرت زید بن سعنہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے عمر ! کیا تم مجھے پہچانتے ہو میں زید بن سعنہ ہوں ؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم وہی زید بن سعنہ ہو جو یہودیوں کا بہت بڑا عالم ہے۔ انہوں نے کہا جی ہاں۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے دریافت فرمایا کہ پھر تم نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ایسی گستاخی کیوں کی ؟ حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ اے عمر ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ دراصل بات یہ ہے کہ میں نے توراۃ میں نبی آخر الزمان کی جتنی نشانیاں پڑھی تھیں ان سب کو میں نے ان کی ذات میں دیکھ لیا مگر دو نشانیوں کے بارے میں مجھے ان کا امتحان کرنا باقی رہ گیا تھا۔ ایک یہ کہ ان کا حلم جہل پر غالب رہے گا اور جس قدر زیادہ ان کے ساتھ جہل کا برتاؤ کیا جائے گا اسی قدر ان کا حلم بڑھتا جائے گا۔ چنانچہ میں نے اس ترکیب سے ان دونوں نشانیوں کو بھی ان میں دیکھ لیا اور میں شہادت دیتا ہوں کہ یقینا یہ نبی برحق ہیں اور اے عمر ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں بہت ہی مالدار آدمی ہوں میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنا آدھا مال حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی امت پر صدقہ کر دیا پھر یہ بارگاہ رسالت میں آئے اور کلمہ پڑھ کر دامن اسلام میں آ گئے۔

(دلائل النبوة ج۱ ص۲۳ و زرقانی ج۴ ص۲۵۳)

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ ِ حنین سے واپسی پر دیہاتی لوگ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے چمٹ گئے اور آپ سے مال کا سوال کرنے لگے، یہاں تک آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو چمٹے کہ آپ پیچھے ہٹتے ہٹتے ایک ببول کے درخت کے پاس ٹھہر گئے۔ اتنے میں ایک بدوی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی چادر مبارک اچک کر لے بھا گا پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا کہ تم لوگ میری چادر تو مجھے دے دو اگر میرے پاس ان جھاڑیوں کے برابر چوپائے ہوتے تو میں ان سب کو تمہارے درمیان تقسیم کر دیتا، تم لوگ مجھے نہ بخیل پاؤ گے نہ جھوٹا نہ بزدل۔

(بخاری ج ۱ ص ۴۴۶)

حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہمراہ چل رہا تھا اور آپ ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے جس کے کنارے موٹے اور کھردرے تھے۔ ایک دم ایک بدوی نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو پکڑ لیا اور اتنے زبردست جھٹکے سے چادر مبارک کو اس نے کھینچا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی نرم و نازک گردن پر چادر کی کنار سے خراش آ گئی پھر اس بدوی نے یہ کہا کہ اﷲ کا جو مال آپ کے پاس ہے آپ حکم دیجئے کہ اس میں سے مجھے کچھ مل جائے۔ حضور رحمت ِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب اس بدوی کی طرف تو جہ فرمائی تو کمال حلم و عفو سے اس کی طرف دیکھ کر ہنس پڑے اور پھر اس کو کچھ مال عطا فرمانے کا حکم صادر فرمایا۔

(بخاری ج۱ ص۴۴۶ باب ما کان يعطی النبي المولفة)

جنگ ِاُحد میں عتبہ بن ابی وقاص نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے دندان مبارک کو شہید کر دیا اور عبداﷲ بن قمیئہ نے چہرۂ انور کو زخمی اور خون آلود کر دیا مگر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لئے اس کے سوا کچھ بھی نہ فرمایا کہ اَللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِيْ فَاِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ یعنی اے اﷲ ! عزوجل میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ یہ لوگ مجھے جانتے نہیں۔

خیبر میں زینب نامی یہودی عورت نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو زہر دیا مگر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس سے کوئی انتقام نہیں لیا، لبید بن اعصم نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر جادو کیا اور بذریعہ وحی اس کا سارا حال معلوم ہوا مگر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس سے کچھ مواخذہ نہیں فرمایا، غورث بن الحارث نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ سے آپ کی تلوار لے کر نیام سے کھینچ لی، جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو غورث کہنے لگا کہ اے محمد ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اب کون ہے جو آپ کو مجھ سے بچا لے گا ؟ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اﷲ “۔ نبوت کی ہیبت سے تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تلوار ہاتھ میں لے کر فرمایا کہ بول ! اب تجھ کو میرے ہاتھ سے کون بچانے والا ہے ؟ غورث گڑ گڑا کر کہنے لگا کہ آپ ہی میری جان بچا دیں، رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو چھوڑ دیا اور معاف فرما دیا۔ چنانچہ غورث اپنی قوم میں آ کر کہنے لگا کہ اے لوگو ! میں ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو تمام دنیا کے انسانوں میں سب سے بہتر ہے۔

(شفا قاضی عیاض جلد۱ ص۶۲)

کفار مکہ نے وہ کون سا ایسا ظالمانہ برتاؤ تھا جو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ نہ کیا ہو مگر فتح مکہ کے دن جب یہ سب جباران قریش، انصار و مہاجرین کے لشکروں کے محاصرہ میں محصور و مجبور ہو کر حرم کعبہ میں خوف و دہشت سے کانپ رہے تھے اور انتقام کے ڈر سے ان کے جسم کا ایک ایک بال لرز رہا تھا۔ رسولِ رحمت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان مجرموں اور پاپیوں کو یہ فرما کر چھوڑ دیا اور معاف فرما دیا کہ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ فَاذْهَبُوْا اَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ آج تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہے جاؤ تم سب آزاد ہو۔

