ہجرت کا آٹھواں سال

-: جنگ موتہ

ہجرت کا آٹھواں سال بھی حضور سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس حیات کے بڑے بڑے واقعات پر مشتمل ہے۔ ہم ان میں سے یہاں چند اہمیت و شہرت والے واقعات کا تذکرہ کرتے ہیں۔

-: جنگ موتہ

” موتہ ” ملک شام میں ایک مقام کا نام ہے۔ یہاں ۸ ھ میں کفر و اسلام کا وہ عظیم الشان معرکہ ہوا جس میں ایک لاکھ لشکر کفار سے صرف تین ہزار جاں نثار مسلمانوں نے اپنی جان پر کھیل کر ایسی معرکہ آرائی کی کہ یہ لڑائی تاریخ اسلام میں ایک تاریخی یادگار بن کر قیامت تک باقی رہے گی اور اس جنگ میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی بڑی بڑی اولو العزم ہستیاں شرف شہادت سے سرفراز ہوئیں۔

-: اس جنگ کا سبب

-: اس جنگ کا سبب

اس جنگ کا سبب یہ ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ” بصریٰ ” کے بادشاہ یا قیصر روم کے نام ایک خط لکھ کر حضرت حارث بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعہ روانہ فرمایا۔ راستہ میں ” بلقاء ” کے بادشاہ شرحبیل بن عمرو غسانی نے جو قیصر روم کا باج گزار تھا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اس قاصد کو نہایت بے دردی کے ساتھ رسی میں باندھ کر قتل کردیا۔ جب بارگاہ رسالت میں اس حادثہ کی اطلاع پہنچی تو قلب مبارک پر انتہائی رنج و صدمہ پہنچا۔ اس وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے تین ہزار مسلمانوں کا لشکر تیار فرمایا اور اپنے دست ِ مبارک سے سفید رنگ کا جھنڈا باندھ کر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں دیا اور ان کو اس فوج کا سپہ سالار بنایا اور ارشاد فرمایا کہ اگر زید بن حارثہ شہید ہو جائیں تو حضرت جعفر سپہ سالار ہوں گے اور جب وہ بھی شہادت سے سرفراز ہو جائیں تو اس جھنڈے کے علمبردار حضرت عبداللہ بن رواحہ ہوں گے (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) ان کے بعد لشکر اسلام جس کو منتخب کرے وہ سپہ سالار ہوگا۔

اس لشکر کو رخصت کرنے کے لئے خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مقام ” ثنیۃ الوداع ” تک تشریف لے گئے اور لشکر کے سپہ سالار کو حکم فرمایا کہ تم ہمارے قاصد حضرت حارث بن عمیر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی شہادت گاہ میں جاؤ جہاں اس جاں نثار نے ادائے فرض میں اپنی جان دی ہے۔ پہلے وہاں کے کفار کو اسلام کی دعوت دو۔ اگر وہ لوگ اسلام قبول کرلیں تو پھر وہ تمہارے اسلامی بھائی ہیں ورنہ تم اللہ عزوجل کی مدد طلب کرتے ہوئے ان سے جہاد کرو۔ جب لشکر چل پڑا تو مسلمانوں نے بلند آواز سے یہ دعا دی کہ خدا سلامت اور کامیاب واپس لائے۔

جب یہ فوج مدینہ سے کچھ دور آگے نکل گئی تو خبر ملی کہ خود قیصر روم مشرکین کی ایک لاکھ فوج لے کر بلقاء کی سر زمین میں خیمہ زن ہو گیا ہے۔ یہ خبر پا کر امیر لشکر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے لشکر کو پڑاؤ کا حکم دے دیا اور ارادہ کیا کہ بارگاہ رسالت میں اس کی اطلاع دی جائے اور حکم کا انتظار کیا جائے۔ مگر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہمارا مقصد فتح یا مال غنیمت نہیں ہے بلکہ ہمارا مطلوب تو شہادت ہے۔ کیونکہ ؎

نہ مالِ غنیمت، نہ کشور کشائی شہادت ہے مقصود و مطلوبِ مومن

اور یہ مقصد بلند ہر وقت اور ہر حالت مںم حاصل ہو سکتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ تقریر سن کر ہر مجاہد جوش جہاد مںم بے خود ہوگا۔ اور سب کی زبان پر یہی ترانہ تھا کہ

بڑھتے چلو مجاہدو بڑھتے چلو مجاہدو

غرض یہ مجاہدین اسلام موتہ کی سر زمین میں داخل ہوگئے اور وہاں پہنچ کر دیکھا کہ واقعی ایک بہت بڑا لشکر ریشمی زرق برق و ردیاں پہنے ہوئے بے پناہ تیاریوں کے ساتھ جنگ کے لئے کھڑا ہے۔ ایک لاکھ سے زائد لشکر کا بھلا تین ہزار سے مقابلہ ہی کیا ؟ مگر مسلمان خدا عزوجل کے بھروسا پر مقابلہ کے لئے ڈٹ گئے۔

-: معرکہ آرائی کا منظر

-: معرکہ آرائی کا منظر

یہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ جنگ ِ خندق میں جن جن کفار عرب نے مدینہ پر حملہ کیا تھا ان میں خیبر کے یہودی بھی تھے۔ بلکہ در حقیقت وہی اس حملہ کے بانی اور سب سے بڑے محرک تھے۔ چنانچہ ” بنو نضیر ” کے یہودی جب مدینہ سے جلا وطن کئے گئے تو یہودیوں کے جو رؤسا خیبر چلے گئے تھے ان میں سے حیی بن اخطب اور ابو رافع سلام بن ابی الحقیق نے تو مکہ جا کر کفار قریش کو مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے ابھارا اور تمام قبائل کا دورہ کر کے کفار عرب کو جوش دلا کر برانگیختہ کیا اور حملہ آوروں کی مالی امداد کے لئے پانی کی طرح روپیہ بہایا۔ اور خیبر کے تمام یہودیوں کو ساتھ لے کر یہودیوں کے یہ دونوں سردار حملہ کرنے والوں میں شامل رہے۔ حیی بن اخطب تو جنگ قریظہ میں قتل ہوگیا اور ابو رافع سلام بن ابی الحقیق کو ۶ ھ میں حضرت عبداللہ بن عتیک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے محل میں داخل ہو کر قتل کر دیا۔ لیکن ان سب واقعات کے بعد بھی خیبر کے یہودی بیٹھ نہیں رہے بلکہ اور زیادہ انتقام کی آگ ان کے سینوں میں بھڑکنے لگی۔ چنانچہ یہ لوگ مدینہ پر پھر ایک دوسرا حملہ کرنے کی تیاریاں کرنے لگے اور اس مقصد کے لئے قبیلہ غطفان کو بھی آمادہ کرلیا۔ قبیلہ غطفان عرب کا ایک بہت ہی طاقتور اور جنگجو قبیلہ تھا اور اس کی آبادی خیبر سے بالکل ہی متصل تھی اور خیبر کے یہودی خود بھی عرب کے سب سے بڑے سرمایہ دار ہونے کے ساتھ بہت ہی جنگ باز اور تلوار کے دھنی تھے۔ ان دونوں کے گٹھ جوڑ سے ایک بڑی طاقتور فوج تیار ہوگئی اور ان لوگوں نے مدینہ پر حملہ کر کے مسلمانوں کو تہس نہس کر دینے کا پلان بنا لیا۔

( بخاری ج۲ ص۶۱۱ غزوه موته و زرقانی ج۲ ص۲۷۱ ص۲۷۴)

اب لوگوں کے مشورہ سے حضرت خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ جھنڈے کے علمبردار بنے اور اس قدر شجاعت اور بہادری کے ساتھ لڑے کہ نو تلواریں ٹوٹ ٹوٹ کر ان کے ہاتھ سے گر پڑیں۔اور اپنی جنگی مہارت اور کمال ہنر مندی سے اسلامی فوج کو دشمنوں کے نرغہ سے نکال لائے۔

(بخاری ج۲ ص۶۱۱ غزوه موته)

اس جنگ میں جو بارہ معزز صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم شہید ہوئے ان کے مقدس نام یہ ہیں :۔

حضرت جعفر بن ابی طالب (۲) حضرت زید بن حارثہ (۱)
حضرت مسعود بن اوس (۴) حضرت عبداللہ بن رواحہ (۳)
حضرت عباد بن قیس (۶) حضرت وہب بن سعد (۵)
حضرت سراقہ بن عمر (۸) حضرت حارث بن نعمان (۷)
حضرت جابر بن عمر (۱۰) حضرت ابوکلیب بن عمر (۹)
حضرت ہو بجہ ضبی (۱۲) حضرت عمر بن سعد (۱۱)

(رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)

(زُرقانی ج۲ص ۲۷۳)

اسلامی لشکر نے بہت سے کفار کو قتل کیا اور کچھ مال غنیمت بھی حاصل کیا اور سلامتی کے ساتھ مدینہ واپس آگئے۔

-: نگاہِ نبوت کا معجزہ

-: نگاہِ نبوت کا معجزہ

جنگ ِ موتہ کی معرکہ آرائی میں جب گھمسان کا رن پڑا تو حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مدینہ سے میدانِ جنگ کو دیکھ لیا۔ اور آپ کی نگاہوں سے تمام حجابات اس طرح اٹھ گئے کہ میدانِ جنگ کی ایک ایک سر گزشت کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نگاہ نبوت نے دیکھا۔ چنانچہ بخاری کی روایت ہے کہ حضرت زید و حضرت جعفر و حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی شہادتوں کی خبر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے میدانِ جنگ سے خبر آنے کے قبل ہی اپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو سنا دی۔

چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انتہائی رنج و غم کی حالت میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بھرے مجمع میں یہ ارشاد فرمایا کہ زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جھنڈا لیا وہ بھی شہید ہوگئے۔ پھر جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جھنڈا لیا وہ بھی شہید ہوگئے، پھر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ علمبردار بنے اور وہ بھی شہید ہوگئے۔ یہاں تک کہ جھنڈے کو خدا کی تلواروں میں سے ایک تلوار (خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے اپنے ہاتھوں میں لیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو یہ خبریں سناتے رہے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

(بخاري ج۲ ص ۶۱۱ غزوه موته)

موسیٰ بن عقبہ نے اپنے مغازی میں لکھا ہے کہ جب حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگ موتہ کی خبر لے کر دربار نبوت میں پہنچے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم مجھے وہاں کی خبر سناؤ گے ؟ یا میں تمہیں وہاں کی خبر سناؤں۔ حضرت یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ ہی سنایئے جب آپ نے وہاں کا پورا پورا حال و ماحول سنایا تو حضرت یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک بات بھی نہیں چھوڑی کہ جس کو میں بیان کروں۔

(زرقاني ج۲ ص ۲۷۶)

حضرت جعفر شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ میں نے اپنے بچوں کو نہلا دھلا کر تیل کا جل سے آراستہ کرکے آٹا گوندھ لیا تھا کہ بچوں کے لئے روٹیاں پکاؤں کہ اتنے میں رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف لائے اور فرمایا کہ جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بچوں کو میرے سامنے لاؤ جب میں نے بچوں کو پیش کیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بچوں کو سونگھنے اور چومنے لگے اور آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی دھار رُخسارِ پر انوار پر بہنے لگی تو میں نے عرض کیا کہ کیا حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں کوئی خبر آئی ہے ؟ تو ارشاد فرمایا کہ ہاں ! وہ لوگ آج ہی شہید ہوگئے ہیں۔ یہ سن کر میری چیخ نکل گئی اور میرا گھر عورتوں سے بھر گیا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے کاشانہ نبوت میں تشریف لے گئے اور ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن سے فرمایا کہ جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر والوں کے لئے کھانا تیار کراؤ۔

(زرقاني ج۲ ص۲۷۷)

جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ مدینہ کے قریب پہنچے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہو کر ان لوگوں کے استقبال کے لئے تشریف لے گئے اور مدینہ کے مسلمان اور چھوٹے چھوٹے بچے بھی دوڑتے ہوئے مجاہدین اسلام کی ملاقات کے لئے گئے اور حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ موتہ کے شہدائے کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا ایسا پر درد مرثیہ سنایا کہ تمام سامعین رونے لگے۔

(زرقاني ج۲ ص۲۷۷)

حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دونوں ہاتھ شہادت کے وقت کٹ کر گر پڑے تھے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کے دونوں ہاتھوں کے بدلے دو بازو عطا فرمائے ہیں جن سے اڑ اڑ کر وہ جنت میں جہاں چاہتے ہیں چلے جاتے ہیں۔

(زرقاني ج۲ ص۲۷۴)

یہی وجہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلام کرتے تھے تو یہ کہتے تھے کہ “السلام علیک یا ابن ذی الجناحین ” یعنی اے دو بازوؤں والے کے فرزند ! تم پر سلام ہو۔

(بخاری ج۲ ص۶۱۱ غزوه موته)

جنگ موتہ اور فتح مکہ کے درمیان چند چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کفار کی مدافعت کے لئے مختلف مقامات پر بھیجا۔ ان میں سے بعض لشکروں کے ساتھ کفار کا ٹکراؤ بھی ہوا جن کا مفصل تذکرہ زرقانی و مدارج النبوۃ وغیرہ میں لکھا ہوا ہے۔ ان سریوں کے نام یہ ہیں:

ذات السلاسل۔ سریۃ الخبط۔ سریہ ابوقتادہ(نجد)۔ سریہ ابوقتادہ(صنم) مگر ان سریوں میں ” سریۃ الخبط ” زیادہ مشہور ہے جس کا مختصر بیان یہ ہے :۔

-: سریۃ الخبط

-: سریۃ الخبط

اس سریہ کو حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ” غزوہ سیف البحر ” کے نام سے ذکر کیا ہے۔ رجب ۸ ھ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تین سو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے لشکر پر امیر بنا کر ساحل سمندر کی جانب روانہ فرمایا تا کہ یہ لوگ قبیلہ جہینہ کے کفار کی شرارتوں پر نظر رکھیں اس لشکر میں خوراک کی اس قدر کمی پڑ گئی کہ امیر لشکر مجاہدین کو روزانہ ایک ایک کھجور راشن میں دیتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا بھی آگیا کہ یہ کھجوریں بھی ختم ہوگئیں اور لوگ بھوک سے بے چین ہو کر درختوں کے پتے کھانے لگے یہی وجہ ہے کہ عام طور پر مؤرخین نے اس سریہ کا نام ” سریۃ الخبط ” یا ” جیش الخبط ” رکھا ہے۔ ” خبط ” عربی زبان میں درخت کے پتوں کو کہتے ہیں۔ چونکہ مجاہدین اسلام نے اس سریہ میں درختوں کے پتے کھا کر جان بچائی اس لئے یہ سریۃ الخبط کے نام سے مشہور ہو گیا۔

-: ایک عجیب الخلقت مچھلی

-: ایک عجیب الخلقت مچھلی

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ہم لوگوں کو اس سفر میں تقریباً ایک مہینہ رہنا پڑا اور جب بھوک کی شدت سے ہم لوگ درختوں کے پتے کھانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے غیب سے ہمارے رزق کا یہ سامان پیدا فرما دیا کہ سمندر کی موجوں نے ایک اتنی بڑی مچھلی ساحل پر پھینک دی، جو ایک پہاڑی کے مانند تھی چنانچہ تین سو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اٹھارہ دنوں تک اس مچھلی کا گوشت کھاتے رہے اور اس کی چربی اپنے بدن پر ملتے رہے اور جب وہاں سے روانہ ہونے لگے تو اس کا گوشت کاٹ کاٹ کر مدینہ تک لائے اور جب یہ لوگ بارگاہ نبوت میں پہنچے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لئے رزق کا سامان ہوا تھا پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس مچھلی کا گوشت طلب فرمایا اور اس میں سے کچھ تناول بھی فرمایا، یہ اتنی بڑی مچھلی تھی کہ امیر لشکر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی دو پسلیاں زمین میں گاڑ کر کھڑی کردیں تو کجاوہ بندھا ہوا اونٹ اس محراب کے اندر سے گزر گیا۔

(بخاری ج۲ ص۶۲۵ غزوه سیف البحر و زرقاني ج۲ ص۲۸۰)

-: فتح مکہ (رمضان ۸ ھ مطابق جنوری ۶۳۰ ء)

-: فتح مکہ (رمضان ۸ ھ مطابق جنوری ۶۳۰ ء)

