مدینہ میں آفتاب رِسالت

-: مدینہ میں اسلام کیونکر پھیلا

“مدینہ منورہ” کا پرانا نام “یثرب” ہے۔ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس شہر میں سکونت فرمائی تو اس کا نام “مدینۃ النبی” (نبی کا شہر) پڑ گیا۔ پھر یہ نام مختصر ہو کر “مدینہ” مشہور ہو گیا۔ تاریخی حیثیت سے یہ بہت پرانا شہر ہے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب اعلان نبوت فرمایا تو اِس شہر میں عرب کے دو قبیلے “اوس” اور “خزرج” اور کچھ “یہودی” آباد تھے۔ اوس و خزرج کفارِ مکہ کی طرح “بت پرست” اور یہودی “اہل کتاب” تھے۔ اوس و خزرج پہلے تو بڑے اتفاق و اتحاد کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے مگر پھر عربوں کی فطرت کے مطابق اِن دونوں قبیلوں میں لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ یہاں تک کہ آخری لڑائی جو تاریخ عرب میں “جنگ بعاث” کے نام سے مشہور ہے اس قدر ہولناک اور خونریز ہوئی کہ اس لڑائی میں اوس و خزرج

کے تقریباً تمام نامور بہادر لڑ بھڑ کر کٹ مر گئے اور یہ دونوں قبیلے بے حد کمزور ہوگئے۔ یہودی اگرچہ تعداد میں بہت کم تھے مگر چونکہ وہ تعلیم یافتہ تھے اس لئے اوس و خزرج ہمیشہ یہودیوں کی علمی برتری سے مرعوب اور ان کے زیر اثر رہتے تھے ۔

اِسلام قبول کرنے کے بعد رسولِ رحمت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس تعلیم و تربیت کی بدولت اوس و خزوج کے تمام پرانے اختلافات ختم ہو گئے اور یہ دونوں قبیلے شیر و شکر کی طرح مل جل کر رہنے لگے۔ اور چونکہ اِن لوگوں نے اسلام اور مسلمانوں کی اپنے تن من دھن سے بے پناہ امداد و نصرت کی اِس لئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان خوش بختوں کو ” انصار ” کے معزز لقب سے سرفراز فرما دیا اور قرآن کریم نے بھی ان جاں نثار ان اسلام کی نصرت رسول و امدادِ مسلمین پر ان خوش نصیبوں کی مدح و ثنا کا جابجا خطبہ پڑھا اور ازروئے شریعت انصار کی محبت اور ان کی جناب میں حسن عقیدت تمام اُمت ِ مسلمہ کیلئے لازم الایمان اور واجب العمل قرار پائی۔ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین)

-: مدینہ میں اسلام کیونکر پھیلا

انصار گو بت پرست تھے مگر یہودیوں کے میل جول سے اتنا جانتے تھے کہ نبی آخر الزمان کا ظہور ہونے والا ہے اور مدینہ کے یہودی اکثر انصار کے دونوں قبیلوں اوس و خزرج کو دھمکیاں بھی دیا کرتے تھے کہ نبی آخر الزمان کے ظہور کے وقت ہم ان کے لشکر میں شامل ہو کر تم بت پرستوں کو دنیا سے نیست و نابود کر ڈالیں گے۔ اس لئے نبی آخر الزمان کی تشریف آوری کا یہود اور انصار دونوں کو انتظار تھا۔

۱۱نبوی میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم معمول کے مطابق حج میں آنے والے قبائل کو دعوت اسلام دینے کے لئے منیٰ کے میدان میں تشریف لے گئے اور قرآنِ مجید کی آیتیں سنا سنا کر لوگوں کے سامنے اسلام پیش فرمانے لگے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم منیٰ میں عقبہ (گھاٹی) کے پاس جہاں آج “مسجد العقبہ” ہے تشریف فرما تھے کہ قبیلۂ خزرج کے چھ آدمی آپ کے پاس آ گئے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے ان کا نام و نسب پوچھا۔ پھر قرآن کی چند آیتیں سنا کر ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جس سے یہ لوگ بے حد متاثر ہوگئے اور ایک دوسرے کا منہ دیکھ کر واپسی میں یہ کہنے لگے کہ یہودی جس نبی آخر الزمان کی خوشخبری دیتے

رہے ہیں یقینا وہ نبی یہی ہیں۔ لہٰذا کہیں ایسا نہ ہو کہ یہودی ہم سے پہلے اسلام کی دعوت قبول کر لیں۔ یہ کہہ کر سب ایک ساتھ مسلمان ہو گئے اور مدینہ جا کر اپنے اہل خاندان اور رشتہ داروں کو بھی اسلام کی دعوت دی۔ ان چھ خوش نصیبوں کے نام یہ ہیں۔ (۱) حضرت عقبہ بن عامر بن نابی۔ (۲) حضرت ابو امامہ اسعد بن زرارہ (۳) حضرت عوف بن حارث (۴) حضرت رافع بن مالک (۵) حضرت قطبہ بن عامر بن حدیدہ (۶) حضرت جابر بن عبداﷲ بن ریاب۔ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین)

(مدارج النبوة ج۲ ص۵۱ و زرقانی ج۱ ص۳۱۰)

-: بیعت عقبہ اولیٰ

-: بیعت عقبہ اولیٰ

دوسرے سال سن ۱۲ نبوی میں حج کے موقع پر مدینہ کے بارہ اشخاص منیٰ کی اسی گھاٹی میں چھپ کر مشرف بہ اسلام ہوئے اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے بیعت ہوئے۔ تاریخ اسلام میں اس بیعت کا نام “بیعت عقبہ اولیٰ” ہے۔