ایک کافر کو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پکڑ کر لائے کہ یا رسول اﷲ ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اس نے آپ کے قتل کا ارادہ کیا تھا وہ شخص خوف و دہشت سے لرزہ براندام ہو گیا۔ رحمۃٌ للعالمین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کوئی خوف نہ رکھو بالکل مت ڈرو اگر تم نے میرے قتل کا ارادہ کر لیا تھا تو کیا ہوا ؟ تم کبھی میرے اوپر غالب نہیں ہو سکتے تھے کیونکہ خداوند تعالیٰ نے میری حفاظت کا وعدہ فرما لیا ہے

(شفاء قاضی عیاض جلد۱ ص۶۳ وغیره)

الغرض اس طرح کے نبی رحمت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں ہزاروں واقعات ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ حلم و عفو یعنی ایذاؤں کا برداشت کرنا اور مجرموں کو قدرت کے باوجود بغیر انتقام کے چھوڑ دینا اور معاف کر دینا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ عادت کریمہ بھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کا وہ عظیم شاہکار ہے جو ساری دنیا میں عدیم المثال ہے۔ حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ وَمَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ تَعَالٰي عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهٖ اِلَّا اَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللّٰهِ

(شفاء شریف جلد۱ ص۶۱ وغیره و بخاری جلد۱ ص۵۰۳)

اپنی ذات کے لئے کبھی بھی رسول اﷲ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کسی سے انتقام نہیں لیا ہاں البتہ اﷲ عزوجل کی حرام کی ہوئی چیزوں کا اگر کوئی مرتکب ہوتا تو ضرور اس سے مواخذہ فرماتے۔

-: تواضع

-: تواضع

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ تواضع بھی سارے عالم سے نرالی تھی، اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ اختیار عطا فرمایا کہ اے حبیب ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اگر آپ چاہیں تو شاہانہ زندگی بسر فرمائیں اور اگر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم چاہیں تو ایک بندے کی زندگی گزاریں، تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بندہ بن کر زندگی گزارنے کو پسند فرمایا۔ حضرت اسرافیل علیہ السلام نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ تواضع دیکھ کر فرمایا کہ یا رسول اﷲ ! (عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ کی اس تواضع کے سبب سے اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ جلیل القدر مرتبہ عطا فرمایا ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تمام اولاد آدم میں سب سے زیادہ بزرگ اور بلند مرتبہ ہیں اور قیامت کے دن سب سے پہلے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی قبر انور سے اٹھائے جائیں گے اور میدانِ حشر میں سب سے پہلے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم شفاعت فرمائیں گے۔ (زرقانی جلد۴ ص۲۶۲ و شفاء جلد۱ ص۸۶)

حضرت ابو امامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے عصاء مبارک پر ٹیک لگاتے ہوئے کاشانہ نبوت سے باہر تشریف لائے تو ہم سب صحابہ تعظیم کے لئے کھڑے ہو گئے یہ دیکھ کر تواضع کے طور پر ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اس طرح نہ کھڑے رہا کرو جس طرح عجمی لوگ ایک دوسرے کی تعظیم کے لئے کھڑے رہا کرتے ہیں میں تو ایک بندہ ہوں بندوں کی طرح کھاتا ہوں اور بندوں کی طرح بیٹھتا ہوں۔

(شفاء شریف جلد۱ ص۸۶)

حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ حضور تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کبھی کبھی اپنے پیچھے سواری پر اپنے کسی خادم کو بھی بٹھا لیا کرتے تھے۔ ترمذی شریف کی روایت ہے کہ جنگ قریظہ کے دن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سواری کے جانور کی لگام چھال کی رسی سے بنی ہوئی تھی۔

(زرقانی جلد۴ ص۲۶۴)

حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم غلاموں کی دعوت کو بھی قبول فرماتے تھے۔ جو کی روٹی اور پرانی چربی کھانے کی دعوت دی جاتی تھی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس دعوت کو قبول فرماتے تھے۔ مسکینوں کی بیمار پرسی فرماتے، فقراء کے ساتھ ہم نشینی فرماتے اور اپنے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے درمیان مل جل کر نشست فرماتے۔

(شفاء شریف جلد۱ ص۷۷)

حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے گھریلو کام خود اپنے دست ِمبارک سے کر لیا کرتے تھے۔ اپنے خادموں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا تناول فرماتے تھے اور گھر کے کاموں میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے خادموں کی مدد فرمایا کرتے تھے۔

(شفاء شریف جلد۱ ص۷۷)

ایک شخص دربار رسالت میں حاضر ہوا تو جلالت نبوت کی ہیبت سے ایک دم خائف ہو کر لرزہ براندام ہو گیا اور کانپنے لگا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم بالکل مت ڈرو۔ میں نہ کوئی بادشاہ ہوں، نہ کوئی جبار حاکم، میں تو قریش کی ایک عورت کا بیٹا ہوں جو خشک گوشت کی بوٹیاں کھایا کرتی تھی۔

(زرقانی ج۴ ص۲۷۶ و شفاء جلد۱ ص۷۸)

فتح مکہ کے دن جب فاتحانہ شان کے ساتھ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے لشکروں کے ہجوم میں شہر مکہ کے اندر داخل ہونے لگے تو اس وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر تواضع اور انکسار کی ایسی تجلی نمودار تھی کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اونٹنی کی پیٹھ پر اس طرح سر جھکائے ہوئے بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاسر مبارک کجاوہ کے اگلے حصہ سے لگاہوا تھا۔

(شفاء جلد۱ ص۷۷)

اسی طرح جب حجۃ الوداع میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ایک لاکھ شمع نبوت کے پروانوں کے ساتھ اپنی مقدس زندگی کے آخری حج میں تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اونٹنی پر ایک پرانا پالان تھا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جسم انور پر ایک چادر تھی جس کی قیمت چار درہم سے زیادہ نہ تھی اسی اونٹنی کی پشت پر اور اسی لباس میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خداوند ذوالجلال کے نائب اکرم اور تاجدار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہونے کی حیثیت سے اپنا شہنشاہی خطبہ پڑھا جس کو ایک لاکھ سے زائد فرزندان توحید ہمہ تن گوش بن کر سن رہے تھے۔

