ہجرت کا نواں سال

-: آیت تخییر و ایلاء

-: آیت تخییر و ایلاء

” تخییر ” اور “ایلاء” یہ شریعت کے دو اصطلاحی الفاظ ہیں۔ شوہر اپنی بیوی کو اپنی طرف سے یہ اختیار دے دے کہ وہ چاہے تو طلاق لے لے اور چاہے تو اپنے شوہر ہی کے نکاح میں رہ جائے اس کو ” تخییر ” کہتے ہیں۔ اور “ایلاء” یہ ہے کہ شوہر یہ قسم کھا لے کہ میں اپنی بیوی سے صحبت نہیں کروں گا۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن سے ناراض ہو کر ایک مہینہ کا “ایلاء” فرمایا یعنی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ قسم کھا لی کہ میں ایک ماہ تک اپنی ازواج مقدسہ سے صحبت نہیں کروں گا۔ پھر اس کے بعد آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی تمام مقدس بیویوں کو طلاق حاصل کرنے کا اختیار بھی سونپ دیا مگر کسی نے بھی طلاق لینا پسند نہیں کیا۔

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ناراضگی اور عتاب کا سبب کیا تھا اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے “تخییر و ایلاء” کیوں فرمایا ؟ اس کا واقعہ یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس بیویاں تقریباً سب مالدار اور بڑے گھرانوں کی لڑکیاں تھیں۔ ” حضرت ام حبیبہ ” رضی اﷲ تعالیٰ عنہا رئیس مکہ حضرت ابو سفیان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔ ” حضرت جویریہ ” رضی اﷲ تعالیٰ عنہا قبیلہ بنی المصطلق کے سردار اعظم حارث بن ضرار کی بیٹی تھیں۔ ” حضرت صفیہ ” رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بنو نضیر اور خیبر کے رئیس اعظم حیی بن اخطب کی نور نظر تھیں۔ “حضرت عائشہ” رضی اﷲ تعالیٰ عنہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی پیاری بیٹی تھیں۔ “حضرت حفصہ” رضی اﷲ تعالیٰ عنہا حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی چہیتی صاحبزادی تھیں۔ “حضرت زینب بنت جحش” اور “حضرت اُمِ سلمہ” رضی اﷲ تعالیٰ عنہما بھی خاندانِ قریش کے اونچے اونچے گھروں کی ناز و نعمت میں پلی ہوئی لڑکیاں تھیں۔ ظاہر ہے کہ یہ امیر زادیاں بچپن سے امیرانہ زندگی اور رئیسانہ ماحول کی عادی تھیں اور ان کا رہن سہن، خوردونوش، لباس و پوشاک سب کچھ امیرزادیوں کی رئیسانہ زندگی کا آئینہ دار تھا اور تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس زندگی بالکل ہی زاہدانہ اور دنیوی تکلفات سے یکسر بے گانہ تھی۔ دو دو مہینے کاشانہ نبوت میں چولھا نہیں جلتا تھا۔ صرف کھجور اور پانی پر پورے گھرانے کی زندگی بسر ہوتی تھی۔ لباس و پوشاک میں بھی پیغمبرانہ زندگی کی جھلک تھی مکان اور گھر کے سازو سامان میں بھی نبوت کی سادگی نمایاں تھی۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے سرمایہ کا اکثر و بیشتر حصہ اپنی امت کے غربا و فقراء پر صرف فرما دیتے تھے اور اپنی ازواجِ مطہرات کو بقدرِ ضرورت ہی خرچ عطا فرماتے تھے جو ان رئیس زادیوں کے حسب خواہ زیب و زینت اور آرائش و زیبائش کے لئے کافی نہیں ہوتا تھا۔ اس لئے کبھی کبھی ان امت کی ماؤں کا پیمانہ صبر و قناعت لبریز ہو کر چھلک جاتا تھا اور وہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے مزید رقموں کا مطالبہ اور تقاضا کرنے لگتی تھیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن نے متفقہ طور پر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ ہمارے اخراجات میں اضافہ فرمائیں۔ ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کی یہ ادائیں مہر نبوت کے قلب نازک پر بار گزریں اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سکونِ خاطر میں اس قدر خلل انداز ہوئیں کہ آپ نے برہم ہو کر یہ قسم کھا لی کہ ایک مہینہ تک ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن سے نہ ملیں گے۔ اس طرح ایک ماہ کا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے “ایلاء” فرما لیا۔

عجیب اتفاق کہ انہی ایام میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے جس سے آپ کی مبارک پنڈلی میں موچ آ گئی۔ اس تکلیف کی وجہ سے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بالاخانہ پر گوشہ نشینی اختیار فرما لی اور سب سے ملنا جلنا چھوڑ دیا۔

صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے واقعات کے قرینوں سے یہ قیاس آرائی کر لی کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی تمام مقدس بیویوں کو طلاق دے دی اور یہ خبر جو بالکل ہی غلط تھی بجلی کی طرح پھیل گئی۔ اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم رنج و غم سے پریشان حال اور اس صدمہ جانکاہ سے نڈھال ہونے لگے۔

اس کے بعد جو واقعات پیش آئے وہ بخاری شریف کی متعدد روایات میں مفصل طورپر مذکور ہیں۔ ان واقعات کا بیان حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی زَبان سے سنیے۔

حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں اور میرا ایک پڑوسی جو انصاری تھا ہم دونوں نے آپس میں یہ طے کر لیا تھا کہ ہم دونوں ایک ایک دن باری باری سے بارگاہ رسالت میں حاضری دیا کریں گے اور دن بھر کے واقعات سے ایک دوسرے کو مطلع کرتے رہیں گے۔ ایک دن کچھ رات گزرنے کے بعد میرا پڑوسی انصاری آیا اور زور زور سے میرا دروازہ پیٹنے اور چلا چلا کر مجھے پکارنے لگا۔ میں نے گھبرا کر دروازہ کھولا تو اس نے کہا کہ آج غضب ہو گیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا غسانیوں نے مدینہ پر حملہ کر دیا ؟ (ان دنوں شام کے غسانی مدینہ پر حملہ کی تیاریاں کر رہے تھے۔) انصاری نے جواب دیا کہ اجی اس سے بھی بڑھ کر حادثہ رونما ہو گیا۔ وہ یہ کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی تمام بیویوں کو طلاق دے دی۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس خبر سے بے حد مُتوحّش ہو گیا اور علی الصباح میں نے مدینہ پہنچ کر مسجد نبوی میں نماز فجر ادا کی۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوتے ہی بالاخانہ پر جا کر تنہا تشریف فرما ہو گئے اور کسی سے کوئی گفتگو نہیں فرمائی۔ میں مسجد سے نکل کر اپنی بیٹی حفصہ کے گھر گیا تو دیکھا کہ وہ بیٹھی رو رہی ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ میں نے پہلے ہی تم کو سمجھا دیا تھا کہ تم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو تنگ مت کیا کرو اور تمہارے اخراجات میں جو کمی ہوا کرے وہ مجھ سے مانگ لیا کرو مگر تم نے میری بات پر دھیان نہیں دیا۔ پھر میں نے پوچھا کہ کیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے سبھوں کو طلاق دے دی ہے ؟ حفصہ نے کہا میں کچھ نہیں جانتی۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بالاخانہ پر ہیں آپ ان سے دریافت کریں۔ میں وہاں سے اُٹھ کر مسجد میں آیا تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بھی دیکھا کہ وہ منبر کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں۔ میں ان کے پاس تھوڑی دیر بیٹھا لیکن میری طبیعت میں سکون و قرار نہیں تھا۔ اس لئے میں اُٹھ کر بالاخانہ کے پاس آیا اور پہرہ دار غلام ” رباح ” سے کہا کہ تم میرے لئے اندر آنے کی اجازت طلب کرو۔ رباح نے لوٹ کر جواب دیا کہ میں نے عرض کر دیا لیکن آ پ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میری اُلجھن اور بے تابی اور زیادہ بڑھ گئی اور میں نے دربان سے دوبارہ اجازت طلب کرنے کی درخواست کی پھر بھی کوئی جواب نہیں ملا۔ تو میں نے بلند آواز سے کہا کہ اے رباح ! تم میرا نام لے کر اجازت طلب کرو۔ شاید رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ خیال ہو کہ میں اپنی بیٹی حفصہ کے لئے کوئی سفارش لے کر آیا ہوں۔ تم عرض کر دو کہ خدا کی قسم ! اگر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مجھے حکم فرمائیں تو میں ابھی ابھی اپنی تلوار سے اپنی بیٹی حفصہ کی گردن اڑا دوں۔ اس کے بعد مجھ کو اجازت مل گئی جب میں بارگاہِ رسالت میں باریاب ہوا تو میری آنکھوں نے یہ منظر دیکھا کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک کھری بان کی چارپائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جسم نازک پر بان کے نشان پڑے ہوئے ہیں پھر میں نے نظر اٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھا تو ایک طرف تھوڑے سے ” جو ” رکھے ہوئے تھے اور ایک طرف ایک کھال کھونٹی پر لٹک رہی تھی۔ تاجدارِ دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے خزانہ کی یہ کائنات دیکھ کر میرا دل بھر آیا اور میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے میرے رونے کا سبب پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس سے بڑھ کر رونے کا اور کونسا موقع ہو گا ؟ کہ قیصر و کسریٰ خدا کے دشمن تو نعمتوں میں ڈوبے ہوئے عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہے ہیں اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خدا کے رسول معظم ہوتے ہوئے اس حالت میں ہیں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے عمر ! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ قیصر و کسریٰ دنیا لیں اور ہم آخرت !

اس کے بعد میں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو مانوس کرنے کے لئے کچھ اور بھی گفتگو کی یہاں تک کہ میری بات سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے لب انور پر تبسم کے آثار نمایاں ہو گئے۔ اس وقت میں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کیا آپ نے اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کو طلاق دے دی ہے ؟ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” نہیں ” مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ فرط مسرت سے میں نے تکبیر کا نعرہ مارا۔ پھر میں نے یہ گزارش کی یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم مسجد میں غم کے مارے بیٹھے رو رہے ہیں اگر اجازت ہو تو میں جا کر ان لوگوں کو مطلع کر دوں کہ طلاق کی خبر سراسر غلط ہے۔ چنانچہ مجھے اس کی اجازت مل گئی اور میں نے جب آ کر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو اس کی خبر دی تو سب لوگ خوش ہو کر ہشاش بشاش ہو گئے اور سب کو سکون و اطمینان حاصل ہو گیا۔

جب ایک مہینہ گزر گیا اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی قسم پوری ہو گئی تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بالاخانہ سے اتر آئے اس کے بعد ہی آیت تخییر نازل ہوئی جو یہ ہے :

ٰۤياَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوٰجِكَ اِنْ کُنْـتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَ زِيْنَتَهَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا ﴿۲۸﴾ وَ اِنْ کُنْـتُنَّ تُرِدْنَ اللهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِيْمًا ﴿۲۹﴾

(احزاب)

اے نبی ! اپنی بیویوں سے فرما دیجئے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اسکی آرائش چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دوں اور اچھی طرح چھوڑ دوں اور اگر تم اﷲ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو بے شک اﷲ نے تمہاری نیکی والیوں کے لئے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔

ان آیاتِ بینات کا ماحصل اور خلاصہ مطلب یہ ہے کہ رسولِ خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو خداوند ِ قدوس نے یہ حکم دیا کہ آپ اپنی مقدس بیویوں کو مطلع فرما دیں کہ دو چیزیں تمہارے سامنے ہیں۔ ایک دنیا کی زینت و آرائش دوسری آخرت کی نعمت۔ اگر تم دنیا کی زیب و زینت چاہتی ہو تو پیغمبر کی زندگی چونکہ بالکل ہی زاہدانہ زندگی ہے اس لئے پیغمبر کے گھر میں تمہیں یہ دنیوی زینت و آرائش تمہاری مرضی کے مطابق نہیں مل سکتی، لہٰذا تم سب مجھ سے جدائی حاصل کر لو۔ میں تمہیں رخصتی کا جوڑا پہنا کر اور کچھ مال دے کر رخصت کر دوں گا۔ اور اگر تم خدا و رسول اور آخرت کی نعمتوں کی طلب گار ہو تو پھر رسولِ خدا کے دامنِ رحمت سے چمٹی رہو۔ خداعزوجل نے تم نیکوکاروں کے لئے بہت ہی بڑا اجر و ثواب تیار کر رکھا ہے جو تم کو آخرت میں ملے گا۔

(بخاری کتاب الطلاق کتاب العلم۔ کتاب اللباس باب موعظة الرجل ابنته لحال زوجها)