رمضان ۸ ھ تاریخ نبوت کا نہایت ہی عظیم الشان عنوان ہے اور سیرت مقدسہ کا یہ وہ سنہرا باب ہے کہ جس کی آب و تاب سے ہر مومن کا قلب قیامت تک مسرتوں کا آفتاب بنا رہے گا کیونکہ تاجدار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس تاریخ سے آٹھ سال قبل انتہائی رنجیدگی کے عالم میں اپنے یارغار کو ساتھ لے کر رات کی تاریکی میں مکہ سے ہجرت فرما کر اپنے وطن عزیز کو خیرباد کہہ دیا تھااور مکہ سے نکلتے وقت خدا کے مقدس گھر خانہ کعبہ پر ایک حسرت بھری نگاہ ڈال کر یہ فرماتے ہوئے مدینہ روانہ ہوئے تھے کہ ” اے مکہ ! خدا کی قسم ! تو میری نگاہ محبت میں تمام دنیا کے شہروں سے زیادہ پیارا ہے اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں ہرگز تجھے نہ چھوڑتا۔ ” لیکن آٹھ برس کے بعد یہی وہ مسرت خیز تاریخ ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک فاتح اعظم کی شان و شوکت کے ساتھ اسی شہر مکہ میں نزول اجلال فرمایا اور کعبۃ اللہ میں داخل ہوکر اپنے سجدوں کے جمال و جلال سے خدا کے مقدس گھر کی عظمت کو سرفراز فرمایا۔

لیکن ناظرین کے ذہنوں میں یہ سوال سر اٹھاتا ہوگا کہ جب کہ حدیبیہ کے صلح نامہ میں یہ تحریر کیا جا چکا تھا کہ دس برس تک فریقین کے مابین کوئی جنگ نہ ہوگی تو پھر آخر وہ کونسا ایسا سبب نمودار ہوگیا کہ صلح نامہ کے فقط دو سال ہی بعد تاجدار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اہل مکہ کے سامنے ہتھیار اٹھانے کی ضرورت پیش آگئی اور آپ ایک عظیم لشکر کے ساتھ فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے۔ تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس کا سبب کفار مکہ کی ” عہد شکنی ” اور حدیبیہ کے صلح نامہ سے غداری ہے۔

-: کفار قریش کی عہد شکنی

-: کفار قریش کی عہد شکنی

صلح حدیبیہ کے بیان میں آپ پڑھ چکے کہ حدیبیہ کے صلح نامہ میں ایک یہ شرط بھی درج تھی کہ قبائل عرب میں سے جو قبیلہ قریش کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہے وہ قریش کے ساتھ معاہدہ کرے اور جو حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے معاہدہ کرنا چاہے وہ حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ معاہدہ کرے۔

چنانچہ اسی بنا پر قبیلہ بنی بکر نے قریش سے باہمی امداد کا معاہدہ کرلیا اور قبیلہ بنی خزاعہ نے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے امداد باہمی کا معاہدہ کرلیا۔ یہ دونوں قبیلے مکہ کے قریب ہی میں آباد تھے لیکن ان دونوں میں عرصہ دراز سے سخت عداوت اور مخالفت چلی آرہی تھی۔

ایک مدت سے تو کفار قریش اور دوسرے قبائل عرب کے کفار مسلمانوں سے جنگ کرنے میں اپنا سارا زور صرف کر رہے تھے لیکن صلح حدیبیہ کی بدولت جب مسلمانوں کی جنگ سے کفار قریش اور دوسرے قبائل کفار کو اطمینان ملا تو قبیلہ بنی بکر نے قبیلہ بنی خزاعہ سے اپنی پرانی عداوت کا انتقام لینا چاہا اور اپنے حلیف کفارِ قریش سے مل کر بالکل اچانک طور پر قبیلہ بنی خزاعہ پر حملہ کردیا اور اس حملہ میں کفار قریش کے تمام رؤسا یعنی عکرمہ بن ابی جہل، صفوان بن امیہ و سہیل بن عمرو وغیرہ بڑے بڑے سرداروں نے علانیہ بنی خزاعہ کو قتل کیا۔ بے چارے بنی خزاعہ اس خوفناک ظالمانہ حملہ کی تاب نہ لاسکے اور اپنی جان بچانے کے لئے حرم کعبہ میں پناہ لینے کے لئے بھاگے۔ بنی بکر کے عوام نے تو حرم میں تلوار چلانے سے ہاتھ روک لیا اور حرم الٰہی کا احترام کیا۔ لیکن بنی بکر کا سردار ” نوفل ” اس قدر جوش انتقام میں آپے سے باہر ہو چکا تھا کہ وہ حرم میں بھی بنی خزاعہ کو نہایت بے دردی کے ساتھ قتل کرتا رہا اور چلا چلا کر اپنی قوم کو للکارتا رہا کہ پھر یہ موقع کبھی ہاتھ نہیں آسکتا۔ چنانچہ ان درندہ صفت خونخوار انسانوں نے حرم الٰہی کے احترام کو بھی خاک میں ملا دیااور حرم کعبہ کی حدود میں نہایت ہی ظالمانہ طور پر بنی خزاعہ کا خون بہایااور کفار قریش نے بھی اس قتل و غارت اور کشت و خون میں خوب خوب حصہ لیا۔

(زرقاني ج۲ ص۲۸۹)

ظاہر ہے کہ قریش نے اپنی اس حرکت سے حدیبیہ کے معاہدہ کو عملی طور پر توڑ ڈالا۔ کیونکہ بنی خزاعہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے معاہدہ کر کے آپ کے حلیف بن چکے تھے، اس لئے بنی خزاعہ پر حملہ کرنا، یہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کے برابر تھا۔ اس حملہ میں بنی خزاعہ کے تیئیس (۲۳) آدمی قتل ہوگئے۔

اس حادثہ کے بعد قبیلۂ بنی خزاعہ کے سردار عمرو بن سالم خزاعی چالیس آدمیوں کا وفد لے کر فریاد کرنے اور امداد طلب کرنے کے لئے مدینہ بارگاہ رسالت میں پہنچے اور یہی فتح مکہ کی تمہید ہوئی۔

-: تاجدار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے استعانت

-: تاجدار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے استعانت

حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ ایک رات حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاشانۂ نبوت میں وضو فرما رہے تھے کہ ایک دم بالکل ناگہاں آپ نے بلند آواز سے تین مرتبہ یہ فرمایا کہ لبیک۔ لبیک۔ لبیک۔ (میں تمہارے لئے بار بار حاضر ہوں۔) پھر تین مرتبہ بلند آواز سے آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ نصرت۔ نصرت۔ نصرت (تمہیں مدد مل گئی) جب آپ وضو خانہ سے نکلے تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ تنہائی میں کس سے گفتگو فرما رہے تھے ؟ تو ارشاد فرمایا کہ اے میمونہ ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا غضب ہوگیا۔ میرے حلیف بنی خزاعہ پر بنی بکر اور کفار قریش نے حملہ کردیا ہے اور اس مصیبت و بے کسی کے وقت میں بنی خزاعہ نے وہاں سے چلا چلا کر مجھے مدد کے لئے پکارا ہے اور مجھ سے مدد طلب کی ہے اور میں نے ان کی پکار سن کر ان کی ڈھارس بندھانے کے لئے ان کو جواب دیا ہے۔ حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ اس واقعہ کے تیسرے دن جب حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نماز فجر کے لئے مسجد میں تشریف لے گئے اور نماز سے فارغ ہوئے تو دفعۃً بنی خزاعہ کے مظلومین نے رجز کے ان اشعار کو بلند آواز سے پڑھنا شروع کر دیا اور حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور اصحاب کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ان کی اس پر درد اور رقت انگیز فریاد کو بغور سنا۔ آپ بھی اس رجز کے چند اشعار کو ملاحظہ فرمایئے :۔

یَا رَبِّ اِنِّيْ نَاشِدٌ مُحَمَّدًا

حِلْفَ اَبِيْنَا وَاَبِيْهِ الْاَتْلَدًا

اے خدا ! میں محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو وہ معاہدہ یاد دلاتا ہوں جو ہمارے اور ان کے باپ داداؤں کے درمیان قدیم زمانے سے ہوچکا ہے۔

فَانْصُرْ هَدَاكَ اللّٰهُ نَصْرًا اَبَّدَا

وَادْعُ عِبَادَ اللهِ یَاتُوْا مَدَّدَا

تو خدا آپ کو سیدھی راہ پر چلائے۔ آپ ہماری بھر پور مدد کیجئے اور خدا کے بندوں کو بلائیے۔ وہ سب امداد کے لئے آئیں گے۔

فِيْهِمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ قَـدْ تجَـَّردَا

اِنْ سِيْمَ خَسْفًا وَجْهُهٗ تَرَبَّدَا

ان مدد کرنے والوں میں رسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) بھی غضب کی حالت میں ہوں کہ اگر انہیں ذلت کا داغ لگے تو ان کا تیور بدل جائے۔

هُمْ بَيَّتُوْنَا بِالْوَتِيْرِ هُجَّدًا

وَ قَتَلُوْنَا رُکَّعًا وَّ سُجَّدًا

ان لوگوں (بنی بکر و قریش) نے ” مقام و تیر ” میں ہم سوتے ہوؤں پر شب خون مارا اور رکوع و سجدہ کی حالت میں بھی ہم لوگوں کو بیدردی کے ساتھ قتل کر ڈالا۔

اِنَّ قُرَيْشًا اَخْلَفُوْكَ الْمَوْعِدَا

وَ نَقَّضُوْا مِيْثَاقَكَ الْمُؤَكّدَا

یقینا قریش نے آپ سے وعدہ خلافی کی ہے اور آپ سے مضبوط معاہدہ کر کے توڑ ڈالا ہے۔

ان اشعار کو سن کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علہا وسلم نے ان لوگوں کو تسلی دی اور فرمایا کہ مت گھبراؤ میں تمہاری امداد کے لئے تیار ہوں۔

(زرقانی ج ۲ ص ۲۹۰)

-: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی امن پسندی

-: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی امن پسندی

اس کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قریش کے پاس قاصد بھیجا اور تین شرطیں پیش فرمائیں کہ ان میں سے کوئی ایک شرط قریش منظور کر لیں :۔

(۱) بنی خزاعہ کے مقتولوں کا خون بہا دیا جائے۔

(۲) قریش قبیلہ بنی بکر کی حمایت سے الگ ہو جائیں۔

(۳) اعلان کر دیا جائے کہ حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا۔

جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قاصد نے ان شرطوں کو قریش کے سامنے رکھا تو قرطہ بن عبد عمر نے قریش کا نمائندہ بن کر جواب دیا کہ ” نہ ہم مقتولوں کے خون کا معاوضہ دیں گے نہ اپنے حلیف قبیلہ بنی بکر کی حمایت چھوڑیں گے۔ ہاں تیسری شرط ہمیں منظور ہے اور ہم اعلان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا۔ ” لیکن قاصد کے چلے جانے کے بعد قریش کو اپنے اس جواب پر ندامت ہوئی۔ چنانچہ چند رؤسائے قریش ابو سفیان کے پاس گئے اور یہ کہا کہ اگر یہ معاملہ نہ سلجھا تو پھر سمجھ لو کہ یقینا محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ہم پر حملہ کردیں گے۔ ابو سفیان نے کہا کہ میری بیوی ہند بنت عتبہ نے ایک خواب دیکھا ہے کہ مقام ” حجون ” سے مقام ” خندمہ ” تک ایک خون کی نہر بہتی ہوئی آئی ہے، پھر ناگہاں وہ خون غائب ہوگیا۔ قریش نے اس خواب کو بہت ہی منحوس سمجھا اور خوف و دہشت سے سہم گئے اور ابو سفیان پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا کہ وہ فوراً مدینہ جا کر معاہدہ حدیبیہ کی تجدید کرے۔

(زرقاني ج۲ ص۲۹۲)

-: ابو سفیان کی کوشش

-: ابو سفیان کی کوشش

اس کے بعد بہت تیزی کے ساتھ ابو سفیان مدینہ گیا اور پہلے اپنی لڑکی حضرت اُم المؤمنین بی بی ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مکان پر پہنچا اور بستر پر بیٹھنا ہی چاہتا تھا کہ حضرتِ بی بی اُمِ حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جلدی سے بستر اٹھا لیا ابو سفیان نے حیران ہو کر پوچھا کہ بیٹی تم نے بستر کیوں اٹھا لیا ؟ کیا بستر کو میرے قابل نہیں سمجھا یا مجھ کو بستر کے قابل نہیں سمجھا ؟ اُم المؤمنین نے جواب دیا کہ یہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا بستر ہے اور تم مشرک اور نجس ہو۔ اس لئے میں نے یہ گوارا نہیں کیا کہ تم رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بستر پر بیٹھو۔ یہ سن کر ابو سفیان کے دل پر چوٹ لگی اور وہ رنجیدہ ہو کر وہاں سے چلا آیا اور رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا مقصد بیان کیا۔ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر ابو سفیان حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر و حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے پاس گیا۔ ان سب حضرات نے جواب دیا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جب ابو سفیان پہنچا تو وہاں حضرت بی بی فاطمہ اور حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی تھے۔ ابو سفیان نے بڑی لجاجت سے کہا کہ اے علی ! تم قوم میں بہت ہی رحم دل ہو ہم ایک مقصد لے کر یہاں آئے ہیں کیا ہم یوں ہی ناکام چلے جائیں۔ ہم صرف یہی چاہتے ہیں کہ تم محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) سے ہماری سفارش کردو۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے ابو سفیان ! ہم لوگوں کی یہ مجال نہیں ہے کہ ہم حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارادہ اور ان کی مرضی میں کوئی مداخلت کر سکیں۔ ہر طرف سے مایوس ہو کر ابو سفیان نے حضرت فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ اے فاطمہ ! یہ تمہارا پانچ برس کا بچہ (امام حسن) ایک مرتبہ اپنی زبان سے اتنا کہہ دے کہ میں نے دونوں فریق میں صلح کرا دی تو آج سے یہ بچہ عرب کا سردار کہہ کر پکارا جائے گا۔ حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا کہ بچوں کو ان معاملات میں کیا دخل ؟ بالآخر ابو سفیان نے کہا کہ اے علی ! معاملہ بہت کٹھن نظر آتا ہے کوئی تدبیر بتاؤ ؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں اس سلسلے میں تم کو کوئی مفید رائے تو نہیں دے سکتا، لیکن تم بنی کنانہ کے سردار ہو تم خود ہی لوگوں کے سامنے اعلان کر دو کہ میں نے حدیبیہ کے معاہدہ کی تجدید کردی ابو سفیان نے کہا کہ کیا میرا یہ اعلان کچھ مفید ہو سکتا ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یک طرفہ اعلان ظاہر ہے کہ کچھ مفید نہیں ہو سکتا۔ مگر اب تمہارے پاس اس کے سوا اور چارۂ کار ہی کیا ہے ؟ ابو سفیان وہاں سے مسجد نبوی میں آیا اور بلند آواز سے مسجد میں اعلان کر دیا کہ میں نے معاہدہ حدیبیہ کی تجدید کر دی مگر مسلمانوں میں سے کسی نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔

ابو سفیان یہ اعلان کر کے مکہ روانہ ہو گیا جب مکہ پہنچا تو قریش نے پوچھا کہ مدینہ میں کیا ہوا ؟ ابو سفیان نے ساری داستان بیان کردی۔ تو قریش نے سوال کیا کہ جب تم نے اپنی طرف سے معاہدہ حدیبیہ کی تجدید کا اعلان کیا تو کیا محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اس کو قبول کر لیا ؟ ابو سفیان نے کہا کہ ” نہیں ” یہ سن کر قریش نے کہا کہ یہ تو کچھ بھی نہ ہوا۔ یہ نہ تو صلح ہے کہ ہم اطمینان سے بیٹھیں نہ یہ جنگ ہے کہ لڑائی کا سامان کیا جائے۔

(زرقاني ج۲ ص۲۹۲ تا ص۲۹۳)

اس کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے لوگوں کو جنگ کی تیاری کا حکم دے دیا اور حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بھی فرما دیا کہ جنگ کے ہتھیار درست کریں اور اپنے حلیف قبائل کو بھی جنگی تیاریوں کے لئے حکم نامہ بھیج دیا۔ مگر کسی کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ نہیں بتایا کہ کس سے جنگ کا ارادہ ہے ؟ یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی آپ نے کچھ نہیں فرمایا۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے اور دیکھا کہ وہ جنگی ہتھیاروں کو نکال رہی ہیں تو آپ نے دریافت کیا کہ کیا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے ؟ عرض کیا : ” جی ہاں ” پھر آپ نے پوچھا کہ کیا تمہیں کچھ معلوم ہے کہ کہاں کا ارادہ ہے ؟ حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ ” واللہ ! مجھے یہ معلوم نہیں۔ ”

(زرقاني ج۲ ص۲۹۱)