(زرقانی جلد۴ ص۲۶۸)

حضرت عبداﷲ بن عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نعلین اقدس کا تسمہ ٹوٹ گیا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے دست مبارک سے اس کو درست فرمانے لگے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) مجھے دیجئے میں اس کو درست کر دوں، میری اس درخواست پر ارشاد فرمایا کہ یہ صحیح ہے کہ تم اس کو ٹھیک کر دو گے مگر میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ میں تم لوگوں پر اپنی برتری اور بڑائی ظاہر کروں، اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو کسی کام میں مشغول دیکھ کر بار بار درخواست عرض کرتے کہ یارسول اﷲ ! (عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ خود یہ کام نہ کریں اس کام کو ہم لوگ انجام دیں گے مگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یہی فرماتے کہ یہ سچ ہے کہ تم لوگ میرا سب کام کر دو گے مگر مجھے یہ گوارا نہیں ہے کہ میں تم لوگوں کے درمیان کسی امتیازی شان کے ساتھ رہوں۔

(زرقانی جلد۴ ص۲۶۵)

-: حسن معاشرت

-: حسن معاشرت

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنھن اپنے احباب، اپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم، اپنے رشتے داروں، اپنے پڑوسیوں ہر ایک کے ساتھ اتنی خوش اخلاقی اور ملنساری کا برتاؤ فرماتے تھے کہ ان میں سے ہر ایک آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخلاقِ حسنہ کا گرویدہ اور مداح تھا، خادم خاص حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے دس برس تک سفر و وطن میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا مگر کبھی بھی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے نہ مجھے ڈانٹا نہ جھڑکا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تو نے فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا ؟

(زرقانی جلد۴ ص۲۶۶)

حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی خوش اخلاق نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم یا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے جو کوئی بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پکارتا تو آپ لبیک کہہ کر جواب دیتے۔ حضرت جریر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں جب سے مسلمان ہوا کبھی بھی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھے پاس آنے سے نہیں روکا اور جس وقت بھی مجھے دیکھتے تو مسکرا دیتے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے خوش طبعی بھی فرماتے اور سب کے ساتھ مل جل کر رہتے اور ہر ایک سے گفتگو فرماتے اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بچوں سے بھی خوش طبعی فرماتے اور ان بچوں کو اپنی مقدس گود میں بٹھا لیتے اور آزاد نیز لونڈی غلام اور مسکین سب کی دعوتیں قبول فرماتے اور مدینہ کے انتہائی حصہ میں رہنے والے مریضوں کی بیمار پرسی کے لئے تشریف لے جاتے اور عذر پیش کرنے والوں کے عذر کو قبول فرماتے۔

(شفاء شریف جلد۱ ص۷۱)

حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ اگر کوئی شخص حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے کان میں کوئی سرگوشی کی بات کرتا تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس وقت تک اپنا سر اس کے منہ سے الگ نہ فرماتے جب تک وہ کان میں کچھ کہتا رہتا اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی مجلس میں کبھی پاؤں پھیلا کر نہیں بیٹھتے تھے اور جو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے آتا آپ سلام کرنے میں پہل کرتے اور ملاقاتیوں سے مصافحہ فرماتے اور اکثر اوقات اپنے پاس آنے والے ملاقاتیوں کے لئے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی چادر مبارک بچھا دیتے اور اپنی مسند بھی پیش کر دیتے اور اپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو ان کی کنیتوں اور اچھے ناموں سے پکارتے کبھی کسی بات کرنے والے کی بات کو کاٹتے نہیں تھے۔ ہر شخص سے خوش روئی کے ساتھ مسکرا کر ملاقات فرماتے، مدینہ کے خدام اور نوکر چاکر برتنوں میں صبح کو پانی لے کر آتے تا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کے برتنوں میں دست مبارک ڈبو دیں اور پانی متبرک ہو جائے توسخت جاڑے کے موسم میں بھی صبح کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہر ایک کے برتن میں اپنا مقدس ہاتھ ڈال دیا کرتے تھے اور جاڑے کی سردی کے باوجود کسی کو محروم نہیں فرماتے تھے۔

(شفاء شریف جلد۱ ص۷۲)

حضرت عمرو بن سائب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں ایک مرتبہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے رضاعی باپ یعنی حضرت بی بی حلیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے شوہر تشریف لائے تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کا ایک حصہ ان کے لئے بچھا دیا اور وہ اس پر بیٹھ گئے پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی رضاعی ماں حضرت بی بی حلیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا تشریف لائیں تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کا باقی حصہ ان کے لئے بچھا دیا پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی آئے تو آپ نے ان کو اپنے سامنے بٹھا لیا اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت ثویبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس ہمیشہ کپڑا وغیرہ بھیجتے رہتے تھے یہ ابولہب کی لونڈی تھیں اور چند دنوں تک حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو انہوں نے بھی دودھ پلایا تھا۔

(شفاء شریف ج۱ ص۷۵)

آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے لئے کوئی مخصوص بستر نہیں رکھتے تھے بلکہ ہمیشہ ازواجِ مطہرات کے بستروں ہی پر آرام فرماتے تھے اور اپنے پیار و محبت سے ہمیشہ اپنی مقدس بیویوں رضی اللہ تعالیٰ عنہن کو خوش رکھتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں پیالے میں پانی پی کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو جب پیالہ دیتی تو آپ پیالے میں اسی جگہ اپنا لب مبارک لگا کر پانی نوش فرماتے جہاں میرے ہونٹ لگے ہوتے اور میں گوشت سے بھری کوئی ہڈی اپنے دانتوں سے نوچ کر وہ ہڈی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیتی تو آپ بھی اسی جگہ سے گوشت کو اپنے دانتوں سے نوچ کر تناول فرماتے جس جگہ میرا منہ لگا ہوتا۔