ساتھ ہی ان لوگوں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے یہ درخواست بھی کی کہ احکامِ اسلام کی تعلیم کے لئے کوئی معلم بھی ان لوگوں کے ساتھ کر دیا جائے۔ چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ان لوگوں کے ساتھ مدینہ منورہ بھیج دیا۔

وہ مدینہ میں حضرت اسعد بن زرارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان پر ٹھہرے اور انصار کے ایک ایک گھر میں جا جا کر اسلام کی تبلیغ کرنے لگے اور روزانہ ایک دو نئے آدمی آغوش اسلام میں آنے لگے۔ یہاں تک کہ رفتہ رفتہ مدینہ سے قباء تک گھر گھر اسلام پھیل گیا۔

قبیلۂ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بہت ہی بہادر اور بااثر شخص تھے۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جب ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی تو انہوں نے پہلے تو اسلام سے نفرت و بیزاری ظاہر کی مگر جب حضرت مصعب بن عمیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کو قرآنِ مجید پڑھ کر سنایا تو ایک دم اُن کا دل پسیج گیا اور اس قدر متاثر ہوئے کہ سعادتِ ایمان سے سر فراز ہو گئے۔ ان کے مسلمان ہوتے ہی ان کا قبیلہ “اوس” بھی دامنِ اسلام میں آ گیا۔

اسی سال بقول مشہور ماہ رجب کی ستائیسویں رات کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو بحالت بیداری “معراجِ جسمانی” ہوئی۔ اور اِسی سفر معراج میں پانچ نمازیں فرض ہوئیں جس کا تفصیلی بیان ان شاء اﷲ تعالیٰ معجزات کے باب میں آئے گا۔

-: بیعت عقبہ ثانیہ

-: بیعت عقبہ ثانیہ

اس کے ایک سال بعد سن ۱۳ نبوی میں حج کے موقع پر مدینہ کے تقریباً بہتّر اشخاص نے منیٰ کی اسی گھاٹی میں اپنے بت پرست ساتھیوں سے چھپ کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت کی اور یہ عہد کیا کہ ہم لوگ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اور اسلام کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کر دیں گے۔ اس موقع پر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی موجود تھے جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔

انہوں نے مدینہ والوں سے کہا کہ دیکھو ! محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے خاندان بنی ہاشم میں ہر طرح محترم اور با عزت ہیں۔ ہم لوگوں نے دشمنوں کے مقابلہ میں سینہ سپر ہو کر ہمیشہ ان کی حفاظت کی ہے۔ اب تم لوگ ان کو اپنے وطن میں لے جانے کے خواہشمند ہو تو سن لو ! اگر

مرتے دم تک تم لوگ ان کا ساتھ دے سکو تو بہتر ہے ورنہ ابھی سے کنارہ کش ہو جاؤ۔ یہ سن کر حضرت براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ طیش میں آ کر کہنے لگے کہ ” ہم لوگ تلواروں کی گود میں پلے ہیں۔ ” حضرت براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اتنا ہی کہنے پائے تھے کہ حضرت ابو الہیثم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بات کاٹتے ہوئے یہ کہا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہم لوگوں کے یہودیوں سے پرانے تعلقات ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ ہمارے مسلمان ہو جانے کے بعد یہ تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب اﷲ تعالیٰ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو غلبہ عطا فرمائے تو آپ ہم لوگوں کو چھوڑ کر اپنے وطن مکہ چلے جائیں۔ یہ سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ تم لوگ اطمینان رکھو کہ ” تمہارا خون میرا خون ہے “اور یقین کرو” میرا جینا مرنا تمہارے ساتھ ہے۔ میں تمہارا ہوں اور تم میرے ہو۔ تمہارا دشمن میرا دشمن اور تمہارا دوست میرا دوست ہے۔ “

(زرقانی علی المواهب ج۱ ص۳۱۷ و سيرت ابن هشام ج۴ ص۴۴۱ تا ۴۴۲)

جب انصار یہ بیعت کر رہے تھے تو حضرت سعد بن زرارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یا حضرت عباس بن نضلہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میرے بھائیو ! تمہیں یہ بھی خبر ہے ؟ کہ تم لوگ کس چیز پر بیعت کر رہے ہو ؟ خوب سمجھ لو کہ یہ عرب و عجم کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ انصار نے طیش میں آ کر نہایت ہی پر جوش لہجے میں کہا کہ ہاں ! ہاں ! ہم لوگ اسی پر بیعت کر رہے ہیں۔ بیعت ہو جانے کے بعد آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس جماعت میں سے بارہ آدمیوں کو نقیب (سردار) مقرر فرمایا۔ ان میں نو آدمی قبیلہ خزرج کے اور تین اشخاص قبیلۂ اوس کے تھے جن کے مبارک نام یہ ہیں۔

(۱)حضرت ابوامامہ اسعد بن زرارہ (۲) حضرت سعدبن ربیع (۳) حضرت عبداﷲ بن رواحہ (۴) حضرت رافع بن مالک (۵) حضرت براء بن معرور (۶) حضرت عبداﷲ بن عمرو (۷) حضرت سعد بن عبادہ (۸) حضرت منذر بن عمر (۹) حضرت عبادہ بن ثابت ۔یہ نو آدمی قبیلہ خزرج کے ہیں۔ (۱۰) حضرت اُسید بن حضیر (۱۱) حضرت سعد بن خیثمہ (۱۲) حضرت ابو الہیثم بن تیہان۔ یہ تین شخص قبیلۂ اوس کے ہیں۔ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین)