اس آیت کے نزول کے بعد سب سے پہلے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اے عائشہ ! میں تمہارے سامنے ایک بات رکھتا ہوں مگر تم اس کے جواب میں جلدی مت کرنا اور اپنے والدین سے مشورہ کر کے مجھے جواب دینا۔ اس کے بعد آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا تخییر کی آیت تلاوت فرما کر ان کو سنائی تو انہوں نے برجستہ عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم

يفَفِيْ اَيِّ هٰذَا اَسْتَامِرُ اَبَوَيَّ فَاِنِّيْ اُرِيْدُ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَالدَّارَ الْاٰخِرَةَ

(بخاری ج۲ ص۷۹۲ باب من خير نساء )

اس معاملہ میں بھلا میں کیا اپنے والدین سے مشورہ کروں میں اﷲ اور اسکے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہوں۔ پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یکے بعد دیگرے تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کو الگ الگ آیت تخییر سنا سنا کر سب کو اختیار دیا اور سب نے وہی جواب دیا جو حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا تھا۔

اﷲ اکبر ! یہ واقعہ اس بات کی آفتاب سے زیادہ روشن دلیل ہے کہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات سے کس قدر عاشقانہ شیفتگی اور والہانہ محبت تھی کہ کئی کئی سوکنوں کی موجودگی اور خانہ نبوت کی سادہ اور زاہدانہ طرزِ معاشرت اور تنگی ترشی کی زندگی کے باوجود یہ رئیس زادیاں ایک لمحہ کے لئے بھی رسول کے دامن رحمت سے جدائی گوارا نہیں کر سکتی تھیں۔

-: ایک غلط فہمی کا ازالہ

-: ایک غلط فہمی کا ازالہ

احادیث کی روایتوں اور تفسیروں میں ” ایلاء ” آیت ” تخییر ” اور حضرت عائشہ و حفصہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کا ” مظاہرہ ” ان واقعات کو عام طور پر الگ الگ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ گویا یہ مختلف زمانوں کے مختلف واقعات ہیں۔ اس سے ایک کم علم و کم فہم اور ظاہربین انسان کو یہ دھوکہ ہو سکتا ہے کہ شاید رسول خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کی ازواجِ مطہرات کے تعلقات خوشگوار نہ تھے اور کبھی ” ایلاء ” کبھی ” تخییر ” کبھی ” مظاہرہ ” ہمیشہ ایک نہ ایک جھگڑا ہی رہتا تھا لیکن اہل علم پر مخفی نہیں کہ یہ تینوں واقعات ایک ہی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔ چنانچہ بخاری شریف کی چند روایات خصوصاً بخاری کتاب النکاح باب موعظة الرجل ابنته لحال زوجها میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کی جو مفصل روایت ہے، اس میں صاف طور پر یہ تصریح ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ایلاء کرنا اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن سے الگ ہو کر بالا خانہ پر تنہا نشینی کر لینا، حضرت عائشہ و حضرت حفصہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کا مظاہرہ کرنا، آیت تخییر کا نازل ہونا، یہ سب واقعات ایک دوسرے سے منسلک اور جڑے ہوئے ہیں اور ایک ہی وقت میں یہ سب واقع ہوئے ہیں۔ ورنہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے خوشگوار تعلقات جس قدر عاشقانہ اُلفت و محبت کے آئینہ دار رہے ہیں قیامت تک اس کی مثال نہیں مل سکتی اور نبوت کی مقدس زندگی کے بے شمار واقعات اس اُلفت و محبت کے تعلقات پر گواہ ہیں۔ جو احادیث و سیرت کی کتابوں میں آسمان کے ستاروں کی طرح چمکتے اور داستانِ عشق و محبت کے چمنستانوں میں موسم بہار کے پھولوں کی طرح مہکتے ہیں۔

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰي سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِهٖ وَ اَصْحَابِهٖ وَ اَزْوَاجِهِ الْطَاهِرَاتِ اُمَّهَاتِ الْمُوْمِنِيْنَ اَبَدَ الْاَبَدِيْنَ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ

-: عاملوں کا تقرر

-: عاملوں کا تقرر

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ۹ ھ محرم کے مہینے میں زکوٰۃ و صدقات کی وصولی کے لئے عاملوں اور محصّلوں کو مختلف قبائل میں روانہ فرمایا۔ ان امراء و عاملین کی فہرست میں مندرج ذیل حضرات خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں جن کو ابن سعد نے ذکر فرمایا ہے۔

(۱) حضرت عیینہ بن حصنرضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنی تمیم کی طرف

(۲) حضرت یزید بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسلم و غفار

(۳) حضرت عباد بن بشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلیم و مزینہذ

(۴) حضرت رافع بن مکیث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جہینہ کی طرف

(۵) حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنی فزارہ

(۶) حضرت ضحاک بن سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنی کلاب

(۷) حضرت بشر بن سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنی کعب

(۸) حضرت ابن اللبتیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بنی ذبیان

(۹) حضرت مہاجربن ابی امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صنعاء

(۱۰) حضرت زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضر موت

(۱۱) حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قبیلہ طی وبنی اسعد

(۱۲) حضرت مالک بن نویرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بنی حنظلہ

(۱۳) حضرت زبرقان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنی سعد کے نصف حصہ

(۱۴) حضرت قیس بن عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو

(۱۵) حضرت علاء بن الحضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بحرین

(۱۶) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نجران

یہ حضور شہنشاہ رسالت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے امراء اور عاملین ہیں جن کو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے زکوٰۃ و صدقات و جزیہ وصول کرنے کے لئے مقرر فرمایا تھا۔

(اصح السير ص۳۳۵)

-: بنی تمیم کا وفد

-: بنی تمیم کا وفد

محرم ۹ ھ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بشر بن سفیان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بنی خزاعہ کے صدقات وصول کرنے کے لئے بھیجا۔ انہوں نے صدقات وصول کرکے جمع کئے کہ ناگہاں ان پر بنی تمیم نے حملہ کر دیا وہ اپنی جان بچا کر کسی طرح مدینہ آ گئے اور سارا ماجرا بیان کیا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بنی تمیم کی سرکوبی کے لئے حضرت عیینہ بن حصن فزاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو پچاس سواروں کے ساتھ بھیجا۔ انہوں نے بنی تمیم پر ان کے صحرا میں حملہ کرکے ان کے گیارہ مردوں، اکیس عورتوں اور تیس لڑکوں کو گرفتار کر لیا اور ان سب قیدیوں کو مدینہ لائے۔

(زرقانی ج۳ ص۴۳)

اس کے بعد بنی تمیم کا ایک وفد مدینہ آیا جس میں اس قبیلے کے بڑے بڑے سردار تھے اور ان کا رئیس اعظم اقرع بن حابس اور ان کا خطیب ” عطارد ” اور شاعر ” زبرقان بن بدر ” بھی اس وفد میں ساتھ آئے تھے۔ یہ لوگ دندناتے ہوئے کاشانہ نبوت کے پاس پہنچ گئے اور چلانے لگے کہ آپ نے ہماری عورتوں اور بچوں کو کس جرم میں گرفتار کرر کھا ہے۔

اس وقت میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے حجرۂ مبارکہ میں قیلولہ فرما رہے تھے۔ ہر چند حضرت بلال اور دوسرے صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے ان لوگوں کو منع کیا کہ تم لوگ کاشانۂ نبوی کے پاس شور نہ مچاؤ۔ نماز ظہر کے لئے خود حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لانے والے ہیں۔ مگر یہ لوگ ایک نہ مانے شور مچاتے ہی رہے جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم باہر تشریف لا کر مسجد نبوی میں رونق افروز ہوئے تو بنی تمیم کا رئیس اعظم اقرع بن حابس بولا کہ اے محمد ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم گفتگو کریں کیونکہ ہم وہ لوگ ہیں کہ جس کی مدح کردیں وہ مزین ہو جاتا ہے اور ہم لوگ جس کی مذمت کر دیں وہ عیب سے داغدار ہو جاتا ہے۔

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ غلط کہتے ہو۔ یہ خداوند تعالیٰ ہی کی شان ہے کہ اس کی مدح زینت اور اس کی مذمت داغ ہے تم لوگ یہ کہو کہ تمہارا مقصد کیا ہے ؟ یہ سن کر بنی تمیم کہنے لگے کہ ہم اپنے خطیب اور اپنے شاعر کو لے کر یہاں آئے ہیں تا کہ ہم اپنے قابل فخر کارناموں کو بیان کریں اور آپ اپنے مفاخر کو پیش کریں۔

آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ میں شعر و شاعری کے لئے بھیجا گیا ہوں نہ اس طرح کی مفاخرت کا مجھے خدا عزوجل کی طرف سے حکم ملا ہے۔ میں تو خدا کا رسول ہوں اس کے باوجود اگر تم یہی کرنا چاہتے ہو تو میں تیار ہوں۔

یہ سنتے ہی اقرع بن حابس نے اپنے خطیب عطارد کی طرف اشارہ کیا۔ اس نے کھڑے ہو کر اپنے مفاخر اور اپنے آباء واجداد کے مناقب پر بڑی فصاحت و بلاغت کے ساتھ ایک دھواں دھار خطبہ پڑھا۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے انصار کے خطیب حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو جواب دینے کا حکم فرمایا۔ انہوں نے اٹھ کر برجستہ ایسا فصیح و بلیغ اور موثر خطبہ دیا کہ بنی تمیم ان کے زورِ کلام اور مفاخر کی عظمت سن کر دنگ رہ گئے۔ اور ان کا خطیب عطارد بھی ہکا بکا ہو کر شرمندہ ہو گیا پھر بنی تمیم کا شاعر ” زبرقان بن بدر ” اٹھا اور اس نے ایک قصیدہ پڑھا۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اشارہ فرمایا تو انہوں نے فی البدیہہ ایک ایسا مرصع اور فصاحت و بلاغت سے معمور قصیدہ پڑھ دیا کہ بنی تمیم کا شاعر اُلو بن گیا۔ بالآخر اقرع بن حابس کہنے لگا کہ خدا کی قسم ! محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو غیب سے ایسی تائید و نصرت حاصل ہو گئی ہے کہ ہر فضل و کمال ان پر ختم ہے۔ بلاشبہ ان کا خطیب ہمارے خطیب سے زیادہ فصیح و بلیغ ہے اور ان کا شاعر ہمارے شاعر سے بہت بڑھ چڑھ کر ہے۔ اس لئے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مطیع و فرمانبردار ہو گئے اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے۔ پھر ان لوگوں کی درخواست پر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے قیدیوں کو رہا فرما دیا اور یہ لوگ اپنے قبیلے میں واپس چلے گئے۔

انہی لوگوں کے بارے میں قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی کہ

اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَکْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰي تَخْرُجَ اِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ط وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ

(حجرات)

بے شک وہ جو آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں۔ ان میں اکثر بے عقل ہیں اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ ان کے پاس تشریف لاتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا اور اﷲ بخشنے والا مہربان ہے۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۳۳۲ و زرقانی ج۳ ص۴۴)

-: حاتم طائی کی بیٹی اور بیٹا مسلمان

-: حاتم طائی کی بیٹی اور بیٹا مسلمان

ربیع الآ خر ۹ ھ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ماتحتی میں ایک سو پچاس سواروں کو اس لئے بھیجا کہ وہ قبیلہ “طی” کے بت خانہ کو گرا دیں۔ ان لوگوں نے شہر فلس میں پہنچ کر بت خانہ کو منہدم کر ڈالا اور کچھ اونٹوں اور بکریوں کو پکڑ کر اور چند عورتوں کو گرفتار کرکے یہ لوگ مدینہ لائے۔ ان قیدیوں میں مشہور سخی حاتم طائی کی بیٹی بھی تھی۔ حاتم طائی کا بیٹا عدی بن حاتم بھاگ کر ملک ِ شام چلا گیا۔ حاتم طائی کی لڑکی جب بارگاہ رسالت میں پیش کی گئی تو اس نے کہا یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میں ” حاتم طائی ” کی لڑکی ہوں۔ میرے باپ کا انتقال ہو گیا اور میرا بھائی ” عدی بن حاتم ” مجھے چھوڑ کر بھاگ گیا۔ میں ضعیفہ ہوں آپ مجھ پر احسان کیجئے خدا آپ پر احسان کرے گا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو چھوڑ دیا اور سفر کے لئے ایک اونٹ بھی عنایت فرمایا۔ یہ مسلمان ہو کر اپنے بھائی عدی بن حاتم کے پاس پہنچی اور اس کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخلاقِ نبوت سے آگاہ کیا اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بہت زیادہ تعریف کی۔ عدی بن حاتم اپنی بہن کی زبانی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلق عظیم اور عاداتِ کریمہ کے حالات سن کر بے حد متاثر ہوئے اور بغیر کوئی امان طلب کئے ہوئے مدینہ حاضر ہو گئے۔ لوگوں نے بارگاہ نبوت میں یہ خبر دی کہ عدی بن حاتم آ گیا ہے۔ حضور رحمۃ للعالمین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے انتہائی کریمانہ انداز سے عدی بن حاتم کے ہاتھ کو اپنے دست ِ رحمت میں لے لیا اور فرمایا کہ اے عدی ! تم کس چیز سے بھاگے ؟ کیا لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ کہنے سے تم بھا گے ؟ کیا خدا کے سوا کوئی اور معبود بھی ہے ؟ عدی بن حاتم نے کہا کہ ” نہیں ” پھر کلمہ پڑھ لیا اور مسلمان ہو گئے ان کے اسلام قبول کرنے سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس قدر خوشی ہوئی کہ فرطِ مسرت سے آپ کا چہرۂ انور چمکنے لگا اور آپ نے ان کو خصوصی عنایات سے نوازا۔

حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی اپنے باپ حاتم کی طرح بہت ہی سخی تھے۔ حضرت امام احمد ناقل ہیں کہ کسی نے ان سے ایک سو درہم کا سوال کیا تو یہ خفا ہوگئے اور کہا کہ تم نے فقط ایک سو درہم ہی مجھ سے مانگا تم نہیں جانتے کہ میں حاتم کا بیٹا ہوں خدا کی قسم ! میں تم کو اتنی حقیر رقم نہیں دوں گا۔

یہ بہت ہی شاندار صحابی ہیں، خلافت صدیق اکبر میں جب بہت سے قبائل نے اپنی زکوٰۃ روک دی اور بہت سے مرتد ہو گئے یہ اس دور میں بھی پہاڑ کی طرح اسلام پر ثابت قدم رہے اور اپنی قوم کی زکوٰۃ لا کر بارگاہ خلافت میں پیش کی اور عراق کی فتوحات اور دوسرے اسلامی جہادوں میں مجاہد کی حیثیت سے شریک ہوئے اور ۶۸ ھ میں ایک سو بیس برس کی عمر پا کر وصال فرمایا اور صحاح ستہ کی ہر کتاب میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کردہ حدیثیں مذکور ہیں۔

(زرقانی ج۳ ص۵۳ و مدارج ج۲ ص۳۳۷)

-: غزوۂ تبوک

-: غزوۂ تبوک

” تبوک” مدینہ اور شام کے درمیان ایک مقام کا نام ہے جو مدینہ سے چودہ منزل دور ہے۔ بعض مؤرخین کا قول ہے کہ “تبوک” ایک قلعہ کا نام ہے اور بعض کا قول ہے کہ “تبوک” ایک چشمہ کا نام ہے ۔ ممکن ہے یہ سب باتیں موجود ہوں! یہ غزوہ سخت قحط کے دنوں میں ہوا۔ طویل سفر، ہواگرم، سواری کم، کھانے پینے کی تکلیف، لشکر کی تعداد بہت زیادہ، اس لیے اس غزوہ میں مسلمانوں کو بڑی تنگی اور تنگ دستی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ اس غزوہ کو “جیش العسرۃ” (تنگ دستی کا لشکر) بھی کہتے ہیں اور چونکہ منافقوں کو اس غزوہ میں بڑی شرمندگی اور شرمساری اٹھانی پڑی تھی۔ اس وجہ سے اس کا ایک نام “غزوہ فاضحہ” (رسوا کرنے والا غزوہ) بھی ہے۔ اس پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ اس غزوہ کے لئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ماہ رجب ۹ ھ جمعرات کے دن روانہ ہوئے۔

(زرقانی ج ۳ص ۶۳)

-: غزوۂ تبوک کا سبب

-: غزوۂ تبوک کا سبب

عرب کا غسانی خاندان جو قیصر روم کے زیر اثر ملک شام پر حکومت کرتا تھا چونکہ وہ عیسائی تھا اس لیے قیصر روم نے اس کو اپنا آلہ کار بنا کر مدینہ پر فوج کشی کا عزم کرلیا۔ چنانچہ ملک شام کے جو سوداگر روغن زیتون بیچنے مدینہ آیا کرتے تھے۔ انہوں نے خبر دی کہ قیصر روم کی حکومت نے ملک ِ شام میں بہت بڑی فوج جمع کردی ہے۔ اور اس فوج میں رومیوں کے علاوہ قبائل لخم و جذام اور غسان کے تمام عرب بھی شامل ہیں۔ ان خبروں کا تمام عرب میں ہر طرف چرچا تھا اور رومیوں کی اسلام دشمنی کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں تھی اس لیے ان خبروں کو غلط سمجھ کر نظر انداز کردینے کی بھی کوئی وجہ نہیں تھی۔ اس لیے حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی فوج کی تیاری کا حکم دے دیا۔

لیکن جیسا کہ ہم تحریر کرچکے ہیں کہ اس وقت حجازِ مقدس میں شدید قحط تھا اور بے پناہ شدت کی گرمی پڑ رہی تھی ان وجوہات سے لوگوں کو گھر سے نکلنا شاق گزر رہا تھا۔ مدینہ کے منافقین جن کے نفاق کا بھانڈا پھوٹ چکا تھا وہ خود بھی فوج میں شامل ہونے سے جی چراتے تھے اور دوسروں کو بھی منع کرتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود تیس ہزار کا لشکر جمع ہو گیا۔ مگر ان تمام مجاہدین کے لیے سواریوں اور سامان جنگ کا انتظام کرنا ایک بڑا ہی کٹھن مرحلہ تھا کیونکہ لوگ قحط کی وجہ سے انتہائی مفلوک الحال اور پریشان تھے۔ اس لیے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تمام قبائل عرب سے فوجیں اور مالی امداد طلب فرمائی۔ اس طرح اسلام میں کسی کا رخیر کے لیے چندہ کرنے کی سنت قائم ہوئی۔

-: فہرست چندہ دہندگان

-: فہرست چندہ دہندگان

حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنا سارا مال اور گھر کا تمام اثاثہ یہاں تک کہ بدن کے کپڑے بھی لا کر بارگاہ نبوت میں پیش کر دیئے۔ اور حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنا آدھا مال اس چندہ میں دے دیا۔ منقول ہے کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب اپنا نصف مال لے کر بارگاہ اقدس میں چلے تو اپنے دل میں یہ خیال کرکے چلے تھے کہ آج میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سبقت لے جاؤں گا کیونکہ اس دن کاشانۂ فاروق میں اتفاق سے بہت زیادہ مال تھا۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے دریافت فرمایا کہ اے عمر ! کتنا مال یہاں لائے اور کس قدر گھر پر چھوڑا ؟ عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) آدھا مال حاضر خدمت ہے اور آدھا مال اہل و عیال کے لئے گھر میں چھوڑ دیا ہے اور جب یہی سوال اپنے یار غار حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کیا تو انہوں نے عرض کیا کہ اِدَّ خَرْتُ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ میں نے اﷲ اور اس کے رسول کو اپنے گھر کا ذخیرہ بنا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مَا بَيْنَکُمَا مَا بَيْنَ کَلِمَتَيْكُمَا تم دونوں میں اتنا ہی فرق ہے جتنا تم دونوں کے کلاموں میں فرق ہے۔

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ایک ہزار اونٹ اور ستر گھوڑے مجاہدین کی سواری کے لئے اور ایک ہزار اشرفی فوج کے اخراجات کی مد میں اپنی آستین میں بھر کر لائے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آغوش مبارک میں بکھیر دیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو قبول فرما کر یہ دعا فرمائی کہ اَللّٰهُمَّ ارْضِ عَنْ عُثْمَانَ فَاِنِّيْ عَنْهُ رَاضٍ اے اﷲ تو عثمان سے راضی ہو جا کیونکہ میں اس سے خوش ہو گیا ہوں۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے چالیس ہزار درہم دیا اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میرے گھر میں اس وقت اسی ہزار درہم تھے۔ آدھا بارگاہ اقدس میں لایا ہوں اور آدھا گھر پر بال بچوں کے لئے چھوڑ آیا ہوں۔ ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ اس میں بھی برکت دے جو تم لائے اور اس میں بھی برکت عطا فرمائے جو تم نے گھر پر رکھا۔ اس دعاء نبوی کا یہ اثر ہوا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بہت زیادہ مالدار ہو گئے۔

اسی طرح تمام انصار و مہاجرین نے حسب توفیق اس چندہ میں حصہ لیا۔ عورتوں نے اپنے زیورات اتار اتار کر بارگاہ نبوت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔

حضرت عاصم بن عدی انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کئی من کھجوریں دیں۔ اور حضرت ابو عقیل انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو بہت ہی مفلس تھے فقط ایک صاع کھجور لے کر حاضر خدمت ہوئے اور گزارش کی کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میں نے دن بھر پانی بھر بھر کر مزدوری کی تو دو صاع کھجوریں مجھے مزدوری میں ملی ہیں۔ ایک صاع اہل و عیال کو دے دی ہے اور یہ ایک صاع حاضر خدمت ہے۔ حضور رحمۃ للعالمین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا قلب نازک اپنے ایک مفلس جاں نثار کے اس نذرانہ خلوص سے بیحد متاثر ہوا اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کھجور کو تمام مالوں کے اوپر رکھ دیا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۳۴۵ تا ص۳۴۶)

-: فوج کی تیاری

-: فوج کی تیاری

رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا اب تک یہ طریقہ تھا کہ غزوات کے معاملہ میں بہت زیادہ رازداری کے ساتھ تیاری فرماتے تھے۔ یہاں تک کہ عساکر اسلامیہ کو عین وقت تک یہ بھی نہ معلوم ہوتا تھا کہ کہاں اور کس طرف جانا ہے ؟ مگر جنگ تبوک کے موقع پر سب کچھ انتظام علانیہ طور پر کیا اور یہ بھی بتا دیا کہ تبوک چلنا ہے اور قیصر روم کی فوجوں سے جہاد کرنا ہے تا کہ لوگ زیادہ سے زیادہ تیاری کر لیں۔

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے جیسا کہ لکھا جا چکا دل کھول کر چندہ دیا مگر پھر بھی پوری فوج کے لئے سواریوں کا انتظام نہ ہو سکا۔ چنانچہ بہت سے جانباز مسلمان اسی بنا پر اس جہاد میں شریک نہ ہو سکے کہ ان کے پاس سفر کا سامان نہیں تھا یہ لوگ دربار رسالت میں سواری طلب کرنے کے لئے حاضر ہوئے مگر جب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس سواری نہیں ہے تو یہ لوگ اپنی بے سروسامانی پر اس طرح بلبلا کر روئے کہ حضوررحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان کی آہ و زاری اور بے قراری پر رحم آ گیا۔ چنانچہ قرآن مجید گواہ ہے کہ

وَلَا عَلَي الَّذِيْنَ اِذَا مَآ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآاَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ص تَوَلَّوْا وَّ اَعْيُنُهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلاَّيَجِدُوْا مَا يُنْفِقُوْنَ

(سورة التوبه)

اور نہ ان لوگوں پر کچھ حرج ہے کہ وہ جب (اے رسول) آپ کے پاس آئے کہ ہم کو سواری دیجئے اور آپ نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کروں تو وہ واپس گئے اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے کہ افسوس ہمارے پاس خرچ نہیں ہے۔

-: تبوک کو روانگی

-: تبوک کو روانگی

بہر حال حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تیس ہزار کا لشکر ساتھ لے کر تبوک کے لئے روانہ ہوئے اور مدینہ کا نظم و نسق چلانے کے لئے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اپنا خلیفہ بنایا۔ جب حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے نہایت ہی حسرت و افسوس کے ساتھ عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر خود جہاد کے لئے تشریف لئے جا رہے ہیں تو ارشاد فرمایا کہ

اَلَا تَرْضٰي اَنْ تَکُوْنَ مِنِّيْ بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰي اِلاَّ اَنَّهٗ لَيْسَ نَبِيَّ بَعْدِيْ

(بخاری ج۲ ص۶۳۳ غزوه تبوک)

کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

یعنی جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر جاتے وقت حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنی امت بنی اسرائیل کی دیکھ بھال کے لئے اپنا خلیفہ بنا کر گئے تھے اسی طرح میں تم کو اپنی امت سونپ کر جہاد کے لئے جا رہا ہوں۔

مدینہ سے چل کر مقام ” ثنیۃ الوداع ” میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قیام فرمایا۔ پھر فوج کا جائزہ لیا اور فوج کا مقدمہ، میمنہ، میسرہ وغیرہ مرتب فرمایا۔ پھر وہاں سے کوچ کیا۔ منافقین قسم قسم کے جھوٹے عذر اور بہانے بنا کر رہ گئے اور مخلص مسلمانوں میں سے بھی چند حضرات رہ گئے ان میں یہ حضرات تھے، کعب بن مالک، ہلال بن امیہ، مرارہ بن ربیع، ابوخیثمہ، ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔ ان میں سے ابو خیثمہ اور ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہما تو بعد میں جا کر شریک جہاد ہو گئے لیکن تین اول الذکر نہیں گئے۔