(زُرقانی جلد۴ ص۲۶۹)

آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم روزانہ اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن سے ملاقات فرماتے اور اپنی صاحبزادیوں کے گھروں پر بھی رونق افروز ہو کر ان کی خبر گیری فرماتے اور اپنے نواسوں اور نواسیوں کو بھی اپنے پیار و شفقت سے بار بار نوازتے اور سب کی دلجوئی و رواداری فرماتے اور بچوں سے بھی گفتگو فرما کر ان کی بات چیت سے اپنا دل خوش کرتے اور ان کا بھی دل بہلاتے اپنے پڑوسیوں کی بھی خبر گیری اور ان کے ساتھ انتہائی کریمانہ اور مشفقانہ برتاؤ فرماتے الغرض آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے طرزِ عمل اور اپنی سیرت مقدسہ سے ایسے اسلامی معاشرہ کی تشکیل فرمائی کہ اگر آج دنیا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ پر عمل کرنے لگے تو تمام دنیا میں امن و سکون اور محبت و رحمت کا دریا بہنے لگے اور سارے عالم سے جدال و قتال اور نفاق و شقاق کا جہنم بجھ جائے اور عالم کائنات امن و راحت اور پیار و محبت کی بہشت بن جائے۔

-: حیاء

-: حیاء

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ” حیاء ” کے بارے میں حضرت حق جل جلالہ کا قرآن میں یہ فرمان سب سے بڑا گواہ ہے کہ اِنَّ ذٰلِكُمْ کَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيٖ مِنْكُمْ

بے شک تمہاری یہ بات نبی کو ایذا پہنچاتی ہے لیکن وہ تم لوگوں سے حیا کرتے ہیں (اور تم کو کچھ کہہ نہیں سکتے)

آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان حیاء کی تصویر کھینچتے ہوئے ایک معزز صحابی حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ” آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کنواری پردہ نشین عورت سے بھی کہیں زیادہ حیا دار تھے۔”

(زرقانی جلد۴ ص۲۸۴ و بخاری جلد۱ ص۵۰۳ باب صفة النبی)

اس لئے ہر قبیح قول و فعل اور قابل مذمت حرکات و سکنات سے عمر بھر ہمیشہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا دامن عصمت پاک و صاف ہی رہا اور پوری حیات مبارکہ میں وقار و مروت کے خلاف آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے کوئی عمل سرزد نہیں ہوا۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نہ فحش کلام تھے نہ بے ہودہ گو نہ بازاروں میں شور مچانے والے تھے۔ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیا کرتے تھے بلکہ معاف فرما دیا کرتے تھے۔ آپ یہ بھی فرمایا کرتی تھیں کہ کمال حیا کی و جہ سے میں نے کبھی بھی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو برہنہ نہیں دیکھا۔

(شفاء شریف جلد۱ ص۶۹)

-: وعدہ کی پابندی

-: وعدہ کی پابندی

ایفاء عہد اور وعدہ کی پابندی بھی درخت اخلاق کی ایک بہت ہی اہم اور نہایت ہی ہری بھری شاخ ہے۔ اس خصوصیت میں بھی رسول عربی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا خلق عظیم بے مثال ہی ہے۔ حضرت ابو الحمساء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ اعلان نبوت سے پہلے میں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے کچھ سامان خریدا اسی سلسلے میں آپ کی کچھ رقم میرے ذمے باقی رہ گئی میں نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ یہیں ٹھہریئے میں ابھی ابھی گھرسے رقم لا کر اسی جگہ پر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیتا ہوں۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسی جگہ ٹھہرے رہنے کا وعدہ فرما لیا مگر میں گھر آ کر اپنا وعدہ بھول گیا پھر تین دن کے بعد مجھے جب خیال آیا تو رقم لے کراس جگہ پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اُسی جگہ ٹھہرے ہوئے میرا انتظار فرما رہے ہیں۔ مجھے دیکھ کر ذرا بھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیشانی پر بل نہیں آیا اوراس کے سوا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اور کچھ نہیں فرمایا کہ اے نوجوان ! تم نے تو مجھے مشقت میں ڈال دیا کیونکہ میں اپنے وعدے کے مطابق تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔

(شفاء شریف ص۷۴)

-: عدل

-: عدل

خدا عزوجل کے مقدس رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تمام جہان میں سب سے زیادہ امین سب سے بڑھ کر عادل اور پاک دامن و راست باز تھے۔ یہ وہ روشن حقیقت ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بڑے بڑے دشمنوں نے بھی اس کا اعتراف کیا۔ چنانچہ اعلان نبوت سے قبل تمام اہل مکہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ” صادق الوعد ” اور ” امین ” کے معزز لقب سے یاد کرتے تھے۔ حضرت ربیع بن خثیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ مکہ والوں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اعلیٰ درجہ کے امین اور عادل ہیں اسی لئے اعلان نبوت سے پہلے اہل مکہ اپنے مقدمات اور جھگڑوں کا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے فیصلہ کرایا کرتے تھے اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے تمام فیصلوں کو انتہائی احترام کے ساتھ بلا چون و چرا تسلیم کر لیتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ یہ امین کا فیصلہ ہے۔

(شفاء شریف جلد۱ ص۷۸،۷۹)