(زرقانی علی المواهب ج۱ ص۳۱۷)

اس کے بعد یہ تمام حضرات اپنے اپنے ڈیروں پر چلے گئے۔ صبح کے وقت جب قریش کو اس کی اطلاع پہنچی تو وہ آگ بگولا ہو گئے اور ان لوگوں نے ڈانٹ کر مدینہ والوں سے پوچھا کہ کیا تم لوگوں نے ہمارے ساتھ جنگ کرنے پر محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے بیعت کی ہے ؟ انصار کے کچھ ساتھیوں نے جو مسلمان نہیں ہوئے تھے اپنی لاعلمی ظاہر کی۔

یہ سن کر قریش واپس چلے گئے مگر جب تفتیش و تحقیقات کے بعد کچھ انصار کی بیعت کا حال معلوم ہوا تو قریش غیظ و غضب میں آپے سے باہر ہو گئے اور بیعت کرنے والوں کی گرفتاری کے لئے تعاقب کیا مگر قریش حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے سوا کسی اور کو نہیں پکڑ سکے۔ قریش حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اپنے ساتھ مکہ لائے اور ان کو قید کر دیا مگر جب جبیر بن مطعم اور حارث بن حرب بن امیہ کو پتہ چلا تو ان دونوں نے قریش کو سمجھایا کہ خدا کے لئے سعد بن عبادہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) کو فوراً چھوڑ دو ورنہ تمہاری ملک ِ شام کی تجارت خطرہ میں پڑجائے گی۔ یہ سن کر قریش نے حضرت سعد بن عبادہ کو قید سے رہا کر دیا اور وہ بخیریت مدینہ پہنچ گئے۔

(سيرت ِابن هشام ج۴ص ۴۴۹ تا ۴۵۰)

-: ہجرت مدینہ

-: ہجرت مدینہ

مدینہ منورہ میں جب اسلام اور مسلمانوں کو ایک پناہ گاہ مل گئی تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو عام اجازت دے دی کہ وہ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ چلے جائیں۔ چنانچہ سب سے پہلے حضرت ابو سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ہجرت کی۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے دوسرے لوگ بھی مدینہ روانہ ہونے لگے۔ جب کفار قریش کو پتہ چلا تو انہوں نے روک ٹوک شروع کر دی مگر چھپ چھپ کر لوگوں نے ہجرت کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ رفتہ رفتہ بہت سے صحابہ کرام مدینہ منورہ چلے گئے۔ صرف وہی حضرات مکہ میں رہ گئے جو یا تو کافروں کی قید میں تھے یا اپنی مفلسی کی وجہ سے مجبور تھے۔

حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو چونکہ ابھی تک خدا کی طرف سے ہجرت کا حکم نہیں ملا تھا اس لئے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ ہی میں مقیم رہے اور حضرتِ ابوبکر صدیق اور حضرتِ علی مرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو بھی آپ نے روک لیا تھا۔ لہٰذا یہ دونوں شمع نبوت کے پروانے بھی آپ ہی کے ساتھ مکہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔

-: کفار کانفرنس

-: کفار کانفرنس

جب مکہ کے کافروں نے یہ دیکھ لیا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے مددگار مکہ سے باہر مدینہ میں بھی ہوگئے اور مدینہ جانے والے مسلمانوں کو انصار نے اپنی پناہ میں لے لیا ہے تو کفار مکہ کو یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) بھی مدینہ چلے جائیں اور وہاں سے اپنے حامیوں کی فوج لے کر مکہ پر چڑھائی نہ کر دیں۔ چنانچہ اس خطرہ کا دروازہ بند کرنے کے لئے کفار مکہ نے اپنے دارالندوہ (پنچائت گھر) میں ایک بہت بڑی کانفرنس منعقد کی۔ اور یہ کفار مکہ کا ایسا زبردست نمائندہ اجتماع تھا کہ مکہ کا کوئی بھی ایسا دانشور اور با اثر شخص نہ تھا جو اس کانفرنس میں شریک نہ ہوا ہو۔

۔ خصوصیت کے ساتھ ابو سفیان، ابو جہل، عتبہ، جبیر بن مطعم، نضر بن حارث، ابو البختری، زمعہ بن اسود، حکیم بن حزام، اُمیہ بن خلف وغیرہ وغیرہ تمام سردارانِ قریش اس مجلس میں موجود تھے۔ شیطانِ لعین بھی کمبل اوڑھے ایک بزرگ شیخ کی صورت میں آ گیا۔ قریش کے سرداروں نے نام و نسب پوچھا تو بولا کہ میں ’’ شیخ نجد ‘‘ ہوں اس لئے اس کانفرنس میں آگیا ہوں کہ میں تمہارے معاملہ میں اپنی رائے بھی پیش کر دوں۔ یہ سن کر قریش کے سرداروں نے ابلیس کو بھی اپنی کانفرنس میں شریک کر لیااور کانفرنس کی کارروائی شروع ہو گئی۔ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا معاملہ پیش ہوا تو ابو البختری نے یہ رائے دی کہ ان کو کسی کوٹھری میں بند کرکے ان کے ہاتھ پاؤں باندھ دو اور ایک سوراخ سے کھانا پانی ان کو دے دیا کرو۔ شیخ نجدی (شیطان) نے کہا کہ یہ رائے اچھی نہیں ہے۔ خدا کی قسم! اگر تم لوگوں نے ان کو کسی مکان میں قید کر دیا تو یقینا ان کے جاںنثار اصحاب کو اس کی خبر لگ جائے گی اور وہ اپنی جان پر کھیل کر ان کو قید سے چھڑا لیں گے۔