غرض انتہائی خاموشی اور رازداری کے ساتھ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جنگ کی تیاری فرمائی اور مقصد یہ تھا کہ اہل مکہ کو خبر نہ ہونے پائے اور اچانک ان پر حملہ کردیا جائے۔

-: حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط

-: حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط

حضرت حاطب بن ابی بَلْتَعَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ایک معزز صحابی تھے انہوں نے قریش کو ایک خط اس مضمون کا لکھدیا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جنگ کی تیاریاں کر رہے ہیں، لہٰذا تم لوگ ہوشیار ہو جاؤ۔ اس خط کو انہوں نے ایک عورت کے ذریعہ مکہ بھیجا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو علم غیب عطا فرمایا تھا۔ آپ نے اپنے اس علم غیب کی بدولت یہ جان لیا کہ حضرت حاطب بن ابی بَلْتَعَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا کارروائی کی ہے۔ چنانچہ آپ نے حضرت علی و حضرت زبیر و حضرت مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو فوراً ہی روانہ فرمایا کہ تم لوگ ” روضۂ خاخ ” میں چلے جاؤ۔ وہاں ایک عورت ہے اور اس کے پاس ایک خط ہے۔ اس سے وہ خط چھین کر میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ یہ تینوں اصحاب کبار رضی اللہ تعالیٰ عنہم تیز رفتار گھوڑوں پر سوار ہو کر ” روضۂ خاخ ” میں پہنچے اور عورت کو پالیا۔ جب اس سے خط طلب کیا تو اس نے کہا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کبھی کوئی جھوٹی بات نہیں کہہ سکتے، نہ ہم لوگ جھوٹے ہیں لہٰذا تو خط نکال کر ہمیں دے دے ورنہ ہم تجھ کو ننگی کر کے تلاشی لیں گے۔ جب عورت مجبور ہوگئی تو اس نے اپنے بالوں کے جوڑے میں سے وہ خط نکال کر دے دیا۔ جب یہ لوگ خط لے کر بارگاہ رسالت میں پہنچے تو آپ نے حضرت حاطب بن ابی بَلْتَعَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور فرمایا کہ اے حاطب ! یہ تم نے کیا کیا ؟ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ میرے بارے میں جلدی نہ فرمائیں نہ میں نے اپنا دین بدلا ہے نہ مرتد ہوا ہوں میرے اس خط کے لکھنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ مکہ میں میرے بیوی بچے ہیں۔ مگر مکہ میں میرا کوئی رشتہ دار نہیں ہے جو میرے بیوی بچوں کی خبر گیری و نگہداشت کرے میرے سوا دوسرے تمام مہاجرین کے عزیز و اقارب مکہ میں موجود ہیں جو ان کے اہل و عیال کی دیکھ بھال کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے میں نے یہ خط لکھ کر قریش پر ایک اپنا احسان رکھ دیا ہے تا کہ میں ان کی ہمدردی حاصل کر لوں اور وہ میرے اہل و عیال کے ساتھ کوئی برا سلوک نہ کریں۔ یا رسول اللہ ! (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) میرا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرور ان کافروں کو شکست دے گا اور میرے اس خط سے کفار کو ہرگز ہرگز کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت حاطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس بیان کو سن کر ان کے عذر کو قبول فرما لیا مگر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس خط کو دیکھ کر اس قدر طیش میں آگئے کہ آپے سے باہر ہو گئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی غیظ و غضب میں بھر گئے۔ لیکن رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جبینِ رحمت پر اک ذرا شکن بھی نہیں آئی اور آپ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ اے عمر ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا تمہیں خبر نہیں کہ حاطب اہل بدر میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو مخاطب کرکے فرمادیا ہے کہ ” تم جو چاہو کرو۔ تم سے کوئی مواخذہ نہیں ” یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھیں نم ہو گئیں اور وہ یہ کہہ کر بالکل خاموش ہوگئے کہ ” اللہ اور اس کے رسول کو ہم سب سے زیادہ علم ہے ” اسی موقع پر قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی کہ

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِيَآءَ (ممتحنه)

اے ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمن کافروں کو دوست نہ بناؤ۔

بہر حال حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معاف فرما دیا۔

(بخاري ج۲ ص۶۱۲ غزوه الفتح)

-: مکہ پر حملہ

-: مکہ پر حملہ

غرض ۱۰ رمضان ۸ ھ کو رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ سے دس ہزار کا لشکرِ پر انوار ساتھ لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ بعض روایتوں میں ہے کہ فتح مکہ میں آپ کے ساتھ بارہ ہزار کا لشکر تھا ان دونوں روایتوں میں کوئی تعارض نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ مدینہ سے روانگی کے وقت دس ہزار کا لشکر رہا ہو۔ پھر راستہ میں بعض قبائل اس لشکر میں شامل ہو گئے ہوں تو مکہ پہنچ کر اس لشکر کی تعداد بارہ ہزار ہو گئی ہو۔ بہر حال مدینہ سے چلتے وقت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور تمام صحابہ کبار رضی اللہ تعالیٰ عنہم روزہ دار تھے جب آپ ” مقام کدید ” میں پہنچے تو پانی مانگا اور اپنی سواری پر بیٹھے ہوئے پورے لشکر کو دکھا کر آپ نے دن میں پانی نوش فرمایا اور سب کو روزہ چھوڑ دینے کا حکم دیا۔ چنانچہ آپ اور آپ کے اصحاب نے سفر اور جہاد میں ہونے کی وجہ سے روزہ رکھنا موقوف کردیا۔

(بخاري ج۲ ص۶۱۳ و زرقاني ج۲ ص۳۰۰ و سیرت ابن هشام ج۲ ص۴۰۰)

-: حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ سے ملاقات

-: حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ سے ملاقات

جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مقام ” جحفہ ” میں پہنچے تو وہاں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ یہ مسلمان ہو کر آئے تھے بلکہ اس سے بہت پہلے مسلمان ہو چکے تھے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مرضی سے مکہ میں مقیم تھے اور حجاج کو زمزم پلانے کے معزز عہدہ پر فائز تھے اور آپ کے ساتھ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچا حارث بن عبدالمطلب کے فرزند جن کا نام بھی ابوسفیان تھا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی عبداللہ بن ابی امیہ جو اُم المؤمنین حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سوتیلے بھائی بھی تھے بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے ان دونوں صاحبوں کی حاضری کا حال جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے ان دونوں صاحبوں کی ملاقات سے انکار فرما دیا۔ کیونکہ ان دونوں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بہت زیادہ ایذائیں پہنچائی تھیں۔ خصوصاً ابو سفیان بن الحارث آپ کے چچازاد بھائی جو اعلان نبوت سے پہلے آپ کے انتہائی جاں نثاروں میں سے تھے مگر اعلان نبوت کے بعد انہوں نے اپنے قصیدوں میں اتنی شرمناک اور بیہودہ ہجو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی کر ڈالی تھی کہ آپ کا دل زخمی ہو گیا تھا۔ اس لئے آپ ان دونوں سے انتہائی ناراض و بیزار تھے مگر حضرت بی بی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان دونوں کا قصور معاف کرنے کے لئے بہت ہی پرزور سفارش کی اور ابو سفیان بن الحارث نے یہ کہہ دیا کہ اگر رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے میرا قصور نہ معاف فرمایا تو میں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو لے کر عرب کے ریگستان میں چلا جاؤں گا تاکہ وہاں بغیر دانہ پانی کے بھوک پیاس سے تڑپ تڑپ کر میں اور میرے سب بچے مر کر فنا ہوجائیں۔ حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بارگاہ رسالت میں آبدیدہ ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کیا آپ کے چچا کا بیٹا اور آپ کی پھوپھی کا بیٹا تمام انسانوں سے زیادہ بدنصیب رہے گا ؟ کیا ان دونوں کو آپ کی رحمت سے کوئی حصہ نہیں ملے گا ؟ جان چھڑکنے والی بیوی کے ان درد انگیز کلمات سے رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے رحمت بھرے دل میں رحم و کرم اور عفو و درگزر کے سمندر موجیں مارنے لگے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں کو یہ مشورہ دیا کہ تم دونوں اچانک بارگاہ رسالت میں سامنے جا کر کھڑے ہوجاؤ اور جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے کہا تھا وہی تم دونوں بھی کہو کہ

َقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَاِنْ کُنَّا لَخٰطِئِيْنَ

کہ یقینا آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضیلت دی ہے اور ہم بلاشبہ خطاوار ہیں۔

چنانچہ ان دونوں صاحبوں نے دربار رسالت میں ناگہاں حاضر ہوکر یہی کہا۔ ایک دم رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جبینِ رحمت پر رحم و کرم کے ہزاروں ستارے چمکنے لگے اور آپ نے ان کے جواب میں بعینہٖ وہی جملہ اپنی زبانِ رحمت نشان سے ارشاد فرمایا جو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے جواب میں فرمایا تھا کہ

لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَط يَغْفِرُ اللّٰهُ لَکُمْز وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ

آج تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہے اللہ تمہیں بخش دے۔ وہ ارحم الراحمین ہے

جب قصور معاف ہوگیا تو ابوسفیان بن الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تاجدار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدح میں اشعار لکھے اور زمانہ جاہلیت کے دور میں جو کچھ آپ کی ہجو میں لکھا تھا اس کی معذرت کی اور اس کے بعد عمر بھر نہایت سچے اور ثابت قدم مسلمان رہے مگر حیاء کی وجہ سے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے کبھی سر نہیں اٹھاتے تھے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ بہت زیادہ محبت رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ مجھے امید ہے کہ ابو سفیان بن الحارث میرے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قائم مقام ثابت ہوں گے۔

(زرقاني ج۲ ص۳۰۱ تا ص۳۰۲ و سیرت ابن هشام ج۲ ص۴۰۰)

-: میلوں تک آگ ہی آگ

-: میلوں تک آگ ہی آگ

مکہ سے ایک منزل کے فاصلہ پر ” مرالظہران ” میں پہنچ کر اسلامی لشکر نے پڑاؤ ڈالا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فوج کو حکم دیا کہ ہر مجاہد اپنا الگ الگ چولہا جلائے۔ دس ہزار مجاہدین نے جو الگ الگ چولہے جلائے تو ” مرالظہران ” کے پورے میدان میں میلوں تک آگ ہی آگ نظر آنے لگی۔

-: قریش کے جاسوس

-: قریش کے جاسوس

گو قریش کو معلوم ہی ہو چکا تھا کہ مدینہ سے فوجیں آرہی ہیں۔ مگر صورت حال کی تحقیق کے لئے قریش نے ابو سفیان بن حرب، حکیم بن حزام و بدیل بن ورقاء کو اپنا جاسوس بناکر بھیجا۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے حد فکر مند ہوکر قریش کے انجام پر افسوس کر رہے تھے۔ وہ یہ سوچتے تھے کہ اگر رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اتنے عظیم لشکر کے ساتھ مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے تو آج قریش کا خاتمہ ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ رات کے وقت رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سفید خچر پر سوار ہوکر اس ارادہ سے مکہ چلے کہ قریش کو اس خطرہ سے آگاہ کرکے انہیں آمادہ کریں کہ چل کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے معافی مانگ کر صلح کرلو ورنہ تمہاری خیر نہیں۔

(زرقاني ج۲ ص۳۰۴)

مگر بخاری کی روایت میں ہے کہ قریش کو یہ خبر تو مل گئی تھی کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ سے روانہ ہو گئے ہیں مگر انہیں یہ پتا نہ تھا کہ آپ کا لشکر ” مرالظہران ” تک آگیا ہے۔ اس لئے ابو سفیان بن حرب اور حکیم بن حزام و بدیل بن ورقاء اس تلاش و جستجو میں نکلے تھے کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا لشکر کہاں ہے ؟ جب یہ تینوں ” مرالظہران ” کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ میلوں تک آگ ہی آگ جل رہی ہے یہ منظر دیکھ کر یہ تینوں حیران رہ گئے اور ابو سفیان بن حرب نے کہا کہ میں نے تو زندگی میں کبھی اتنی دور تک پھیلی ہوئی آگ اس میدان میں جلتے ہوئے نہیں دیکھی۔ آخر یہ کون سا قبیلہ ہے ؟ بدیل بن ورقاء نے کہا کہ بنی عمرو معلوم ہوتے ہیں۔ ابو سفیان نے کہا کہ نہیں بنی عمرو اتنی کثیر تعداد میں کہاں ہیں جو ان کی آگ سے ” مرالظہران ” کا پورا میدان بھر جائے گا۔

(بخاری ج۲ص ۶۱۳)

بہر حال حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ان تینوں سے ملاقات ہوگئی اور ابو سفیان نے پوچھا کہ اے عباس ! تم کہاں سے آرہے ہو ؟ اور یہ آگ کیسی ہے ؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لشکر کی آگ ہے۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابو سفیان بن حرب سے کہا کہ تم میرے خچر پر پیچھے سوار ہو جاؤ ورنہ اگر مسلمانوں نے تمہیں دیکھ لیا تو ابھی تم کو قتل کر ڈالیں گے۔ جب یہ لوگ لشکر گاہ میں پہنچے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرے چند مسلمانوں نے جو لشکر گاہ کا پہرہ دے رہے تھے۔ ابو سفیان کو دیکھ لیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے جذبہ انتقام کو ضبط نہ کر سکے اور ابو سفیان کو دیکھتے ہی ان کی زبان سے نکلا کہ ” ارے یہ تو خدا کا دشمن ابو سفیان ہے۔ ” دوڑتے ہوئے بارگاہ رسالت میں پہنچے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ابوسفیان ہاتھ آگیا ہے۔ اگر اجازت ہو تو ابھی اس کا سر اڑا دوں۔ اتنے میں حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان تینوں مشرکوں کو ساتھ لئے ہوئے دربار رسول میں حاضر ہوگئے اور ان لوگوں کی جان بخشی کی سفارش پیش کردی اور یہ کہا کہ یا رسول اللہ ! (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) میں نے ان سبھوں کو امان دے دی ہے۔

-: ابو سفیان کا اسلام

-: ابو سفیان کا اسلام

ابو سفیان بن حرب کی اسلام دشمنی کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں تھی۔ مکہ میں رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو سخت سے سخت ایذائیں دینی، مدینہ پر بار بار حملہ کرنا، قبائل عرب کو اشتعال دلا کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قتل کی بار ہا سازشیں، یہودیوں اور تمام کفار عرب سے ساز باز کر کے اسلام اور بانی اسلام کے خاتمہ کی کوششیں یہ وہ نا قابل معافی جرائم تھے جو پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ ابوسفیان کا قتل بالکل درست و جائز اور برمحل ہے۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جن کو قرآن نے ” رءوف و رحیم ” کے لقب سے یاد کیا ہے۔ ان کی رحمت چمکار چمکار کر ابو سفیان کے کان میں کہہ رہی تھی کہ اے مجرم ! مت ڈر۔ یہ دنیا کے سلاطین کا دربار نہیں ہے بلکہ یہ رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ رحمت ہے۔ بخاری شریف کی روایت تو یہی ہے کہ ابوسفیان بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے تو فوراً ہی اسلام قبول کرلیا۔ اس لئے جان بچ گئی۔

(بخاري ج۲ ص۶۱۳ باب این رکز النبی رایة)

مگر ایک روایت یہ بھی ہے کہ حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء نے تو فوراً رات ہی میں اسلام قبول کرلیا مگر ابو سفیان نے صبح کو کلمہ پڑھا۔

(زرقاني ج۲ ص۳۰۴)

اور بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ ابو سفیان اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے درمیان ایک مکالمہ ہوا اس کے بعد ابوسفیان نے اپنے اسلام کا اعلان کیا۔ وہ مکالمہ یہ ہے :۔

کیوں اے ابوسفیان ! کیا اب بھی تمہیں یقین نہ آیا کہ خدا ایک ہے ؟ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :
کیوں نہیں کوئی اور خدا ہوتا تو آج ہمارے کام آتا۔ ابو سفیان :
کیا اس میں تمہیں کوئی شک ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :
ہاں ! اس میں تو ابھی مجھے کچھ شبہ ہے۔ ابو سفیان :

مگر پھر اس کے بعد انہوں نے کلمہ پڑھ لیا اور اس وقت گو ان کا ایمان متزلزل تھا لیکن بعد میں بالآخر وہ سچے مسلمان بن گئے۔ چنانچہ غزوۂ طائف میں مسلمانوں کی فوج میں شامل ہو کر انہوں نے کفار سے جنگ کی اور اسی میں ان کی ایک آنکھ زخمی ہو گئی۔ پھر یہ جنگ یرموک میں بھی جہاد کے لئے گئے۔

(سیرت ابن هشام ج۲ ص۴۰۳ و زرقاني ج۲ ص۳۱۳)

-: لشکر اسلام کا جاہ و جلال

-: لشکر اسلام کا جاہ و جلال

مجاہدین اسلام کا لشکر جب مکہ کی طرف بڑھا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ آپ ابو سفیان کو کسی ایسے مقام پر کھڑا کردیں کہ یہ افواج الٰہی کا جلال اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ چنانچہ جہاں راستہ کچھ تنگ تھا ایک بلند جگہ پر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابو سفیان کو کھڑا کردیا۔ تھوڑی دیر کے بعد اسلامی لشکر سمندر کی موجوں کی طرح امنڈتا ہوا روانہ ہوا۔ اور قبائل عرب کی فوجیں ہتھیار سج سج کریکے بعد دیگرے ابو سفیان کے سامنے سے گزرنے لگیں۔ سب سے پہلے قبیلۂ غفار کا باوقار پرچم نظر آیا۔ ابوسفیان نے سہم کر پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یہ قبیلہ غفار کے شہسوار ہیں۔

ابوسفیان نے کہا کہ مجھے قبیلہ غفار سے کیا مطلب ہے ؟ پھر جہینہ پھر سعد بن ھذیم، پھر سلیم کے قبائل کی فوجیں زرق برق ہتھیاروں میں ڈوبے ہوئے پرچم لہراتے اور تکبیر کے نعرے مارتے ہوئے سامنے سے نکل گئے۔ ابوسفیان ہر فوج کا جلال دیکھ کر مرعوب ہو ہو جاتے تھے اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہر فوج کے بارے میں پوچھتے جاتے تھے کہ یہ کون ہیں ؟ یہ کن لوگوں کا لشکر ہے ؟ اس کے بعد انصار کا لشکر پرانوار اتنی عجیب شان اور ایسی نرالی آن بان سے چلا کہ دیکھنے والوں کے دل دہل گئے۔ ابو سفیان نے اس فوج کی شان و شوکت سے حیران ہوکر کہا کہ اے عباس ! یہ کون لوگ ہیں ؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ ” انصار ” ہیں ناگہاں انصار کے علمبردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جھنڈا لئے ہوئے ابو سفیان کے قریب سے گزرے اور جب ابو سفیان کو دیکھا تو بلند آواز سے کہا کہ اے ابو سفیان !

اَلْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ الْيَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْکَعْبَةُ

آج گھمسان کی جنگ کا دن ہے۔ آج کعبہ میں خونریزی حلال کر دی جائے گی۔

ابوسفیان یہ سن کر گھبرا گئے اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اے عباس ! سن لو ! آج قریش کی ہلاکت تمہیں مبارک ہو۔ پھر ابو سفیان کو چین نہیں آیا تو پوچھا کہ بہت دیر ہوگئی۔ ابھی تک میں نے محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو نہیں دیکھا کہ وہ کون سے لشکر میں ہیں ؟ اتنے میں حضور تاجدارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پرچم نبوت کے سائے میں اپنے نورانی لشکر کے ہمراہ پیغمبرانہ جاہ و جلال کے ساتھ نمودار ہوئے۔ ابوسفیان نے جب شہنشاہ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا تو چلا کر کہا کہ اے حضور ! کیا آپ نے سنا کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا کہتے ہوئے گئے ہیں ؟ ارشاد فرمایا کہ انہوں نے کیا کہا ہے ؟ ابو سفیان بولے کہ انہوں نے یہ کہا ہے کہ آج کعبہ حلال کر دیا جائے گا۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غلط کہا، آج تو کعبہ کی عظمت کا دن ہے۔ آج تو کعبہ کو لباس پہنانے کا دن ہے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سعد بن عبادہ نے اتنی غلط بات کیوں کہہ دی۔ آپ نے ان کے ہاتھ سے جھنڈا لے کر ان کے بیٹے قیس بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں دے دیا۔

اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جب ابوسفیان نے بارگاہ رسول میں یہ شکایت کی کہ یا رسول اللہ ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ابھی ابھی سعد بن عبادہ یہ کہتے ہوئے گئے ہیں کہ اَلْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَة آج گھمسان کی لڑائی کا دن ہے۔

تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خفگی کا اظہار فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ سعد بن عبادہ نے غلط کہا، بلکہ اے ابو سفیان ! اَلْيَوْمَ يَوْمُ الْمَرْحَمَة آج کا دن تو رحمت کا دن ہے۔

(زرقاني ج۲ ص۳۰۶)

پھر فاتحانہ شان و شوکت کے ساتھ بانی کعبہ کے جانشین حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مکہ کی سرزمین میں نزول اجلال فرمایا اور حکم دیا کہ میرا جھنڈا مقام ” حجون ” کے پاس گاڑا جائے اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام فرمان جاری فرمایا کہ وہ فوجوں کے ساتھ مکہ کے بالائی حصہ یعنی ” کداء ” کی طرف سے مکہ میں داخل ہوں۔

(بخاري ج۲ ص۶۱۳ باب اين رکز النبي رایة و زرقاني ج۲ ص۳۰۴ تا ص۳۰۶)

-: فاتح مکہ کا پہلا فرمان

-: فاتح مکہ کا پہلا فرمان

تاجدار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مکہ کی سر زمین میں قدم رکھتے ہی جو پہلا فرمان جاری فرمایا وہ یہ اعلان تھا کہ جس کے لفظ لفظ میں رحمتوں کے دریا موجیں مار رہے ہیں :۔

جو شخص ہتھیار ڈال دے گا اس کے لئے امان ہے۔

جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے گا اس کے لئے امان ہے۔

جو کعبہ میں داخل ہوجائے گا اس کے لئے امان ہے۔

اس موقع پر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ابو سفیان ایک فخر پسند آدمی ہے اس کے لئے کوئی ایسی امتیازی بات فرما دیجئے کہ اس کا سر فخر سے اونچا ہوجائے تو آپ نے فرما دیا کہ

“ جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے اس کے لئے امان ہے۔ “

اس کے بعد ابوسفیان مکہ میں بلند آواز سے پکار پکار کر اعلان کرنے لگا کہ اے قریش ! محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) اتنا بڑا لشکر لے کر آگئے ہیں کہ اس کا مقابلہ کرنے کی کسی میں بھی طاقت نہیں ہے جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے اس کے لئے امان ہے۔ ابوسفیان کی زبان سے یہ کم ہمتی کی بات سن کر اس کی بیوی ہند بنت عتبہ جل بھن کر کباب ہوگئی اور طیش میں آکر ابوسفیان کی مونچھ پکڑ لی اور چلا کر کہنے لگی کہ اے بنی کنانہ ! اس کم بخت کو قتل کردو یہ کیسی بزدلی اور کم ہمتی کی بات بک رہا ہے۔ ہند کی اس چیخ و پکار کی آواز سن کر تمام بنو کنانہ کا خاندان ابو سفیان کے مکان میں جمع ہو گیا اور ابو سفیان نے صاف صاف کہہ دیا کہ اس وقت غصہ اور طیش کی باتوں سے کچھ کام نہیں چل سکتا۔ میں پورے اسلامی لشکر کو اپنی آنکھ سے دیکھ کر آیا ہوں اور میں تم لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ اب ہم لوگوں سے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا مقابلہ نہیں ہو سکتا۔ یہ خیریت ہے کہ انہوں نے اعلان کر دیا ہے کہ جو ابو سفیان کے مکان میں چلا جائے اس کے لئے امان ہے۔ لہٰذا زیادہ سے زیادہ لوگ میرے مکان میں آکر پناہ لے لیں۔ ابوسفیان کے خاندان والوں نے کہا کہ تیرے مکان میں بھلا کتنے انسان آسکیں گے ؟ ابو سفیان نے بتایا کہ محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ان لوگوں کو بھی امان دے دی ہے جو اپنے دروازے بند کرلیں یا مسجد حرام میں داخل ہو جائیں یا ہتھیار ڈال دیں۔ ابو سفیان کا یہ بیان سن کر کوئی ابو سفیان کے مکان میں چلا گیا۔ کوئی مسجد حرام کی طرف بھاگا۔ کوئی اپنا ہتھیار زمین پر رکھ کر کھڑا ہوگیا۔

(زرقاني ج۲ ص۳۱۳)

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اس اعلان رحمت نشان یعنی مکمل امن و امان کا فرمان جاری کر دینے کے بعد ایک قطرہ خون بہنے کا کوئی امکان ہی نہیں تھا۔ لیکن عکرمہ بن ابوجہل و صفوان بن امیہ و سہیل بن عمرو اور جماش بن قیس نے مقام ” خندمہ ” میں مختلف قبائل کے اوباش کو جمع کیا تھا۔ ان لوگوں نے حضرت خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فوج میں سے دو آدمیوں حضرت کر زبن جابر فہری اور حبیش بن اشعر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو شہید کردیا اور اسلامی لشکر پر تیر برسانا شروع کردیا۔ بخاری کی روایت میں انہی دو حضرات کی شہادت کا ذکر ہے مگر زرقانی وغیرہ کتابوں سے پتا چلتا ہے کہ تین صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو کفار قریش نے قتل کردیا۔ دو وہ جو اوپر ذکر کئے گئے اور ایک حضرت مسلمہ بن المیلاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بارہ یا تیرہ کفار بھی مارے گئے اور باقی میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے۔

(بخاري ج۲ ص۶۱۳ و زرقاني ج۲ ص۳۱۰)

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ تلواریں چمک رہی ہیں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ میں نے تو خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جنگ کرنے سے منع کردیا تھا۔ پھر یہ تلواریں کیسی چل رہی ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ پہل کفار کی طرف سے ہوئی ہے۔ اس لئے لڑنے کے سوا حضرت خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فوج کے لئے کوئی چارہ کار ہی نہیں رہ گیا تھا۔ یہ سن کر ارشاد فرمایا کہ قضاء الٰہی یہی تھی اور خدا نے جو چاہا وہی بہتر ہے۔

(زرقاني ج۲ ص۳۱۰)

-: مکہ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی قیام گاہ

-: مکہ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی قیام گاہ

بخاری کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہن حضرت ام ہانی بنت ابی طالب کے مکان پر تشریف لے گئے اور وہاں غسل فرمایا پھر آٹھ رکعت نماز چاشت پڑھی۔ یہ نماز بہت ہی مختصر طور پر ادا فرمائی لیکن رکوع و سجدہ مکمل طور پر ادا فرماتے رہے۔

(بخاري ج۲ ص۶۱۵ باب منزل النبي یوم الفتح)

ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت بی بی ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ کیا گھر میں کچھ کھانا بھی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خشک روٹی کے چند ٹکڑے ہیں۔ مجھے بڑی شرم دامن گیر ہوتی ہے کہ اس کو آپ کے سامنے پیش کردوں۔ ارشاد فرمایا کہ ” لاؤ ” پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ان خشک روٹیوں کو توڑا اور پانی میں بھگو کر نرم کیا اور حضرت اُمِ ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان روٹیوں کے سالن کے لئے نمک پیش کیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا کوئی سالن گھر میں نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میرے گھر میں ” سرکہ ” کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” سرکہ ” لاؤ۔ آپ نے سرکہ کو روٹی پر ڈالا اور تناول فرما کر خدا کا شکر بجا لائے۔ پھر فرمایا کہ ” سرکہ بہترین سالن ہے اور جس گھر میں سرکہ ہوگا اس گھر والے محتاج نہ ہوں گے۔ ” پھر حضرت اُمِ ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں نے حارث بن ہشام (ابوجہل کے بھائی) اور زہیر بن اُمیہ کو امان دے دی ہے۔ لیکن میرے بھائی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان دونوں کو اس جرم میں قتل کرنا چاہتے ہیں کہ ان دونوں نے حضرت خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فوج سے جنگ کی ہے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اُمِ ہانی! رضی اللہ تعالیٰ عنہا جس کو تم نے امان دے دی اس کے لئے ہماری طرف سے بھی امان ہے۔

(زرقاني ج۲ ص۳۲۶)

-: بیت اللہ میں داخلہ

-: بیت اللہ میں داخلہ

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا جھنڈا ” حجون ” میں جس کو آج کل جنۃ المعلیٰ کہتے ہیں ” مسجد الفتح ” کے قریب میں گاڑا گیا پھر آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہوکر اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اونٹنی پر اپنے پیچھے بٹھا کر مسجد حرام کی طرف روانہ ہوئے اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور کعبہ کے کلید بردار عثمان بن طلحہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے مسجد حرام میں اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور کعبہ کا طواف کیا اور حجر اسود کو بوسہ دیا۔

(بخاري ج۲ ص۶۱۴ وغیره)

یہ انقلاب زمانہ کی ایک حیرت انگیز مثال ہے کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والسلام جن کا لقب ” بت شکن ” ہے ان کی یادگار خانہ کعبہ کے اندرونِ حصار تین سو ساٹھ بتوں کی قطار تھی۔ فاتح مکہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا حضرت خلیل علیہ السلام کا جانشینِ جلیل ہونے کی حیثیت سے فرض اولین تھا کہ یادگار خلیل کو بتوں کی نجس اور گندی آلائشوں سے پاک کریں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خود بہ نفس نفیس ایک چھڑی لے کر کھڑے ہوئے اور ان بتوں کو چھڑی کی نوک سے ٹھونکے مار مار کر گراتے جاتے تھے اور جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ط اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَهُوْقًا کی آیت تلاوت فرماتے جاتے تھے، یعنی حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل مٹنے ہی کی چیز تھی۔

(بخاري ج۲ ص۶۱۴ فتح مکه وغیره)

پھر ان بتوں کو جو عین کعبہ کے اندر تھے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ سب نکالے جائیں۔ چنانچہ وہ سب بت نکال باہر کئے گئے۔ انہی بتوں میں حضرت ابراہیم و حضرت اسمٰعیل علیہما السلام کے مجسمے بھی تھے جن کے ہاتھوں میں فال کھولنے کے تیر تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو دیکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کافروں کو مار ڈالے۔ ان کافروں کو خوب معلوم ہے کہ ان دونوں پیغمبروں نے کبھی بھی فال نہیں کھولا۔ جب تک ایک ایک بت کعبہ کے اندر سے نہ نکل گیا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر قدم نہیں رکھا جب تمام بتوں سے کعبہ پاک ہوگیا تو آپ اپنے ساتھ حضرت اسامہ بن زید اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور عثمان بن طلحہ حَجَبِی کو لے کر خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور بیت اللہ شریف کے تمام گوشوں میں تکبیر پڑھی اور دو رکعت نماز بھی ادا فرمائی اس کے بعد باہر تشریف لائے۔(بخاری ج۱ ص۲۱۸ باب من کبر في نواحي الکعبة و بخاري ج۲ ص۶۱۴ فتح مکه وغیره)

کعبہ مقدسہ کے اندر سے جب آپ باہر نکلے تو عثمان بن طلحہ کو بلا کر کعبہ کی کنجی ان کے ہاتھ میں عطا فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ

خُذُوْهَا خَالِدَةً تَالِدَةً لَا يَنْزعُهَا مِنْكُمْ اِلَّا ظَالِمٌ

لو یہ کنجی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تم لوگوں میں رہے گی یہ کنجی تم سے وہی چھینے گا جو ظالم ہوگا۔

(زرقاني ج۲ ص۲۳۹)

-: شہنشاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا دربارِ عام

-: شہنشاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا دربارِ عام

اس کے بعد تاجدارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے شہنشاہ اسلام کی حیثیت سے حرم الٰہی میں سب سے پہلا دربارِ عام منعقد فرمایا جس میں افواج اسلام کے علاوہ ہزاروں کفار و مشرکین کے خواص و عوام کا ایک زبردست ازدحام تھا۔ اس شہنشاہی خطبہ میں آپ نے صرف اہل مکہ ہی سے نہیں بلکہ تمام اقوام عالم سے خطابِ عام فرماتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ

“ایک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اس نے اپنے بندے (حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کی مدد کی اور کفار کے تمام لشکروں کو تنہا شکست دے دی، تمام فخر کی باتیں، تمام پرانے خونوں کا بدلہ، تمام پرانے خون بہا، اور جاہلیت کی رسمیں سب میرے پیروں کے نیچے ہیں۔ صرف کعبہ کی تولیت اور حجاج کو پانی پلانا، یہ دو اعزاز اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اے قوم قریش ! اب جاہلیت کا غرور اور خاندانوں کا افتخار خدا نے مٹا دیا۔ تمام لوگ حضرت آدم علیہ السلام کی نسل سے ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام مٹی سے بنائے گئے ہیں۔ “