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کس قدر بلند مرتبہ عادل تھے اس بارے میں بخاری شریف کی ایک روایت سب سے بڑھ کر شاہد عدل ہے۔ قبیلہ قریش کے خاندان بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی، اسلام میں چور کی یہ سزا ہے کہ اس کا دایاں ہاتھ پہنچوں سے کاٹ ڈالا جائے۔ قبیلہ قریش کو اس واقعہ سے بڑی فکر دامن گیر ہو گئی کہ اگر ہمارے قبیلہ کی اس عورت کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا تو یہ ہماری خاندانی شرافت پر ایسا بدنما داغ ہو گا جو کبھی مٹ نہ سکے گا اور ہم لوگ تمام عرب کی نگاہوں میں ذلیل و خوار ہو جائیں گے اس لئے ان لوگوں نے یہ طے کیا کہ بارگاہ رسالت میں کوئی زبردست سفارش پیش کر دی جائے تا کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس عورت کا ہاتھ نہ کاٹیں۔ چنانچہ ان لوگوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو جو نگاہ نبوت میں انتہائی محبوب تھے دباؤ ڈال کر اس بات کے لئے آمادہ کر لیا کہ وہ دربار اقدس میں سفارش پیش کریں۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے اشراف قریش کے اصرار سے متأثر ہو کر بارگاہِ رسالت میں سفارش عرض کر دی یہ سن کر پیشانی نبوت پر جلال کے آثار نمودار ہوگئے اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے نہایت ہی غضب ناک لہجہ میں فرمایا کہ اَتَشْفَعُ فِيْ حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللّٰهِ کہ اے اسامہ ! تو اﷲ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی سزاؤں میں سے ایک سزا کے بارے میں سفارش کرتا ہے ؟ پھر اس کے بعد آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ایک خطبہ دیا اور اس خطبہ میں یہ ارشاد فرمایا کہ

یَااَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا ضَلَّ مَنْ قَبْلَكُمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا اِذَا سَرَقَ الشَّرِيْفُ تَرَکُوْهُ وَ اِذَا سَرَقَ الضَّعِيْفُ فِيْهِمْ اَقَامُوْا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَ اَیْمُ اللّٰهِ لَوْ اَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعَ مُحَّمَدٌ یَدَهَا

(بخاری جلد۲ ص۱۰۰۳ باب کراہیة الشفاعت فی الحدود)

اے لوگو ! تم سے پہلے کے لوگ اس وجہ سے گمراہ ہو گئے کہ جب ان میں کوئی شریف چوری کرتا تھا تو اس کو چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر سزائیں قائم کرتے تھے خدا کی قسم ! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے گی تو یقینا محمد اس کا ہاتھ کاٹ لے گا۔ (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)

-: وقار

-: وقار

حضرت خارجہ بن زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی مجلسوں میں جس قدر وقار کے ساتھ رونق افروز رہتے تھے بڑے سے بڑے بادشاہوں کے دربار میں بھی اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مجلس حلم و حیاء اور خیرو امانت کی مجلس ہوا کرتی تھی۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مجلس میں کبھی کوئی بلند آواز سے گفتگو نہیں کر سکتا تھا اور جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کلام فرماتے تھے تو تمام اہل مجلس اس طرح سر جھکائے ہوئے ہمہ تن گوش بن کر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا کلام سنتے تھے کہ گویا ان کے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہوئی ہیں۔ حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نہایت ہی وقار کے ساتھ اس طرح ٹھہر ٹھہر کر گفتگو فرماتے تھے کہ اگر کوئی شخص آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جملوں کو گننا چاہتا تو وہ گن سکتا تھا۔

(شفاء شریف جلد۱ ص۸۰، ۸۱ و بخاری جلد۱ ص۵۰۳)

آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی نشست و برخاست، رفتار و گفتار، ہر ادا میں ایک خالص پیغمبرانہ وقار پایا جاتا تھا جس سے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت نبوت کا جاہ و جلال آفتاب عالم تاب کی طرح ہر خاص و عام کی نظروں میں نمودار رہتا تھا۔

-: زاہدانہ زندگی

-: زاہدانہ زندگی

آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم شہنشاہ کونین اور تاجدار دو عالم ہوتے ہوئے ایسی زاہدانہ اور سادہ زندگی بسر فرماتے تھے کہ تاریخ نبوت میں اس کی مثال نہیں مل سکتی، خوراک و پوشاک، مکان و سامان، رہن سہن غرض حیات مبارکہ کے ہر گوشہ میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا زہد اور دنیا سے بے رغبتی کا عالم اس درجہ نمایاں تھا کہ جس کو دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کی نعمتیں اور لذتیں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی نگاہ نبوت میں ایک مچھر کے پر سے بھی زیادہ ذلیل و حقیر ہیں۔

حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس زندگی میں کبھی تین دن لگاتار ایسے نہیں گزرے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے شکم سیر ہو کر روٹی کھائی ہو ایک ایک مہینہ تک کاشانہ نبوت میں چولہا نہیں جلتا تھا اور کھجور و پانی کے سوا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے گھر والوں کی کوئی دوسری خوراک نہیں ہوا کرتی تھی۔ حالانکہ اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اے حبیب ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اگر آپ چاہیں تو میں مکہ کی پہاڑیوں کو سونا بنا دوں اور وہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ چلتی رہیں اور آپ ان کو جس طرح چاہیں خرچ کرتے رہیں مگر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو پسند نہیں کیا اور بارگاہِ خداوندی عزوجل میں عرض کیا کہ اے میرے رب ! عزوجل مجھے یہی زیادہ محبوب ہے کہ میں ایک دن بھوکا رہوں اور ایک دن کھانا کھاؤں تا کہ بھوک کے دن خوب گڑ گڑا کر تجھ سے دعائیں مانگوں اور آسودگی کے دن تیری حمد کروں اور تیرا شکر بجا لاؤں۔

حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جس بستر پر سوتے تھے وہ چمڑے کا گدا تھا جس میں روئی کی جگہ درختوں کی چھال بھری ہوئی تھی۔