ابو الاسود ربیعہ بن عمرو عامری نے یہ مشورہ دیا کہ ان کو مکہ سے نکال دو تا کہ یہ کسی دوسرے شہر میں جا کر رہیں۔ اس طرح ہم کو ان کے قرآن پڑھنے اور ان کی تبلیغ اسلام سے نجات مل جائے گی۔ یہ سن کر شیخ نجدی نے بگڑ کر کہا کہ تمہاری اس رائے پر لعنت، کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے کلام میں کتنی مٹھاس اور تاثیر و دل کشی ہے ؟ خدا کی قسم ! اگر تم لوگ ان کو شہر بدر کرکے چھوڑ دو گے تو یہ پورے ملک عرب میں لوگوں کو قرآن سنا سنا کر تمام قبائل عرب کو اپنا تابع فرمان بنا لیں گے اور پھر اپنے ساتھ ایک عظیم لشکر کو لے کر تم پر ایسی یلغار کر دیں گے کہ تم ان کے مقابلہ سے عاجز و لاچار ہو جاؤ گے اور پھر بجز اس کے کہ تم ان کے غلام بن کر رہو کچھ بنائے نہ بنے گی اس لئے ان کو جلا وطن کرنے کی تو بات ہی مت کرو۔

ابوجہل بولا کہ صاحبو ! میرے ذہن میں ایک رائے ہے جو اب تک کسی کو نہیں سوجھی یہ سن کر سب کے کان کھڑے ہو گئے اور سب نے بڑے اشتیاق کے ساتھ پوچھا کہ کہیے وہ کیا ہے ؟ تو ابوجہل نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ ہر قبیلہ کا ایک ایک مشہور بہادر تلوار لے کر اٹھ کھڑا ہو اور سب یکبارگی حملہ کر کے محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو قتل کر ڈالیں۔ اس تدبیر سے خون کرنے کا جرم تمام قبیلوں کے سر پر رہے گا۔ ظاہر ہے کہ خاندان بنو ہاشم اس خون کا بدلہ لینے کے لئے تمام قبیلوں سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھ سکتے۔ لہٰذا یقینا وہ خون بہا لینے پر راضی ہو جائیں گے اور ہم لوگ مل جل کر آسانی کے ساتھ خون بہا کی رقم ادا کر دیں گے۔ ابوجہل کی یہ خونی تجویز سن کر شیخ نجدی مارے خوشی کے اُچھل پڑا اور کہا کہ بے شک یہ تدبیر بالکل درست ہے۔ اس کے سوا اور کوئی تجویز قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ تمام شرکاء کانفرنس نے اتفاق رائے سے اس تجویز کو پاس کر دیا اور مجلس شوریٰ برخاست ہو گئی اور ہر شخص یہ خوفناک عزم لے کر اپنے اپنے گھر چلا گیا۔ خداوند قدوس نے قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت میں اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ

وَاِذْ يَمْکُرُ بِکَ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْکَ اَوْ يَقْتُلُوْکَ اَوْ يُخْرِجُوْکَ ط وَيَمْکُرُوْنَ وَيَمْکُرُ اﷲُ ط وَاﷲُ خَيْرُ الْمَاکِرِيْنَ

(اے محبوب یاد کیجیے) جس وقت کفار آپ کے بارے میں خفیہ تدبیر کر رہے تھے کہ آپ کو قید کر دیں یا قتل کر دیں یا شہر بدر کر دیں یہ لوگ خفیہ تدبیر کر رہے تھے اور اﷲ خفیہ تدبیر کر رہا تھا اور اﷲ کی پوشیدہ تدبیر سب سے بہتر ہے۔

-: ہجرتِ رسول کا واقعہ

-: ہجرتِ رسول کا واقعہ

جب کفار حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قتل پر اتفاق کر کے کانفرنس ختم کر چکے اور اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے تو حضرت جبریل امین علیہ السلام رب العالمین کا حکم لے کر نازل ہو گئے کہ اے محبوب ! آج رات کو آپ اپنے بستر پر نہ سوئیں اور ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے جائیں۔ چنانچہ عین دوپہر کے وقت حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے گھر تشریف لے گئے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ سب گھر والوں کو ہٹا دو کچھ مشورہ کرنا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آپ پر میرے ماں باپ قربان یہاں آپ کی اہلیہ (حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے سوا اور کوئی نہیں ہے (اُس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شادی ہو چکی تھی) حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوبکر ! اﷲ تعالیٰ نے مجھے ہجرت کی اجازت فرما دی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر قربان ! مجھے بھی ہمراہی کا شرف عطا فرمائیے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی درخواست منظور فرما لی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے چار مہینے سے دو اونٹنیاں ببول کی پتی کھلا کھلا کر تیار کی تھیں کہ ہجرت کے وقت یہ سواری کے کام آئیں گی۔ عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان میں سے ایک اونٹنی آپ قبول فرما لیں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قبول ہے مگر میں اس کی قیمت دوں گا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بادل ناخواستہ فرمان رسالت سے مجبور ہو کر اس کو قبول کیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا تو اس وقت بہت کم عمر تھیں لیکن ان کی بڑی بہن حضرت بی بی اسماء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے سامان سفر درست کیا اور توشہ دان میں کھانا رکھ کر اپنی کمر کے پٹکے کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کیے۔ ایک سے توشہ دان کو باندھا اور دوسرے سے مشک کا منہ باندھا۔ یہ وہ قابل فخر شرف ہے جس کی بنا پر ان کو “ذات النطاقین” (دو پٹکے والی) کے معزز لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک کافر کو جس کا نام “عبداﷲ بن اُرَیْقَطْ” تھا جو راستوں کا ماہر تھا راہ نمائی کے لئے اُجرت پر نوکر رکھا اور ان دونوں اونٹنیوں کو اس کے سپرد کر کے فرمایا کہ تین راتوں کے بعد وہ ان دونوں اونٹنیوں کو لے کر “غارثور” کے پاس آ جائے۔ یہ سارا نظام کر لینے کے بعد حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے مکان پر تشریف لائے۔