اس کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی جس کا ترجمہ یہ ہے :۔

اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہارے لئے قبیلے اور خاندان بنا دیئے تاکہ تم آپس میں ایک دوسرے کی پہچان رکھو لیکن خدا کے نزدیک سب سے زیادہ شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ یقینا اللہ تعالیٰ بڑا جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔

بے شک اللہ نے شراب کی خرید و فروخت کو حرام فرما دیا ہے۔

(سیرت ابن هشام ج۲ ص۴۱۲ مختصراً و بخاري وغیره)

-: کفارِ مکہ سے خطاب

-: کفارِ مکہ سے خطاب

اس کے بعد شہنشاہ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس ہزاروں کے مجمع میں ایک گہری نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ سر جھکائے، نگاہیں نیچی کئے ہوئے لرزاں و ترساں اشراف قریش کھڑے ہوئے ہیں۔ ان ظالموں اور جفاکاروں میں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے راستوں میں کانٹے بچھائے تھے۔ وہ لوگ بھی تھے جو با رہا آپ پر پتھروں کی بارش کر چکے تھے۔ وہ خونخوار بھی تھے جنہوں نے بار بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر قاتلانہ حملے کئے تھے۔ وہ بے رحم و بے درد بھی تھے جنہوں نے آپ کے دندان مبارک کو شہید اور آپ کے چہرۂ انور کو لہولہان کر ڈالا تھا۔ وہ اوباش بھی تھے جو برسہا برس تک اپنی بہتان تراشیوں اور شرمناک گالیوں سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قلب مبارک کو زخمی کرچکے تھے۔ وہ سفاک و درندہ صفت بھی تھے جو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گلے میں چادر کا پھندا ڈال کر آپ کا گلا گھونٹ چکے تھے۔ وہ ظلم و ستم کے مجسمے اور پاپ کے پتلے بھی تھے جنہوں نے آپ کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نیزہ مار کر اونٹ سے گرا دیا تھا اور ان کا حمل ساقط ہوگیا تھا۔ وہ آپ کے خون کے پیاسے بھی تھے جن کی تشنہ لبی اور پیاس خون نبوت کے سوا کسی چیز سے نہیں بجھ سکتی تھی۔ وہ جفاکار و خونخوار بھی تھے جن کے جارحانہ حملوں اور ظالمانہ یلغار سے بار بار مدینہ منورہ کے در و دیوار دہل چکے تھے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیارے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قاتل اور ان کی ناک، کان کاٹنے والے، ان کی آنکھیں پھوڑنے والے، ان کا جگر چبانے والے بھی اس مجمع میں موجود تھے وہ ستم گار جنہوں نے شمع نبوت کے جاں نثار پروانوں حضرت بلال، حضرت صہیب، حضرت عمار، حضرت خباب، حضرت خبیب، حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم وغیرہ کو رسیوں سے باندھ باندھ کر کوڑے مار مار کر جلتی ہوئی ریتوں پر لٹایا تھا، کسی کو آگ کے دہکتے ہوئے کوئلوں پر سلایا تھا، کسی کو چٹائیوں میں لپیٹ لپیٹ کر ناکوں میں دھوئیں دیئے تھے، سینکڑوں بار گلا گھونٹا تھا۔ یہ تمام جور و جفا اور ظلم و ستمگاری کے پیکر، جن کے جسم کے رونگٹے رونگٹے اور بدن کے بال بال ظلم و عدوان اور سرکشی و طغیان کے وبال سے خوفناک جرموں اور شرمناک مظالم کے پہاڑ بن چکے تھے۔ آج یہ سب کے سب دس بارہ ہزار مہاجرین و انصار کے لشکر کی حراست میں مجرم بنے ہوئے کھڑے کانپ رہے تھے اور اپنے دلوں میں یہ سوچ رہے تھے کہ شاید آج ہماری لاشوں کو کتوں سے نچوا کر ہماری بوٹیاں چیلوں اور کووں کو کھلا دی جائیں گی اور انصار و مہاجرین کی غضب ناک فوجیں ہمارے بچے بچے کو خاک و خون میں ملا کر ہماری نسلوں کو نیست و نابود کر ڈالیں گی اور ہماری بستیوں کو تاخت و تاراج کر کے تہس نہس کر ڈالیں گی ان مجرموں کے سینوں میں خوف و ہراس کا طوفان اُٹھ رہا تھا۔ دہشت اور ڈر سے ان کے بدنوں کی بوٹی بوٹی پھڑک رہی تھی، دل دھڑک رہے تھے، کلیجے منہ میں آگئے تھے اور عالم یاس میں انہیں زمین سے آسمان تک دھوئیں ہی دھوئیں کے خوفناک بادل نظر آرہے تھے۔ اسی مایوسی اور نا امیدی کی خطرناک فضا میں ایک دم شہنشاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نگاہ رحمت ان پاپیوں کی طرف متوجہ ہوئی۔ اور ان مجرموں سے آپ نے پوچھا کہ

“بولو ! تم کو کچھ معلوم ہے ؟ کہ آج میں تم سے کیا معاملہ کرنے والا ہوں۔ “

اس دہشت انگیز اور خوفناک سوال سے مجرمین حواس باختہ ہو کر کانپ اُٹھے لیکن جبین رحمت کے پیغمبرانہ تیور کو دیکھ کر اُمید و بیم کے محشر میں لرزتے ہوئے سب یک زبان ہوکر بولے کہ اَخٌ كَرِيْمٌ وَابْنُ اَخٍ كَرِيْمٍ آپ کرم والے بھائی اور کرم والے باپ کے بیٹے ہیں۔

سب کی للچائی ہوئی نظریں جمال نبوت کا منہ تک رہی تھیں۔اور سب کے کان شہنشاہ نبوت کا فیصلہ کن جواب سننے کے منتظر تھے کہ اک دم دفعۃً فاتح مکہ نے اپنے کریمانہ لہجے میں ارشاد فرمایا کہ

لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ فَاذْهَبُوْا اَنْتُمُ الطُّلَقَآءُ

(زرقاني ج۲ ص۳۲۸)

آج تم پر کوئی الزام نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔

بالکل غیر متوقع طور پر ایک دم اچانک یہ فرمان رسالت سن کر سب مجرموں کی آنکھیں فرط ندامت سے اشکبار ہوگئیں اور ان کے دلوں کی گہرائیوں سے جذبات شکریہ کے آثار آنسوؤں کی دھار بن کر ان کے رخسار پر مچلنے لگے اور کفار کی زبانوں پر لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ کے نعروں سے حرم کعبہ کے در و دیوار پر ہر طرف انوار کی بارش ہونے لگی۔ ناگہاں بالکل ہی اچانک اور دفعۃً ایک عجیب انقلاب برپا ہوگیا کہ سماں ہی بدل گیا، فضا ہی پلٹ گئی اور ایک دم ایسا محسوس ہونے لگا کہ

کوئی پردے سے کیا نکلا کہ گھر گھر میں اجالا تھا جہاں تاریک تھا، بے نور تھا اور سخت کالا تھا

کفار نے مہاجرین کی جائدادوں، مکانوں، دکانوں پر غاصبانہ قبضہ جمالیا تھا۔ اب وقت تھا کہ مہاجرین کو ان کے حقوق دلائے جاتے اور ان سب جائدادوں، مکانوں، دکانوں اور سامانوں کو مکہ کے غاصبوں کے قبضوں سے واگزار کر کے مہاجرین کے سپرد کیے جاتے۔ لیکن شہنشاہ رسالت نے مہاجرین کو حکم دے دیا کہ وہ اپنی کل جائدادیں خوشی خوشی مکہ والوں کو ہبہ کردیں۔

اللہ اکبر ! اے اقوام عالم کی تاریخی داستانو ! بتاؤ کیا دنیا کے کسی فاتح کی کتاب زندگی میں کوئی ایسا حسین و زریں ورق ہے ؟ اے دھرتی ! خدا کے لئے بتا ؟ اے آسمان ! للہ بول۔ کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا فاتح گزرا ہے ؟ جس نے اپنے دشمنوں کے ساتھ ایسا حسن سلوک کیا ہو ؟ اے چاند اور سورج کی چمکتی اور دوربین نگاہو ! کیا تم نے لاکھوں برس کی گردش لیل و نہار میں کوئی ایسا تاجدار دیکھا ہے ؟ تم اس کے سوا اور کیا کہو گے ؟ کہ یہ نبی جمال و جلال کا وہ بے مثال شاہکار ہے کہ شاہان عالم کے لئے اس کا تصور بھی محال ہے۔ اس لئے ہم تمام دنیا کو چیلنج کے ساتھ دعوت نظارہ دیتے ہیں کہ

رفعت شانِ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَدیکھے چشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے

-: دوسرا خطبہ

-: دوسرا خطبہ

افتح مکہ کے دوسرے دن بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک خطبہ دیا جس میں حرم کعبہ کے احکام و آداب کی تعلیم دی کہ حرم میں کسی کا خون بہانا، جانوروں کا مارنا، شکار کرنا، درخت کاٹنا، اذخر کے سوا کوئی گھاس کاٹنا حرام ہے اور اللہ عزوجل نے گھڑی بھر کے لئے اپنے رسول علیہ السلام کو حرم میں جنگ کرنے کی اجازت دی پھر قیامت تک کے لئے کسی کو حرم میں جنگ کی اجازت نہیں ہے۔ اللہ عزوجل نے اس کو حرم بنادیا ہے۔ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے اس شہر میں خونریزی حلال کی گئی نہ میرے بعد قیامت تک کسی کے لئے حلال کی جائے گی۔

(بخاري ج۲ ص۶۱۷ فتح مکه)

-: انصار کو فراق رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ڈر

-: انصار کو فراق رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ڈر

انصار نے قریش کے ساتھ جب رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اس کریمانہ حسن سلوک کو دیکھا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کچھ دنوں تک مکہ میں ٹھہر گئے تو انصار کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ شاید رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر اپنی قوم اور وطن کی محبت غالب آگئی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ مکہ میں اقامت فرمالیں اور ہم لوگ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے دور ہوجائیں جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علہن وسلم کو انصار کے اس خیال کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ معاذ اللہ ! اے انصار !

اَلْمَحْیَا مَحْیَاکُمْ وَ الْمَمَاتُ مَمَاتُکُمْ ۔

اب تو ہماری زندگی اور وفات تمہارے ہی ساتھ ہے۔

(سيرت ابن هشام ج۲ ص۴۱۶)

یہ سن کر فرط مسرت سے انصار کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور سب نے کہا کہ یا رسول اللہ ! (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ہم لوگوں نے جو کچھ دل میں خیال کیا یا زبان سے کہا اس کا سبب آپ کی ذات مقدسہ کے ساتھ ہمارا جذبہ عشق ہے ۔ کیونکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جدائی کا تصور ہمارے لئے ناقابل برداشت ہورہا تھا۔

(زرقاني ج۲ ص۳۳۳ و سيرت ابن هشام ج۲ ص۴۱۶)

-: کعبہ کی چھت پر اذان

-: کعبہ کی چھت پر اذان

جب نماز کا وقت آیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دیں۔ جس وقت اَللّٰهُ اَكْبَرُ اَللّٰهُ اَكْبَرُ کی ایمان افروز صدا بلند ہوئی تو حرم کے حصار اور کعبہ کے در و دیوار پر ایمانی زندگی کے آثار نمودار ہوگئے مگر مکہ کے وہ نو مسلم جو ابھی کچھ ٹھنڈے پڑ گئے تھے اذان کی آواز سن کر ان کے دلوں میں غیرت کی آگ پھر بھڑک اٹھی۔ چنانچہ روایت ہے کہ حضرت عتاب بن اُسید نے کہا کہ خدا نے میرے باپ کی لاج رکھ لی کہ اس آواز کو سننے سے پہلے ہی اس کو دنیا سے اٹھا لیا اور ایک دوسرے سردار قریش کے منہ سے نکلا کہ ” اب جینا بے کار ہے۔ ”

(اصابه تذکره عتاب بن اسید ج۲ ص۴۵۱ و زرقانی ج۲ ص۳۴۶)

مگر اس کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فیض صحبت سے حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں نور ایمان کا سورج چمک اٹھا اور وہ صادق الایمان مسلمان بن گئے۔ چنانچہ مکہ سے روانہ ہوتے وقت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انہی کو مکہ کا حاکم بنا دیا۔

(سیرت ابن هشام ج۲ ص۴۱۳ و ص۴۴۰)

-: بیعت ِ اسلام

-: بیعت ِ اسلام

اس کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کوہ صفا کی پہاڑی کے نیچے ایک بلند مقام پر بیٹھے اور لوگ جوق در جوق آکر آپ کے دست حق پرست پر اسلام کی بیعت کرنے لگے۔ مردوں کی بیعت ختم ہوچکی تو عورتوں کی باری آئی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہر بیعت کرنے والی عورت سے جب وہ تمام شرائط کا اقرار کرلیتی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس سے فرما دیتے تھے کہ قَدْ بَايَعْتُكِ میں نے تجھ سے بیعت لے لی۔ حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ خدا کی قسم ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہاتھ نے بیعت کے وقت کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا۔ صرف کلام ہی سے بیعت فرما لیتے تھے۔

(بخاري ج۱ ص۳۷۵ کتاب الشروط)

انہی عورتوں میں نقاب اوڑھ کر ہند بنت عتبہ بن ربیعہ بھی بیعت کے لئے آئیں جو حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ہیں۔ یہ وہی ہند ہیں جنہوں نے جنگ ِ اُحد میں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شکم چاک کرکے ان کے جگر کو نکال کر چبا ڈالا تھا اور ان کے کان ناک کو کاٹ کر اور آنکھ کو نکال کر ایک دھاگہ میں پرو کر گلے کا ہار بنایا تھا۔ جب یہ بیعت کے لئے آئیں تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے نہایت دلیری کے ساتھ گفتگو کی۔ ان کا مکالمہ حسب ذیل ہے۔

تم خدا کے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :
یہ اقرار آپ نے مردوں سے تو نہیں لیا لیکن بہر حال ہم کو منظور ہے۔ ہند بنت عتبہ :
چوری مت کرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :
میں اپنے شوہر (ابوسفیان) کے مال میں سے کچھ لے لیا کرتی ہوں۔ معلوم نہیں یہ بھی جائز ہے یا نہیں ؟ ہند بنت عتبہ :
اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :
ہم نے تو بچوں کو پالا تھا اور جب وہ بڑے ہو گئے تو آپ نے جنگ بدر میں ان کو مار ڈالا۔ اب آپ جانیں اور وہ جانیں۔ ہند بنت عتبہ :

(طبري ج۳ ص۶۴۳ مختصراً)

بہر حال حضرت ابو سفیان اور ان کی بیوی ہند بنت عتبہ دونوں مسلمان ہو گئے (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) لہٰذا ان دونوں کے بارے میں بدگمانی یا ان دونوں کی شان میں بدزبانی روافض کا مذہب ہے۔ اہل سنت کے نزدیک ان دونوں کا شمار صحابہ اور صحابیات رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی فہرست میں ہے۔

ابتداء میں گو ان دونوں کے ایمان میں کچھ تذبذب رہا ہو مگر بعد میں یہ دونوں صادق الایمان مسلمان ہوگئے اور ایمان ہی پر ان دونوں کا خاتمہ ہوا۔ (رضی اللہ تعالیٰ عنہما)

حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بارگاہ نبوت میں آئیں اور یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم روئے زمین پر آپ کے گھر والوں سے زیادہ کسی گھر والے کا ذلیل ہونا مجھے محبوب نہ تھا۔ مگر اب میرا یہ حال ہے کہ روئے زمین پر آپ کے گھر والوں سے زیادہ کسی گھر والے کا عزت دار ہونا مجھے پسند نہیں۔

(بخاري ج۱ ص۵۳۹ باب ذکر هند بنت عتبه)

اسی طرح حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں محدث ابن عساکر کی ایک روایت ہے کہ یہ مسجد حرام میں بیٹھے ہوئے تھے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سامنے سے نکلے تو انہوں نے اپنے دل میں یہ کہا کہ کونسی طاقت ان کے پاس ایسی ہے کہ یہ ہم پر غالب رہتے ہیں تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے دل میں چھپے ہوئے خیال کو جان لیا اور قریب آکر آپ نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا کہ ہم خدا کی طاقت سے غالب آجاتے ہیں۔ یہ سن کر انہوں نے بلند آواز سے کہا کہ ” میں شہادت دیتا ہوں کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ ” اور محدث حاکم اور ان کے شاگرد امام بیہقی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے یہ روایت کی ہے کہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھ کر اپنے دل میں کہا کہ ” کاش ! میں ایک فوج جمع کر کے دوبارہ ان سے جنگ کرتا ” ادھر ان کے دل میں یہ خیال آیا ہی تھا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر ان کے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا کہ ” اگر تو ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ تجھے ذلیل و خوار کردے گا۔ ” یہ سن کر حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ توبہ و استغفار کرنے لگے اور عرض کیا کہ مجھے اس وقت آپ کی نبوت کا یقین حاصل ہو گیا کیونکہ آپ نے میرے دل میں چھپے ہوئے خیال کو جان لیا۔