حضرت حفصہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ میری باری کے دن حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک موٹے ٹاٹ پر سویا کرتے تھے جس کو میں دو تہ کرکے بچھا دیا کرتی تھی۔ ایک مرتبہ میں نے اس ٹاٹ کو چار تہ کر کے بچھا دیا تو صبح کو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پہلے کی طرح اس ٹاٹ کو تم دہرا کرکے بچھا دیا کرو کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس بستر کی نرمی سے کہیں مجھ پر گہری نیند کا حملہ ہو جائے تو میری نماز تہجد میں خلل پیدا ہو جائے گا۔ روایت ہے کہ کبھی کبھی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک ایسی چارپائی پر بھی آرام فرمایا کرتے تھے جو کھردرے بان سے بنی ہوئی تھی۔ جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بغیر بچھونے کے اس چارپائی پر لیٹتے تھے تو جسم نازک پر بان کے نشان پڑ جایا کرتے تھے۔

(شفاء شریف جلد۱ ص۸۲،۸۳ وغیره)

-: شجاعت

-: شجاعت

حضور رسول اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بے مثال شجاعت کا یہ عالم تھا کہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جیسے بہادر صحابی کا یہ قول ہے کہ جب لڑائی خوب گرم ہو جاتی تھی اور جنگ کی شدت دیکھ کر بڑے بڑے بہادروں کی آنکھیں پتھرا کر سرخ پڑ جایا کرتی تھیں اس وقت میں ہم لوگ رسول اﷲ عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑے ہوکر اپنا بچاؤ کرتے تھے۔ اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہم سب لوگوں سے زیادہ آگے بڑھ کر اور دشمنوں کے بالکل قریب پہنچ کر جنگ فرماتے تھے۔ اور ہم لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر وہ شخص شمار کیا جاتا تھا جو جنگ میں رسول اﷲ عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قریب رہ کر دشمنوں سے لڑتا تھا۔

حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے زیادہ بہادر اور طاقتور، سخی اور پسندیدہ میری آنکھوں نے کبھی کسی کو نہیں دیکھا۔

حضرت براء بن عازب اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بیان فرمایا ہے کہ جنگ حنین میں بارہ ہزار مسلمانوں کا لشکر کفار کے حملوں کی تاب نہ لا کر بھاگ گیا تھا اور کفار کی طرف سے لگاتار تیروں کا مینہ برس رہا تھا اس وقت میں بھی رسول اﷲ عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے بلکہ ایک سفید خچر پر سوار تھے اور حضرت ابو سفیان بن الحارث رضی اﷲ تعالیٰ عنہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اکیلے دشمنوں کے دل بادل لشکروں کے ہجوم کی طرف بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ اور رجز کے یہ کلمات زبان اقدس پر جاری تھے کہ

اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ اَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ

میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔

(بخاری جلد۲ ص۶۱۷ باب قول الله و یوم حنین و زرقانی جلد۴ ص۲۹۳)

-: طاقت

-: طاقت

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی جسمانی طاقت بھی حد اعجاز کو پہنچی ہوئی تھی اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی اس معجزانہ طاقت و قوت سے ایسے ایسے محیر العقول کار ناموں اور کمالات کا مظاہرہ فرمایا کہ عقل انسانی اس کے تصور سے حیران رہ جاتی ہے۔ غزوۂ احزاب کے موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جب خندق کھود رہے تھے ایک ایسی چٹان ظاہر ہو گئی جو کسی طرح کسی شخص سے بھی نہیں ٹوٹ سکی مگر جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی طاقت نبوت سے اس پر پھاوڑا مارا تو وہ ریت کے بھر بھرے ٹیلے کی طرح بکھر کر پاش پاش ہو گئی جس کا مفصل تذکرہ جنگ خندق میں ہم تحریر کر چکے ہیں۔

-: رکانہ پہلوان سے کشتی

-: رکانہ پہلوان سے کشتی

عرب کا مشہور پہلوان رکانہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو اسلام کی دعوت دی وہ کہنے لگا کہ اے محمد ! ( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اگر آپ مجھ سے کشتی لڑ کر مجھے پچھاڑ دیں تو میں آپ کی دعوت اسلام کو قبول کر لوں گا۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تیار ہو گئے اور اس سے کشتی لڑ کر اس کو پچھاڑ دیا، پھر اس نے دوبارہ کشتی لڑنے کی دعوت دی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ بھی اپنی پیغمبرانہ طاقت سے اس کو اس زور کے ساتھ زمین پر پٹک دیا کہ وہ دیر تک اٹھ نہ سکا اور حیران ہو کر کہنے لگا کہ اے محمد ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) خدا کی قسم ! آپ کی عجیب شان ہے کہ آج تک عرب کا کوئی پہلوان میری پیٹھ زمین پر نہیں لگا سکا مگر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دم زدن میں مجھے دو مرتبہ زمین پر پچھاڑ دیا۔ بعض مؤرخین کا قول ہے کہ رکانہ فوراً ہی مسلمان ہو گیا مگر بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ رکانہ نے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا۔ واﷲ تعالیٰ اعلم۔

(زرقانی جلد۴ ص۲۹۱)