(بخاری ج۱ ص۵۵۳ تا ۵۵۴ باب هجرت النبی صلی الله تعالیٰ عليه وسلم)

-: کاشانۂ نبوت کا محاصرہ

-: کاشانۂ نبوت کا محاصرہ

کفار مکہ نے اپنے پروگرام کے مطابق کاشانۂ نبوت کو گھیر لیا اور انتظار کرنے لگے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سو جائیں تو ان پر قاتلانہ حملہ کیا جائے۔ اس وقت گھر میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس صرف علی مرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھے۔ کفار مکہ اگرچہ رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدترین دشمن تھے مگر اس کے باوجود حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی امانت و دیانت پر کفار کو اس قدر اعتماد تھا کہ وہ اپنے قیمتی مال و سامان کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس امانت رکھتے تھے۔ چنانچہ اس وقت بھی بہت سی امانتیں کاشانۂ نبوت میں تھیں۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تم میری سبز رنگ کی چادر اوڑھ کر میرے بستر پر سو رہو اور میرے چلے جانے کے بعد تم قریش کی تمام امانتیں ان کے مالکوں کو سونپ کر مدینہ چلے آنا۔

یہ بڑا ہی خوفناک اور بڑے سخت خطرہ کا موقع تھا۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو معلوم تھا کہ کفار ِ مکہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کر چکے ہیں مگر حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اس فرمان سے کہ تم قریش کی ساری امانتیں لوٹا کر مدینہ چلے آنا حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو یقین کامل تھا کہ میں زندہ رہوں گا اور مدینہ پہنچوں گا اس لئے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا بستر جو آج کانٹوں کا بچھونا تھا۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے لئے پھولوں کی سیج بن گیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بستر پر صبح تک آرام کے ساتھ میٹھی میٹھی نیند سوتے رہے۔ اپنے اسی کارنامے پر فخر کرتے ہوئے شیر خدا نے اپنے اشعار میں فرمایا کہ

وَقَيْتُ بِنَفْسِيْ خَيْرَ مَنْ وَطِئَ الثَّريٰ

وَمَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ وَ بِالْحَجَرِ

میں نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر اس ذات گرامی کی حفاظت کی جو زمین پر چلنے والوں اور خانہ کعبہ و حطیم کا طواف کرنے والوں میں سب سے زیادہ بہتر اور بلند مرتبہ ہیں۔

رَسُوْلُ اِلٰه خَافَ اَنْ يَّمْکُرُوْا بِه

فَنَجَّاه ذُوالطَّوْلِ الْاِلٰه مِنَ الْمَکْرِِ

رسول خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ تھا کہ کفار مکہ ان کے ساتھ خفیہ چال چل جائیں گے مگر خداوند مہربان نے ان کو کافروں کی خفیہ تدبیر سے بچا لیا۔

(زرقانی علی المواهب ج۱ ص۳۲۲)

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بستر نبوت پر جان ولایت کو سلا کر ایک مٹھی خاک ہاتھ میں لی اور سورہ یس ٓ کی ابتدائی آیتوں کو تلاوت فرماتے ہوئے نبوت خانہ سے باہر تشریف لائے اور محاصرہ کرنے والے کافروں کے سروں پر خاک ڈالتے ہوئے ان کے مجمع سے صاف نکل گئے۔ نہ کسی کو نظر آئے نہ کسی کو کچھ خبر ہوئی۔ ایک دوسرا شخص جو اس مجمع میں موجود نہ تھا اس نے ان لوگوں کو خبر دی کہ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) تو یہاں سے نکل گئے اور چلتے وقت تمہارے سروں پر خاک ڈال گئے ہیں۔ چنانچہ ان کور بختوں نے اپنے سروں پر ہاتھ پھیرا تو واقعی ان کے سروں پر خاک اور دھول پڑی ہوئی تھی۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۵۷)

رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے دولت خانہ سے نکل کر مقام ” حزورہ” کے پاس کھڑے ہو گئے اور بڑی حسرت کے ساتھ ” کعبہ ” کو دیکھا اور فرمایا کہ اے شہر مکہ ! تو مجھ کو تمام دنیا سے زیادہ پیارا ہے۔ اگر میری قوم مجھ کو تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کسی اور جگہ سکونت پذیر نہ ہوتا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے پہلے ہی قرار داد ہو چکی تھی۔ وہ بھی اسی جگہ آ گئے اور اس خیال سے کہ کفار مکہ ہمارے قدموں کے نشان سے ہمارا راستہ پہچان کر ہمارا پیچھا نہ کریں پھر یہ بھی دیکھا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پائے نازک زخمی ہو گئے ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے کندھوں پر سوار کر لیا اور اس طرح خاردار جھاڑیوں اور نوک دار پتھروں والی پہاڑیوں کو روندتے ہوئے اسی رات “غارِ ثور” پہنچے ۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۵۸)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پہلے خود غار میں داخل ہوئے اور اچھی طرح غار کی صفائی کی اور اپنے بدن کے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر غار کے تمام سوراخوں کو بند کیا۔ پھر حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم غار کے اندر تشریف لے گئے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی گودمیں اپنا سر مبارک رکھ کر سو گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک سوراخ کو اپنی ایڑی سے بند کر رکھا تھا۔ سوراخ کے اندر سے ایک سانپ نے بار بار یار غار کے پاؤں میں کاٹا مگر حضرت صدیق جاںنثار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس خیال سے پاؤں نہیں ہٹایا کہ رحمت ِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے خوابِ راحت میں خلل نہ پڑ جائے مگر درد کی شدت سے یار غار کے آنسوؤں کی دھار کے چند قطرات سرور کائنات کے رخسار پرنثار ہو گئے۔ جس سے رحمت ِ عالم

صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بیدار ہو گئے اور اپنے یارِ غار کو روتا دیکھ کر بے قرار ہو گئے پوچھا ابوبکر ! کیا ہوا ؟ عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مجھے سانپ نے کاٹ لیا ہے۔ یہ سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے زخم پر اپنا لعاب دہن لگا دیا جس سے فوراً ہی سارا درد جاتا رہا۔ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تین رات اس غار میں رونق افروز رہے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے جوان فرزند حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ روزانہ رات کو غار کے منہ پر سوتے اور صبح سویرے ہی مکہ چلے جاتے اور پتہ لگاتے کہ قریش کیا تدبیریں کر رہے ہیں؟ جو کچھ خبر ملتی شام کو آکر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کر دیتے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے غلام حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کچھ رات گئے چراگاہ سے بکریاں لے کر غار کے پاس آ جاتے اور ان بکریوں کا دودھ دونوں عالم کے تاجدار صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور ان کے یار غار پی لیتے تھے۔

(زرقانی علی المواهب ج۱ ص۳۳۹)

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تو غار ثور میں تشریف فرما ہو گئے۔ اُدھر کاشانۂ نبوت کا محاصرہ کرنے والے کفار جب صبح کو مکان میں داخل ہوئے تو بستر نبوت پر حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھے۔ ظالموں نے تھوڑی دیر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھ گچھ کر کے آپ کو چھوڑ دیا۔ پھر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تلاش و جستجو میں مکہ اور اطراف و جوانب کا چپہ چپہ چھان مارا۔ یہاں تک کہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے غار ثور تک پہنچ گئے مگر غار کے منہ پر اس وقت خداوندی حفاظت کا پہرہ لگا ہوا تھا۔ یعنی غار کے منہ پر مکڑی نے جالا تن دیا تھا اور کنارے پر کبوتری نے انڈے دے رکھے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر کفار قریش آپس میں کہنے لگے کہ اس غارمیں کوئی انسان موجود ہوتا تو نہ مکڑی جالا تنتی نہ کبوتری یہاں انڈے دیتی۔ کفار کی آہٹ پا کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کچھ گھبرائے اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اب ہمارے دشمن اس قدر قریب آ گئے ہیں کہ اگر وہ اپنے قدموں پر نظر ڈالیں گے تو ہم کو دیکھ لیں گے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰه مَعَنَا

مت گھبراؤ ! خدا ہمارے ساتھ ہے۔

اس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے قلب پر سکون و اطمینان کا ایسا سکینہ اُتار دیا کہ وہ بالکل ہی بے خوف ہو گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی یہی وہ جاں نثاریاں ہیں جن کو دربار نبوت کے مشہور شاعر حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کیا خوب کہا ہے کہ

وَثَانِيُ اثْنَيْنِ فِي الْغَارِ الْمُنِيْفِ وَ قَدْ

طَافَ الْعَدُوُّ بِه اِذْ صَاعَدَ الْجَبَلَا

اور دو میں کے دوسرے (ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) جب کہ پہاڑ پر چڑھ کر بلند مرتبہ غار میں اس حال میں تھے کہ دشمن ان کے ارد گرد چکر لگا رہا تھا۔

وَکَانَ حِبَّ رَسُوْلِ اﷲِ قَدْ عَلِمُوْاْ

مِنَ الْخَلَائِقِ لَمْ يَعْدِلْ بِه بَدَلَاْ

اور وہ (ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے محبوب تھے۔ تمام مخلوق اس بات کو جانتی ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علہہ وسلم نے کسی کو بھی ان کے برابر نہںت ٹھہرایا ہے

(زرقانی علی المواهب ج ۱ص ۳۳۷)

بہر حال چوتھے دن حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم یکم ربیع الاول دو شنبہ کے دن غار ثور سے باہر تشریف لائے۔ عبداﷲ بن اریقط جس کو رہنمائی کے لئے کرایہ پر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے نوکر رکھ لیا تھا وہ قرارداد کے مطابق دو اونٹنیاں لے کر غار ثور پر حاضر تھا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور ایک اونٹنی پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بیٹھے اور عبداﷲ بن اُریقط آگے آگے پیدل چلنے لگا اور عام راستہ سے ہٹ کر ساحل سمندر کے غیر معروف راستوں سے سفر شروع کر دیا۔

-: سو اونٹ کا انعام

-: سو اونٹ کا انعام

اُدھر اہل مکہ نے اشتہار دے دیا تھا کہ جو شخص محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو گرفتار کرکے لائے گا اس کو ایک سو اونٹ انعام ملے گا۔ اس گراں قدر انعام کے لالچ میں بہت سے لالچی لوگوں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تلاش شروع کر دی اور کچھ لوگ تو منزلوں دور تک تعاقب میں گئے۔