(زرقاني ج۲ ص۳۴۶)

یہ بھی روایت ہے کہ جب سب سے پہلے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان پر اسلام پیش فرمایا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ پھر میں اپنے معبود عزیٰ کو کیا کروں گا ؟ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے برجستہ فرمایا تھا کہ ” تم عزیٰ پر پاخانہ پھر دینا ” چنانچہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب عزیٰ کو توڑنے کے لئے حضرت خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روانہ فرمایا تو ساتھ میں حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی بھیجا اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے معبود عزیٰ کو توڑ ڈالا۔ یہ محمد بن اسحاق کی روایت ہے اور ابن ہشام کی روایت یہ ہے کہ عزیٰ کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے توڑا تھا۔ واللہ اعلم۔

(زرقاني ج۲ ص۳۴۹)

-: بت پرستی کا خاتمہ

-: بت پرستی کا خاتمہ

گزشتہ اوراق میں ہم تحریر کرچکے کہ خانہ کعبہ کے تمام بتوں اور دیواروں کی تصاویر کو توڑ پھوڑ کر اور مٹاکر مکہ کو تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بت پرستی کی لعنت سے پاک کر ہی دیا تھا لیکن مکہ کے اطراف میں بھی بت پرستی کے چند مراکز تھے یعنی لات، مناۃ، سواع، عزیٰ یہ چند بڑے بڑے بت تھے جو مختلف قبائل کے معبود تھے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے لشکروں کو بھیج کر ان سب بتوں کو توڑ پھوڑ کر بت پرستی کے سارے طلسم کو تہس نہس کردیا اور مکہ نیز اس کے اطراف و جوانب کے تمام بتوں کو نیست و نابود کردیا۔

(زرقانی ج ۲ص ۳۴۷تا ص ۳۴۹)

اس طرح بانی کعبہ حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جانشین حضور رحمۃٌ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے مورث اعلیٰ کے مشن کو مکمل فرما دیا اور در حقیقت فتح مکہ کا سب سے بڑا یہی مقصد تھا کہ شرک و بت پرستی کا خاتمہ اور توحید خداوندی کا بول بالا ہوجائے۔ چنانچہ یہ عظیم مقصد بحمدہ تعالیٰ بدرجہ اتم حاصل ہوگیا کہ

اکنوں خروش نعرہ اللہ اکبر است آنجا کہ بود نعرہ کفارو مشرکاں

-: چند ناقابل معافی مجرمین

-: چند ناقابل معافی مجرمین

جب مکہ فتح ہوگیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عام معافی کا اعلان فرمادیا۔ مگر چند ایسے مجرمین تھے جن کے بارے میں تاجدار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ فرمان جاری فرما دیا کہ یہ لوگ اگر اسلام نہ قبول کریں تو یہ لوگ جہاں بھی ملیں قتل کر دیئے جائیں خواہ وہ غلاف کعبہ ہی میں کیوں نہ چھپے ہوں۔ ان مجرموں میں سے بعض نے تو اسلام قبول کرلیا اور بعض قتل ہوگئے ان میں سے چند کا مختصر تذکرہ تحریر کیا جاتا ہے:

(۱) ”عبدالعزیٰ بن خطل” یہ مسلمان ہوگیا تھا اس کو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کے جانور وصول کرنے کے لئے بھیجا اور ساتھ میں ایک دوسرے مسلمان کو بھی بھیج دیاکسی بات پر دونوں میں تکرار ہوگئی تو اس نے اس مسلمان کو قتل کردیا اور قصاص کے ڈر سے تمام جانوروں کو لے کر مکہ بھاگ نکلا اور مرتد ہوگیا۔ فتح مکہ کے دن یہ بھی ایک نیزہ لے کر مسلمانوں سے لڑنے کے لئے گھر سے نکلا تھا۔ لیکن مسلم افواج کا جلال دیکھ کر کانپ اٹھا اور نیزہ پھینک کر بھاگا اور کعبہ کے پردوں میں چھپ گیا۔ حضرت سعید بن حریث مخزومی اور ابو برزہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے مل کر اس کو قتل کردیا۔

(زرقانی ج ۲ ص ۳۲۲)

(۲) ” حویرث بن نقید ” یہ شاعر تھا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہجو لکھا کرتا تھا اور خونی مجرم بھی تھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو قتل کیا۔

(۳) “مقیس بن صبابہ ” اس کو نمیلہ بن عبداللہ نے قتل کیا۔ یہ بھی خونی تھا۔

(۴) “حارث بن طلاطلہ ” یہ بھی بڑا ہی موذی تھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو قتل کیا۔

(۵) ” قریبہ ” یہ ابن خطل کی لونڈی تھی۔ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہجو گایا کرتی تھی یہ بھی قتل کی گئی۔

-: مکہ سے فرار ہوجانے والے

-: مکہ سے فرار ہوجانے والے

چار اشخاص مکہ سے بھاگ نکلے تھے ان لوگوں کا مختصر تذکرہ یہ ہے :۔

(۱) “عکرمہ بن ابی جہل ” یہ ابوجہل کے بیٹے ہیں۔ اس لئے ان کی اسلام دشمنی کا کیا کہنا ؟ یہ بھاگ کر یمن چلے گئے لیکن ان کی بیوی ” اُمِ حکیم ” جو ابوجہل کی بھتیجی تھیں انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور اپنے شوہر عکرمہ کے لئے بارگاہ رسالت میں معافی کی درخواست پیش کی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے معاف فرما دیا۔ اُمِ حکیم خود یمن گئیں اور معافی کا حال بیان کیا۔ عکرمہ حیران رہ گئے اور انتہائی تعجب کے ساتھ کہا کہ کیا مجھ کو محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے معاف کردیا ! بہرحال اپنی بیوی کے ساتھ بارگاہ رسالت میں مسلمان ہوکر حاضر ہوئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب ان کو دیکھا تو بے حد خوش ہوئے اور اس تیزی سے ان کی طرف بڑھے کہ جسم اطہر سے چادر گر پڑی۔ پھر حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خوشی خوشی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت اسلام کی۔

(موطا امام مالک کتاب النکاح وغیره)

(۲) “صفوان بن امیہ ” یہ امیہ بن خلف کے فرزند ہیں۔ اپنے باپ امیہ ہی کی طرح یہ بھی اسلام کے بہت بڑے دشمن تھے۔ فتح مکہ کے دن بھاگ کر جدہ چلے گئے۔ حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دربار رسالت میں ان کی سفارش پیش کی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) قریش کا ایک رئیس صفوان مکہ سے جلاوطن ہوا چاہتا ہے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو بھی معافی عطا فرما دی اور امان کے نشان کے طور پر حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا عمامہ عنایت فرمایا۔ چنانچہ وہ مقدس عمامہ لے کر ” جدہ ” گئے اور صفوان کو مکہ لے کر آئے صفوان جنگ حنین تک مسلمان نہیں ہوئے۔ لیکن اس کے بعد اسلام قبول کرلیا۔

(طبري ج۳ ص۶۴۵)

(۳) “کعب بن زہیر ” یہ ۹ ھ میں اپنے بھائی کے ساتھ مدینہ آکر مشرف بہ اسلام ہوئے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدح میں اپنا مشہور قصیدہ ” بانت سعاد ” پڑھا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خوش ہوکر ان کو اپنی چادر مبارک عنایت فرمائی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ چادر مبارک حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھی۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور سلطنت میں ان کو دس ہزار درہم پیش کیا کہ یہ مقدس چادر ہمیں دے دو۔ مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا اور فرمایا کہ میں رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ چادر مبارک ہرگز ہرگز کسی کو نہیں دے سکتا۔ لیکن آخر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد ان کے وارثوں کو بیس ہزار درہم دے کر وہ چادر لے لی اور عرصہ دراز تک وہ چادر سلاطین اسلام کے پاس ایک مقدس تبرک بن کر باقی رہی۔

(مدارج ج۲ ص۳۳۸)

(۴) “وحشی ” یہی وہ وحشی ہیں جنہوں نے جنگ ِ اُحد میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کردیا تھا۔ یہ بھی فتح مکہ کے دن بھاگ کر طائف چلے گئے تھے مگر پھر طائف کے ایک وفد کے ہمراہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر مسلمان ہوگئے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی زبان سے اپنے چچا کے قتل کی خونی داستان سنی اور رنج و غم میں ڈوب گئے مگر ان کو بھی آپ نے معاف فرما دیا۔ لیکن یہ فرمایا کہ وحشی ! تم میرے سامنے نہ آیا کرو۔ حضرت وحشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کا بے حد ملال رہتا تھا۔ پھر جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے زمانے میں مسیلمۃ الکذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا اور لشکر اسلام نے اس ملعون سے جہاد کیا تو حضرت وحشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اپنا نیزہ لے کر جہاد میں شامل ہوئے اور مسیلمۃ الکذاب کو قتل کردیا۔ حضرت وحشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی زندگی میں کہا کرتے تھے کہ قَتَلْتُ خَيْرَ النَّاسِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَقَتَلْتُ شَرَّ النَّاسِ فِي الْاِسْلَامِ یعنی میں نے دور جاہلیت میں بہترین انسان (حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو قتل کیا اور اپنے دور اسلام میں بدترین آدمی (مسیلمۃ الکذاب) کو قتل کیا۔ انہوں نے درباراقدس میں اپنے جرائم کا اعتراف کر کے عرض کیا کہ کیا خدا مجھ جیسے مجرم کو بھی بخش دے گا ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی کہ

قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ط اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ط اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ (زمر)

یعنی اے حبیب آپ فرما دیجئے کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر حد سے زیادہ گناہ کرلیا ہے اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہوجاؤ۔ اللہ تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ وہ یقینا بڑا بخشنے والااور بہت مہربان ہے۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۳۰۲)

-: مکہ کا انتظام

-: مکہ کا انتظام

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مکہ کا نظم و نسق اور انتظام چلانے کے لئے حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مکہ کا حاکم مقرر فرما دیا اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس خدمت پر مامور فرمایا کہ وہ نو مسلموں کو مسائل و احکام اسلام کی تعلیم دیتے رہیں۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۳۲۴)

اس میں اختلاف ہے کہ فتح کے بعد کتنے دنوں تک حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مکہ میں قیام فرمایا۔ ابو داؤد کی روایت ہے کہ سترہ دن تک آپ مکہ میں مقیم رہے۔ اور ترمذی کی روایت سے پتا چلتا ہے کہ اٹھارہ دن آپ کا قیام رہا۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ انیس دن آپ مکہ میں ٹھہرے۔

(بخاري ج۲ ص۶۱۵)

ان تینوں روایتوں میں اس طرح تطبیق دی جاسکتی ہے کہ ابوداؤد کی روایت میں مکہ میں داخل ہونے اور مکہ سے روانگی کے دونوں دنوں کو شمار نہیں کیا ہے اس لئے سترہ دن مدتِ اقامت بتائی ہے اور ترمذی کی روایت میں مکہ میں آنے کے دن کو تو شمار کرلیا۔ کیونکہ آپ صبح کو مکہ میں داخل ہوئے تھے اور مکہ سے روانگی کے دن کو شمار نہیں کیا۔ کیونکہ آپ صبح سویرے ہی مکہ سے حنین کے لئے روانہ ہوگئے تھے اور امام بخاری کی روایت میں آنے اور جانے کے دونوں دنوں کو بھی شمار کرلیا گیا ہے۔ اس لئے انیس دن آپ مکہ میں مقیم رہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

اسی طرح اس میں بڑا اختلاف ہے کہ مکہ کونسی تاریخ میں فتح ہوا ؟ اور آپ کس تاریخ کو مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے ؟ امام بیہقی نے ۱۳ رمضان، امام مسلم نے ۱۶ رمضان، امام احمد نے ۱۸ رمضان بتایا اور بعض روایات میں ۱۷ رمضان اور ۱۸ رمضان بھی مروی ہے۔ مگر محمد بن اسحاق نے اپنے مشائخ کی ایک جماعت سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ ۲۰ رمضان ۸ ھ کو مکہ فتح ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

(زرقانی ج۲ ص ۲۹۹)

-: جنگ ِ حنین

-: جنگ ِ حنین

“حنین ” مکہ اور طائف کے درمیان ایک مقام کا نام ہے۔ تاریخ اسلام میں اس جنگ کا دوسرا نام ” غزوہ ہوازن ” بھی ہے۔ اس لئے کہ اس لڑائی میں ” بنی ہوازن ” سے مقابلہ تھا۔

فتح مکہ کے بعد عام طور سے تمام عرب کے لوگ اسلام کے حلقہ بگوش ہوگئے کیونکہ ان میں اکثر وہ لوگ تھے جو اسلام کی حقانیت کا پورا پورا یقین رکھنے کے باوجود قریش کے ڈر سے مسلمان ہونے میں توقف کررہے تھے اور فتح مکہ کا انتظار کر رہے تھے۔ پھر چونکہ عرب کے دلوں میں کعبہ کا بے حد احترام تھا اور ان کا اعتقاد تھا کہ کعبہ پر کسی باطل پرست کا قبضہ نہیں ہو سکتا۔ اس لئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب مکہ کو فتح کرلیا تو عرب کے بچے بچے کو اسلام کی حقانیت کا پورا پورا یقین ہوگیا اور وہ سب کے سب جوق در جوق بلکہ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے۔ باقی ماندہ عرب کی بھی ہمت نہ رہی کہ اب اسلام کے مقابلہ میں ہتھیار اٹھا سکیں۔

لیکن مقام حنین میں ” ہوازن ” اور ” ثقیف ” نام کے دو قبیلے آباد تھے جو بہت ہی جنگجو اور فنون جنگ سے واقف تھے۔ ان لوگوں پر فتح مکہ کا اُلٹا اثر پڑا۔ ان لوگوں پر غیرت سوار ہوگئی اور ان لوگوں نے یہ خیال قائم کرلیا کہ فتح مکہ کے بعد ہماری باری ہے اس لئے ان لوگوں نے یہ طے کرلیا کہ مسلمانوں پر جو اس وقت مکہ میں جمع ہیں ایک زبردست حملہ کردیا جائے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن ابی حدرد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تحقیقات کے لئے بھیجا۔ جب انہوں نے وہاں سے واپس آکر ان قبائل کی جنگی تیاریوں کا حال بیان کیا اور بتایا کہ قبیلہ ہوازن اور ثقیف نے اپنے تمام قبائل کو جمع کرلیا ہے اور قبیلہ ہوازن کا رئیس اعظم مالک بن عوف ان تمام افواج کا سپہ سالار ہے اور سو برس سے زائد عمر کا بوڑھا۔ ” درید بن الصمہ ” جو عرب کا مشہور شاعر اور مانا ہوا بہادر تھا بطور مشیر کے میدانِ جنگ میں لایا گیا ہے اور یہ لوگ اپنی عورتوں بچوں بلکہ جانوروں تک کو میدانِ جنگ میں لائے ہیں تاکہ کوئی سپاہی میدان سے بھاگنے کا خیال بھی نہ کر سکے۔

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی شوال ۸ ھ میں بارہ ہزار کا لشکر جمع فرمایا۔ دس ہزار تو مہاجرین و انصار وغیرہ کا وہ لشکر تھا جو مدینہ سے آپ کے ساتھ آیا تھا اور دو ہزار نو مسلم تھے جو فتح مکہ میں مسلمان ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس لشکر کو ساتھ لے کر اس شان و شوکت کے ساتھ حنین کا رُخ کیا کہ اسلامی افواج کی کثرت اور اس کے جاہ و جلال کو دیکھ کر بے اختیار بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی زبان سے یہ لفظ نکل گیا کہ ” آج بھلا ہم پر کون غالب آسکتا ہے۔ “