-: یزید بن رکانہ سے مقابلہ

-: یزید بن رکانہ سے مقابلہ

اسی رکانہ کا بیٹا یزید بن رکانہ بھی مانا ہوا پہلوان تھا یہ تین سو بکریاں لے کر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور کہا کہ اے محمد ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ مجھ سے کشتی لڑیئے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں نے تمہیں پچھاڑ دیا تو تم کتنی بکریاں مجھے انعام میں دو گے اس نے کہا کہ ایک سو بکریاں میں آپ کو دے دوں گا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تیار ہو گئے اور اس سے ہاتھ ملاتے ہی اس کو زمین پر پٹک دیا اور وہ حیرت سے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا منہ تکنے لگا اور وعدہ کے مطابق ایک سو بکریاں اس نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو دے دیں۔ مگر پھر دوبارہ اس نے کشتی لڑنے کے لئے چیلنج دیا آپ نے دوسری مرتبہ بھی اس کی پیٹھ زمین پر لگا دی اس نے پھر ایک سو بکریاں آپ کو دے دیں۔ پھر تیسری بار اس نے کشتی کے لئے للکارا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کا چیلنج قبول فرما لیا اور کشتی لڑ کر اِس زور کے ساتھ اس کو زمین پر دے مارا کہ وہ چت ہو گیا، اس نے باقی ایک سو بکریوں کو بھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا، مگر کہنے لگا کہ اے محمد ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سارا عرب گواہ ہے کہ آج تک کوئی پہلوان مجھ پر غالب نہیں آ سکا، مگر آپ نے تین بار جس طرح مجھے کشتی میں پچھاڑا ہے اس سے میرا دل مان گیا کہ یقینا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خدا عزوجل کے نبی ہیں، یہ کہا اور کلمہ پڑھ کر دامن اسلام میں آ گیا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس کے مسلمان ہو جانے سے بے حد خوش ہوئے اور اس کی تین سو بکریاں واپس کر دیں۔

(زرقانی جلد۴ ص۲۹۲)

-: ابو الاسود سے زور آزمائی

-: ابو الاسود سے زور آزمائی

اسی طرح ابو الاسود جمحی اتنا بڑا طاقتور پہلوان تھا کہ وہ ایک چمڑے پر بیٹھ جاتا تھا اور دس پہلوان اس چمڑے کو کھینچتے تھے تا کہ وہ چمڑا اس کے نیچے سے نکل جائے مگر وہ چمڑا پھٹ پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کے باوجود اس کے نیچے سے نکل نہیں سکتا تھا۔ اس نے بھی بارگاہِ اقدس میں آ کر یہ چیلنج دیا کہ اگر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مجھے کشتی میں پچھاڑ دیں تو میں مسلمان ہو جاؤں گا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس سے کشتی لڑنے کے لئے کھڑے ہو گئے اور اس کا ہاتھ پکڑتے ہی اس کو زمین پر پچھاڑ دیا۔ وہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اس طاقت نبوت سے حیران ہو کر فوراً ہی مسلمان ہو گیا۔

(زرقانی جلد۴ ص۲۹۲)

-: سخاوت

-: سخاوت

حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ سخاوت محتاج بیان نہیں۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تمام انسانوں سے زیادہ بڑھ کر سخی تھے۔ خصوصاً ماہ رمضان میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سخاوت اس قدر بڑھ جاتی تھی کہ برسنے والی بدلیوں کو اٹھانے والی ہواؤں سے بھی زیادہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سخی ہو جاتے تھے۔

حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے کسی سائل کے جواب میں خواہ وہ کتنی ہی بڑی چیز کا سوال کیوں نہ کرے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے لا (نہیں) کا لفظ نہیں فرمایا۔

(شفاء شریف جلد۱ ص۶۵)

یہی وہ مضمون ہے جس کو فرزدق شاعر تابعی متوفی ۱۱۰ ھ نے کیا خوب کہا ہے کہ

لَوْ لاَ التَّشَهُّدُ کَانَتْ لَاؤهٗ نَعَمْ مَا قَالَ لَا قَطُّ اِلَّا فِيْ تَشَهُّدِهٖ

اسی کا ترجمہ کسی فارسی کے شاعر نے اس طرح کیا ہے کہ

مگر در اشهد ان لا الٰه الا الله نہ گفت لا بزبان مبارکش ہر گز

یعنی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے کسی سائل کے جواب میں لا (نہیں) کا لفظ نہیں فرمایا بلکہ ہمیشہ نعم (ہاں) ہی کہا مگر کلمہ شہادت میں لا (نہیں) کا لفظ ضرور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر آتا تھا اور اگر کلمہ شہادت میں لا کہنے کی ضرورت نہ ہوتی تو اس میں بھی لا (نہیں) کی جگہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نَعَمْ (ہاں) ہی فرماتے۔

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سخاوت کسی سائل کے سوال ہی پر محدود و منحصر نہیں تھی بلکہ بغیر مانگے ہوئے بھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلمنے لوگوں کو اس قدر زیادہ مال عطا فرما دیا کہ عالم سخاوت میں اس کی مثال نادر و نایاب ہے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بہت بڑے دشمن امیہ بن خلف کافر کا بیٹا صفوان بن امیہ جب مقام ” جعرانہ ” میں حاضر دربار ہوا تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو اتنی کثیر تعداد میں اونٹوں اور بکریوں کا ریوڑ عطافرما دیا کہ دو پہاڑیوں کے درمیان کا میدان بھر گیا۔ چنانچہ صفوان مکہ جا کر چلا چلا کر اپنی قوم سے کہنے لگا کہ اے لوگو ! دامن اسلام میں آ جاؤ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اس قدر زیادہ مال عطا فرماتے ہیں کہ فقیری کا کوئی اندیشہ ہی باقی نہیں رہتا اس کے بعد پھر صفوان خود بھی مسلمان ہوگئے۔ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ۔

(زرقانی ج۴ ص۲۹۵)

بہر حال آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جودونوال اور سخاوت کے احوال اس قدر عدیم المثال اور اتنے زیادہ ہیں کہ اگر ان کا تذکرہ تحریر کیا جائے تو بہت سی کتابوں کا انبار تیارہو سکتا ہے مگر اس سے پہلے کے اوراق میں ہم جتنا اور جس قدر لکھ چکے ہیں وہ سخاوت نبوت کو سمجھنے کے لئے بہت کافی ہے۔ خداوند کریم عزوجل ہم سب مسلمانوں کو حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ پر زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