-: اُمِ معبد کی بکری

-: اُمِ معبد کی بکری

دوسرے روز مقامِ قدید میں اُمِ معبد عاتکہ بنت خالد خزاعیہ کے مکان پر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا گزر ہوا۔ اُمِ معبد ایک ضعیفہ عورت تھی جو اپنے خیمہ کے صحن میں بیٹھی رہا کرتی تھی اور مسافروں کو کھانا پانی دیا کرتی تھی۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس سے کچھ کھانا خریدنے کا قصد کیا مگر اس کے پاس کوئی چیز موجود نہ تھی۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اس کے خیمہ کے ایک جانب ایک بہت ہی لاغر بکری ہے۔ دریافت فرمایا کیا یہ دودھ دیتی ہے ؟ اُمِ معبد نے کہا نہیں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اجازت دو تو میں اس کا دودھ دوہ لوں۔ اُمِ معبد نے اجازت دے دی اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ” بسم اﷲ” پڑھ کر جو اس کے تھن کو ہاتھ لگایا تو اس کا تھن دودھ سے بھر گیا اور اتنا دودھ نکلا کہ سب لوگ سیراب ہو گئے اور اُمِ معبد کے تمام برتن دودھ سے بھر گئے۔ یہ معجزہ دیکھ کر ام معبد اور ان کے خاوند دونوں مشرف بہ اسلام ہو گئے۔

(مدارج النبوة ج ۲ ص۶۱)

روایت ہے کہ اُمِ معبد کی یہ بکری ۱۸ھ تک زندہ رہی اور برابر دودھ دیتی رہی اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں جب ” عام الرماد ” کا سخت قحط پڑا کہ تمام جانوروں کے تھنوں کا دودھ خشک ہو گیا اس وقت بھی یہ بکری صبح و شام برابر دودھ دیتی رہی۔

(زرقانی علی المواهب ج۱ ص۳۴۶)

-: سراقہ کا گھوڑا

-: سراقہ کا گھوڑا

جب اُمِ معبد کے گھر سے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آگے روانہ ہوئے تو مکہ کا ایک مشہور شہسوار سراقہ بن مالک بن جعشم تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر تعاقب کرتا نظر آیا۔ قریب پہنچ کر حملہ کرنے کا ارادہ کیا مگر اس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور وہ گھوڑے سے گر پڑا مگر سو اونٹوں کا انعام کوئی معمولی چیز نہ تھی۔ انعام کے لالچ نے اسے دوبارہ اُبھارا اور وہ حملہ کی نیت سے آگے بڑھا تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعا سے پتھریلی زمین میں اس کے گھوڑے کا پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گیا۔ سراقہ یہ معجزہ دیکھ کر خوف و دہشت سے کانپنے لگا اور امان ! امان ! پکارنے لگا۔ رسول اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا دل رحم و کرم کا سمندر تھا۔ سراقہ کی لاچاری اور گریہ زاری پر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا دریائے رحمت جوش میں آ گیا۔ دعا فرما دی تو زمین نے اس کے گھوڑے کو چھوڑ دیا۔ اس کے بعد سراقہ نے عرض کیا کہ مجھ کو امن کا پروانہ لکھ دیجیے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے سراقہ کے لئے امن کی تحریر لکھ دی۔ سراقہ نے اس تحریر کو اپنے ترکش میں رکھ لیا اور واپس لوٹ گیا۔ راستہ میں جو شخص بھی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت کرتا تو سراقہ اس کو یہ کہہ کر لوٹا دیتے کہ میں نے بڑی دور تک بہت زیادہ تلاش کیا مگر آنحضرت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس طرف نہیں ہیں۔ واپس لوٹتے ہوئے سراقہ نے کچھ سامان سفر بھی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور نذرانہ کے پیش کیا مگر آنحضرت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا۔

(بخاری باب هجرة النبی ج۱ ص۵۵۴ و زرقانی ج۱ ص۳۴۶ و مدارج النبوة ج۲ ص۶۲)

سراقہ اس وقت تو مسلمان نہیں ہوئے مگر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت نبوت اور اسلام کی صداقت کا سکہ ان کے دل پر بیٹھ گیا۔ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فتح مکہ اور جنگ طائف و حنین سے فارغ ہو کر “جعرانہ” میں پڑاؤ کیا تو سراقہ اسی پروانۂ امن کو لے کر بارگاہِ نبوت میں حاضر ہو گئے اور اپنے قبیلہ کی بہت بڑی جماعت کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔

(دلائل النبوة ج۲ ص۱۵ و مدارج النبوة ج۲ ص۶۲)

واضح رہے کہ یہ وہی سراقہ بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں جن کے بارے میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے علم غیب سے غیب کی خبر دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اے سراقہ! تیرا کیا حال ہوگا جب تجھ کو ملک فارس کے بادشاہ کسریٰ کے دونوں کنگن پہنائے جائیں گے ؟ اس ارشاد کے برسوں بعد جب حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ایران فتح ہوا اور کسریٰ کے کنگن دربار خلافت میں لائے گئے تو امیر المومنین حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرمان کی تصدیق و تحقیق کے لئے وہ کنگن حضرت سراقہ بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو پہنا دیئے اور فرمایا کہ اے سراقہ ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کہو کہ اﷲ تعالیٰ ہی کے لئے حمد ہے جس نے ان کنگنوں کو بادشاہ فارس کسریٰ سے چھین کر سراقہ بدوی کو پہنا دیا۔ حضرت سراقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ۲۴ھ میں وفات پائی۔ جب کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تخت خلافت پر رونق افروز تھے۔

(زرقانی علی المواهب ج۱ ص۲۴۶ و ص۳۴۸)