حضرت ابو ذر غفاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پیچھے رہ جانے کا سبب یہ ہوا کہ ان کا اونٹ بہت ہی کمزور اور تھکا ہوا تھا۔ انہوں نے اس کو چند دن چارہ کھلایا تا کہ وہ چنگا ہو جائے۔ جب روانہ ہوئے تو وہ پھر راستہ میں تھک گیا۔ مجبوراً وہ اپنا سامان اپنی پیٹھ پر لاد کر چل پڑے اور اسلامی لشکر میں شامل ہو گئے۔

(زرقانی ج۳ ص۷۱)

حضرت ابو خیثمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جانے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے مگر وہ ایک دن شدید گرمی میں کہیں باہر سے آئے تو ان کی بیوی نے چھپر میں چھڑ کاؤ کر رکھا تھا۔ تھوڑی دیر اس سایہ دار اور ٹھنڈی جگہ میں بیٹھے پھر ناگہاں ان کے دل میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا خیال آ گیا۔ اپنی بیوی سے کہا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ میں تو اپنی چھپر میں ٹھنڈک اور سایہ میں آرام و چین سے بیٹھا رہوں اور خداعزوجل کے مقدس رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس دھوپ کی تمازت اور شدید لو کے تھپیڑوں میں سفر کرتے ہوئے جہاد کے لئے تشریف لے جا رہے ہوں ایک دم ان پر ایسی ایمانی غیرت سوار ہو گئی کہ توشہ کے لئے کھجور لے کر ایک اونٹ پر سوار ہو گئے اور تیزی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے روانہ ہو گئے۔ لشکر والوں نے دور سے ایک شتر سوار کو دیکھا تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابو خیثمہ ہوں گے اس طرح یہ بھی لشکر اسلام میں پہنچ گئے۔

(زرقانی ج۳ ص۷۱)

راستے میں قوم عاد و ثمود کی وہ بستیاں ملیں جو قہر الٰہی کے عذابوں سے الٹ پلٹ کر دی گئی تھیں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں خدا کا عذاب نازل ہو چکا ہے اس لئے کوئی شخص یہاں قیام نہ کرے بلکہ نہایت تیزی کے ساتھ سب لوگ یہاں سے سفر کر کے ان عذاب کی وادیوں سے جلد باہر نکل جائیں اور کوئی یہاں کا پانی نہ پیئے اور نہ کسی کام میں لائے۔

اس غزوہ میں پانی کی قلت، شدید گرمی، سواریوں کی کمی سے مجاہدین نے بے حد تکلیف اٹھائی مگر منزل مقصود پر پہنچ کر ہی دم لیا ۔

-: راستے کے چند معجزات

-: راستے کے چند معجزات

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابو ذر غفاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ وہ سب سے الگ الگ چل رہے ہیں۔ تو ارشاد فرمایا کہ یہ سب سے الگ ہی چلیں گے اور الگ ہی زندگی گزاریں گے اور الگ ہی وفات پائیں گے۔ چنانچہ ٹھیک ایسا ہی ہوا کہ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں ان کو حکم دے دیا کہ آپ “ربذہ” میں رہیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ربذہ میں اپنی بیوی اور غلام کے ساتھ رہنے لگے۔ جب وفات کا وقت آیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم دونوں مجھ کو غسل دے کر اور کفن پہنا کر راستہ میں رکھ دینا۔ جب شتر سواروں کا پہلا گروہ میرے جنازہ کے پاس سے گزرے تو تم لوگ اس سے کہنا کہ یہ ابو ذرغفاری کا جنازہ ہے ان پر نماز پڑھ کر ان کو دفن کرنے میں ہماری مدد کرو۔ خدا عزوجل کی شان کہ سب سے پہلا جو قافلہ گزرا اس میں حضرت عبداﷲ بن مسعود صحابی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ سنا کہ یہ حضرت ابو ذر غفاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا جنازہ ہے۔ تو انہوں نے اِنَّ لِلّٰهِ وَ اِنَّآ اِلَيْهِ رَاجِعُوْن پڑھا اور قافلہ کو روک کر اتر پڑے اور کہا کہ بالکل سچ فرمایا تھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے کہ ” اے ابوذر ! تو تنہا چلے گا، تنہا مرے گا، تنہا قبر سے اُٹھے گا۔ ” پھر حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور قافلہ والوں نے ان کو پورے اعزاز کے ساتھ دفن کیا۔

(سيرت ابن هشام ج۴ ص۵۲۴ و زرقانی ج۳ ص۷۴)

بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ ان کی بیوی کے پاس کفن کے لئے کپڑا نہیں تھا تو آنے والے لوگوں میں سے ایک انصاری نے کفن کے لئے کپڑا دیا اور نماز جنازہ پڑھ کر دفن کیا۔ (واﷲ تعالیٰ اعلم)

-: ہوا اڑا لے گئی

-: ہوا اڑا لے گئی

جب اسلامی لشکر مقام ” حجر ” میں پہنچا تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ کوئی شخص اکیلا لشکر سے باہر کہیں دور نہ چلا جائے پورے لشکر نے اس حکم نبوی کی اطاعت کی مگر قبیلہ بنو ساعدہ کے دو آدمیوں نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم کو نہیں مانا۔ ایک شخص اکیلا ہی رفع حاجت کے لئے لشکر سے دور چلا گیا وہ بیٹھا ہی تھا کہ دفعۃً کسی نے اس کا گلا گھونٹ دیا اور وہ اسی جگہ مر گیا اور دوسرا شخص اپنا اونٹ پکڑنے کے لئے اکیلا ہی لشکر سے کچھ دور چلا گیا تو ناگہاں ایک ہوا کا جھونکا آیا اور اس کو اڑا کر قبیلہ ” طی ” کے دونوں پہاڑوں کے درمیان پھینک دیا اور وہ ہلاک ہو گیا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان دونوں کا انجام سن کر فرمایا کہ کیا میں نے تم لوگوں کو منع نہیں کر دیا تھا ؟

(زرقانی ج۳ ص۷۳)

-: گمشدہ اونٹنی کہاں ہے ؟

-: گمشدہ اونٹنی کہاں ہے ؟

ایک منزل پر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اونٹنی کہیں چلی گئی اور لوگ اس کی تلاش میں سرگرداں پھرنے لگے تو ایک منافق جس کا نام “زید بن لصیت” تھا کہنے لگا کہ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کہتے ہیں کہ میں اﷲ کا نبی ہوں اور میرے پاس آسمان کی خبریں آتی ہیں مگر ان کو یہ پتا ہی نہیں ہے کہ ان کی اونٹنی کہاں ہے ؟ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ ایک شخص ایسا ایسا کہتا ہے حالانکہ خدا کی قسم ! اﷲ تعالیٰ کے بتا دینے سے میں خوب جانتا ہوں کہ میری اونٹنی کہاں ہے ؟ وہ فلاں گھاٹی میں ہے اور ایک درخت میں اس کی مہار کی رسی اُلجھ گئی ہے۔ تم لوگ جاؤ اور اس اونٹنی کو میرے پاس لے کر آجاؤ۔ جب لوگ اس جگہ گئے تو ٹھیک ایسا ہی دیکھا کہ اسی گھاٹی میں وہ اونٹنی کھڑی ہے اور اس کی مہار ایک درخت کی شاخ میں الجھی ہوئی ہے۔

(زرقانی ج۳ ص۷۵)

-: تبوک کا چشمہ

-: تبوک کا چشمہ

جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تبوک کے قریب میں پہنچے تو ارشاد فرمایا کہ ان شاء اﷲ تعالیٰ کل تم لوگ تبوک کے چشمہ پر پہنچو گے اور سورج بلند ہونے کے بعد پہنچو گے لیکن کوئی شخص وہاں پہنچے تو پانی کو ہاتھ نہ لگائے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب وہاں پہنچے تو جوتے کے تسمے کے برابر اس میں ایک پانی کی دھار بہہ رہی تھی۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس میں سے تھوڑا سا پانی منگا کر ہاتھ منہ دھویا اور اس پانی میں کلی فرمائی۔ پھر حکم دیا کہ اس پانی کو چشمہ میں انڈیل دو۔ لوگوں نے جب اس پانی کو چشمہ میں ڈالا تو چشمہ سے زوردار پانی کی موٹی دھار بہنے لگی اور تیس ہزار کا لشکر اور تمام جانور اس چشمہ کے پانی سے سیراب ہو گئے۔

(زرقانی ج۳ ص۷۶)

-: رومی لشکر ڈر گیا

-: رومی لشکر ڈر گیا

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تبوک میں پہنچ کر لشکر کو پڑاؤ کا حکم دیا۔ مگر دور دور تک رومی لشکروں کا کوئی پتا نہیں چلا۔ واقعہ یہ ہوا کہ جب رومیوں کے جاسوسوں نے قیصر کو خبردی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تیس ہزار کا لشکر لے کر تبوک میں آ رہے ہیں تو رومیوں کے دلوں پر اس قدر ہیبت چھا گئی کہ وہ جنگ سے ہمت ہار گئے اور اپنے گھروں سے باہر نہ نکل سکے ۔

رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بیس دن تبوک میں قیام فرمایا اور اطراف و جوانب میں افواج الٰہی کا جلال دکھا کر اور کفار کے دلوں پر اسلام کا رعب بٹھا کر مدینہ واپس تشریف لائے اور تبوک میں کوئی جنگ نہیں ہوئی۔

اسی سفر میں “یلہ” کا سردار جس کا نام “یحنۃ” تھا بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور جزیہ دینا قبول کر لیا اور ایک سفید خچر بھی دربار رسالت میں نذر کیا جس کے صلہ میں تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو اپنی چادر مبارک عنایت فرمائی اور اس کو ایک دستاویز تحریر فرما کر عطا فرمائی کہ وہ اپنے گرد و پیش کے سمندر سے ہر قسم کے فوائد حاصل کرتا رہے۔

(بخاری ج۱ ص۴۴۸)

اسی طرح “جرباء” اور “اذرح” کے عیسائیوں نے بھی حاضر خدمت ہو کر جزیہ دینے پر رضا مندی ظاہر کی۔

اس کے بعد حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ایک سو بیس سواروں کے ساتھ “دومۃ الجندل “کے بادشاہ” اکیدر بن عبدالملک ” کی طرف روانہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ وہ رات میں نیل گائے کا شکار کر رہا ہو گا تم اس کے پاس پہنچو تو اس کو قتل مت کرنا بلکہ اس کو زندہ گرفتار کر کے میرے پاس لانا۔ چنانچہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے چاندنی رات میں اکیدر اور اس کے بھائی حسان کو شکار کرتے ہوئے پالیا۔ حسان نے چونکہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے جنگ شروع کردی ۔ اس لئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو تو قتل کر دیا مگر اکیدر کو گرفتار کر لیا اور اس شرط پر اس کو رہا کیا کہ وہ مدینہ بارگاہ اقدس میں حاضر ہو کر صلح کرے۔ چنانچہ وہ مدینہ آیا اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو امان دی۔

(زرقانی ج۳ ص۷۷ و ص۷۸)

اس غزوہ میں جو لوگ غیر حاضر رہے ان میں اکثر منافقین تھے۔ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تبوک سے مدینہ واپس آئے اور مسجد نبوی میں نزولِ اجلال فرمایا تو منافقین قسمیں کھا کھا کر اپنا اپنا عذر بیان کرنے لگے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے کسی سے کوئی مواخذہ نہیں فرمایا لیکن تین مخلص صحابیوں حضرت کعب بن مالک و ہلال بن امیہ و مرارہ بن ربیعہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کا پچاس دنوں تک آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بائیکاٹ فرما دیا۔ پھر ان تینوں کی توبہ قبول ہوئی اور ان لوگوں کے بارے میں قرآن کی آیت نازل ہوئی۔ (اس کا مفصل ایک وعظ ہم نے اپنی کتاب ” عرفانی تقریریں ” میں لکھ دیا ہے۔)

(بخاری ج۲ ص۶۳۴ تا ص۶۳۷ حديث کعب بن مالک)

جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مدینہ کے قریب پہنچے اور اُحد پہاڑ کو دیکھا تو فرمایا کہ هٰذَا اُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَ نُحِبُّهٗ یہ اُحد ہے۔ یہ ایسا پہاڑ ہے کہ یہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔

جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مدینہ کی سرزمین میں قدم رکھا تو عورتیں، بچے اور لونڈی غلام سب استقبال کے لئے نکل پڑے اور استقبالیہ نظمیں پڑھتے ہوئے آپ کے ساتھ مسجد نبوی تک آئے۔ جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مسجد نبوی میں دو رکعت نماز پڑھ کر تشریف فرما ہو گئے۔ تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے آپ کی مدح میں ایک قصیدہ پڑھا اور اہل مدینہ نے بخیر و عافیت اس دشوار گزار سفر سے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر انتہائی مسرت و شادمانی کا اظہار کیا اور ان منافقین کے بارے میں جو جھوٹے بہانے بنا کر اس جہاد میں شریک نہیں ہوئے تھے اور بارگاہ نبوت میں قسمیں کھا کھا کر عذر پیش کر رہے تھے قہر و غضب میں بھری ہوئی قرآن مجید کی آیتیں نازل ہوئیں اوران منافقوں کے نفاق کا پردہ چاک ہو گیا۔

-: ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر

-: ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر

غزوۂ تبوک میں بجز ایک حضرت ذوالبجادین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے نہ کسی صحابی کی شہادت ہوئی نہ وفات۔ حضرت ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کون تھے ؟ اور ان کی وفات اور دفن کا کیسا منظر تھا ؟ یہ ایک بہت ہی ذوق آفریں اور لذیذ حکایت ہے۔ یہ قبیلہ مزینہ کے ایک یتیم تھے اور اپنے چچا کی پرورش میں تھے۔ جب یہ سن شعور کو پہنچے اور اسلام کا چرچا سنا تو اِن کے دل میں بت پرستی سے نفرت اور اسلام قبول کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ مگر ان کا چچا بہت ہی کٹر کافر تھا۔ اس کے خوف سے یہ اسلام قبول نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن فتح مکہ کے بعد جب لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے تو انہوں نے اپنے چچا کو ترغیب دی کہ تم بھی دامن اسلام میں آجاؤ کیونکہ میں قبول اسلام کے لئے بہت ہی بے قرار ہوں۔ یہ سن کر ان کے چچا نے ان کو برہنہ کر کے گھر سے نکال دیا۔ انہوں نے اپنی والدہ سے ایک کمبل مانگ کر اس کو دو ٹکڑے کرکے آدھے کو تہبند اور آدھے کو چادر بنا لیا اور اسی لباس میں ہجرت کر کے مدینہ پہنچ گئے۔ رات بھر مسجد نبوی میں ٹھہرے رہے۔ نماز فجر کے وقت جب جمالِ محمدی کے انوار سے ان کی آنکھیں منور ہوئیں تو کلمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کا نام دریافت فرمایا تو انہوں نے اپنا نام عبدالعزیٰ بتا دیا۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج سے تمہارا نام عبداﷲ اور لقب ذوالبجادین (دوکمبلوں والا) ہے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان پر بہت کرم فرماتے تھے اور یہ مسجد نبوی میں اصحاب صفہ کی جماعت کے ساتھ رہنے لگے اور نہایت بلند آواز سے ذوق و شوق کے ساتھ قرآن مجید پڑھا کرتے تھے۔ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جنگ تبوک کے لئے روانہ ہوئے تو یہ بھی مجاہدین میں شامل ہو کر چل پڑے اور بڑے ہی ذوق و شوق اور انتہائی اشتیاق کے ساتھ درخواست کی کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) دعا فرمائیے کہ مجھے خدا کی راہ میں شہادت نصیب ہو جائے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کسی درخت کی چھال لاؤ۔ وہ تھوڑی سی ببول کی چھال لائے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے بازو پر وہ چھال باندھ دی اور دعا کی کہ اے اﷲ ! میں نے اس کے خون کو کفار پر حرام کر دیا۔ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میرا مقصد تو شہادت ہی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ جب تم جہاد کے لئے نکلے ہو تو اگر بخار میں بھی مرو گے جب بھی تم شہید ہی ہو گے۔ خدا عزوجل کی شان کہ جب حضرت ذوالبجادین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تبوک میں پہنچے تو بخار میں مبتلا ہو گئے اور اسی بخار میں ان کی وفات ہو گئی۔

حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ان کے دفن کا عجیب منظر تھا کہ حضرت بلال مؤذن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہاتھ میں چراغ لئے ان کی قبر کے پاس کھڑے تھے اور خود بہ نفس نفیس حضور ِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کی قبر میں اترے اور حضرت ابو بکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو حکم دیا کہ تم دونوں اپنے اسلامی بھائی کی لاش کو اٹھاؤ۔ پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو اپنے دست ِ مبارک سے لحد میں سلایا اور خود ہی قبر کو کچی اینٹوں سے بند فرمایا اور پھر یہ دعا مانگی کہ یااﷲ ! میں ذوالبجادین سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہو جا۔

حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دفن کا یہ منظر دیکھا تو بے اختیار ان کے منہ سے نکلا کہ کاش ! ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جگہ یہ میری میت ہوتی۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۳۵۰ و ص۳۵۱)

-: مسجد ضرار

-: مسجد ضرار

منافقوں نے اسلام کی بیخ کنی اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لئے مسجد قباء کے مقابلہ میں ایک مسجد تعمیر کی تھی جو در حقیقت منافقین کی سازشوں اور ان کی دسیسہ کاریوں کا ایک زبردست اڈہ تھا۔ ابو عامر راہب جو انصار میں سے عیسائی ہو گیا تھا جس کا نام حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ابو عامر فاسق رکھا تھا اس نے منافقین سے کہا کہ تم لوگ خفیہ طریقے پر جنگ کی تیاریاں کرتے رہو۔ میں قیصر روم کے پاس جاکر وہاں سے فوجیں لاتا ہوں تاکہ اس ملک سے اسلام کا نام و نشان مٹا دوں۔ چنانچہ اسی مسجد میں بیٹھ بیٹھ کر اسلام کے خلاف منافقین کمیٹیاں کرتے تھے اور اسلام و بانی ٔ اسلام صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا خاتمہ کر دینے کی تدبیریں سوچا کرتے تھے۔

جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جنگ تبوک کے لئے روانہ ہونے لگے تو مکار منافقوں کا ایک گروہ آیا اور محض مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے بارگاہ اقدس میں یہ درخواست پیش کی کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہم نے بیماروں اور معذوروں کے لئے ایک مسجد بنائی ہے۔ آپ چل کر ایک مرتبہ اس مسجد میں نماز پڑھا دیں تا کہ ہماری یہ مسجد خدا کی بارگاہ میں مقبول ہو جائے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اس وقت تو میں جہاد کے لئے گھر سے نکل چکا ہوں لہٰذا اس وقت تو مجھے اتنا موقع نہیں ہے۔ منافقین نے کافی اصرار کیا مگر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی اس مسجد میں قدم نہیں رکھا۔ جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جنگ تبوک سے واپس تشریف لائے تو منافقین کی چالبازیوں اور ان کی مکاریوں، دغابازیوں کے بارے میں ” سورۂ توبہ ” کی بہت سی آیات نازل ہو گئیں اور منافقین کے نفاق اور ان کی اسلام دشمنی کے تمام رموز و اسرار بے نقاب ہو کر نظروں کے سامنے آ گئے۔ اور ان کی اس مسجد کے بارے میں خصوصیت کے ساتھ یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ

وَ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِيْقًا مبَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ ط وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَآ اِلَّا الْحُسْنٰی ط

اور وہ لوگ جنہوں نے ایک مسجد ضرر پہنچانے اور کفر کرنے اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی غرض سے بنائی اور اس مقصد سے کہ جو لوگ پہلے ہی سے خدا اور اس کے رسول سے جنگ کر رہے ہیں ان کیلئے ایک کمین گاہ ہاتھ آ جائے اور وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے تو بھلائی ہی کا ارادہ کیا ہے

لَا تَقُمْ فِيْهِ اَبَدًا ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰي مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ ؕ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا ؕ وَاللهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ ﴿۱۰۸﴾(توبہ )

اور خدا گواہی دیتا ہے کہ بیشک یہ لوگ جھوٹے ہیں آپ کبھی بھی اس مسجد میں نہ کھڑے ہوں وہ مسجد (مسجد قباء) جسکی بنیاد پہلے ہی دن سے پرہیز گاری پر رکھی ہوئی ہے وہ اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں اسمیں ایسے لوگ ہیں جو پاکی کو پسند کرتے ہیں اور خدا پاکی رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

اس آیت کے نازل ہو جانے کے بعد حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت مالک بن دخشم و حضرت معن بن عدی رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو حکم دیا کہ اس مسجد کو منہدم کرکے اس میں آگ لگا دیں۔

(زرقانی ج۳ ص۸۰)

-: صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ امیر الحج

-: صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ امیر الحج

غزوۂ تبوک سے واپسی کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ذوالقعدہ ۹ ھ میں تین سو مسلمانوں کا ایک قافلہ مدینہ منورہ سے حج کے لئے مکہ مکرمہ بھیجا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو “امیر الحج” اور حضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ” نقیب اسلام ” اور حضرت سعد بن ابی وقاص و حضرت جابر بن عبداﷲ و حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو معلم بنا دیا اور اپنی طرف سے قربانی کے لئے بیس اونٹ بھی بھیجے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حرمِ کعبہ اور عرفات و منیٰ میں خطبہ پڑھا اس کے بعد حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور ” سورۂ براءت ” کی چالیس آیتیں پڑھ کر سنائیں اور اعلان کر دیا کہ اب کوئی مشرک خانہ کعبہ میں داخل نہ ہو سکے گا نہ کوئی برہنہ بدن اور ننگا ہوکر طواف کر سکے گا اور چار مہینے کے بعد کفار و مشرکین کے لئے امان ختم کر دی جائے گی۔ حضرت ابو ہریرہ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے اس اعلان کی اس قدر زور زور سے منادی کی کہ ان لوگوں کا گلا بیٹھ گیا۔ اس اعلان کے بعد کفار و مشرکین فوج کی فوج آ کر مسلمان ہونے لگے۔

(طبری ج۲ ص۱۷۲۱ و زرقانی ج۳ ص۹۰ تا ۹۳)

۹ ھ کے واقعات متفرقہ :-

۹ ھ کے واقعات متفرقہ :-

(۱) اس سال پورے ملک میں ہر طرف امن و امان کی فضا پیدا ہو گئی اور زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا اور زکوٰۃ کی وصولی کے لئے عاملین اور محصّلوں کا تقرر ہوا۔

(۲) جو غیر مسلم قومیں اسلامی سلطنت کے زیر سایہ رہیں ان کے لئے جزیہ کا حکم نازل ہوا اور قرآن کی یہ آیت اتری کہ

حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّ هُمْ صَاغِرُوْنَ (توبہ)

(۳) سود کی حرمت نازل ہوئی اور اس کے ایک سال بعد ۱۰ ھ میں ” حجۃ الوداع ” کے موقع پر اپنے خطبوں میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کا خوب خوب اعلان فرمایا۔

(بخاری و مسلم باب تحريم الخمر)

(۴) حبشہ کا بادشاہ جن کا نام حضرت اصحمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھا۔ جن کے زیر سایہ مسلمان مہاجرین نے چند سال حبشہ میں پناہ لی تھی ان کی وفات ہو گئی۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مدینہ میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی اور ان کے لئے مغفرت کی دعا مانگی۔

(۵) اسی سال منافقوں کا سردار عبداﷲ بن ابی مر گیا۔ اس کے بیٹے حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی درخواست پر ان کی دلجوئی کے واسطے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس منافق کے کفن کے لئے اپنا پیرہن عطا فرمایا اور اس کی لاش کو اپنے زانوئے اقدس پر رکھ کر اس کے کفن میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے بار بار منع کرنے کے باوجود چونکہ ابھی تک ممانعت نازل نہیں ہوئی تھی اس لئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کے جنازہ کی نماز پڑھائی لیکن اس کے بعد ہی یہ آیت نازل ہو گئی کہ

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰي قَبْرِهٖ ط اِنَّهُمْ کَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ(توبہ)

(اے رسول) ان (منافقوں) میں سے جو مریں کبھی آپ ان پر نماز جنازہ نہ پڑھئے اور انکی قبر کے پاس آپ کھڑے بھی نہ ہوں یقینا ان لوگوں نے اﷲ اور اسکے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور کفر کی حالت میں یہ لوگ مرے ہیں

اس آیت کے نزول کے بعد پھر کبھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے کسی منافق کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی نہ اس کی قبر کے پاس کھڑے ہوئے۔

(بخاری ج۱ ص۱۶۹ و ص۱۸۰ و زرقانی ج۳ ص۹۵ و ص۹۶)