-: اسماء مبارکہ

-: اسماء مبارکہ

عرب کا مشہور مقولہ ہے کہ کَثْرَةُ الْاَسْمَآءِ تَدُلُّ عَلٰي شَرَفِ الْمُسَمّٰي یعنی کسی چیز کے ناموں کا بہت زیادہ ہونا اس بات کی دلیل ہوا کرتی ہے کہ وہ چیز عزت و شرف والی ہے۔ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو چونکہ خلاق عالم جل جلالہ نے اس قدر اعزاز و اکرام اور عزت و شرف سے سرفراز فرمایا ہے کہ آپ امام النبیّین، سید المرسلین، محبوب رب العالمین عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں اس لئے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اسماء مبارکہ اور القاب بہت زیادہ ہیں۔

حضرت جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پانچ نام ہیں میں (۱) ” محمد ” و (۲) ” احمد ” ہوں اور میں (۳) ” ماحی ” ہوں کہ اﷲ تعالیٰ میری وجہ سے کفر کو مٹاتا ہے اور میں (۴) ” حاشر ” ہوں کہ میرے قدموں پر سب لوگوں کا حشر ہوگا اور (۵) ” عاقب ” ہوں۔ (یعنی سب سے آخری نبی)

(بخاری ج۱ ص۵۰۱ باب ما جاء في اسماء رسول الله عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ عليه وسلم)

قرآن مجید میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے القاب و اسماء بہت زیادہ تعداد میں مذکور ہیں۔ چنانچہ بعض علماء کرام نے فرمایا کہ خداوند قدوس کے ناموں کی طرح حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بھی ننانوے نام اور علامہ ابن دحیہ نے اپنی کتاب میں تحریر فرمایا کہ اگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ان تمام ناموں کو شمار کیا جائے جو قرآن و حدیث اور اگلی کتابوں میں مذکور ہیں تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ناموں کی گنتی تین سو تک پہنچتی ہے اور بعض صوفیاء کرام کا بیان ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے بھی ایک ہزار نام ہیں اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ناموں کی تعداد بھی ایک ہزار ہے۔

(زرقانی جلد۳ ص۱۱۸)

بہر حال حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے تمام اسماء مبارکہ میں سے دو نام سب سے زیادہ مشہور ہیں ایک ” محمد ” دوسرا ” احمد ” (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا نام ” محمد ” رکھا اور اسی نام پر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا عقیقہ کیا جب لوگوں نے پوچھا کہ اے عبدالمطلب ! آپ نے اپنے پوتے کا نام ” محمد ” کیوں رکھا آپ کے آباء و اجداد میں کسی کا بھی یہ نام نہیں رہا ہے۔ تو آپ نے جواب دیا کہ میں نے اس نیت سے اور اس امید پر اس بچے کا نام ” محمد ” رکھا ہے کہ تمام روئے زمین کے لوگ اس کی تعریف کریں گے۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ نے یہ کہا کہ میں نے اس امید پر ” محمد ” نام رکھا کہ اﷲ تعالیٰ آسمانوں میں اس کی تعریف فرمائے گا اور زمین میں خدا کی تمام مخلوق اس کی تعریف کرے گی، اور حضرت عبدالمطلب کی اس نیت اور امید کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک خواب دیکھا تھا کہ میری پیٹھ سے ایک چاندی کی زنجیر نکلی جس کا ایک کنارہ زمین میں ہے اور ایک سرا آسمان کو چھو رہا ہے اور تمام مشرق و مغرب کے انسان اس زنجیر سے چمٹے ہوئے ہیں حضرت عبدالمطلب نے جب قریش کے کاہنوں سے اس خواب کی تعبیر دریافت کی تو انہوں نے اس خواب کی یہ تعبیر بتائی کہ اے عبدالمطلب ! آپ کی نسل سے عنقریب ایک ایسا لڑکا پیدا ہوگا کہ تمام اہل مشرق و مغرب اس کی پیروی کریں گے اور تمام آسمان و زمین والے اس کی مدح و ثنا کا خطبہ پڑھیں گے۔

(زرقانی جلد۳ ص۱۱۴ تا ۱۱۵)

اور بعض کا قول ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا نام ” محمد ” رکھا ہے کیونکہ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کے شکم مبارک میں رونق افروز تھے تو انہوں نے خواب میں ایک فرشتہ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ اے آمنہ ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا سارے جہان کے سردار تمہارے شکم میں تشریف فرما ہیں جب یہ پیدا ہوں تو تم ان کا نام ” محمد ” رکھنا۔

(زرقانی جلد۳ ص۱۱۵)

ان دونوں روایتوں میں کوئی تعارض نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ حضرت عبدالمطلب نے اپنے اور حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے خوابوں کی وجہ سے دونوں نے باہمی مشورہ سے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا نام ” محمد ” رکھا ہو۔

اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ” محمد ” کے نام سے ذکر فرمایا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ” احمد ” کے نام سے تمام زندگی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ذکر جمیل کا ڈنکا بجاتے رہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے کہ وَ مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِيْ مِنْم بَعْدِي اسْمُهٗٓ اَحْمَدُ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ خوشخبری سناتے ہوئے تشریف لائے تھے کہ میرے بعد ایک رسول تشریف لانے والے ہیں جن کا نامِ نامی و اسم گرامی ” احمد ” ہے۔

-: آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی کنیت

-: آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی کنیت

آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مشہور کنیت ” ابو القاسم ” ہے۔ چنانچہ بہت سی احادیث میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ کنیت مذکور ہے، مگر حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے روایت کی ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی کنیت ” ابو ابراہیم ” بھی ہے۔ چنانچہ حضرت جبریل علیہ السلام نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان لفظوں سے سلام کیا کہ السلام عليك یا ابا ابراهیم یعنی اے ابراہیم کے والد ! آپ پر سلام۔

(زرقانی جلد۳ ص۱۵۱)