-: بریدہ اسلمی کا جھنڈا

-: بریدہ اسلمی کا جھنڈا

جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مدینہ کے قریب پہنچ گئے تو “بریدہ اسلمی” قبیلۂ بنی سہم کے ستر سواروں کو ساتھ لے کر اس لالچ میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لئے آئے کہ قریش سے ایک سو اونٹ انعام مل جائے گا۔ مگر جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے آئے اور پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں محمد بن عبداﷲ ہوں اور خدا کا رسول ہوں۔ جمال و جلال نبوت کا ان کے قلب پر ایسا اثر ہوا کہ فوراً ہی کلمہ شہادت پڑھ کر دامن اسلام میں آ گئے اور کمال عقیدت سے یہ درخواست پیش کی کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میری تمنا ہے کہ مدینہ میں حضور کا داخلہ ایک جھنڈے کے ساتھ ہونا چاہیے، یہ کہا اور اپنا عمامہ سر سے اتار کر اپنے نیزہ پر باندھ لیا اور حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے علمبردار بن کر مدینہ تک آگے آگے چلتے رہے۔ پھر دریافت کیا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آپ مدینہ میں کہاں اتریں گے تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری اونٹنی خدا کی طرف سے مامور ہے۔ یہ جہاں بیٹھ جائے گی وہی میری قیام گاہ ہے۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۶۲)

-: حضرت زبیر کے بیش قیمت کپڑے

-: حضرت زبیر کے بیش قیمت کپڑے

اس سفر میں حسن اتفاق سے حضرت زبیر بن العوام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہو گئی جو حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے بیٹے ہیں۔ یہ ملک شام سے تجارت کا سامان لے کر آ رہے تھے۔ انہوں نے حضورِ انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں چند نفیس کپڑے بطور نذرانہ کے پیش کیے جن کو تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے قبول فرما لیا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۶۳)

-: شہنشاہ رسالت مدینہ میں

-: شہنشاہ رسالت مدینہ میں

حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی آمد آمد کی خبر چونکہ مدینہ میں پہلے سے پہنچ چکی تھی اور عورتوں بچوں تک کی زبانوں پر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا چرچا تھا۔ اس لئے اہل مدینہ آپ کے دیدار کے لئے انتہائی مشتاق و بے قرار تھے۔ روزانہ صبح سے نکل نکل کر شہر کے باہر سراپا انتظار بن کر استقبال کے لئے تیار رہتے تھے اور جب دھوپ تیز ہو جاتی تو حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاتے۔ ایک دن اپنے معمول کے مطابق اہل مدینہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی راہ دیکھ کر واپس جا چکے تھے کہ ناگہاں ایک یہودی نے اپنے قلعہ سے دیکھا کہ تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سواری مدینہ کے قریب آن پہنچی ہے۔ اس نے بہ آواز بلند پکارا کہ اے مدینہ والو ! لو تم جس کا روزانہ انتظار کرتے تھے وہ کاروانِ رحمت آگیا۔ یہ سن کر تمام انصار بدن پر ہتھیار سجا کر اور وجد و شادمانی سے بے قرار ہو کر دونوں عالم کے تاجدار صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا استقبال کرنے کے لئے اپنے گھروں سے نکل پڑے اور نعرہ تکبیر کی آوازوں سے تمام شہر گونج اُٹھا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۶۳ وغيره)

مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلہ پر جہاں آج “مسجد قبا” بنی ہوئی ہے۔ ۱۲ ربیع الاول کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم رونق افروز ہوئے اور قبیلۂ عمرو بن عوف کے خاندان میں حضرت کلثوم بن ہدم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان میں تشریف فرما ہوئے۔ اہل خاندان نے اس فخر و شرف پر کہ دونوں عالم کے میزبان ان کے مہمان بنے اﷲ اکبر کا پر جوش نعرہ مارا۔ چاروں طرف سے انصار جوشِ مسرت میں آتے اور بارگاہ رسالت میں صلاۃ و سلام کا نذرانہ عقیدت پیش کرتے۔ اکثر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تھے وہ لوگ بھی اس مکان میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی حکم نبوی کے مطابق قریش کی امانتیں واپس لوٹا کر تیسرے دن مکہ سے چل پڑے تھے وہ بھی مدینہ آ گئے اور اسی مکان میں قیام فرمایا اور حضرتِ کلثوم بن ہدم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور ان کے خاندان والے ان تمام مقدس مہمانوں کی مہمان نوازی میں دن رات مصروف رہنے لگے ۔

(مدارج النبوة ج ۲ ص۶۳ و بخاری ج۱ ص۵۶۰)

اﷲ اکبر ! عمرو بن عوف کے خاندان میں حضرت سید الانبیاء صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم و سید الاولیاء اور صالحین صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے نورانی اجتماع سے ایسا سماں بندھ گیا ہو گا کہ غالباً چاند، سورج اور ستارے حیرت کے ساتھ اس مجمع کو دیکھ کر زبانِ حال سے کہتے ہوں گے کہ یہ فیصلہ مشکل ہے کہ آج انجمن آسمان زیادہ روشن ہے یا حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مکان ؟ اور شاید خاندان عمر و بن عوف کا بچہ بچہ جوشِ مسرت سے مسکرا مسکرا کر زبانِ حال سے یہ نغمہ گاتا ہو گا کہ

اُن کے قدم پہ میں نثارجن کے قدوم ناز نےsss

اُجڑے ہوئے دیار کو رشک چمن بنا دیا

اَللّٰهمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ وَ بَارِكْ عَلٰي سَيِّدِنَا وَ مَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّ آلِه وَ صَحْبِه وَ بَارِكْ وَ سَلِّمْ