لیکن خداو ند عالم عزوجل کو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا اپنی فوجوں کی کثرت پر ناز کرنا پسند نہیں آیا۔ چنانچہ اس فخر و نازش کا یہ انجام ہوا کہ پہلے ہی حملہ میں قبیلہ ہوازن و ثقیف کے تیر اندازوں نے جو تیروں کی بارش کی اور ہزاروں کی تعداد میں تلواریں لیکر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے تو وہ دو ہزار نو مسلم اور کفار مکہ جو لشکر اسلام میں شامل ہو کر مکہ سے آئے تھے ایک دم سر پر پیر رکھ کر بھاگ نکلے۔ ان لوگوں کی بھگدڑ دیکھ کر انصار و مہاجرین کے بھی پاؤں اکھڑ گئے۔ حضور تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو گنتی کے چند جاں نثاروں کے سوا سب فرار ہو چکے تھے۔ تیروں کی بارش ہو رہی تھی۔ بارہ ہزار کا لشکر فرار ہو چکا تھا مگر خدا عزوجل کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پائے استقامت میں بال برابر بھی لغزش نہیں ہوئی۔ بلکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اکیلے ایک لشکر بلکہ ایک عالم کائنات کا مجموعہ بنے ہوئے نہ صرف پہاڑ کی طرح ڈٹے رہے بلکہ اپنے سفید خچر پر سوار برابر آگے ہی بڑھتے رہے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زَبانِ مبارک پر یہ الفاظ جاری تھے کہ

اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ اَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ

میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔

اسی حالت میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دا ہنی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پکارا کہ يَا مَعْشَرَ الْاَنْصَارِ فورًا آواز آئی کہ ” ہم حاضر ہیں، یا رسول اﷲ ! ” صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پھر بائیں جانب رخ کر کے فرمایا کہ يَا لَلْمُهَاجِرِيْنَ فوراً آواز آئی کہ ” ہم حاضر ہیں، یا رسول اﷲ ! ” صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ چونکہ بہت ہی بلند آواز تھے۔ آپ نے ان کو حکم دیا کہ انصار و مہاجرین کو پکارو۔ انہوں نے جو يَا مَعْشَرَ الْاَنْصَارِ اور يَا لَلْمُهَاجِرِيْنَ کا نعرہ مارا تو ایک دم تمام فوجیں پلٹ پڑیں اور لوگ اس قدر تیزی کے ساتھ دوڑ پڑے کہ جن لوگوں کے گھوڑے ازدحام کی وجہ سے نہ مڑ سکے انہوں نے ہلکا ہونے کے لئے اپنی زر ہیں پھینک دیں اور گھوڑوں سے کود کود کر دوڑے اور کفار کے لشکر پر جھپٹ پڑے اور اس طرح جاں بازی کے ساتھ لڑنے لگے کہ دم زدن میں جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ کفار بھاگ نکلے کچھ قتل ہو گئے جو رہ گئے گرفتار ہو گئے۔ قبیلہ ثقیف کی فوجیں بڑی بہادری کے ساتھ جم کر مسلمانوں سے لڑتی رہیں۔ یہاں تک کہ ان کے ستر بہادر کٹ گئے۔ لیکن جب ان کا علمبردار عثمان بن عبداﷲ قتل ہو گیا تو ان کے پاؤں بھی اُکھڑ گئے۔ اور فتح مبین نے حضور رحمۃ للعالمین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدموں کا بوسہ لیا اور کثیر تعداد و مقدار میں مال غنیمت ہاتھ آیا۔

(بخاري ج۲ ص۶۲۱ غزوه طائف)

یہی وہ مضمون ہے جس کو قرآن حکیم نے نہایت مؤثر انداز میں بیان فرمایا کہ

وَيَوْمَ حُنَيْنِ لا اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ کَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِيْنَ ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰي رَسُوْلِهٖ وَعَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا ج وَ عَذَّبَ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا ط وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیْنَ (توبه)

اور حنین کا دن یاد کرو جب تم اپنی کثرت پر نازاں تھے تو وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اتنی وسیع ہونے کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی۔ پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے پھر اﷲ نے اپنی تسکین اتاری اپنے رسول اور مسلمانوں پر اور ایسے لشکروں کو اتار دیا جو تمہیں نظر نہیں آئے اور کافروں کو عذاب دیا اور کافروں کی یہی سزا ہے۔

حنین میں شکست کھا کر کفار کی فوجیں بھاگ کر کچھ تو ” اوطاس ” میں جمع ہوگئیں اور کچھ ” طائف ” کے قلعہ میں جا کر پناہ گزین ہو گئیں۔ اس لئے کفار کی فوجوں کو مکمل طور پر شکست دینے کے لئے ” اوطاس ” اور ” طائف ” پر بھی حملہ کرنا ضروری ہو گیا۔

-: جنگ اوطاس

-: جنگ اوطاس

چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابو عامر اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ماتحتی میں تھوڑی سی فوج ” اوطاس ” کی طرف بھیج دی۔ درید بن الصمہ کئی ہزار کی فوج لے کر نکلا۔ درید بن الصمہ کے بیٹے نے حضرت ابو عامر اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زانو پر ایک تیر مارا حضرت ابو عامر اشعری حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے چچا تھے۔ اپنے چچا کو زخمی دیکھ کر حضرت ابو موسیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ دوڑ کر اپنے چچا کے پاس آئے اور پوچھا کہ چچا جان ! آپ کو کس نے تیر مارا ہے ؟ تو حضرت ابو عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اشارہ سے بتایا کہ وہ شخص میرا قاتل ہے۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جوش میں بھرے ہوئے اس کافر کو قتل کرنے کے لئے دوڑے تو وہ بھاگ نکلا۔ مگر حضرت ابو موسیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کا پیچھا کیا اور یہ کہہ کر کہ اے او بھاگنے والے! کیا تجھ کو شرم اور غیرت نہیں آتی ؟ جب اس کافر نے یہ گرم گرم طعنہ سنا تو ٹھہر گیا پھر دونوں میں تلوار کے دو دو ہاتھ ہوئے اور حضرت ابو موسیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے آخر اس کو قتل کر کے دم لیا۔ پھر اپنے چچا کے پاس آئے اور خوشخبری سنائی کہ چچا جان ! خدا نے آپ کے قاتل کا کام تمام کر دیا۔ پھر حضرت ابو موسیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے چچا کے زانو سے وہ تیر کھینچ کر نکالا تو چونکہ زہر میں بجھایا ہوا تھا اس لئے زخم سے بجائے خون کے پانی بہنے لگا۔ حضرت ابو عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنی جگہ حضرت ابو موسیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو فوج کا سپہ سالار بنایا اور یہ وصیت کی کہ رسول اﷲ عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں میرا سلام عرض کر دینا اور میرے لئے دعا کی درخواست کرنا۔ یہ وصیت کی اور ان کی روح پرواز کر گئی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ جب اس جنگ سے فارغ ہو کر میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور اپنے چچا کا سلام اور پیغام پہنچایا تو اس وقت تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک بان کی چارپائی پر تشریف فرما تھے اور آپ کی پشت مبارک اور پہلوئے اقدس میں بان کے نشان پڑے ہوئے تھے۔ آپ نے پانی منگا کر وضو فرمایا ۔پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اونچا اٹھایا کہ میں نے آپ کی دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھ لی اور اس طرح آپ نے دعا مانگی کہ ” یااﷲ ! عزوجل تو ابو عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو قیامت کے دن بہت سے انسانوں سے زیادہ بلند مرتبہ بنا دے۔ ” یہ کرم دیکھ کر حضرت ابو موسیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میرے لئے بھی دعا فرما دیجئے ؟ تو یہ دعا فرمائی کہ ” یااﷲ ! عزوجل تو عبداﷲ بن قیس کے گناہوں کو بخش دے اور اس کو قیامت کے دن عزت والی جگہ میں داخل فرما۔ ” عبداﷲ بن قیس حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا نام ہے۔

(بخاری ج۲ ص۶۱۹ غزوه اوطاس)

بہر کیف حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے درید بن الصمہ کے بیٹے کو قتل کر دیا اور اسلامی علم کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ درید بن الصمہ بڑھاپے کی وجہ سے ایک ہودج پر سوار تھا۔ اس کو حضرت ربیعہ بن رفیع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے خود اسی کی تلوار سے قتل کر دیا۔ اس کے بعد کفار کی فوجوں نے ہتھیار ڈال دیا اور سب گرفتار ہو گئے۔ ان قیدیوں میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی رضاعی بہن حضرت ” شیماء ” رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی تھیں۔ یہ حضرت بی بی حلیمہ سعدیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی صاحبزادی تھیں۔ جب لوگوں نے ان کو گرفتار کیا تو انہوں نے کہا کہ میں تمہارے نبی کی بہن ہوں۔ مسلمان ان کو شناخت کے لئے بارگاہ نبوت میں لائے تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو پہچان لیا اور جوشِ محبت میں آپ کی آنکھیں نم ہو گئیں اور آپ نے اپنی چادر مبارک زمین پر بچھا کر ان کو بٹھایا اور کچھ اونٹ کچھ بکریاں ان کو دے کر فرمایا کہ تم آزاد ہو۔ اگر تمہارا جی چاہے تو میرے گھر پر چل کر رہو اور اگر اپنے گھر جانا چاہو تو میں تم کو وہاں پہنچا دوں۔ انہوں نے اپنے گھر جانے کی خواہش ظاہر کی تو نہایت ہی عزت و احترام کے ساتھ وہ ان کے قبیلے میں پہنچا دی گئیں۔

(طبری ج۳ ص۶۶۸)

-: طائف کا محاصرہ

-: طائف کا محاصرہ

یہ تحریر کیا جا چکا ہے کہ حنین سے بھاگنے والی کفار کی فوجیں کچھ تو اوطاس میں جا کر ٹھہری تھیں اور کچھ طائف کے قلعہ میں جا کر پناہ گزیں ہو گئی تھیں۔ اوطاس کی فوجیں تو آپ پڑھ چکے کہ وہ شکست کھا کر ہتھیار ڈال دینے پر مجبور ہو گئیں اور سب گرفتار ہو گئیں۔ لیکن طائف میں پناہ لینے والوں سے بھی جنگ ضروری تھی۔ اس لئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حنین اور اوطاس کے اموال غنیمت اور قیدیوں کو ” مقام جعرانہ ” میں جمع کرکے طائف کا رخ فرمایا۔

طائف خود ایک بہت ہی محفوظ شہر تھا جس کے چاروں طرف شہر پناہ کی دیوار بنی ہوئی تھی اور یہاں ایک بہت ہی مضبوط قلعہ بھی تھا۔ یہاں کا رئیس اعظم عروہ بن مسعود ثقفی تھا جو ابو سفیان کا داماد تھا۔ یہاں ثقیف کا جو خاندان آباد تھا وہ عزت و شرافت میں قریش کا ہم پلہ شمار کیا جاتا تھا۔ کفار کی تمام فوجیں سال بھر کا راشن لے کر طائف کے قلعہ میں پناہ گزیں ہو گئی تھیں۔ اسلامی افواج نے طائف پہنچ کر شہر کا محاصرہ کر لیا مگر قلعہ کے اندر سے کفار نے اس زور و شور کے ساتھ تیروں کی بارش شروع کر دی کہ لشکر اسلام اس کی تاب نہ لا سکا اور مجبوراً اس کو پسپا ہونا پڑا۔ اٹھارہ دن تک شہر کا محاصرہ جاری رہا مگر طائف فتح نہیں ہو سکا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب جنگ کے ماہروں سے مشورہ فرمایا تو حضرت نوفل بن معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ” لومڑی اپنے بھٹ میں گھس گئی ہے۔ اگر کوشش جاری رہی تو پکڑ لی جائے گی لیکن اگر چھوڑ دی جائے تو بھی اس سے کوئی اندیشہ نہیں۔ ” یہ سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے محاصرہ اٹھا لینے کا حکم دے دیا۔

(زرقاني ج۳ ص۳۳)

طائف کے محاصرہ میں بہت سے مسلمان زخمی ہوئے اور کل بارہ اصحاب شہید ہوئے سات قریش، چار انصار اور ایک شخص بنی لیث کے۔ زخمیوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے عبداﷲ بن ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی تھے یہ ایک تیر سے زخمی ہو گئے تھے۔ پھر اچھے بھی ہو گئے، لیکن ایک مدت کے بعد پھر ان کا زخم پھٹ گیا اور اپنے والد ماجد حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں اِسی زخم سے ان کی وفات ہو گئی۔

(زرقانی ج۳ ص۳۰)

-: طائف کی مسجد

-: طائف کی مسجد

یہ مسجد جس کو حضرت عمرو بن امیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے تعمیر کیا تھا ایک تاریخی مسجد ہے۔ اس جنگ طائف میں ازواجِ مطہرات میں سے دو ازواج ساتھ تھیں حضرت اُمِ سلمہ اور حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان دونوں کے لئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دو خیمے گاڑے تھے اور جب تک طائف کا محاصرہ رہا آپ ان دونوں خیموں کے درمیان میں نمازیں پڑھتے رہے۔ جب بعد میں قبیلہ ثقیف کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تو ان لوگوں نے اسی جگہ پر مسجد بنا لی۔

(زرقانی ج۳ ص۳۱)

-: جنگ طائف میں بت شکنی

-: جنگ طائف میں بت شکنی

جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے طائف کا ارادہ فرمایا تو حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ایک لشکر کے ساتھ بھیجا کہ وہ ” ذوالکفین ” کے بت خانہ کو برباد کر دیں۔ یہاں عمر بن حممہ دوسی کا بت تھا جو لکڑی کا بنا ہوا تھا۔ چنانچہ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے وہاں جا کر بت خانہ کو منہدم کر دیا اور بت کو جلا دیا۔ بت کو جلاتے وقت وہ ان اشعار کو پڑھتے جاتے تھے :۔

يَاذَا الْكَفَيْنِ لَسْتُ مِنْ عِبَادِكَا

اے ذالکفین ! میں تیرا بندہ نہیں ہوں

مِيْلَادُنَا اَقدم مِنْ مِيْلَادِكَا

میری پیدائش تیری پیدائش سے بڑی ہے

اِنِّيْ حَشَوْتُ النَّارَ فِيْ فُؤَادِكَا

میں نے تیرے دل میں آگ لگا دی ہے

حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ چار دن میں اس مہم سے فارغ ہوکر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس طائف میں پہنچ گئے۔ یہ ” ذوالکفین ” سے قلعہ توڑنے کے آلات منجنیق وغیرہ بھی لائے تھے۔ چنانچہ اسلام میں سب سے پہلی یہی منجنیق ہے جو طائف کا قلعہ توڑنے کے لئے لگائی گئی ۔مگر کفار کی فوجوں نے تیر اندازی کے ساتھ ساتھ گرم گرم لوہے کی سلاخیں پھینکنی شروع کر دیں اس وجہ سے قلعہ توڑنے میں کامیابی نہ ہو سکی۔

(زرقاني ج۳ ص۳۱)

اسی طرح حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بھیجا کہ طائف کے اطراف میں جو جا بجا ثقیف کے بت خانے ہیں ان سب کو منہدم کر دیں۔ چنانچہ آپ نے ان سب بتوں اور بت خانوں کو توڑ پھوڑ کر مسمار و برباد کردیا۔ اور جب لوٹ کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئے اور بہت دیر تک ان سے تنہائی میں گفتگو فرماتے رہے، جس سے لوگوں کو بہت تعجب ہوا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۳۱۸)

طائف سے روانگی کے وقت صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ قبیلہ ثقیف کے کفار کے لئے ہلاکت کی دعا فرما دیجئے۔ تو آپ نے دعا مانگی کہ اَللّٰهُمَّ اهْدِ ثَقِيْفًا وَأْتِ بِهِمْ یااﷲ ! عزوجل ثقیف کو ہدایت دے اور انکو میرے پاس پہنچا دے۔

(مسلم ج۲ ص۳۰۷)

چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی یہ دعا مقبول ہوئی کہ قبیلہ ثقیف کا وفد مدینہ پہنچا اور پورا قبیلہ مشرف بہ اسلام ہو گیا۔

-: مالِ غنیمت کی تقسیم

-: مالِ غنیمت کی تقسیم

طائف سے محاصرہ اُٹھا کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ” جعرانہ ” تشریف لائے۔ یہاں اموال غنیمت کا بہت بڑا ذخیرہ جمع تھا۔ چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار سے زائد بکریاں، کئی من چاندی،اور چھ ہزار قیدی۔

اسیرانِ جنگ کے بارے میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے رشتہ داروں کے آنے کا انتظار فرمایا۔ لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود جب کوئی نہ آیا تو آپ نے مال غنیمت کو تقسیم فرما دینے کا حکم دے دیا مکہ اور اس کے اطراف کے نو مسلم رئیسوں کو آپ نے بڑے بڑے انعاموں سے نوازا۔ یہاں تک کہ کسی کو تین سو اونٹ، کسی کو دو سو اونٹ، کسی کو سو اونٹ انعام کے طور پر عطا فرما دیا۔ اسی طرح بکریوں کو بھی نہایت فیاضی کے ساتھ تقسیم فرمایا۔

(سیرت ابن هشام ج۲ ص۴۸۹)

