ہجرت کا چھٹا سال

-: بیعۃ الرضوان

-: صلح حدیبیہ کیونکر ہوئی

-: حضرت ابو جندل کا معاملہ

-: مظلومین مکہ

-: حضرت ابو بصیر کا کارنامہ

-: سلاطین کے نام دعوت اسلام

-: نامہ مبارک اور قیصر

-: خسرو پرویز کی بددماغی

-: نجاشی کا کردار

-: شاہ مصر کا برتاؤ

-: بادشاہ یمامہ کا جواب

-: حارث غسانی کا گھمنڈ

-: سریۂ نجد

-: ابو رافع قتل کردیا گیا

-: ابو رافع قتل کردیا گیا

۶ھ کے واقعات میں سے ابو رافع یہودی کا قتل بھی ہے۔ ابو رافع یہودی کا نام عبداللہ بن ابی الحقیق یا سلام بن الحقیق تھا۔ یہ بہت ہی دولت مند تاجر تھا لیکن اسلام کا زبردست دشمن اور بارگاہ نبوت کی شان میں نہایت ہی بدترین گستاخ اور بے ادب تھا۔ یہ وہی شخص ہے جو حیی بن اخطب یہودی کے ساتھ مکہ گیا اور کفار قریش اور دوسرے قبائل کو جوش دلا کر غزوۂ خندق میں مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے دس ہزار کی فوج لے کر آیا تھا اور ابو سفیان کو اُبھار کر اسی نے اس فوج کا سپہ سالار بنایا تھا۔ حیی بن اخطب تو جنگ خندق کے بعد غزوہ بنی قریظہ میں مارا گیا تھا مگر یہ بچ نکلا تھا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایذارسانی اور اسلام کی بیخ کنی میں تن، من، دھن سے لگا ہوا تھا۔ انصار کے دونوں قبیلوں اوس اور خزرج میں ہمیشہ مقابلہ رہتا تھا اور یہ دونوں اکثر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ چونکہ قبیلہ اوس کے لوگوں حضرت محمد بن مسلمہ وغیرہ نے ۳ ھ میں بڑے خطرہ میں پڑ کر ایک دشمن رسول ” کعب بن اشرف یہودی ” کو قتل کیا تھا۔ اس لئے قبیلۂ خزرج کے لوگوں نے مشورہ کیا کہ اب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا سب سے بڑا دشمن ” ابو رافع” رہ گیا ہے۔ لہٰذا ہم لوگوں کو چاہئے کہ اس کو قتل کر ڈالیں تا کہ ہم لوگ بھی قبیلہ اوس کی طرح ایک دشمن رسول کو قتل کرنے کا اجر و ثواب حاصل کرلیں۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عتیک و عبداللہ بن انیس و ابو قتادہ و حارث بن ربعی و مسعود بن سنان و خزاعی بن اسود رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس کے لئے مستعد اور تیار ہوئے۔ ان لوگوں کی درخواست پر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس جماعت کا امیر مقرر فرما دیا اور ان لوگوں کو منع کردیا کہ بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کیا جائے۔

(زرقاني علي المواهب ج۲ ص۱۶۳ )

حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابو رافع کے محل کے پاس پہنچے اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ تم لوگ یہاں بیٹھ کر میری آمد کا انتظار کرتے رہو اور خود بہت ہی خفیہ تدبیروں سے رات میں اس کے محل کے اندر داخل ہوگئے اور اس کے بستر پر پہنچ کر اندھیرے میں اس کو قتل کردیا۔ جب محل سے نکلنے لگے تو سیڑھی سے گر پڑے جس سے ان کے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ مگر انہوں نے فوراً ہی اپنی پگڑی سے اپنے ٹوٹے ہوئے پاؤں کو باندھ دیااور کسی طرح محل سے باہر آگئے۔ پھر اپنے ساتھیوں کی مدد سے مدینہ پہنچے۔ جب دربار رسالت میں حاضر ہو کر ابو رافع کے قتل کا سارا ماجرا بیان کیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” پاؤں پھیلاؤ ” انہوں نے پاؤں پھیلایا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک ان کے پاؤں پر پھرا دیا۔ فوراً ہی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑ گئی اور ان کا پاؤں بالکل صحیح و سالم ہوگیا۔

(بخاری ج۱ ص۲۲۴ باب قتل النائم المشرک )

-: بادشاہ یمامہ کا جواب