-: وفود العرب

-: وفود العرب

حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تبلیغ اسلام کے لئے تمام اطراف و اکناف میں مبلغین اسلام اور عاملین و مجاہدین کو بھیجا کرتے تھے۔ ان میں سے بعض قبائل تو مبلغین کے سامنے ہی دعوتِ اسلام قبول کرکے مسلمان ہو جاتے تھے مگر بعض قبائل اس بات کے خواہش مند ہوتے تھے کہ براہِ راست خود بارگاہِ نبوت میں حاضر ہو کر اپنے اسلام کا اعلان کریں۔ چنانچہ کچھ لوگ اپنے اپنے قبیلوں کے نمائندہ بن کر مدینہ منورہ آتے تھے اور خود بانی اسلام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زبانِ فیض ترجمان سے دعوتِ اسلام کا پیغام سن کر اپنے اسلام کا اعلان کرتے تھے اور پھر اپنے اپنے قبیلوں میں واپس جا کر پورے قبیلہ والوں کو مشرف بہ اسلام کرتے تھے۔ انہی قبائل کے نمائندوں کو ہم “وفود العرب” کے عنوان سے بیان کرتے ہیں۔

اس قسم کے وفود اور نمائندگان قبائل مختلف زمانوں میں مدینہ منورہ آتے رہے مگر فتح مکہ کے بعد ناگہاں سارے عرب کے خیالات میں ایک عظیم تغیر واقع ہوگیا اور سب لوگ اسلام کی طرف مائل ہونے لگے کیونکہ اسلام کی حقانیت واضح اور ظاہر ہوجانے کے باوجود بہت سے قبائل محض قریش کے دباؤ اور اہل مکہ کے ڈر سے اسلام قبول نہیں کر سکتے تھے۔ فتح مکہ نے اس رکاوٹ کو بھی دور کردیا اور اب دعوتِ اسلام اور قرآن کے مقدس پیغام نے گھر گھر پہنچ کر اپنی حقانیت اور اعجازی تصرفات سے سب کے قلوب پر سکہ بٹھا دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہی لوگ جو ایک لمحہ کے لئے اسلام کا نام سننا اور مسلمانوں کی صورت دیکھنا گوارا نہیں کر سکتے تھے آج پروانوں کی طرح شمع نبوت پر نثار ہونے لگے اور جوق در جوق بلکہ فوج در فوج حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں دور و دراز کے سفر طے کرتے ہوئے وفود کی شکل میں آنے لگے اور برضا و رغبت اسلام کے حلقہ بگوش بننے لگے چونکہ اس قسم کے وفود اکثر و بیشتر فتح مکہ کے بعد ۹ ھ میں مدینہ منورہ آئے اس لئے ۹ ھ کو لوگ “سنۃ الوفود” (نمائندہ کا سال) کہنے لگے۔

اس قسم کے وفود کی تعداد میں مصنفین سیرت کا بہت زیادہ اختلاف ہے۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے ان وفود کی تعداد ساٹھ سے زیادہ بتائی ہے۔

(مدارج ج ۲ ص ۳۵۸)

اور علامہ قسطلانی و حافظ ابن قیم نے اس قسم کے چودہ وفدوں کا تذکرہ کیا ہے ہم بھی اپنی اس مختصر کتاب میں چند وفود کا تذکرہ کرتے ہیں۔

-: استقبالِ وفود

-: استقبالِ وفود

حضور سید ِعالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم قبائل سے آنے والے وفدوں کے استقبال، اوران کی ملاقات کا خاص طور پر اہتمام فرماتے تھے۔ چنانچہ ہر وفد کے آنے پر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نہایت ہی عمدہ پوشاک زیب تن فرما کر کا شانہ اقدس سے نکلتے اور اپنے خصوصی اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی حکم دیتے تھے کہ بہترین لباس پہن کر آئیں پھر ان مہمانوں کو اچھے سے اچھے مکانوں میں ٹھہراتے اور ان لوگوں کی مہمان نوازی اور خاطر مدارات کا خاص طور پرخیال فرماتے تھے اور ان مہمانوں سے ملاقات کے لئے مسجد نبوی میں ایک ستون سے ٹیک لگا کر نشست فرماتے پھر ہر ایک وفد سے نہایت ہی خوش روئی اور خندہ پیشانی کے ساتھ گفتگو فرماتے اور ان کی حاجتوں اور حالتوں کو پوری توجہ کے ساتھ سنتے اور پھر ان کو ضروری عقائد و احکامِ اسلام کی تعلیم و تلقین بھی فرماتے اور ہر وفد کو ان کے درجات و مراتب کے لحاظ سے کچھ نہ کچھ نقد یا سامان بھی تحائف اور انعامات کے طور پر عطا فرماتے۔

-: وفد ثقیف

-: وفد ثقیف

جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جنگ ِ حنین کے بعد طائف سے واپس تشریف لائے اور “جعرانہ” سے عمرہ ادا کرنے کے بعد مدینہ تشریف لے جا رہے تھے تو راستے ہی میں قبیلہ ثقیف کے سردار اعظم “عروہ بن مسعود ثقفی” رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر برضا و رغبت دامن اسلام میں آ گئے۔ یہ بہت ہی شاندار اور با وفا آدمی تھے اور ان کا کچھ تذکرہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم تحریر کر چکے ہیں۔ انہوں نے مسلمان ہونے کے بعد عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ مجھے اجازت عطا فرمائیں کہ میں اب اپنی قوم میں جا کر اسلام کی تبلیغ کروں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور یہ وہیں سے لوٹ کر اپنے قبیلہ میں گئے اور اپنے مکان کی چھت پر چڑھ کر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا اور اپنے قبیلہ والوں کو اسلام کی دعوت دی۔ اس علانیہ دعوت اسلام کو سن کر قبیلہ ثقیف کے لوگ غیظ و غضب میں بھر کر اس قدر طیش میں آ گئے کہ چاروں طرف سے ان پر تیروں کی بارش کرنے لگے یہاں تک کہ ان کو ایک تیر لگا اور یہ شہید ہو گئے۔ قبیلہ ثقیف کے لوگوں نے ان کو قتل تو کر دیا لیکن پھر یہ سوچا کہ تمام قبائل عرب اسلام قبول کرچکے ہیں۔ اب ہم بھلا

اسلام کے خلاف کب تک اور کتنے لوگوں سے لڑتے رہیں گے ؟ پھر مسلمانوں کے انتقام اور ایک لمبی جنگ کے انجام کو سوچ کر دن میں تارے نظر آنے لگے۔ اس لئے ان لوگوں نے اپنے ایک معزز رئیس عبدیالیل بن عمرو کو چند ممتاز سرداروں کے ساتھ مدینہ منورہ بھیجا۔ اس وفد نے مدینہ پہنچ کر بارگاہ اقدس میں عرض کیا کہ ہم اس شرط پر اسلام قبول کرتے ہیں کہ تین سال تک ہمارے بت “لات” کو توڑا نہ جائے۔ آپ نے اس شرط کو قبول فرمانے سے صاف انکار فرما دیا اور ارشاد فرمایا کہ اسلام کسی حال میں بھی بت پرستی کو ایک لمحہ کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ لہٰذا بت تو ضرور توڑا جائے گا یہ اور بات ہے کہ تم لوگ اس کو اپنے ہاتھ سے نہ توڑو بلکہ میں حضرت ابو سفیان اور حضرت مغیرہ بن شعبہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہما) کو بھیج دوں گا وہ اس بت کو توڑ ڈالیں گے۔ چنانچہ یہ لوگ مسلمان ہو گئے اور حضرت عثمان بن العاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو جو اس قوم کے ایک معزز اور ممتاز فرد تھے اس قبیلے کا امیر مقرر فرما دیا۔ اور ان لوگوں کے ساتھ حضرت ابو سفیان اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو طائف بھیجا اور ان دونوں حضرات نے ان کے بت “لات” کو توڑ پھوڑ کر ریزہ ریزہ کر ڈالا۔

(مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۶۶)

-: وفد کندہ

-: وفد کندہ

یہ لوگ یمن کے اطراف میں رہتے تھے۔ اس قبیلے کے ستّر یا اسی سوار بڑے ٹھاٹھ باٹ کے ساتھ مدینہ آئے۔ خوب بالوں میں کنگھی کئے ہوئے اور ریشمی گونٹ کے جبے پہنے ہوئے، ہتھیاروں سے سجے ہوئے مدینہ کی آبادی میں داخل ہوئے۔ جب یہ لوگ دربار رسالت میں باریاب ہوئے تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے دریافت فرمایا کہ کیا تم لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے ؟ سب نے عرض کیا کہ “جی ہاں” آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم لوگوں نے یہ ریشمی لباس کیوں پہن رکھا ہے ؟ یہ سنتے ہی ان لوگوں نے اپنے جبوں کو بدن سے اتار دیا اور ریشمی گونٹوں کو پھاڑ پھاڑ کر جبوں سے الگ کر دیا۔

(مدارج ج۲ ص۳۶۶)

-: وفد بنی اشعر

-: وفد بنی اشعر

یہ لوگ یمن کے باشندے اور “قبیلہ اشعر” کے معزز اور نامور حضرات تھے۔ جب یہ لوگ مدینہ میں داخل ہونے لگے تو جوشِ محبت اور فرط عقیدت سے رجز کا یہ شعر آواز ملا کر پڑھتے ہوئے شہر میں داخل ہوئے کہ

غَدًا نَلْقِي الْاَحِبَّة

مُحَمَّدًا وَّ حِزْبَ

کل ہم لوگ اپنے محبوبوں سے یعنی حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سے ملاقات کریں گے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ یمن والے آ گئے۔ یہ لوگ بہت ہی نرم دل ہیں ایمان تو یمنیوں کا ایمان ہے اور حکمت بھی یمنیوں میں ہے۔ بکری پالنے والوں میں سکون و وقار ہے اور اونٹ پالنے والوں میں فخر اور گھمنڈ ہے۔ چنانچہ اس ارشاد نبوی کی برکت سے اہل یمن علم و صفائی قلب اور حکمت و معرفت الٰہی کی دولتوں سے ہمیشہ مالا مال رہے۔ خاص کر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہ یہ نہایت ہی خوش آواز تھے اور قرآن شریف ایسی خوش الحانی کے ساتھ پڑھتے تھے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں ان کا کوئی ہم مثل نہ تھا۔ علم عقائد میں اہل سنت کے امام شیخ ابو الحسن اشعری رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ انہی حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اولاد میں سے ہیں۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۳۶۷)

-: وفد بنی اسد

-: وفد بنی اسد

اس قبیلے کے چند اشخاص بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور نہایت ہی خوش دلی کے ساتھ مسلمان ہوئے۔ لیکن پھر احسان جتانے کے طور پر کہنے لگے کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اتنے سخت قحط کے زمانے میں ہم لوگ بہت ہی دور دراز سے مسافت طے کرکے یہاں آئے ہیں۔ راستے میں ہم لوگوں کو کہیں شکم سیر ہو کر کھانا بھی نصیب نہیں ہوا اور بغیر اس کے کہ آپ کا لشکر ہم پر حملہ آور ہوا ہو ہم لوگوں نے برضا و رغبت اسلام قبول کر لیا ہے۔ ان لوگوں کے اس احسان جتانے پر خداوند قدوس نے یہ آیت نازل فرمائی کہ

يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا ط قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَيَّ اِسْلَامَكُمْ ج بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ(حجرات)

اے محبوب ! یہ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ ہم مسلمان ہوگئے۔ آپ فرما دیجئے کہ اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اﷲ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں اسلام کی ہدایت کی اگر تم سچے ہو۔

-: وفد فزارہ

-: وفد فزارہ

یہ لوگ عیینہ بن حصن فزاری کی قوم کے لوگ تھے۔ بیس آدمی دربار اقدس میں حاضر ہوئے اور اپنے اسلام کا اعلان کیا اور بتایا کہ یا رسول اﷲ (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہمارے دیار میں اتنا سخت قحط اور کال پڑ گیا ہے کہ اب فقر و فاقہ کی مصیبت ہمارے لئے ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔ لہٰذا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بارش کے لئے دعا فرمائیے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن منبر پر دعا فرما دی اور فوراً ہی بارش ہونے لگی اور لگاتار ایک ہفتہ تک موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری رہا پھر دوسرے جمعہ کو جب کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم منبر پر خطبہ پڑھ رہے تھے ایک اعرابی نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ) چوپائے ہلاک ہونے لگے اور بال بچے بھوک سے بلکنے لگے اور تمام راستے منقطع ہو گئے۔ لہٰذا دعا فرما دیجئے کہ یہ بارش پہاڑوں پر برسے اور کھیتوں بستیوں پر نہ بر سے۔ چنانچہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دعا فرما دی تو بادل شہر مدینہ اور اس کے اطراف سے کٹ گیا اور آٹھ دن کے بعد مدینہ میں سورج نظر آیا۔

(مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۵۹)

-: وفد بنی مرہ

-: وفد بنی مرہ

اس وفد میں بنی مرہ کے تیرہ آدمی مدینہ آئے تھے۔ انکا سردار حارث بن عوف بھی اس وفد میں شامل تھا۔ ان سب لوگوں نے بارگاہ اقدس میں اسلام قبول کیا اور قحط کی شکایت اور باران رحمت کی دعا کے لئے درخواست پیش کی۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لفظوں کے ساتھ دعا مانگی کہ اَللّٰهُمَّ اسْقِهِمُ الْغَيْثَ ( اے اﷲ ! ان لوگوں کو بارش سے سیراب فرما دے) پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ ان میں سے ہر شخص کو دس دس اوقیہ چاندی اور چار چار سو درہم انعام اور تحفہ کے طور پر عطا کریں۔ اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے سردار حضرت حارث بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بارہ اوقیہ چاندی کا شاہانہ عطیہ مرحمت فرمایا۔

جب یہ لوگ مدینہ سے اپنے وطن پہنچے تو پتا چلا کہ ٹھیک اسی وقت ان کے شہروں میں بارش ہوئی تھی جس وقت سرکار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی درخواست پر مدینہ میں بارش کے لئے دعا مانگی تھی۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۳۶۰)

-: وفد بنی البکاء

-: وفد بنی البکاء

اس وفد کے ساتھ حضرت معاویہ بن ثور بن عباد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی آئے تھے جو ایک سو برس کی عمر کے بوڑھے تھے۔ ان سب حضرات نے بارگاہ اقدس میں حاضر ہو کر اپنے اسلام کا اعلان کیا پھر حضرت معاویہ بن ثور بن عباد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے فرزند حضرت بشیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو پیش کیا اور یہ گزارش کی کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ میرے اس بچے کے سر پر اپنا دست مبارک پھرا دیں۔ ان کی درخواست پر حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے فرزند کے سر پر اپنا مقدس ہاتھ پھرا دیا۔ اور ان کو چند بکریاں بھی عطا فرمائیں۔ اور وفد والوں کے لئے خیر و برکت کی دعا فرما دی اس دعا ئے نبوی کا یہ اثر ہوا کہ ان لوگوں کے دیار میں جب بھی قحط اور فقر و فاقہ کی بلا آئی تو اس قوم کے گھر ہمیشہ قحط اور بھکمری کی مصیبتوں سے محفوظ رہے۔

(مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۶۰)

-: وفد بنی کنانہ

-: وفد بنی کنانہ

اس وفد کے امیر کارواں حضرت واثلہ بن اسقع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھے۔ یہ سب لوگ دربار رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام میں نہایت ہی عقیدت مندی کے ساتھ حاضر ہو کر مسلمان ہو گئے اور حضرت واثلہ بن اسقع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بیعت اسلام کر کے جب اپنے وطن میں پہنچے تو ان کے باپ نے ان سے ناراض و بیزار ہو کر کہہ دیا کہ میں خدا کی قسم ! تجھ سے کبھی کوئی بات نہ کروں گا۔ لیکن ان کی بہن نے صدق دل سے اسلام قبول کر لیا۔ یہ اپنے باپ کی حرکت سے رنجیدہ اور دل شکستہ ہو کر پھر مدینہ منورہ چلے آئے اور جنگ تبوک میں شریک ہوئے اور پھر اصحاب صفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی جماعت میں شامل ہو کر حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت کرنے لگے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد یہ بصرہ چلے گئے۔ پھر آخر عمر میں شام گئے اور ۸۵ ھ میں شہر دمشق کے اندر وفات پائی۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۳۶۰)

-: وفد بنی ہلال

-: وفد بنی ہلال

اس وفد کے لوگوں نے بھی دربار نبوت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ اس وفد میں حضرت زیاد بن عبداﷲ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے یہ مسلمان ہو کر دندناتے ہوئے حضرت ام المؤمنین بی بی میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے گھر میں داخل ہو گئے کیونکہ وہ ان کی خالہ تھیں۔

یہ اطمینان کے ساتھ اپنی خالہ کے پاس بیٹھے ہوئے گفتگو میں مصروف تھے جب رسول خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مکان میں تشریف لائے اور یہ پتا چلا کہ حضرت زیاد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ام المؤمنین کے بھانجے ہیں تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ازراہ شفقت ان کے سر اور چہرہ پر اپنا نورانی ہاتھ پھیر دیا۔ اس دست مبارک کی نورانیت سے حضرت زیاد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا چہرہ اس قدر پر نور ہو گیا کہ قبیلہ بنی ہلال کے لوگوں کا بیان ہے کہ اس کے بعد ہم لوگ حضرت زیاد بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے چہرہ پر ہمیشہ ایک نور اور برکت کا اثر دیکھتے رہے۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۳۶۰)

-: وفد ضمام بن ثعلبہ

-: وفد ضمام بن ثعلبہ

یہ قبیلہ سعد بن بکر کے نمائندہ بن کر بارگاہ رسالت میں آئے۔ یہ بہت ہی خوبصورت سرخ و سفید رنگ کے گیسو دراز آدمی تھے۔ مسجد نبوی میں پہنچ کر اپنے اونٹ کو بٹھا کر باندھ دیا پھر لوگوں سے پوچھا کہ محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کون ہیں ؟

لوگوں نے دور سے اشارہ کر کے بتایا کہ وہ گورے رنگ کے خوبصورت آدمی جو تکیہ لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں وہی حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں۔ حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سامنے آئے اور کہا کہ اے عبدالمطلب کے فرزند ! میں آپ سے چند چیزوں کے بارے میں سوال کروں گا اور میں اپنے سوال میں بہت زیادہ مبالغہ اور سختی برتوں گا۔ آپ اس سے مجھ پر خفا نہ ہوں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم جو چاہو پوچھ لو۔ پھر حسب ذیل مکالمہ ہوا۔

میں آپکو اس خدا کی قسم دے کر جو آپکا اور تمام انسانوں کا پروردگار ہے یہ پوچھتا ہوں کہ کیا اﷲ نے آپ کو ہماری طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ ضمام بن ثعلبہ :
ہاں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :
میں آپ کو خدا کی قسم دے کر یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا نماز و روزہ اور حج و زکوٰۃ کو اﷲ نے ہم لوگوں پر فرض کیا ہے ؟ ضمام بن ثعلبہ :
ہاں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :
آپ نے جو کچھ فرمایا میں اس پر ایمان لایا اور میں ضمام بن ثعلبہ ہوں۔ میری قوم نے مجھے اس لئے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ میں آپ کے دین کو اچھی طرح سمجھ کر اپنی قوم بنی سعد بن بکر تک اسلام کا پیغام پہنچا دوں۔ ضمام بن ثعلبہ :

حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مسلمان ہو کر اپنے وطن میں پہنچے اور ساری قوم کو جمع کر کے سب سے پہلے اپنی قوم کے تمام بتوں یعنی “لات و عزیٰ” اور “منات و ہبل ” کو برا بھلا کہنے لگے اور خوب خوب ان بتوں کی توہین کرنے لگے۔ ان کی قوم نے جو اپنے بتوں کی توہین سنی تو ایک دم سب چونک پڑے اور کہنے لگے کہ اے ثعلبہ کے بیٹے ! تو کیا کہہ رہا ہے ؟ خاموش ہو جا ورنہ ہم کو یہ ڈر ہے کہ ہمارے یہ دیوتا تجھ کو برص اور کوڑھ اور جنون میں مبتلا کر دیں گے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ سن کر طیش میں آ گئے اور تڑپ کر فرمایا کہ اے بے عقل انسانوں ! یہ پتھر کے بت بھلا ہم کو کیا نفع و نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ سنو ! اﷲ تعالیٰ جو ہر نفع و نقصان کا مالک ہے اس نے اپنا ایک رسول بھیجا ہے اور ایک کتاب نازل فرمائی ہے تا کہ تم انسانوں کو اس گمراہی اور جہالت سے نجات عطا فرمائے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں۔ میں اﷲ کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلام کا پیغام تم لوگوں کے پاس لایا ہوں، پھر انہوں نے اعمال اسلام یعنی نماز و روزہ اور حج و زکوٰۃ کو ان لوگوں کے سامنے پیش کیا اور اسلام کی حقانیت پر ایسی پرجوش اور موثر تقریر فرمائی کہ رات بھر میں قبیلے کے تمام مرد و عورت مسلمان ہو گئے اور ان لوگوں نے اپنے بتوں کو توڑ پھوڑ کر پاش پاش کر ڈالا اور اپنے قبیلہ میں ایک مسجد بنا لی اور نماز و روزہ اور حج و زکوٰۃ کے پابند ہو کر صادق الایمان مسلمان بن گئے۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۳۶۴)

-: وفدَ بلی

-: وفدَ بلی

یہ لوگ جب مدینہ منورہ پہنچے تو حضرت ابو رویفع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو پہلے ہی سے مسلمان ہو کر خدمت اقدس میں موجود تھے۔ انہوں نے اس وفد کا تعارف کراتے ہوئے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) یہ لوگ میری قوم کے افراد ہیں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں تم کو اور تمہاری قوم کو ” خوش آمدید ” کہتا ہوں۔ پھر حضرت ابو رویفع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) یہ سب لوگ اسلام کا اقرار کرتے ہیں اور اپنی پوری قوم کے مسلمان ہونے کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اس کو اسلام کی ہدایت دیتا ہے۔

اس وفد میں ایک بہت ہی بوڑھا آدمی بھی تھا۔ جس کا نام “ابو الضیف” تھا اس نے سوال کیا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ مجھے مہمانوں کی مہمان نوازی کا بہت زیادہ شوق ہے تو کیا اس مہمان نوازی کا مجھے کچھ ثواب بھی ملے گا ؟ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان ہونے کے بعد جس مہمان کی بھی مہمان نوازی کرو گے خواہ وہ امیر ہو یا فقیر تم ثواب کے حق دار ٹھہرو گے۔ پھر ابو الضیف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ پوچھا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) مہمان کتنے دنوں تک مہمان نوازی کا حق دار ہے ؟ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین دن تک اس کے بعد وہ جو کھائے گا وہ صدقہ ہوگا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۳۶۴)

-: وفد تُجیب

-: وفد تُجیب

یہ تیرہ آدمیوں کا ایک وفد تھا جو اپنے مالوں اور مویشیوں کی زکوٰۃ لے کر بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا تھا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مرحبا اور خوش آمدید کہہ کر ان لوگوں کا استقبال فرمایا۔ اور یہ ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اپنے اس مال زکوٰۃ کو اپنے وطن میں لے جاؤ اور وہاں کے فقرا و مساکین کو یہ سارا مال دے دو۔ ان لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہم اپنے وطن کے فقراء و مساکین کو اس قدر مال دے چکے ہیں کہ یہ مال ان کی حاجتوں سے زیادہ ہمارے پاس بچ رہا ہے۔ یہ سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی اس زکوٰۃ کو قبول فرما لیا اور ان لوگوں پر بہت زیادہ کرم فرماتے ہوئے ان خوش نصیبوں کی خوب خوب مہمان نوازی فرمائی اور بوقت رخصت ان لوگوں کو اکرام و انعام سے بھی نوازا۔ پھر دریافت فرمایا کہ کیا تمہاری قوم میں کوئی ایسا شخص باقی رہ گیا ہے ؟ جس نے میرا دیدار نہیں کیا ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ جی ہاں۔ ایک نوجوان کو ہم اپنے وطن میں چھوڑ آئے ہیں جو ہمارے گھروں کی حفاظت کر رہا ہے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اس نوجوان کو میرے پاس بھیج دو۔ چنانچہ ان لوگوں نے اپنے وطن پہنچ کر اس نوجوان کو مدینہ طیبہ روانہ کر دیا۔ جب وہ نوجوان بارگاہ عالی میں باریاب ہوا تو اس نے یہ گزارش کی کہ یاسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ نے میری قوم کی حاجتوں کو تو پوری فرما کر انہیں وطن میں بھیج دیا اب میں بھی ایک حاجت لے کر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہو گیا ہوں اور امیدوار ہوں کہ آپ میری حاجت بھی پوری فرما دیں گے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہاری کیا حاجت ہے ؟ اس نے کہا کہ یا رسول اﷲ ! ( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میں اپنے گھر سے یہ مقصد لے کر نہیں حاضر ہوا ہوں کہ آپ مجھے کچھ مال عطا فرمائیں بلکہ میری فقط اتنی حاجت اور دلی تمنا ہے جس کو دل میں لے کر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ مجھے بخش دے اور مجھ پر اپنا رحم فرمائے اور میرے دل میں بے نیازی اور استغناء کی دولت پیدا فرما دے۔ نوجوان کی اس دلی مراد اور تمنا کو سن کر محبوبِ خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور اس کے حق میں ان لفظوں کے ساتھ دعا فرمائی کہ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلَهٗ وَ ارْحَمْهُ وَ اجْعَلْ غِنَاهُ فِيْ قَلْبِهٖ اے اﷲ ! عزوجل اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرما اور اس کے دل میں بے نیازی ڈال دے۔

پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس نوجوان کو اس کی قوم کا امیر مقرر فرما دیا اور یہی نوجوان اپنے قبیلے کی مسجد کا امام ہو گیا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۳۶۴)

-: وفد مزینہ

-: وفد مزینہ

اس وفد کے سربراہ حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے قبیلہ کے چار سو آدمی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور جب ہم لوگ اپنے گھروں کو واپس ہونے لگے تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر ! تم ان لوگوں کو کچھ تحفہ عنایت کرو۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میرے گھر میں بہت ہی تھوڑی سی کھجوریں ہیں۔ یہ لوگ اتنے قلیل تحفہ سے شاید خوش نہ ہوں گے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پھر یہی ارشاد فرمایا کہ اے عمر ! جاؤ ان لوگوں کو ضرور کچھ تحفہ عطا کرو۔ ارشادِ نبوی سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان چار سو آدمیوں کو ہمراہ لے کر مکان پر پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ مکان میں کھجوروں کا ایک بہت ہی بڑا تودہ پڑا ہوا ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وفد کے لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگ جتنی اور جس قدر چاہو ان کھجوروں میں سے لے لو۔ ان لوگوں نے اپنی حاجت اور مرضی کے مطابق کھجوریں لے لیں۔ حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ سب سے آخر میں جب میں کھجوریں لینے کے لئے مکان میں داخل ہوا تو مجھے ایسا نظر آیا کہ گویا اس ڈھیر میں سے ایک کھجور بھی کم نہیں ہوئی ہے۔

یہ وہی حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں، جو فتح مکہ کے دن قبیلہ مزینہ کے علم بردار تھے یہ اپنے سات بھائیوں کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ آئے تھے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ کچھ گھر تو ایمان کے ہیں اور کچھ گھر نفاق کے ہیں اور آل مقرن کا گھر ایمان کا گھر ہے۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۳۶۷)

-: وفد دوس

-: وفد دوس

اس وفد کے قائد حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھے یہ ہجرت سے قبل ہی اسلام قبول کر چکے تھے۔ ان کے اسلام لانے کا واقعہ بھی بڑا ہی عجیب ہے یہ ایک بڑے ہوش مند اور شعلہ بیان شاعر تھے۔ یہ کسی ضرورت سے مکہ آئے تو کفار قریش نے ان سے کہہ دیا کہ خبردار تم محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے نہ ملنا اور ہر گز ہر گز ان کی بات نہ سننا۔ ان کے کلام میں ایسا جادو ہے کہ جو سن لیتا ہے وہ اپنا دین و مذہب چھوڑ بیٹھتا ہے اور عزیز و اقارب سے اس کا رشتہ کٹ جاتا ہے۔ یہ کفار مکہ کے فریب میں آ گئے اور اپنے کانوں میں انہوں نے روئی بھر لی کہ کہیں قرآن کی آواز کانوں میں نہ پڑ جائے۔ لیکن ایک دن صبح کو یہ حرم کعبہ میں گئے تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فجر کی نماز میں قراءت فرما رہے تھے ایک دم قرآن کی آواز جو ان کے کان میں پڑی تو یہ قرآن کی فصاحت و بلاغت پر حیران رہ گئے اور کتابِ الٰہی کی عظمت اور اس کی تاثیر ربانی نے ان کے دل کو موہ لیا۔ جب حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا شانہ نبوت کو چلے تو یہ بے تابانہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل پڑے اور مکان میں آ کر آپ کے سامنے مودبانہ بیٹھ گئے اور اپنا اور قریش کی بدگوئیوں کا سارا حال سنا کر عرض کیا کہ خدا کی قسم ! میں نے قرآن سے بڑھ کر فصیح و بلیغ آج تک کوئی کلام نہیں سنا۔ ﷲ ! مجھے بتائیے کہ اسلام کیا ہے ؟ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسلام کے چند احکام ان کے سامنے بیان فرما کر ان کو اسلام کی دعوت دی تو وہ فوراً ہی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے۔

پھر انہوں نے درخواست کی یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی علامت و کرامت عطا فرمائیے کہ جس کو دیکھ کر لوگ میری باتوں کی تصدیق کریں تا کہ میں اپنی قوم میں یہاں سے جا کر اسلام کی تبلیغ کروں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دعا فرما دی کہ الٰہی ! تو ان کو ایک خاص قسم کا نور عطا فرما دے۔ چنانچہ اس دعاء نبوی کی بدولت ان کو یہ کرامت عطا ہوئی کہ ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان چراغ کے مانند ایک نور چمکنے لگا۔ مگر انہوں نے یہ خواہش ظاہر کی کہ یہ نور میرے سر میں منتقل ہو جائے۔ چنانچہ ان کا سر قندیل کی طرح چمکنے لگا۔ جب یہ اپنے قبیلہ میں پہنچے اور اسلام کی دعوت دینے لگے تو ان کے ماں باپ اور بیوی نے تو اسلام قبول کر لیا مگر ان کی قوم مسلمان نہیں ہوئی بلکہ اسلام کی مخالفت پر تل گئی۔ یہ اپنی قوم کے اسلام سے مایوس ہو کر پھر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں چلے گئے اور اپنی قوم کی سرکشی اور سرتابی کا سارا حال بیان کیا تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم پھر اپنی قوم میں چلے جاؤ اور نرمی کے ساتھ ان کو خدا کی طرف بلاتے رہو۔ چنانچہ یہ پھر اپنی قوم میں آ گئے اور لگاتار اسلام کی دعوت دیتے رہے یہاں تک کہ ستر یا اسی گھرانوں میں اسلام کی روشنی پھیل گئی اور یہ ان سب لوگوں کو ساتھ لے کر خیبر میں تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خوش ہو کر خیبر کے مال غنیمت میں سے ان سب لوگوں کو حصہ عطا فرمایا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۳۷۰)

-: وفد بنی عبس

-: وفد بنی عبس

قبیلہ بنی عبس کے وفد نے دربار اقدس میں جب حاضری دی تو یہ عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہمارے مبلغین نے ہم کو خبر دی ہے کہ جو ہجرت نہ کرے اس کا اسلام مقبول ہی نہیں ہے تو یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اگر آپ حکم دیں تو ہم اپنے سارے مال و متاع اور مویشیوں کو بیچ کر ہجرت کرکے مدینہ چلے آئیں۔ یہ سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگوں کے لئے ہجرت ضروری نہیں۔ ہاں ! یہ ضروری ہے کہ تم جہاں بھی رہو خدا سے ڈرتے رہو اور زہد و تقویٰ کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہو۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۳۷۰)

-: وفد دارم

-: وفد دارم

یہ وفد دس آدمیوں کا ایک گروہ تھا جن کا تعلق قبیلہ ” لخم ” سے تھا اور ان کے سربراہ اور پیشوا کا نام ” ہانی بن حبیب ” تھا۔ یہ لوگ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے تحفے میں چند گھوڑے اور ایک ریشمی جبہ اور ایک مشک شراب اپنے وطن سے لے کر آئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے گھوڑوں اور جبہ کے تحائف کو تو قبول فرما لیا لیکن شراب کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ اﷲ تعالیٰ نے شراب کو حرام فرما دیا ہے۔ ہانی بن حبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اگر اجازت ہو تو میں اس شراب کو بیچ ڈالوں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس خدا نے شراب کے پینے کو حرام فرمایا ہے اسی نے اس کی خرید و فروخت کو بھی حرام ٹھہرایا ہے۔ لہٰذا تم شراب کی اس مشک کو لے جا کر کہیں زمین پر اس شراب کو بہا دو۔

ریشمی جبہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو عطا فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میں اس کو لے کر کیا کروں گا ؟ جب کہ مردوں کے لئے اس کا پہننا ہی حرام ہے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں جس قدر سونا ہے آپ اس کو اس میں سے جدا کر لیجئے اور اپنی بیویوں کے لئے زیورات بنوا لیجئے اور ریشمی کپڑے کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اپنے استعمال میں لائیے۔ چنانچہ حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس جبہ کو آٹھ ہزار درہم میں بیچا۔ یہ وفد بھی بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر نہایت خوش دلی کے ساتھ مسلمان ہو گیا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۳۶۵)

-: وفد غامد

-: وفد غامد

یہ دس آدمیوں کی جماعت تھی جو ۱۰ ھ میں مدینہ آئے اور اپنی منزل میں سامانوں کی حفاظت کے لئے ایک جوان لڑکے کو چھوڑ دیا۔ وہ سو گیا اتنے میں ایک چور آیا اور ایک بیگ چرا کر لے بھاگا۔ یہ لوگ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھے کہ ناگہاں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگوں کا ایک بیگ چور لے گیا مگر پھر تمہارے جوان نے اس بیگ کو پا لیا۔ جب یہ لوگ بارگاہ اقدس سے اٹھ کر اپنی منزل پر پہنچے تو ان کے جوان نے بتایا کہ میں سو رہا تھا کہ ایک چور بیگ لے کر بھاگا مگر میں بیدار ہونے کے بعد جب اس کی تلاش میں نکلا تو ایک شخص کو دیکھا وہ مجھ کو دیکھتے ہی فرار ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ وہاں کی زمین کھودی ہوئی ہے جب میں نے مٹی ہٹا کر دیکھا تو بیگ وہاں دفن تھا میں اس کو نکال کر لے آیا۔ یہ سن کر سب بول پڑے کہ بلا شبہ یہ رسول برحق ہیں اور ہم کو انہوں نے اسی لئے اس واقعہ کی خبر دیدی تاکہ ہم لوگ ان کی تصدیق کر لیں۔ ان سب لوگوں نے اسلام قبول کر لیا اور اس جوان نے بھی دربار رسول میں حاضر ہو کر کلمہ پڑھا اور اسلام کے دامن میں آ گیا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت اُبی بن کعب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ جتنے دنوں ان لوگوں کا مدینہ میں قیام رہے تم ان لوگوں کو قرآن پڑھنا سکھا دو۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۳۷۴)

-: وفد نجرانّ

-: وفد نجرانّ

یہ نجران کے نصاریٰ کا وفد تھا۔ اس میں ساٹھ سوار تھے۔ چوبیس ان کے شرفا اور معززین تھے اور تین اشخاص اس درجہ کے تھے کہ انہیں کے ہاتھوں میں نجران کے نصاریٰ کا مذہبی اور قومی سارا نظام تھا۔ ایک عاقب جس کا نام ” عبدالمسیح ” تھا دوسرا شخص سید جس کا نام ” ایہم ” تھا تیسرا شخص ” ابو حارثہ بن علقمہ ” تھا۔ ان لوگوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے بہت سے سوالات کئے اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کے جوابات دیئے یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ پر گفتگو چھڑ گئی۔ ان لوگوں نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کنواری مریم کے شکم سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جس کو ” آیت مباہلہ ” کہتے ہیں کہ

اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰي عِنْدَ اللهِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَکُوْنُ ﴿۵۹﴾ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَکُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ ﴿۶۰﴾ فَمَنْ حَآجَّكَ فِيْهِ مِنْ ۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَاَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ۟ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللهِ عَلَي الْکٰذِبِيْنَ ﴿۶۱﴾

(آل عمران)

بیشک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام ) کی مثال اﷲ کے نزدیک آدم (علیہ السلام) کی طرح ہے انکو مٹی سے بنایا پھر فرمایا “و جا ” وہ فوراً ہو جاتا ہے (اے سننے والے) یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تم شک والوں میں سے نہ ہونا پھر (اے محبوب) جو تم سے حضرت عیسیٰ کے بارے میں حجت کریں بعد اسکے کہ تمہیں علم آچکا تو ان سے فرما دو آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو اور اپنی جانوں کو اور تمہاری جانوں کو پھر ہم گڑ گڑا کر دعا مانگیں اور جھوٹوں پر اﷲ کی لعنت ڈالیں۔

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب ان لوگوں کو اس مباہلہ کی دعوت دی تو ان نصرانیوں نے رات بھر کی مہلت مانگی۔ صبح کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت حسن، حضرت حسین، حضرت علی، حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو ساتھ لے کر مباہلہ کے لئے کاشانہ نبوت سے نکل پڑے مگر نجران کے نصرانیوں نے مباہلہ کرنے سے انکار کر دیا اور جزیہ دینے کا اقرار کر کے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے صلح کر لی۔

(تفسير جلالين وغيره)