-: انصاریوں سے خطاب

-: انصاریوں سے خطاب

جن لوگوں کو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بڑے بڑے انعامات سے نوازا وہ عموماً مکہ والے نو مسلم تھے۔ اس پر بعض نوجوان انصاریوں نے کہا کہ

“رسول اﷲ عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم قریش کو اس قدر عطا فرما رہے ہیں اور ہم لوگوں کا کچھ بھی خیال نہیں فرما رہے ہیں۔ حالانکہ ہماری تلواروں سے خون ٹپک رہا ہے۔”

(بخاری ج۲ ص۶۲۰ غزوه طائف)

اور انصار کے کچھ نوجوانوں نے آپس میں یہ بھی کہا اور اپنی دل شکنی کا اظہار کیا کہ جب شدید جنگ کا موقع ہوتا ہے تو ہم انصاریوں کو پکارا جاتا ہے اور غنیمت دوسرے لوگوں کو دی جا رہی ہے۔

(بخاری ج۲ ص۶۲۱ غزوه طائف)

آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب یہ چرچا سنا تو تمام انصاریوں کو ایک خیمہ میں جمع فرمایا اور ان سے ارشاد فرمایا کہ اے انصار ! کیا تم لوگوں نے ایسا ایسا کہا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہمارے سرداروں میں سے کسی نے بھی کچھ نہیں کہا ہے۔ ہاں چند نئی عمر کے لڑکوں نے ضرور کچھ کہہ دیا ہے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے انصار کو مخاطب فرما کر ارشاد فرمایا کہ

کیا یہ سچ نہیں ہے کہ تم پہلے گمراہ تھے میرے ذریعہ سے خدا نے تم کو ہدایت دی، تم متفرق اور پراگندہ تھے، خدا نے میرے ذریعہ سے تم میں اتفاق و اتحاد پیدا فرمایا، تم مفلس تھے، خدا نے میرے ذریعہ سے تم کو غنی بنا دیا۔

(بخاری ج۲ ص۶۲۰ غزوئہ طائف)

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم یہ فرماتے جاتے تھے اور انصار آپ کے ہر جملہ کو سن کر یہ کہتے جاتے تھے کہ ” اﷲ اور رسول کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے۔ ”

آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے انصار ! تم لوگ یوں مت کہو، بلکہ مجھ کو یہ جواب دو کہ یا رسول اﷲ ! عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب لوگوں نے آپ کو جھٹلایا تو ہم لوگوں نے آپ کی تصدیق کی۔ جب لوگوں نے آپ کو چھوڑ دیا تو ہم لوگوں نے آپ کو ٹھکانا دیا۔ جب آپ بے سرو سامانی کی حالت میں آئے تو ہم نے ہر طرح سے آپ کی خدمت کی۔ لیکن اے انصاریو ! میں تم سے ایک سوال کرتا ہوں تم مجھے اس کا جواب دو۔ سوال یہ ہے کہ

کیا تم لوگوں کو یہ پسند نہیں کہ سب لوگ یہاں سے مال و دولت لے کر اپنے گھر جائیں اور تم لوگ اﷲ کے نبی کو لے کر اپنے گھر جاؤ۔ خدا کی قسم ! تم لوگ جس چیز کو لے کر اپنے گھر جاؤ گے وہ اس مال و دولت سے بہت بڑھ کر ہے جس کو وہ لوگ لے کر اپنے گھر جائیں گے۔

یہ سن کر انصار بے اختیار چیخ پڑے کہ یا رسول اﷲ ! عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہم اس پر راضی ہیں۔ ہم کو صرف اﷲ عزوجل کا رسول چاہیے اور اکثر انصار کا تو یہ حال ہو گیا کہ وہ روتے روتے بے قرار ہو گئے اور آنسوؤں سے ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں۔ پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے انصار کو سمجھایا کہ مکہ کے لوگ بالکل ہی نو مسلم ہیں۔ میں نے ان لوگوں کو جو کچھ دیا ہے یہ ان کے استحقاق کی بنا پر نہیں ہے بلکہ صرف ان کے دلوں میں اسلام کی اُلفت پیدا کرنے کی غرض سے دیا ہے، پھر ارشاد فرمایا کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ہوتا اور اگر تمام لوگ کسی وادی اور گھاٹی میں چلیں اور انصار کسی دوسری وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں گا۔

(بخاری ج۲ ص۶۲۰ و ص۶۲۱ غزوه طائف)

-: قیدیوں کی رہائی

-: قیدیوں کی رہائی

آپ جب اموالِ غنیمت کی تقسیم سے فارغ ہو چکے تو قبیلہ بنی سعد کے رئیس زہیر ابو صرد چند معززین کے ساتھ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور اسیران جنگ کی رہائی کے بارے میں درخواست پیش کی۔ اس موقع پر زہیر ابو صرد نے ایک بہت مؤثر تقریر کی، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ

اے محمد ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ نے ہمارے خاندان کی ایک عورت حلیمہ کا دودھ پیا ہے۔ آپ نے جن عورتوں کو ان چھپروں میں قید کر رکھا ہے ان میں سے بہت سی آپ کی (رضاعی) پھوپھیاں اور بہت سی آپ کی خالائیں ہیں۔ خدا کی قسم ! اگر عرب کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ نے ہمارے خاندان کی کسی عورت کا دودھ پیا ہوتا تو ہم کو اس سے بہت زیادہ امیدیں ہوتیں اور آپ سے تو اور بھی زیادہ ہماری توقعات وابستہ ہیں۔ لہٰذا آپ ان سب قیدیوں کو رہا کر دیجئے۔

زہیر کی تقریر سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بہت زیادہ متأثر ہوئے اور آپ نے فرمایا کہ میں نے آپ لوگوں کا بہت زیادہ انتظار کیا مگر آپ لوگوں نے آنے میں بہت زیادہ دیر لگا دی۔ بہر کیف میرے خاندان والوں کے حصہ میں جس قدر لونڈی غلام آئے ہیں۔ میں نے ان سب کو آزاد کر دیا۔ لیکن اب عام رہائی کی تدبیر یہ ہے کہ نماز کے وقت جب مجمع ہو توآپ لوگ اپنی درخواست سب کے سامنے پیش کریں۔ چنانچہ نماز ظہر کے وقت ان لوگوں نے یہ درخواست مجمع کے سامنے پیش کی اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجمع کے سامنے یہ ارشاد فرمایا کہ مجھ کو صرف اپنے خاندان والوں پر اختیار ہے لیکن میں تمام مسلمانوں سے سفارش کرتا ہوں کہ قیدیوں کو رہا کر دیا جائے یہ سن کر تمام انصار و مہاجرین اور دوسرے تمام مجاہدین نے بھی عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!(عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہمارا حصہ بھی حاضر ہے۔ آپ ان لوگوں کو بھی آزاد فرما دیں۔ اس طرح دفعۃً چھ ہزار اسیران جنگ کی رہائی ہو گئی۔

(سيرتِ ابن هشام ج۴ ص۴۸۸ و ص۴۸۹)

بخاری شریف کی روایت یہ ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم دس دنوں تک ” ہوازن ” کے وفد کا انتظار فرماتے رہے۔ جب وہ لوگ نہ آئے تو آپ نے مال غنیمت اور قیدیوں کو مجاہدین کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ اس کے بعد جب ” ہوازن ” کا وفد آیا اور انہوں نے اپنے اسلام کا اعلان کر کے یہ درخواست پیش کی کہ ہمارے مال اور قیدیوں کو واپس کر دیا جائے تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے سچی بات ہی پسند ہے۔ لہٰذا سن لو ! کہ مال اور قیدی دونوں کو تو میں واپس نہیں کر سکتا۔ ہاں ان دونوں میں سے ایک کو تم اختیار کر لو یا مال لے لو یا قیدی۔ یہ سن کر وفد نے قیدیوں کو واپس لینا منظور کیا۔ اس کے بعد آپ نے فوج کے سامنے ایک خطبہ پڑھا اور حمد و ثنا کے بعد ارشاد فرمایا کہ

اے مسلمانوں ! یہ تمہارے بھائی تائب ہو کر آ گئے ہیں اور میری یہ رائے ہے کہ میں ان کے قیدیوں کو واپس کر دوں تو تم میں سے جو خوشی خوشی اس کو منظور کرے وہ اپنے حصہ کے قیدیوں کو واپس کر دے اور جو یہ چاہے کہ ان قیدیوں کے بدلے میں دوسرے قیدیوں کو لے کر ان کو واپس کرے تو مں یہ وعدہ کرتا ہوں کہ سب سے پہلے اﷲ تعالیٰ مجھے جو غنیمت عطا فرمائے گا میں اس میں سے اس کا حصہ دوں گا۔ یہ سن کر ساری فوج نے کہہ دیا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علہ وسلم) ہم سب نے خوشی خوشی سب قیدیوں کو واپس کر دیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس طرح پتا نہیں چلتا کہ کس نے اجازت دی اور کس نے نہیں دی ؟ لہٰذا تم لوگ اپنے اپنے چودھریوں کے ذریعہ مجھے خبر دو۔ چنانچہ ہر قبیلہ کے چودھریوں نے دربار رسالت میں آ کر عرض کر دیا کہ ہمارے قبیلہ والوں نے خوش دلی کے ساتھ اپنے حصہ کے قیدیوں کو واپس کر دیا ہے۔

(بخاری ج۱ ص۳۴۵ باب من ملک من العرب و بخاری ج۲ ص۳۰۹ باب الوکالة في قضاء الديون و بخاری ج۲ ص۶۱۸)

-: غیب داں رسول صلی اﷲ تعالیٰ علہ وسلم

-: غیب داں رسول صلی اﷲ تعالیٰ علہ وسلم

رسول اﷲ عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہوازن کے وفد سے دریافت فرمایا کہ مالک بن عوف کہاں ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ وہ ” ثقیف” کے ساتھ طائف میں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ مالک بن عوف کو خبر کردو کہ اگر وہ مسلمان ہو کر میرے پاس آ جائے تو میں اس کا سارا مال اس کو واپس دے دوں گا۔ اس کے علاوہ اس کو ایک سو اونٹ اور بھی دوں گا۔ مالک بن عوف کو جب یہ خبر ملی تو وہ رسول اﷲ عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں مسلمان ہو کر حاضر ہو گئے اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کا کل مال ان کے سپرد فرما دیا اور وعدہ کے مطابق ایک سو اونٹ اس کے علاوہ بھی عنایت فرمائے۔ مالک بن عوف آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اس خلق عظیم سے بے حد متأثر ہوئے اور آپ کی مدح میں ایک قصیدہ پڑھا جس کے دو شعر یہ ہیں :۔

فِي النَّاسِ كُلِّهِمْ بِمِثْلِ مُحَمَّدٖ مَا اِنْ رَاَيْتُ وَ لَا سَمِعْتُ بِمِثْلِهٖ
وَ مَتٰيٰ تَشَأ يُخْبِرُكَ عَمَّا فِيْ غَدٖ اَوْفيٰ وَ اَعْطٰي لِلْجَزِيْلِ اِذَا اجْتُدِي

یعنی تمام انسانوں میں حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا مثل نہ میں نے دیکھا نہ سنا جو سب سے زیادہ وعدہ کو پورا کرنے والے اور سب سے زیادہ مال کثیر عطا فرمانے والے ہیں۔ اور جب تم چاہو ان سے پوچھ لو وہ کل آئندہ کی خبر تم کو بتا دیں گے۔

روایت ہے کہ نعت کے یہ اشعار سن کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ان سے خوش ہو گئے اور ان کے لئے کلمات خیر فرماتے ہوئے انہیں بطور انعام ایک حلہ بھی عنایت فرمایا۔

(سیرت ابن هشام ج۴ ص۴۹۱ و مدارج ج۲ ص۳۲۴)

-: عمرۂ جِعرانہ

-: عمرۂ جِعرانہ

اس کے بعد نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جِعرانہ ہی سے عمرہ کا ارادہ فرمایا اور احرام باندھ کر مکہ تشریف لے گئے اور عمرہ ادا کرنے کے بعد پھر مدینہ واپس تشریف لے گئے اور ذوالقعدہ ۸ ھ کو مدینہ میں داخل ہوئے۔

(زرقانی ج۳ ص۳۱)

۸ ھ کے متفرق واقعات :-

۸ ھ کے متفرق واقعات :-

(۱) اسی سال رسول اﷲ عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرزند حضرت ابراہیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شکم سے پیدا ہوئے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان سے بے پناہ محبت تھی۔ تقریباً ڈیڑھ سال کی عمر میں ان کی وفات ہو گئی۔

اتفاق سے جس دن ان کی وفات ہوئی سورج گرہن ہوا چونکہ عربوں کا عقیدہ تھا کہ کسی عظیم الشان انسان کی موت پر سورج گرہن لگتا ہے۔ اس لئے لوگوں نے یہ خیال کر لیا کہ یہ سورج گرہن حضرت ابراہیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی وفات کا نتیجہ ہے۔ جاہلیت کے اس عقیدہ کو دور فرمانے کے لئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک خطبہ دیا جس میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ چاند اور سورج میں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ اﷲ تعالیٰ اس کے ذریعہ اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے نماز کسوف جماعت کے ساتھ پڑھی۔

(بخاری ج۱ ص۱۴۲ ابواب الکسوف )

(۲) اسی سال حضور نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے وفات پائی۔ یہ صاحبزادی صاحبہ حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی منکوحہ تھیں۔ انہوں نے ایک فرزند جس کا نام ” علی ” تھا اور ایک لڑکی جن کا نام ” امامہ ” تھا، اپنے بعد چھوڑا۔ حضرت بی بی فاطمہ زہراء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو وصیت کی تھی کہ میری وفات کے بعد آپ حضرت امامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے نکاح کر لیں۔ چنانچہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی وصیت پر عمل کیا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۳۲۵)

(۳) اسی سال مدینہ میں غلہ کی گرانی بہت زیادہ بڑھ گئی تو صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے درخواست کی کہ یا رسول اﷲ ! عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آپ غلہ کا بھاؤ مقرر فرما دیں تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے غلہ کی قیمت پر کنٹرول فرمانے سے انکار فرما دیا اور ارشاد فرمایا کہ

اِنَّ اللهَ هُوَ الْمُسَعّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّزَّاقُ

اﷲ وہی بھاؤ مقرر فرمانے والا ہے وہی روزی کو تنگ کرنے والا، کشادہ کرنے والا، روزی رساں ہے۔

( مدارج النبوة ج۲ ص۳۲۵)

(۴)بعض مؤرخین کے بقول اسی سال مسجد نبوی میں منبر شریف رکھا گیا۔ اس سے قبل حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک ستون سے ٹیک لگا کر خطبہ پڑھا کرتے تھے اور بعض مؤرخین کا قول ہے کہ منبر ۷ ھ میں رکھا گیا۔ یہ منبر لکڑی کا بنا ہوا تھا جو ایک انصاری عورت نے بنوا کر مسجد میں رکھوایا تھا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے چاہا کہ میں اس منبر کو تبرکاً ملک شام لے جاؤں مگر انہوں نے جب اس کو اس کی جگہ سے ہٹایا تو اچانک سارے شہر میں ایسا اندھیرا چھا گیا کہ دن میں تارے نظر آنے لگے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بہت شرمندہ ہوئے اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے معذرت خواہ ہوئے اور انہوں نے اس منبر کے نیچے تین سیڑھیوں کا اضافہ کر دیا۔ جس سے منبر نبوی کی تینوں پرانی سیڑھیاں اوپر ہو گئیں تاکہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین رضی اﷲ تعالیٰ عنہم جن سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے تھے اب دوسرا کوئی خطیب ان پر قدم نہ رکھے۔ جب یہ منبر بہت زیادہ پرانا ہو کر انتہائی کمزور ہو گیا تو خلفاء عباسیہ نے بھی اس کی مرمت کرائی۔

(مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۲۷)

(۵) اسی سال قبیلہ عبد القیس کا وفد حاضر خدمت ہوا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو خوش آمدید کہا اور ان لوگوں کے حق میں یوں دعا فرمائی کہ ” اے اﷲ ! عزوجل تو عبد القیس کو بخش دے ” جب یہ لوگ بارگاہ رسالت میں پہنچے تو اپنی سواریوں سے کود کر دوڑ پڑے اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقدس قدم کو چومنے لگے اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو منع نہیں فرمایا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۳۳۰)

-: توبہ کی فضیلت

-: توبہ کی فضیلت

حضرت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، اللہ عزوجل کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان رحمت نشان ہے اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَهٗ یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں

(سنن ابن ماجه حدیث۴۲۵۰ ص۲۷۳۵)